• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شہید المحراب عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔محمد عمران ملک

شہید المحراب عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔محمد عمران ملک

نبی اکرم ؐ نے حضرت عمرؓ کو شہادت کی خوشخبری سنائی تھی۔ زندگی کے آخری دنوں میں آپؓ مسلسل دعا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے شہادت عطا فرما اور میری موت آئے تو تیرے حبیب کے شہر میں آئے۔ 26 ذوالحجہ 23 ہجری کو محراب رسول میں نماز فجر پڑھا رہے تھے۔ ابو لولو پارسی نے آپؓ پر حملہ کیا۔ آپؓ شدید زخمی ہوئے اور یکم محرم 24ہجری کو شہادت کے مقام پر فائز ہوگئے۔

حضرت سیدنا عمر وبن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں”جس دن حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کیا گیا اس دن میں وہیں موجود تھا ۔ حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازِ فجر کے لئے صفیں درست کرو ارہے تھے۔ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بالکل قریب کھڑا تھا، ہمارے درمیان صرف حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما حائل تھے۔ حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ صفوں کے درمیان سے گزرتے اور فرماتے ،اپنی صفیں درست کرلو۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھاکہ صفیں بالکل سیدھی ہوچکی ہیں، نمازیوں کے درمیان بالکل خلا نہیں رہااورسب کے کندھے ملے ہوئے ہیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے ا ور تکبیرتحریمہ کہی۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادتِ کریمہ تھی کہ صبح کی نماز میں اکثر سورۃ یوسف اور سورہ نحل میں سے قراء َت فرماتے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلی رکعت میں کچھ زیادہ تلاوت فرماتے تاکہ بعدمیں آنے والے بھی جماعت میں شامل ہو سکیں، ابھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمازشروع ہی کی تھی کہ ایک مجوسی غلام جو پہلی صف میں چھپ کر کھڑا تھااس نے موقع پاتے ہی ایک دودھاری تيز خنجرسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کردیا۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز سنائی دی کہ مجھے کسی کُتے نے کاٹ لیا ہے ابو لولو غلام حملہ کرنے کے بعد پیچھے پلٹا اور بھاگتے ہوئے تیرہ نماز یوں پر حملہ کیا جن میں سے سات شہید ہوگئے ،ایک نمازی نے آگے بڑھ کر اس پرکمبل ڈالا اور اسے پکڑ لیا، جب اس بدبخت نے دیکھا کہ اب میں پکڑا جاچکاہوں ،تو اپنے ہی خنجرسے اپنی شہ رگ کاٹ کر خود کشی کر لی، اس دوران حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیٹ میں زخم لگے تھے اس کے باوجود انہوں نےحضرت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بازو سے پکڑ کر امامت کے لیے آگے کیا آپ نے آگے بڑھ کر نماز فجر پڑھائی ، چھوٹی چھوٹی سی صورتیں تلاوت کر کے جلدی سے نماز ختم کی۔ اکثر لوگو ں کونماز کے بعد واقعہ کا علم ہوا۔ نماز کے بعد حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہما سے فرمایا:”اے ابن عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہما!معلوم کرو کہ مجھے کس نے زخمی کیا ہے؟ ”آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ باہر گئے ،کچھ دیر بعد واپس آکربتایا: ”مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام(ابولؤلؤہ فیروز) نے آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ پر حملہ کیا ہے ۔”

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”وہی غلام جوچکیاں بناتا تھا ؟” حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا:”جی ہاں ۔ ‘ ‘ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ”اللہ عزوجل اسے غارت کرے !میں نے تو اس کے ساتھ بھلائی کی تھی ۔ اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ میں کسی مسلمان کے ہاتھوں زخمی نہ ہوا” ابو لولو نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بار مغیرہ رضی اللہ عنہہ کی شکایت کی تھی کہ وہ مجھے چکیاں بنانے کا کم معاوضہ دیتے ہیں تو عمر رضی اللہہ عنہ نے اسے پوچھا تھا کتنا کم دیتے ہیں۔ کہا دو درہم، اس پر عمر رضی اللہ عنہہ نے کہا یہ کم تو نہیں ہے تم چکیاں بناتے ہو یہ معاوضہ بالکل مناسب ہے میں پھر بھی میں مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بات کروں گا۔ اس پر اس غلام نے کہا کہ میں آپ کے لیے بھی ایسی چکی بناؤں گا کہ یاد رکھیں گے، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس نے مجھے قتل کی دھمکی دی ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہہ نے اس کو کچھ نہیں کہا نہ ہی اپنی حفاظت کا اہتمام کیا۔
عمر رضی اللہ عنہہ پر حملے کے بعد لوگو ں پرگویا مصیبتوں کاپہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکھجور کا شربت پلایا گیا۔ لیکن وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیٹ سے زخموں کے ذریعے باہر آگئی۔ پھر دودھ پلایا گیا تو وہ بھی زخموں کے راستے پیٹ سے باہر نکل آیا ۔
اسی حالت میں ایک نوجوان آکرکہنے لگا: ”اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! آپ کو مبارک ہو کہ عنقریب اللہ عزوجل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے رِحلت فرمانے والے دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ملا دے گا ۔اے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! آپ کو خلافت کا منصب عطا کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عدل وانصاف سے کام لیا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک اچھے خلیفہ اور لوگوں کے خیر خواہ و محسن ہیں۔” حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: ”میں تو اس بات کو پسند کرتا تھا کہ مجھے بقدرِ کفایت رزق ملے، نہ کوئی میرا مقروض ہو، نہ ہی میں کسی کا مقروض ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہما کو بلایا ۔اور ان سے سے فرمایا:”حساب لگا کر بتا ؤ، ہم پر کتناقرض ہے ؟” انہوں نے حساب لگا کر بتایا:” تقریباً چھیاسی ہزار(86,000) درہم ۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اگر یہ قرض میرے مال سے ادا ہوجائے تو ادا کردینااوراگر میرا مال کافی نہ ہو توبنی عدی بن کعب کے مال سے ادا کرنا اگر پھر بھی ناکافی ہو توقریش سے سوال کرنا،ان کے علاوہ اور کسی سے سوال نہ کرنا، پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا: ” تم اُم المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بارگاہ میں چلے جاؤ اور ان سے عرض کر و کہ عمر بن خطاب اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ اسے اس کے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے اور حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قرب میں جگہ عطا فرمائی جائے ۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سلام عرض کیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رور ہی تھیں، آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے کہا :” حضر ت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کو سلام عرض کرر ہے ہیں اور اس بات کی اجازت چاہتے ہیں کہ انہیں ان کے ساتھیوں کے قرب میں دفن کیا جائے۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ سن کر ارشاد فرمایا:” یہ جگہ تومیں نے اپنے لئے رکھی تھی لیکن اب میں یہ جگہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایثار کر تی ہوں، انہیں جاکر یہ خوشخبری سنا دو۔”چنانچہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اجازت لے کر واپس تشریف لائے۔

جب حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتایا گیا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما آگئے ہیں توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”مجھے بٹھا دو۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوسہارا دے کر بٹھا دیا گیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! کیا خبر لائے ہو؟ ”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:” حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہا نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازت عطا فرمادی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوش ہو جائیں ،جس چیز کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پسند کیا کرتے تھے وہ آپ کو عطا کردی گئی ہے ۔” یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:” مجھے اس چیز سے زیادہ اور کسی چیز کی فکر نہیں تھی ، الحمد للہ عزوجل مجھے میری پسندیدہ چیز عطا کردی گئی ہے۔”

پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:” جب میری روح پر واز کرجائے تو مجھے اٹھا کرسرکارِ ابد ِقرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے روضہ اقدس پر لے جانا ، پھر بارگاہِ نبوت میں سلام عرض کرنا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سلام عرض کرنا:”عمر بن خطاب اپنے دوستو ں کے ساتھ آرام کی اجازت چاہتا ہے ، اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہاں دفن کردینا اور اگر اجازت نہ ملے تو مجھے عام مسلمانوں کے قبر ستان میں دفنادینا ۔

جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رو ح خالقِ حقیقی عزوجل سے جا ملی تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہما ایک بار پھر عمر رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق ایک بار پھر مسجد نبو ی شریف عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ،اور حضرت بداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حجرہ مبارکہ سے باہر کھڑے ہو کر اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عمر رضی اللہ عنہ کا سلام عرض کیا ،اور حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حجرہ مبارکہ میں دفن کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا بھتیجے دوبارہ کیوں سوال کرتے ہو میں نے بخوشی اجازت دے رکھی ہے۔ اجازت کے بعد ،  حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوحضورنبی پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قدموں میں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔

پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک وزیٹنگ فیکلٹی ممبر پنجاب یونیورسٹی لاہور فیکلٹی ممبر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی لاہور پی ایچ ڈی اسکالر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *