تو پھر “مکالمہ” 3 سال کا ہو گیا۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

گزشتہ 9 سال سے سوشل میڈیا میں فیس بک میرا واحد ذریعہ اظہار رہا ہے- جو دل میں سمایا, وہیں پوسٹ کر دیا- کالم نگاری کا سلسلہ 1990ء کی دہائی میں پرنٹ میڈیا تک ہی محدود رہا تھا مگر کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ کچھ آن لائن نیوز ویب سائیٹ پر بھی لکھوں- پچھلے سال میرے روحانی استاد مرشد سید زیدی نے ترغیب دلانی شروع کی کہ مجھے نیوز پیپرز اور نیوز ویب سائیٹ کے لئے بھی لکھنا چاہیے- استاد کی حوصلہ افزائی تھی اس لئے میں بچہ جمہورا بنا اور پاکستان کی سب سے مشہور آن لائن ویب سائیٹ کے لئے “کٹ ذرہ ڈیم” پر ایک تحریر لکھ دی- روٹین میں 2 دن بعد وہ تحریر شائع بھی ہو گئی اور ہزاروکی تعداد میں لوگوں نے اسے پڑھ بھی لیا- یعنی یک نہ شد دو شد-

اب تو خون کی لہریں دوبارہ ٹھاٹھیں مارنے لگ پڑیں اور مصمم ارادہ کر لیا کہ جو بھی ہو, اپنی روزی روٹی کی مصروفیات میں سے لازمی طور پر وقت نکالنا یے اور لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی شروع کرنا ہے-

اسی دوران ملک قمر عباس اعوان نے فیس بک پر میری کچھ تحاریر کو اپنی ویب سائیٹ پر شائع کیا تو محسوس ہونے لگا کہ واقعی جو کچھ لکھ رہا ہوں, چند ایک لوگوں کو وہ مناسب بھی لگ رہا ہے- بس پھر جوش مارتے خون کی روانی نے ہاتھوں اور دماغ میں کرنٹ دوڑا دیا اور لکھنے کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ اب تک جاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہزاروں دوست, احباب مہربانی کرتے ہوئے اسے نوٹس بھی کرتے ہیں-

رانا انعام اور مکالمہ سے میرا تعارف بھی اسی دوران ہوا- میری سوچ چونکہ شدید ترقی پسندانہ, جمہوریت پرست اور عوام کی حکومت صرف عوام کے لئے والی ہے تو “مکالمہ” سے رشتہ گہرا ہوتا چلا گیا- مجھے مکالمہ میں رانا انعام اور معاذ بن محمود نے اتنا متاثر نہیں کیا مگر اس کے مستقل لکھنے والوں میں عارف خٹک, اقبال دیوان, محمد خان قلندر بابا اور اس کی ایڈیٹر اسماء مغل نے اپنا گرویدہ کر لیا- ایسا نہیں کہ میرا رانا انعام اور معاذ سے کسی قسم کا کوئی اختلاف یا جھگڑا ہو, یا کوئی مخاصمت ہو مگر پتہ نہیں کیوں میں اور یہ دونوں حضرات گرامی ایک دوسرے کے قریب نہیں ہو سکے- شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جن احباب کو میں اپنا استاد اور مربی مانتا ہوں, یا ان کے ساتھ وقت گزارتا ہوں وہ “مکالمہ” کے لئے نہیں لکھتے-

مکالمہ کی تیسری سالگرہ آ گئی- صرف 3 سال میں پاکستان جیسے ملک میں ہزاروں مضامین اور تحریروں کی اشاعت, جس کو لاکھوں ریڈرز نے پڑھا اور ہزاروں نے ان تحاریر کو شئیر کیا , یہ ہرگز کوئی عام سی بات نہیں ہے- یقیناً مکالمہ نے اپنی شناخت بھی قائم کر لی ہے اور ریڈرشپ میں اپنا حصہ بھی وصول کر لیا ہے- آئی ٹی اور کمپیوٹر کی دنیا کے بارے زیادہ معلومات نہ ہونے کے سبب مجھے نہیں معلوم کہ مکالمہ فنڈز کیسے generate کرتا ہے- زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ اسے  انعام رانا  اور اس کی ٹیم اپنی جیب سے چلاتے ہوں گے- یہ بہت حوصلے کی بات ہے کہ 3 سال تک اپنی ایک خواہش کو پورا کرنے کے لئے کوئی مسلسل انویسٹمنٹ کر رہا ہو- مجھے بتایا گیا ہے کہ مکالمہ ٹیم کی واحد خواہش یہی ہے کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنے جس میں مختلف النوع خیالات کے لوگ ایک دوسرے کو تحمل اور تہذیب سے اپنی بات کہہ سکیں- نیز اگر کوئی بات ان کے خلاف ہے تو تحمل اور تہذیب سے اسے برداشت کر سکیں- ہمارے قومی انحطاط اور زوال میں سب سے اہم ترین عناصر میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں- اگر رانا انعام اور اس کی ٹیم تحمل, برداشت اور مکالمہ کی روایات کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کر سکیں تو یہ نہایت خوش آئند ہے-

مکالمہ کی تیسری سالگرہ پر میں ایک کتاب سے اقتباس پیش کرنا چاہوں گا کہ “دنیا بھر میں کامیابی کی کوئی داستان اٹھا کر دیکھ لیں، اس کامیابی کی تہہ میں آپ کو 3 باتیں ضرور نظر آئیں گی۔ ایک وژن، دوسرا اعتماد اور تیسری محنت۔

جن لوگوں کو اپنے وژن پر یقین کامل ہوتا ہے تو وہ کامیابی و ناکامی سے بے نیاز ہو کر  اپنے کام کا آغاز کر دیتے ہیں۔ یہی بے دھڑک آغاز ہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ وہ لوگ یا ادارے جو گومگو، کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے کے ادھیڑ بن میں گرفتار ہو جاتے ہیں، وہ بیچارے طوفانوں کا مقابلہ نہیں کر پاتے اور ساحلوں پر ہی سفینوں کو ڈبو دیتے ہیں۔

کامیابی کی دوسری شرط اعتماد ہے۔ ’’کاروباری اعتماد‘‘ اپنے اندر وسیع تر مفہوم رکھتا ہے۔ ادارہ کے مالکان کا اپنے اوپر اور اپنی ٹیم پر اعتماد- رانا انعام کا اپنی ٹیم پر جو اعتماد ہے, وہ میں پچھلے ایک سال کے دوران دیکھ چکا ہوں اور ایک کاروباری شخص ہونے کے ناطے  گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں کہ اس معاملہ میں رانا انعام کے نمبر پورے ہیں-

کامیابی کی تیسری شرط صدقِ دل کے ساتھ محنت ہے۔ اس معاملہ میں اوروں کا تو معلوم نہیں مگر مکالمہ کی ایڈیٹر اسماء مغل کی محنت اور 24/7 کام کرنے کا میں خود عینی شاہد ہوں- اسماء کو اگر رات گئے کوئی تحریر بھیجی تو اس نے وہ بھی لگا دی اور اگر علی الصبح کچھ لکھا تو اس نے وہ بھی شائع کر دیا- شاید یہی وجہ ہے کہ صرف 3 برس کے مختصر عرصے میں مکالمہ کی معاصر ویب سائیٹس کے مقابلہ میں حیران کن کامیابی کا راز بھی انہی شرائط پر عمل کرنے میں مضمر ہے-

میں اپنی طرف سے اور اپنے دوستوں کی طرف سے مکالمہ کو کامیابی اور ترقی کے 3 سال پورے کرنے پر بہت مبارک باد دیتا ہوں- مجھے امید ہے کہ اپنے وژن, اعتماد اور محنت سے “مکالمہ” دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا رہے گا-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *