کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط11

نوٹ:سویرا کے مدیر اعلی ٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معینہ تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتا ً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مزکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

قسط نمبر دس کا آخری حصہ
ہم کمرہ دیکھنے گئے۔سجاوٹ حسین،دہکتا ہوا آتشدان ،کشادہ بستر، بستر کے عین مقابل دونوں طرف دیوار پر بڑے آئینہ، تاکہ دونوں میں سے کوئی فریق لطف و کرم کے بے باک نظاروں سے محروم نہ رہے ۔گڈی ہوتی تو کہتیLevel playing field،مجھے اس کشادہ بستر پر کوئی اعتراض نہ تھا۔اب تک حضرت نے مجھے چھونے میں کسی غیر معمولی جسارت اور سبقت غیر مجازی کا مظاہرہ نہ کیا تھا۔
آج صبح گالوں کو چھوکر گڈو کا مجھے جگانا شاید اس لیے ہو کہ میں سوتے میں بقول گڈی کے بالکل کوئی مغرور شہزادی لگتی ہوں۔ وہ کہتی تھی وہ لڑکی جو مرد کے جذبات کو مستقل اشتعال دلائے اس کا انعام ریپ ہے۔ اسی کلیے کی روشنی میں گڈی جب خاص قسم کا لباس پہن کر باہر جاتی تو میں ہنستے ہوئے لازماً کہتی آج رات اس کے ساتھ کچھ ہو تو اس میں قصور مرد کا نہیں ہوگا۔آج صبح اگر گڈو نے مجھے چھوا تو میں نے یہ سوچ کر معاف کردیا کہ اب مرد کے صبر کی بھی تو ایک حد ہوتی ہے۔۔میں نے کچھ دیر ہوٹل کے کاؤنٹر پر اس کے پہلو سے لگ کر اس کی الجھن کا لطف لے کر اور ہوٹل والے کے ان کے ہاں ٹھہرنے کے طویل فوائد کی فہرست سننے کے بعد اسی کمرے کی منظوری یہ کہہ کر دے دی کہ I give you little more chance to prove your self a gentlemanہوٹل کا جونیئر منیجر ہمیں کمرے میں چھوڑ کر چلا گیا ۔

ریستوراں
لامہاجون ترکش پیٹزا
دیسی بدیسی عشق
دیسی بدیسی عشق
کاپوڈوکیا کی گھڑسواری
کاپوڈوکیا کی گھڑسواری
کاپوڈوکیا کی گھڑسواری
شیان کا مسلم علاقہ
بوسہ ء حیات
بوسہ ء حیات
پگی بیک

اس کے جاتے ہی ارسلان پوچھنے لگا کہ میری شرافت کی گواہی اور ثبوت کون دے گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں دوں گی مگر شرط یہ ہے کہ اگر کل کی طرح آج قونیا جیسی کمر دبادیں۔ اس فرمائش کی وجہ یہ تھی کہ حضرت نے وہیں کاؤنٹر پر پڑے ایک اشتہاری بروشر کو دیکھ کر شام کی ہارس رائیڈ بک کرالی تھی۔مجھے علم تھا کہ گھڑسواری کے  بعد کمر کا کیا حال ہوگا۔ ارسلان نے اتنی عنایت ضرور کی کہ سواری کے لیے رقم کی ادائیگی کرتے وقت یہ پوچھ لیا کہ گھوڑے دو ہوں گے کہ ایک۔جب میں نے ایک کا کہا توجھٹ مان گئے۔ ہوٹل والوں نے بتایا کہ گھوڑے والوں کے ٹور کا آغاز اور اختتام سامنے والے میدان میں ہوتا ہے۔ یہ رہا ہمارا ٹوکن۔
قسط نمبر 11!
کمر کے مساج کے دوران ہی میں سوگئی۔مجھے لگا کہ وہ جھکا،مجھے دیکھا اور بغیر کچھ چومے چپ چاپ دروازہ بند کر باہر چلا گیا۔۔ممکن ہے حضرت کسی جائزہ مشن پر چل دیے ہوں۔لنچ کا وقت ہوا تو حضرت جگانے آگئے۔لنچ ہم نے میدان کے سامنے ایک چپ چپ سے گھریلو کیفے میں کھایا۔ ان کا پیٹزا جیسا لا مہاجون(Lahmacun) مجھے اچھا لگا۔شیشہ اور قہوہ بھی عمدہ تھا۔وہیں بیٹھے بیٹھے جب گھوڑے والوں کا گروپ جمع ہوگیا تو ہم بھی پہنچ گئے۔

اس بے چارے ارسلان سے جبراً اعتراف محبت کرانے کا سارا قصور ، اس گھوڑے والے کا ہے۔یوں یہ جبری اعتراف ہی ہماری زندگی کے اس intimate بندھن کا نقطہ آغاز ہے۔ہمارے ساتھ ٹور میں شامل امریکن جوڑا تو پکے پکے عاشق معشوق تھے۔ ہم دو تو صرف ہم وطن اور حالات کے ستائے مسافر تھے۔یہ بعد میں ہمیں ائیر پورٹ پر بھی مل گئے۔دیموسن جی بھارت کی ریاست منی پور کے تھے۔ امریکہ میں ریاضی کے استاد بیالس برس سے کیا کم ہوں گے مگر یوگا کے پالے ہوئے،بیتھ ان عمر میں بیس سال چھوٹی۔پہلے کبھی ان کی شاگرد تھی۔اب گرل فرینڈ۔پختہ کار بجٹ ٹریولر، سردیوں میں دنیا گھومتے تھے۔ گھوڑا اسٹینڈ کے قریب آتے ہی بیتھ اچھل کر آگے بیٹھ گئی۔ اور دیموسن جی نے باگیں اس کے حوالے کرکے اس کی کمر تھام لی اور اس کے اجلے سورج تمثال شانے پر بال دار ٹھوڑی رکھ کر بیٹھ گئے۔گھوڑے والا ہمارا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی سمجھا۔

میں نے یہ سوچ کر کہ شہر کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں کی خیر ہے۔ان کو تو میں کسی طرح نبھالوں گی مگر یہ میرے علم میں نہ تھا کہ یہ کسی قسم  کی کوئی hiking mountain trail ہے۔اس میں نشیب و فراز کے سخت مقام بھی آئیں گے جو ہم کو آزمائیں گے۔ میرا ارادہ ورنہ اپنے بلندی کے خوف( Acrophobia ) کی وجہ سے شتر مرغ کی طرح منہ  ڈال کر گڈو کے پیچھے بیٹھنے کاتھا۔
جب کبھی مجھے اونچائی کا سامنا ہوتا ہے تو مجھ پر ایک panic attack ہوتا ہے ، فوراً ہی میرا دل دھڑکنے لگتا ہے، میری سانس بھی رک رک جاتی ہے۔میں نڈھال سی ہوجاتی ہوں تقریباً بے ہوش۔ہم عورتوں کے دماغ میں ایک عجیب خوبی یا خرابی ہوتی ہے کہ ہمیں ہر وہ بات فوراً یاد آجاتی ہے جو ہمارے تجربے سے گزری ہوتی ہے۔اس میں بالخصوص وہ باتیں شامل ہیں جو ایک جذباتی ردعمل کو جنم دیں۔یہ ایک طرح سے ہمارے دفاعی نظام کا لازمی جز ہے۔

میرے Acrophobia کی ابتدا اس وقت ہوئی جب ہم میری پھوپھی کے ساتھ پہلی دفعہ لاہور میں مینار پاکستان گئے۔میں چھ برس کی تھی اور بالکل نارمل۔ پھوپھی کی طبیعت میں ذرا چچھور پن اور بچپنا ہے۔جب میں نیچے دیکھ رہی تھی تو وہ کہیں چھپ گئی۔یہ میرے لیے بہت بھیانک تجربہ تھا۔میں نے چیخنا شروع کردیا۔میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیسے نیچے اتروں گی۔جب پھوپھا مجھے لے کر اتر رہے تھے مجھے وہی منظر یاد آرہا تھا۔

مجھے کئی دن بخار بھی رہا۔میں بعد میں دوستوں کے ساتھ کئی دفعہ ایسے مقامات پر گئی جو پہاڑی علاقے میں واقع ہیں ابو کی کشمیر کی پوسٹنگ میں ایسا کئی دفعہ اتفاق ہوا۔گڈی نے اور دیگر انگریز ساتھیوں نے اس بے جا خوف سے باہر آنے میں بڑی حد تک مدد کی۔ اب میرا یہ فوبیا بہت نارمل سا ہے۔ ہر چند کہ   اب بھی اس کی ایک شاخ   Bathmophobia  تک محدود ہے۔ Acrophobia کی یہ شاخ علالت کسی حد تک ڈھلوانوں پر چڑھنے اترنے کی حد تک محدود سا خوف ہے۔اس کے باوجود میں نے جو بتایا ہے کہ ایسے مقامات پر میرے دل دھڑکن کی غیر معمولی طور پر تیز ہوجاتی ہے، میری سانس بھی مدھم پڑجاتی ہے۔
وہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔احتیاطًامیں نے کھانے کے دوران ایک Aleve PM کی گولی پھانک لی تھی مگر Nevsehir کا قصبہ جہاں ہمارا ہوٹل تھا، ہم جب اس مقام سے کچھ دور نکل آئے تو سامنے میلوں پھیلی وادی تھی۔ یہ ڈھلوان اور اونچائی دیکھ کر میری تو سانس ہی اکھڑ گئی۔میں مُڑی ۔۔ا س کے سینے میں سر چھپا کر اس قدر سختی سے اس کو بانہوں میں جکڑا کہ مجھے لگا اس بچارے کا دم ہی نکل جائے گا۔مجھے بس اتنا یاد ہے اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں میں شاید یوں پیوست تھے کہ وہ بوسۂ حیات ( Mouth-to-mouth resuscitation ) دینے کی کوشش میں سانس انڈیل رہا تھا۔ میں اتنا سن پا رہی تھی ”نیل جان۔ اٹ۔ از۔ اوکے اور میری ہلکی ہلکی سی اوں کے علاوہ میری کائنات میں کوئی اور آواز نہ تھی۔میں حالانکہ اپنی نفسیاتی الجھن کا شکار تھی مگر ان ہونٹوں کا دباؤ، اس کی بانہوں کی جکڑ،وہ میرا پہلا بوسہ ایسا لگا کہ کب سے میری سانس رکی تھی، اس کی سانس ملی تو میری سانس آئی۔جب مجھے احساس ہوا کہ ڈھلوان کچھ کم ہوئی ہے اور گھوڑے کا توازن بحال ہوا ہے تو میں  نے آنکھ کھول کے اسے دیکھا تو بس اتنا سنا۔جان میری۔۔۔اس لذتِ  کیف آگیں میں میری اوں آں، میری بے ربط سسکیوں میں ہوٹل واپس جانے کی فرمائش ہوئی۔میں خود اپنی اس کیفیت سے واقف ہوں۔ میرے لیے اب مزید سفر جاری رکھنا مشکل تھا۔ہم نے اپنے گائیڈ کو ہمیں ہوٹل کے پاس واپس چھوڑنے کا کہا۔وہ بے چارہ سمجھدار نکلا۔ حضرت نے پانچ ڈالر کی ٹپ پیشگی دی تو اور بھی ملائم ہوگیا۔ ایک چبوترے کے بعد ہماری نشستیں آگے پیچھے کیں۔ہموار راستوں سے گھماتے ہوئے ہمیں ہمارے ہوٹل پر لا کر چھوڑ دیا۔

سلپ کا کیچ
سلپ کا کیچ
کاپوڈوکیر کا پونچو
چینی سیاح ترکی میں
چینی سیاح ترکی میں
چینی سیاح ترکی میں

میرے حواس اب بحال تھے پھر بھی ہوٹل میں کمرے تک پہنچنے کے لیے میں نے ایسی اداکاری کی کہ مجھے لابی سے حضرت کو کندھے پر لادنا پڑگیا۔ انگریزی میں اسے back۔ piggy کہتے ہیں یہ لفظ بات کو ذراکھول کر بیان کرتا ہے۔اسی بوجھل مسافت میں کانوں کے پاس میں نے بہت سرگوشی کے لہجے میں کہا Thanks for reviving me. I had nearly died. All has been so timely because of you.(مجھے دوبارہ زندگی بخشنے کا شکریہ۔ میں تو مر ہی چلی تھی۔آ پ کی ہر کوشش بہت بروقت تھی) کمرے میں پہنچ کر مجھے بہادر بننے کی سوجھی۔ہم عورتیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔مجموعہء تضاد۔میں نے اسے کہا کہ وہ کمرے سے چلا جائے۔مجھے سونا ہے۔بے چارہ چپ چاپ باہر چلا گیا۔

بستر پر لیٹ کر میں نے سوچا تومجھے اپنے وہ الفاظ جو back۔ piggy کرتے ہوئے میں نے اس سے کہے تھے، اپنا پیچھا کرتے محسوس ہوئے۔ وہ کیا سمجھے گا۔اس نے اس ہارس رائیڈ سے ہٹ کر اشکی پول ائیرپورٹ پر ہماری اتفاقی ملاقات، میری طلاق، اس کی اتفاق سے بہم رفاقت،یہ بے پناہ تابعدارنہ التفات اور شاید آئندہ بھی اسے جڑے رہنے کے حوالے سے لگا لپٹا اصرار۔جانے وہ کیا سوچے گا۔سچ پوچھیے جتنا بڑا لوزر اور کمزور میں نے خود کو اس تنہائی میں محسوس کیا ،وہ بے پناہ تھا۔۔

دل چاہا کہ فوراً ہی Aleve PM کی چھ سات گولیاں پھانک کر ایک حالت وحشت و جرات کا لبادہ اوڑھ کر باہر نکل جاؤں۔ باہر جاکر اس گھوڑے والے کوڈھونڈوں اور اس کو کہوں پوری رات جب تک اس کا گھوڑا آگے قدم اٹھانے سے انکار نہ کرے مجھے وہ اونچی سے  اونچی پہاڑی پر لے جائے ۔ میرے اس Acrophobia کی، ا س گریڈ انیس کے سرکاری محمد بن قاسم کی جو فلائٹ کھونے کی وجہ  سے مجھے ملا ہے ایسی کم تیسی۔ میں اٹھتی بلندی، گرتی ڈھلوانوں ،کسی سے بھی نہیں ڈرتی۔میں اپنی مالک آپ ہوں۔

میں نے اپنے مرکز سے ہٹ کر جینے کی ٹھان لی ۔ خود کو یقین دلانے کے لیے میں نے زور سے کہا Neil Baby you can do it. یہ تو میں تھی، اپنے نسوانی غرور سمیت۔ارسلان کے تعاقب میں غزال شکوک و شبہات کو پہلے ہی شاٹ پر گھائل کرنے کے لیے میرا دل، گھات لگا کر دوربین چڑھی دور مار شکاری رائفل تھام کر بیٹھا تھا۔ یہ ہی دل ناداں مجھے کہہ رہا تھا دیکھ نیلو،ڈونٹ بی سلی۔کفران نعمت مت کر،سلپ کا کیچ ہے، بیٹسمن کی نہ سہی،تقدیر کی مہربانی سے تیرے پاس آیا ہے۔اسے مت ڈراپ کر، یہ کیچ، Game-Changer ہے،تیری محبت کی سی۔ پیک۔میں کتنی دیر بستر پر الٹتی پلٹتی کروٹ لیتی کوئی پینتالیس منٹ کے لیے بے خواب نیند سوگئی۔شاید وہ گولی جو گھڑسواری کے وقت کھائی تھی اس کا غلبہ اب بستر کی تنہا آسودہ گرماہٹ اور اس بوسہء حیات کی نرم جاں آفریں لذت آگیں دباؤ کو یاد کرتے میں ہوا۔پہلی دفعہ اپنے Acrophobia پر پیار آیا۔ بہت پیار۔ اچھا تو وہ تعارف کے بعد ہی لگا تھا مگر اس کی گھبراہٹ اور مجھے زندہ رکھنے کی کاوش سے ایسا لگا کہ اس ایک بوسے سے وہ میرے اندر سما گیا۔

بیدار ہوئی تو بہت شدید بھوک لگی تھی۔سوچا حضرت کی خبر لوں۔کیا پتہ کسی چینی دوشیزہ پر ڈورے ڈال رہے ہوں۔ اگلی باری پھر زرداری کے چکر میں۔شاور لے، بال کھول، اپنا بوہو۔کروشیے والا پونچو ٹوپی کے ساتھ پہن کر کمرے سے باہر آئی تو یہ سوچ کرکہ اب تک اگر کسی چینی دوشیزہ کو حضرت جی اچھے لگے ہوں تو وہ مجھے دیکھتے ہی میدان چھوڑ دے گی۔ اسی تگ و دو میں یہ بھی خیال آیا کہ یہ میں اتنی ملکیت زدہ کیوں ہوگئی ہوں۔جیسے وہ صرف میرا ہے۔اس نے اب تک مجھے آئی لو یو بھی نہیں کہا۔ حضرت شیشے کی دھونی رمائے۔ قہوے کی پیالیاں سجائے پورا چھ افراد پر مشتمل ایک چینی گھرانہ، گود لیے بیٹھے تھے۔ایک بڑے میاں ان کی قدرے کم عمر بیوی، یہ ایک جوڑا تھے ۔بیوی ہی جتنی عمر کی ان کی اپنی بڑی بیٹی اور اس کے گود میں ایک منہ  بسورتا بچہ پانچواں، ایک مرد جو وقتاً فوقتاً اپنی ٹوپی سیدھی کرتے کرتے حضرت کے شیشے سے کش کھینچ لیتا تھا۔ چھٹی ایک بڑی بی بی جس سے یہ ہنس ہنس کر باتیں کرتے تھے۔ یہ چھوڑتا تو وہ نے دانت میں اڑس لیتی تھی۔

یہ منظر میں نے کھڑکی سے دیکھا۔ ان کی آپس کی رشتہ داریوں کی تفصیلات ان کے ساتھ نشست جمانے پر ملیں۔  جب میں میز کے پاس پہنچی تو گڈو جی مجھے دیکھتے ہی کھڑے ہوگئے ان کی دیکھا دیکھی باقی دو چینی مرد بھی مجبوراً کھڑے ہوگئے۔ یہ سب مجھے اتنا اچھا لگا کہ اس نے میرا دل جیت لیا۔ایسے ہوتا ہے عورت کا احترام۔بڑی بی زیادہ اتاولی تھیں۔ انگریزی بھی وہی بولتی تھیں۔ان کا نام تھا ستی (لیڈی)کاشی زمانہء قدیم میں ملائشیا سے بیاہ کر چین آئی تھیں ۔ یہ بزرگ بی بی اس کم عمر مرد کی ساس تھیں۔ان کی اپنی بیٹی کسی کانفرنس میں اپنی کمپنی کی نمائندگی کرنے دوبئی گئی تھی۔ داماد پہلے آگئے تھے ۔ اپنے ابو اور سوتیلی امی کے ساتھ۔ بیٹی خدیجہ نے وہاں سے آنا تھا۔مجھے دیکھ کر گڈو کو کہنے لگیں:
یور وائف۔۔۔۔اس سوال کو سن کر گڈو کا چہرہ فق ہوگیا۔ جیسے

ع کیا کہے حال دل، غریب جگر۔ؔ۔۔

میں نے بات کو مختصر کرنے کے لیے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوٗئے زور سے ”یس“ کہا
انہیں میرے ڈھیلے ڈھالے پونچو کو دیکھ کر میرے حاملہ ہونے کا خیال آیا تو انگریزی پوچھنے لگیں۔
”پریگنینٹ“؟ (حاملہ ہو؟)
میں نے گڈو کی بے بسی کا لطف لینے کے لیے کہا۔
”یس تھرڈ منتھ“(جی ہاں تیسرا مہینہ ہے)
”بوائے،گرل“؟ ہم عورتیں  بغیر فل اسٹاپ اور کوما کے ایک دوسرے کی باتیں خوب سمجھتی ہیں۔ان کا اشارہ تھا کہ بیٹے کی آرزو ہے کہ بیٹی کی۔؟
میں نے بھی گڈو کی طرف اشارہ کرکے کہا ”بوائے“
”لائک فادر“؟۔۔۔(باپ جیسا) یہ ان کا گڈو کی جانب دیکھتے ہوئے تجسس بھرا سوال تھا۔
”یس بٹ مور بریو“(جی ہاں مگر زیادہ دلیر)
بڑی بی کے لیے ذرا حیرت کی بات تھی تو پوچھ بیٹھیں”کیوں؟“
تقریباً روہانسی ہوکر میں نے انگریزی میں کہا کہ”یہ مجھے کبھی آئی لو یو“نہیں کہتا۔
وہ اپنے بیٹے کی طرف جس نے اب ارسلان کے شیشے کی نے   اپنی طرف سرکالی تھی اس لیے کہ وہ جان گیا اس کی نگاہوں کی بے تکان بارش کو میں نے نوٹ کرلیا ہے اور وہ مجھے تاڑ رہا ہے۔ خاموشی اشارہ  کرکے کہنے لگی His father never say me now۔ ا(اس کے والد صاحب نے مجھے آج تک نہیں کہا)۔وہ شاید اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے اس گروپ میں  شامل نہ تھے۔

اسی اثنا میں عشا کی اذان کی آواز  فضا میں بلند ہوئی تو بڑی بی نے ہات ڈال کر دس ڈالر کا نوٹ اور ایک پنی میں لپٹی نئیء نویلی تسبیح اپنے بڑے سے پرس میں ڈھونڈ کر نکالی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھالیے،میں نے دوسروں کی دیکھا دیکھی ایسا ہی کیا۔شاید قبولِ  دعا کی گھڑی تھی۔وہ اٹھتے ہوئے کہنے لگیں فور یور سن۔ دعا کے ساتھ ہی انہوں نے دس ڈالر اور تسبیح بھی پکڑادی
میں نے دس ڈالر تو شکریے سے لے لیے مگر تسبیح کی طرف اشارہ کرکے کہا ”یہ باپ کو دیں، بہت بُرا آدمی ہے“۔وہ تو حضرت کی بڑی خالہ بنی بیٹھی تھیں۔مجال ہے جو ارسلان کے خلاف کچھ سننے کو تیار ہوں۔کہنے لگیں ”اچھا ہے تمہارے جیسی عورت کے پیٹ میں اس کا بیٹا ہے۔ ویری نوبل،ویری ڈیسنٹ“۔

مجھے لگا کہ میری اس گفتگو سے گڈو کے تو اوسان ہی خطا ہوگئے تھے۔ وہ چلے گئے تب بھی حضرت چپ چپ تھے۔بس مجھے حیرت سے تکے جاتے تھے۔مجھے یہ سب اچھا لگ رہا تھا۔ میں اپنی اس گھڑسواری والی بزدلی پر پردہ ڈالنے کے لیے بالکل ہی دوسری انتہا پر پہنچی ہوئی تھی۔ایک ہلکا سا جھٹکا یہ کہہ کر اور دیا۔ ” Are You?”
ایک عجیب سی  بے بسی کی کیفیت چہرے پرطاری کرکے پوچھ بیٹھے ” What father?“
میں نے بھی اس کا لطف لیتے ہوئے کہا”نو ویری نوبل،ویری ڈیسنٹ“۔
اس سے پہلے کہ حضرت کا جواب آتا میں نے فرمائش کی کہ مجھے کسی اور ہوٹل میں لے جاکر کھانا کھلاؤ اور ایک آدھ جام بھی
پلاؤ۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *