گنگا۔۔۔اورنگزیب وٹو

وہ بھاگا جا رہا تھا۔جوتا ٹوٹ چکا تھا۔اس کے ہاتھ میں خنجر تھا جس پر خون کی لکیر پھیلی ہوئی تھی۔ وہ جنگلی خرگوش کی مانند سر پٹ دوڑ رہا تھا۔اس کا ٹراؤزرپھٹ چکا تھا۔سائرن کی آواز اسکے ساتھ بھاگتی جا رہی تھی۔اس کی سانس اس کے قدموں سے تیز بھاگ رہی تھیں۔شاید اس کے پیچھے آدم خور کتے پڑے تھے جو پاگل ہو چکے تھے۔
کچی سڑک کے ساتھ ساتھ پھیلی جھاڑیوں میں سینکڑوں پرندے ایک ساتھ چلّا رہے تھے۔جھاڑیوں کی مخالف سمت لیٹی جھیل سے خاموشی صدائيں لگا رہی تھی۔مضافاتی علاقوں کی مساجد سے آدھ درجن  اذان کی آوازیں گڈ مڈ ہوتی سنائی دے رہی تھیں۔الله أكبرالله أكبر۔ اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے۔۔بے شک۔
لیکن اللہ کی اس دنیا پہ کتنے خداؤں کا راج ہے۔بے چہرہ عفریتوں کی دنیا،ان گنت دیوتاؤں، بادشاہوں کی دنیا۔ان خداؤں نے انسانوں پر حکومت کرنے کے لیے کتے پال رکھے ہیں۔جب بھی کوئی انسان اپنی مرضی سے سانس لینے کی کوشش کرتا ہے یہ درندے اس پر حملہ کر دیتے ہیں اور پھر اسے چیر پھاڑ کر اپنے دیوتاؤں کو بھینٹ کرتے ہیں۔

انتقام کی آگ ہر وقت طاقتور کو جلاتی ہے۔ کمزور اس کے ہاتھوں مارا جاتاہے۔ظالم چاہتا ہے کہ وہ اس کے سامنے سر جھکا دے۔اس کی دی ہوئی زندگی کو اپنا لے۔اور اس زندگی میں مطمئن اور مسرور رہے۔باوا آدم اور اماں حوا کے بعد چند برسوں میں ہی انسانوں نے اپنے بھائیوں کو جو کمزور تھے،لاٹھیاں اٹھا کر غلام بنانا شروع کر دیا تھا۔ بہت سارے انسان خدا اور دیوتا بن گئے اور انہوں نے کتے پالنے شروع کر دیے۔ان پالتو کتوں کے ذریعے آج تک کمزوروں کی زمین چھینی جاتی ہے،انکے جسموں کو چیرا پھاڑا جاتا ہے،اور باقی رہ جانے والے ان کے خوف سے دب کر رہ جاتے ہیں۔

قریباً تیس منٹ لگا تار دوڑنے کے بعد اسے محسوس ہوا سائرن کی آواز خاموش ہو چکی تھی۔اس کا سارا جسم پسینے میں شرابور ہے اور اسے اپنے ارد گرد موجود چیزیں ہوا میں تیرتی دکھائی دے رہی تھیں۔اس کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ سڑک کے بیچ اچانک وہ رکا،ایسا لگا جیسے گر پڑے گا مگر پھر وہ سنبھل گیا۔اس کے پاؤں پھر سے دوڑنے لگے۔ آخر اسے درختوں کا ایک گھنا جھنڈ نظر آیا اور وہ اس میں جا گھسا۔اس کا سانس ہزاروں میل گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا تھا اور چند لمحوں میں ہی وہ دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہو گیا۔

ایسے نجانے کتنا وقت گزرا اور اس کی آنکھ کھلی۔اسکا جسم تھکاوٹ سے چور تھا۔اس کی زبان سے ”گنگا“ نکلا اور پھر سے خواب کی دنیا میں پہنچ گیا۔اس کی آنکھیں چند لمحوں میں ہزاروں مناظر دیکھ رہی تھیں۔ آہ عاشق میر اس کے بابا۔کپڑے کے چھوٹے سے تاجر،جن کی لاش ڈل جھیل کے کنارے سے ملی تھی۔ان کا قتل ہوا یا وہ خود ہی دنیا کو تیاگ گۓ کسی کو کچھ خبر نہیں تھی۔یہی قاعدہ تھا اس دنیا کا ۔وہ شکایت کرتے تو کس سے؟ شاید خدا بھگوان دیوتا یسوع مسیح سب انہیں پیدا کر کے بھول چکے تھے۔

شاہد موسیٰ جو شاہد آفریدی کا ہر انداز نقل کرنا چاہتا تھا۔ دس سال پہلے وہ دونوں سکول کے طالب علم تھے جب ورلڈ کپ مقابلے ہو رہے تھے۔آفریدی نے فائنل جیتا تو اسے لگا شاہد کا دل پھٹ جاۓ گا۔دو سال بعد جب فوجیوں کے ساتھ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی آۓ تو شاہد نے ان کی گاڑی کی طرف دیکھ کر آفریدی کے انداز میں آؤٹ کا اشارہ کیا۔شاہد موسیٰ کو آسان موت نہیں ملی۔ ہاۓ موسیٰ۔اس کے ساتھ اس کا بیٹ بال اور شرٹ جس پہ آفریدی لکھا تھا،سب قبر میں چلا گیا۔
پہلی دفعہ جب اس نے فریدہ آپا کو دوپہر میں بنا کپڑے سلگتے دیکھا تو اس کی روح کانپ گئی تھی۔زندگی اور موت کے درمیان کوئی جگہ تھی،جو اس کا مقدر تھی۔۔
اور تنوجہ راٹھور،میجر ايم کے راٹھور کی بیوی تھی وہ۔ جس کے جسم سے موتیے کی خوشبو آتی تھی۔جس سے وہ کبھی محبت کر سکا اور نہ نفرت۔پہلی بار میر کی بانہوں میں آکر ہی شاید اسے منزل ملی تھی۔اور پھر ایک بے پایاں سلسلہ قربت۔تنوجہ کے لیے محبت اور میر کے لیے اذیت۔آج وہ اسے آخری منزل پر پہنچانے میں جتا ہوا تھا جب میجر نے دروازہ توڑا۔آج وہ اس بنجر زمین کو سیراب کر رہا تھا جب اسکی ماں تھپڑ کھا رہی تھی،ٹھڈے کھارہی تھی۔اس کی آنکھوں کے سامنے فوجی نے اس کی ماں کے بال پکڑے تھے اور اس نے تنوجہ کے سینے پر ہاتھ ڈال کر زور لگایا۔اس کے حلق سے چیخ نکلی ۔” میر،جان ہی لے لو گے کیا؟“ وہ مسکرا رہی تھی۔وہ اس کی ماں کو سڑک پر گھسیٹ رہے تھے اور اس نے اپنے ناخن اس کی ریشمی کمر میں گاڑ دیے۔اوہ گاڈ۔اس کی زلفیں جیسے ساون کی گھٹا، جنہیں وہ ہر وقت باندھے رکھتی صرف اپنے بستر پر ہی کھلا چھوڑتی۔جب وہ ان زلفوں کو کھینچتا تو وہ تڑپ کر اپنا سینہ اس کے ہونٹوں کے پاس لے آتی اور وہ اسے اپنے دانتوں سے بھنبھوڑتا۔جیسے بھوکا گیدڑ منہ میں دباۓ شکار کی جان نکال لیتا ہے۔

وہ اسے حضرت بل کی درگاہ پہ بھی لے گیا تھا۔اس روز میجر پنجاب کے راستے دلی گیا ہوا تھا۔تنوجہ کشمیری شال میں اپنا بنگالی حسن چھپا کر وہ میر کے کندھے پر سر رکھے درگاہ کے فرش پر بیٹھی رہی تھی۔اسے درگاہ پہ جا کر بڑا سکون ملتا تھا۔ اس کی بانہوں کے نرغے میں جکڑے ہوۓ جب وہ اس کے حسن کی ساری گرہیں کھول رہا تھا تنوجہ نے سرگوشی کی تھی”میر،مجھے درگاہ لے چلو گے؟ اور اس نے اس کے لبوں کو جکڑ لیا۔درگاہ سے لوٹتے اس نے تنوجہ کو بازوؤں میں اٹھایا اور وہ دونوں ڈل جھیل کے پانیوں سے اشنان کرنے لگے۔وہ دونوں اک دوسرے کے جسموں سے میل اتار رہے تھے۔چند لمحوں کے لیے وہ دونوں جھیل کے پانیوں میں غرق ہو گئے۔انہیں لگا جیسے وہ دونوں اپنے اپنے بوجھ سے آزاد ہو گئے۔وہ ہمیشہ اس لمحے میں جینا چاہتے تھے جہاں ان کا وجود حقیقی دنیا سے بہت دور گہرائیوں میں سانس لے رہا تھا۔شاید وہ دونوں ہی ایک دوسرے کا قرب اور کرب محسوس کر سکتے تھے۔کوئی وید، کوئی پیر ،کوئی گرو، کوئی بھی ان کے گھاؤ نہیں دھو سکتا۔حضرت بل روشن تھا اور وہ دونوں روشنی سے چھپ کر ڈل جھیل کی تاریکیوں میں گم ہو چکے تھے۔

رائل کلب میں میر کا کام نئے ممبرز کی انٹری کرنا تھا۔فوجی افسروں اور ان کی فیملیز کے علاوہ حکومت میں رہنے والے ہی کلب آتے تھے۔تنوجہ راٹھور بھی اسی دنیا کا حصہ تھی۔میجر راٹھور کی بنگالی بیوی۔بہشت نظیر وادی اور اس کا فسوں اس کے گرد ہالہ بناۓ رکھتا مگر اس کی آنکھیں مردہ تھیں،ایسی زمین کی طرح جو مدت سے برسات کو ترس رہی ہوں۔اسے پہاڑوں کا قرب راس نہیں آیا تھا۔اس کا چہرہ اک الجھا ہوا منظر تھا۔میر اس منظر میں ایک آسیب کی طرح اترا اور وہ دونوں مقید ہو گئے۔اور پھر اسے اس وادی اور اس کے فسوں سے عشق ہو گیا۔میر جس کا ماضی حال اور مستقبل،روح دل اور جاں سب گھائل تھے،اس کو دیوتا بنا کر خود داسی بن کر رہ گئی۔اس نے ہر اندیشے کو پیچھے چھوڑ کر میر کو اپنا لیا۔ایک ایسے سراب کو جو بہت خوبصورت تھا۔دور سے بھی اور قریب سے بھی۔مگر اس سراب میں بہت گہرائی تھی۔میرجسکی آنکھوں کے شیشوں میں ایسے ان گنت منظر قید تھے جنہوں نے اس کے اندر وحشتوں کا سمندر بھر رکھا تھا۔اس کی نس نس میں بے پایاں اضطراب تھا،کرب تھا۔وہ زندہ ہوتے ہوۓ بھی زندہ نہیں تھا اور مرنے کے بعد بھی مر نہیں سکتا تھا۔وہ صدیوں سے ایسا تھا اور اسے شاید صدیوں ایسے ہی رہنا تھا۔

تنوجہ نے اسے اپنے بنگلے کی دیکھ بھال کے لیے بلایا تھا ۔اسے یہ نیا کام راس آیا تھا۔اسے معلوم تھا کہ اس کی آنکھیں بنجر ہیں-اس کے سینے میں دھڑکتا نازک دل اس قدر بے قرار تھا کہ جب وہ اسے دیکھتا معلوم ہوتا جیسے اس کا دل ریشمی سینے کی دیواریں توڑ کر باہر نکل آۓ گا۔اس کے اندر کی دنیا کی ویرانی اس کے ہر انگ سے جھلکتی تھی-
درگاہ سے واپس لوٹ کر اس نے چھاؤنی کی بجاۓ مضافاتی سڑک کی طرف گاڑی موڑ دی ۔چند منٹ بعد اس نے گاڑی روکی اور وہ دونوں کچی سڑک پر تھے۔ ”؟آئی ڈونٹ وانٹ ٹو گو بیک ٹو نائٹ“۔تنوجہ نے بانہیں کھول کر ایک لمبی سانس لیتے ہوۓ کہا تھا۔”آج ہم دیر تک یہاں رہ سکتے ہیں۔“ وہ اس کے آگے آگے چل رہی تھی۔اس کے عریاں کندھوں پر پانی کی دھاریں نشان چھوڑ گئیں تھیں۔”میر دنیا میں کوئی جگہ کوئی شہر اس وادی سے خوبصورت نہیں۔اٹس جسٹ امیزنگ۔۔سنار دیش بھی اس کے سامنے کچھ نہیں۔“اور وہ اسے خوش دیکھ کر مسکرا کے رہ گیا تھا۔
اس روز پھر سے اس نے بدنصیب   فریدہ کو سلگتے، سسکتے دیکھا تھا-فریدہ جس کا شوہر نہ زندہ تھا نہ مردہ اور وہ آدھی بیوہ تھی۔سالوں قبل اس کا شوہر کسی جنگل کسی پہاڑ کسی جھیل یا کسی قید خانے میں گم ہوا تھا۔آدھی بیوہ تھی وہ۔میر کی وحشی آنکھوں کے سامنے اس کے باپ کی لاش تیر رہی تھی،اس کی ماں چیختی ہوئی صحن کی طرف بھاگی،فریدہ نے خود کو غسل خانے میں بند کر رکھا تھا۔اس روز وادی میں درندوں کی خوفناک آوازیں گونج رہی تھیں۔خوف زدہ جانور اپنے گھونسلوں میں دبکے بیٹھے تھے۔ میر شکاری کتے کی طرح دھاڑ رہا تھا،اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی،وہ تنوجہ کے جسم کو کاٹ رہا تھا۔اس کا نازک جسم اس کی وحشت کے بوجھ تلے ٹوٹ رہا تھا،اس کی اذیت ناک چیخیں میر کی گرفت کے نیچے دب چکی تھیں۔جیسے مرغی کا بچہ بھوکے گیدڑ کے منہ میں پھڑپھڑاتا ہے۔
وہ اسے جس قدر اذیت دیتا،وہ اس قدر اس پہ مہربان تھی۔میر کےبوجھ تلے اس کی سانسیں ٹوٹ رہیں تھیں۔میر کے کانوں میں اس کی  ڈوبتی کانپتی آواز ٹکرا رہی تھی۔
” میں گنگا ہوں،سب کے پاپ دھوتی آئی ہوں۔میرا من نہیں بھرا۔۔جتنے پاپ میری کوکھ سے جنم لینے والوں نے کیے ہیں ان کا بوجھ مجھ پر ہے۔میرے دیوتا میری جان لے لو میں تم سے منہ نہ موڑوں گی۔“اور پھر اس کا ضبط ٹوٹ گیا۔اس نے خنجر نکال لیا۔اس کی آنکھوں کے سامنے فریدہ آپا کی برہنہ لاش غسل خانے کی چوکھٹ سے لٹک رہی تھی اور اس کی ماں کے سینے میں دو انچ گہرا سوراخ ۔وہ تنوجہ کے عریاں بدن کا ایک ایک انگ کاٹنا چاہتا تھا۔دروازے پر زور زور سے دستک ہو رہی تھی۔چند لمحوں میں ہی دروازہ توڑ کر میجر کمرے میں داخل ہو گیا تھا۔وہ دونوں تڑپ کر ایک دوسرے سے الگ ہوۓ۔فوجی کی گولی کا نشانہ میر کا دل تھا مگر وہ اس کے سامنے آ گئی ۔تنوجہ نے میر کی موت کو اپنا لیا تھا۔وہ اس کی بانہوں میں گری تھی۔اگلے ہی لمحے وہ میجر کے سینے پہ سوار تھا اور اس کے چہرے کو لہو لہان کر رہا تھا۔اس نے خنجر سے میجر کی آنکھیں نکال دیں۔اسے کچھ خبر نہ تھی کہ کیسے وہ کمرے کی کھڑکی سے کودا اور کہاں جا رہا تھا۔اس کا جسم خون میں بھیگا ہوا تھا اور وہ بھاگا جا رہا تھا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”گنگا۔۔۔اورنگزیب وٹو

  1. اگر میرے شعور کی ناک مجھے
    دھوکہ نہیں دے رہی تو جناب کے قلم سے منٹو کی بو آ رہی ہے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *