پے پال اور مس انوشہ رحمان کا وعدہ

پاکستان عالمی سطح پر فری لانسرز اور سافٹ وئیر مارکیٹ میں ایک خاص حیثیت رکھتا ہے اور لاکھوں لوگ اس پیشہ سے وابستہ ہیں، یہ لوگ نا صرف ملک کے لئے مالی لحاظ سے فائدہ مند ہیں بلکہ یہ دنیا میں وطن عزیز کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے اچھی رائے بھی پیدا کرتے ہیں- فری لانسرز اور آن لائن خرید و فروخت کے لئے دنیا میں محتلف قسم کے آن لائن پیمنٹ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں مگر پاکستان میں بین الاقوامی طرز کاایسا کوئی پیمنٹ سسٹم موجود نہیں ہے اور جو چند طریقے موجود ہیں وہ عالمی معیار کے نا ہیں اور بڑی کمپنیوں اور صارفین کی طرف سے قابل قبول بھی نہیں ہیں۔ عالمی معیار کے پیمنٹ سسٹم متعارف ہونے سے نا صرف عوام کو فائدہ ہو گا بلکہ اس سے ملک کو بھی اربوں روپے ٹیکس کی مد میں حاصل ہونگے۔پے پال دنیا کا سب سے مقبول، محفوظ اور آسان ترین آن لائن پیمنٹ سسٹم سمجھا جاتا ہے اور پاکستان کے علاوہ تقریباً، پوری دنیا میں کامیابی سے لاگو ہے، اس میں نا صرف قابل اعتماد ادائیگیوں کا نظام موجود ہے بلکہ تنازعات کو حل کرنے کا آسان اور تیز رفتار نظام بھی ہے جو اس پیمنٹ سسٹم پر اعتماد کی بنیادی وجہ ہے۔
ایک سال سے زائد عرصہ قبل وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و مواصلات مس انوشہ رحمان کی طرف سے وعدہ کیا گیا تھا کے بہت جلد پاکستان میں “پے پال”۔” ای-بے” اور اسی نوعیت کی دیگر عالمی سطح کی کمپنیاں اپنی خدمات کا آغاز کریں گی، اس خبر پر مختلف حلقوں، خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آن لائن شاپنگ سے متعلقہ حلقوں کی طرف سے خوشی کا اظہار کیا گیا اور اس اقدام کو انتہائی خوش آئند قرار دیا گیا۔ مگر ایک سال سے زائد عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی ابھی تک نا تو ایسا کوئی پیمنٹ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے اور نا ہی آن لائن پیمنٹ تنازعات کو حل کرنے کے حوالے سے قانون سازی کا بل پاس کیا جا سکا ہے، جو بل سائبر کرائم کے حوالے سے پاس کیا گیا اس میں بھی ایسی کوئی شق موجود نہیں اور نا ہی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے پاس کوئی ایسے اختیاراتی یا نظام موجود ہے جو اس ضمن میں صارفین کے لئے مددگار ثابت ہو سکے- ابھی تک نا تو وزارت اور نا ہی وزیر صاحبہ کی طرف سےاس حوالے سے کسی قسم کی پیشرفت سامنے آئی ہے جسکی وجہ سے مختلف حلقوں میں مایوسی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و مواصلات کو چاہئے کے جلد از جلد اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اقدامات کرے اور اس حوالے سے ضروری قانون سازی کی جائے تاکہ نا صرف ملک میں موجود لاکھوں فری لانسرز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ سے منسلک لوگ استفادہ کر سکیں بلکہ کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں-

Avatar
مبین اللہ
پیشے سے وکیل ہیں، سیروسیاحت کا شوق رکھتے ہیں اور سماجی سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں، انفرمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *