آدابِ اختلاف۔۔۔شاکرہ نندنی

آدابِ اختلاف کی اصطلاح ہمارے معاشرے میں امن کی طرح ناپید ہے، بہت ہی دکھ کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے میں لفظ پروٹوکول صرف سیاستدانوں کی حفاظت تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے، کسی کی رائے کا احترام، آدابِ اختلاف، رشتوں کا پروٹوکول، بڑے چھوٹے کا احترام، آدابِ نشت و برخاست، صبر، تحمل، برداشت، آدابِ تنقید، یہاں تک کے معاف کیجیے گا سے لے کر شکریہ جیسے الفاظ تک یہ سب کبھی ہماری تہذیب کے اثاثے ہوا کرتے تھے جو اب ہمارے معاشرے سے ہمارے ملک کے زرِ مبادلہ کے زخائر کی طرح ہوا میں کہیں تحلیل ہوچکے ہیں، بننے کے کچھ اصول ضابطے پیمانے ہوا کرتے ہیں لیکن بگاڑ ان سب پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے، تعمیر صدیاں لیتی ہے لیکن تخریب کے لئے چند مہینے چند سال کافی ہوتے ہیں، ایک پل تعمیر ہونے میں کم از کم چار سے چھ مہینے لیتا ہے لیکن گرنے پر آجائے تو چھ منٹ بھی نہیں لگتے۔
کہتے ہیں دو چیزوں کا طریقے سے استعمال نسلوں میں آتا ہے، ایک پیسے کا صحیح استعمال، دوسرا تعلیم، یہ دونوں چیزیں کم از کم تین سے چار نسلیں گزرنے کے بعد اپنا صحیح مقام حاصل کر پاتی ہیں، پیسے کا استعمال تعلیم سے علم سے مشروط ہوتا ہے لیکن علم کا استعمال پیسے سے مشروط نہیں ہوتا، سیانے کہتے ہیں کہ اگر آپ اولاد کے لئے مال و دولت چھوڑ کر نہیں گئے تو یہ کوئی مسئلے کی بات نہیں ہے ہاں اگر آپ اسے تعلیم کے زیور سے نا آشنا رکھ کر گئے ہیں تو اس سے بڑے مسئلے کی کوئی اور بات نہیں ہوسکتی، فرض کرلیں کہ دو والدین ہیں، ایک نے اپنی اولاد کے لئے بے تحاشہ دولت چھوڑی ہے لیکن تعلیم سے محروم رکھا ہے، اور دوسرے نے بلکل بھی دولت نہیں چھوڑی لیکن اسکی اعلیٰ تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تو بہ مشکل تین سے پانچ سال کے بعد یہ منظر بدل جائے گا۔

ڈاکٹر شاکرہ نندنی
ڈاکٹر شاکرہ نندنی
ڈاکٹر شاکرہ نندنی لاہور میں پیدا ہوئی تھیں اِن کے والد کا تعلق جیسور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا اور والدہ بنگلور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئیں تھیں اور پیشے سے نرس تھیں شوہر کے انتقال کے بعد وہ شاکرہ کو ساتھ لے کر وہ روس چلی گئیں تھیں۔شاکرہ نے تعلیم روس اور فلپائین میں حاصل کی۔ سنہ 2007 میں پرتگال سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور استاد کیا، اس کے بعد چیک ری پبلک میں ماڈلنگ کے ایک ادارے سے بطور انسٹرکٹر وابستہ رہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سویڈن سے ڈانس اور موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اب ایک ماڈل ایجنسی، پُرتگال میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *