داخلی سیاست کا آشوب۔۔۔اسلم اعوان

مقبوضہ کشمیر پہ بھارتی جارحیت کی گونج نے ملک کی داخلی سیاسی کشمکش کو پس منظر میں دھکیل کے اپوزیشن کو چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتمادکی ناکامی کے نفسیاتی آشوب سے نکلنے میں مدد دی ہے اور مولانا فضل الرحمٰن شکست کی گرد جھاڑ کے ایک بار پھر اپنی مزاحمتی تحریک کی ازسرِنو صف بندی کےلئے تیار ہو گئے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقاتوں کے بعد مولانا نے اپنی جماعت،جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ،کو اعتماد میں لیکر 18 اکتوبر کے دن اسلام آباد پہ فیصلہ کُن یلغارکا عندیہ دیا ہے،قطع نظر اس بات  کے کہ اکتوبر میں مولانا فضل الرحمٰن کی مزاحمتی تحریک پی ٹی آئی کی حکومت گرا پائے گی یا نہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گردشِ  دوراں کی سرگرانی کے باوجود مولانا کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی۔

جولائی2018 کے انتخابات کو کامل ایک سال بیت گیا،اس دوران ملکی و بین الاقوامی حالات میں کئی غیرمعمولی تبدیلیاں رونما ہوئیں،قومی سیاست کی حرکیات اور ایشوز بدلے اور عوامی سوچ کے زاویے تبدیل ہوتے گئے یعنی ملک کی داخلی سیاسی جدلیات اب تک کئی موڑ مڑچکی ہے لیکن اس سب کے باوجود عمرانی حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن کے روّیہ میں کوئی تبدیلی آئی نہ انکے مزاحمتی عزائم کمزور ہوئے،حالانکہ ایک جیّد عالم اور بالغ النظر سیاستدان کی حیثیت سے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نواز لیگ ریاست کی قوت قہرہ کا جبر سہنے کی طویل المدت حکمت عملی پہ عمل پیراہے اور میاں نوازشریف کسی عارضی ڈیل کے ذریعے ادھوری پاور حاصل کرنے کی بجائے ملکی سیاست میں سویلین بالادستی کی ہمہ گیر جدوجہد منظم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،اس لئے نواز لیگ حکومت گرانے کے وقتی اورخطرناک کھیل میں الجھنے کی بجائے پانچ سال تک تحریک انصاف کی حکومت برداشت کرنے کا تہیہ کیے  بیٹھی ہے۔

اسی طرح2018 کے الیکشن کی سب سے بڑی بینفشری ہونے کے ناطے، پیپلزپارٹی بھی موجودہ بندوبست کی بساط جلد لپیٹنے کے حق میں نہیں ہوسکتی اور بلاول بھٹو زرداری کا دل بیشک اپوزیشن کے ساتھ دھڑکتا رہے لیکن انکی جماعت کا عملی تعاون موجودہ بندوبست کے دوام کے ساتھ ہی رہے گا۔بظاہر،عملیت پسندی کا تقاضا بھی یہی ہو گا کہ چالیس سال تک تنہا مار کھانے والی پیپلزپارٹی ابھی طاقت کی دائیں جانب رہے۔دوسروں کے پاس تو کھونے کےلئے کچھ نہیں لیکن پیپلزپارٹی کے پاس کھونے کےلئے سندھ حکومت کے علاوہ سینٹ میں ڈپٹی چیئرمین کا منصب اور قومی اسمبلی میں ترب کے پتہ کی مانند ساٹھ نشستیں ہیں جن کے وسیلے سے  وہ حکومت اوراپوزیشن،دونوں کو انگیج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،لحاظہ  پیپلزپارٹی کو فوری طور پہ حکومت گرانے کی کسی موثر تحریک کا حصہ بننے یا نئے انتخابات کے انعقاد میں کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی۔

قرائن بتاتے ہیں کہ  اپوزیشن بنچوں پہ بیٹھ کے وہ حزب اختلاف کا فقط علامتی کردار نبھانے سے آگے نہیں بڑھے گی۔اس لئے بدقسمتی سے حکومت گرانے کا بھاری پتھر مولانا فضل الرحمٰن کو تنہا اٹھانا پڑے گا،گویا اب مولانا فضل الرحمٰن کا سیاسی مستقبل اسلام آباد پہ فیصلہ کُن یلغار کے ساتھ معلق ہو گیا ہے،مولانا نے بڑا رسک لے لیا ہے، اگر وہ ناکام ہوئے تو اس ملک سے مذہبی سیاست کا نام و نشان مٹ جائے گا،کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن ہی اس وقت سیاست میں کارفرما مذہبی گروہوں کی توانا آواز اور جمہوری بالادستی پہ یقین رکھنے  والی جماعتوں کے ساتھ مذہبی گروہوں کے رابطے کا واحد قابل اعتماد وسیلہ ہیں،ان کی سیاسی شکست نہ صرف مذہبی قوتوں کو سیاسی تنہائی میں دھکیل دے گی بلکہ یہ پیشقدمی بے وقت اور بیکار بغاوت کی صورت اختیار کرکے مملکت کےلئے بھی مشکلات پیدا کردے گی،بھلائی اسی میں ہو گی کہ ملک بھر کی مذہبی قوتیں اس معاملہ میں مداخلت کریں۔علی ہذالقیاس،اسی معاملہ کو اگر ہم پاور پالٹیکس کے تقاضوں سے ہٹ کے ایک دوسرے زاویہ سے دیکھیں تو بھی پیپلزپارٹی،ملک کی داخلی سیاست میں تحریک انصاف کی نوجمہوری اپروچ اور غیر جارحانہ خارجہ پالیسی کی بلواسطہ یا بلاواسطہ حامی نظر آتی ہے،بلاول بھٹو نے امریکی دورے  کے دوران وزیراعظم عمران خان کی طرف سے پاکستان کے موقف کی ترجمانی کی کھل کے حمایت کی اور اس سے قبل وہ مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف مذہبی ایشوز کو استعمال کرنے کی راہ میں حائل ہو گئے،اپنے سیاسی تصورات کے حوالہ سے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہیں جو اگرچہ باہم مل نہیں سکتے لیکن وہ ایک ہی منزل کے راہی اور ایک ہی مقصد کی تکمیل کی خاطر یکساں کام کرتے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے خواجہ آصف کا یہ کہنا کسی حد تک بجا ہو گا کہ چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے پیچھے پیپلزپارٹی کا ہاتھ دیکھائی دیتا تھا،حالانکہ بظاہر اس تحریک عدم اعتمادکا محرک اول خود بلاول بھٹو زرداری تھا۔بشک،بلاول بھٹو زرداری جانتے ہیں کہ ماضی میں پیپلزپارٹی کو مذہبی سیاست کے ہتھیاروں کے ذریعے دیوار سے لگایا گیا،چار دہائیوں تک پیپلزپارٹی قومی سیاست میں کارفرما مذہبی قوتوں کا مرغوب ہدف رہی لیکن تحریک انصاف میں مذہبی سیاست کے ایسے وار سہنے کی پوری طاقت اور ملکی سیاست کو مذہبی،علاقائی اور لسانی تعصبات سے پاک کرنے کی صلاحیت موجود ہے چنانچہ وہ تحریک انصاف کے اقتدار کے تسلسل میں اپنی سیکولر سیاسی اپروچ کی نشاة ثانیہ کو دیکھنے کے علاوہ مستقبل میں راہ کی مشکلات کو کم ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ملک کی فارن پالیسی پہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی ہم آہنگی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یوورپ میں بسنے والے پیپلزپارٹی کے کئی حامیوں نے تجویز دی ہے کہ حکومت کشمیر کاز کی خاطر موثر سفارت کاری اور مغربی ممالک کی رائے عامہ کو ہمنوا بنانے کی خاطر بلاول بھٹو زرداری کو یوروپ اور امریکہ کے دورہ پہ بھجوائے کیونکہ وہ ماضی  میں کشمیر کاز کے لئے موثرکردار ادا کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی سوچ کے وارث اور پاکستان میں سیکولر جمہوری سیاست کی علامت بے نظیر بھٹو کے فرزند ہیں،اس لئے مغرب والے انکی بات توجہ سے سنیں گے۔

بہرحال،قومی سطح کے دانشوروں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ملک کی مشرقی و مغربی سرحدات کی نازک صورت حال،سر پہ منڈلاتے اقتصادی بحران،مظلوم کشمیریوں کے حالت زار اور ادارہ جاتی عدم توازن کے پیش نظر ملک و قوم کی بھلائی اسی میں ہو گی کہ سیاسی قوتوں کے مابین اختلافات کی خلیج کم کی جائے اورسمجھوتہ یا مفاہمت کو فتح پہ ترجیحی ملنی چاہیے،بلاشبہ تاریخ کی رفتار و معانی بھی اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ بہ تسلسل اور بہ تواتر تشدد اور من مانی کاروائیوں کا دائرہ تنگ تر اور صلح و امن کے خط میں توسیع ہوتی رہے۔بہتر ہو گا کہ حکومتی زعما رابطہ کاری کے ذریعے مولانا فضل الرحمٰن کو اس فیصلہ کن اقدام سے روکےں بلکہ پوری اپوزیشن کو اپنا جائزجمہوری کردار ادا کرنے کی گنجائش پیدا کریں تاکہ ملک میں روز مرہ کے سیاسی وظائف کی ہموار ادائیگی کا ماحول پیدا ہو،ارسطو نے سچ کہا تھا کہ سیاست معاشرے کو متشّکل کرنے والے طبقات کے درمیان مفاہمت کا آرٹ ہے،،بیشک باہمی معاملات اور خاصکرسیاست میں پرتشدد رجحانات کی زندگی نہایت مختصر ہوتی ہے۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *