کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط10

SHOPPING
SHOPPING

نوٹ:سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معینہ تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مذکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

قسط نمبر نو کا آخری حصہ!
وہ اپنی اچھائی کے بیان کا یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتی کہ عمر کے اس اٹھائیسویں برس کے آغاز میں بھی اس کا شمار ان نیک بیبیوں میں کیا جاسکتا ہے جو نا صرف کسی مرد کے لبوں کے بوسے سے ناآشنا ہے بلکہ مسلمہ طور پر کنواری بھی ہے۔ نیلم کسی طور قطعی مذہبی، مشرقی عورت نہیں۔زندگی کے مزے لوٹنے ہوں تو وہ کسی سے پیچھے رہنے والی نہیں۔ اس کے باوجود ایک چیختی ہوئی حقیقت یہ ہے کہ یہ شادی جانے کیسا بندھن، جانے کیسا شیشے کا گھر تھا جس کی ہر دیوار ہر چھت کا اس نے پاس رکھا، جب کہ وہاں یورپ اور برطانیہ باہر کی دنیا کے رنگین لطف بھرے مواقع اور بلاوے بہت تھے۔
اس بے لطفی میں عجب بات یہ تھی کہ  ارسلان کی رفاقت میں استنبول میں بھی کوئی وابستگی محسوس نہیں ہوئی۔روم اور استنبول کی سیاحت کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں تاریخ کا شعور اور تجسس کا تال میل بہت تنا ہوا اور کتابی حوالوں سے مزیّن ہونا چاہیے۔ ارسلان کی خوبی یہ تھی کہ وہ اس بات کو عمدگی سے سمجھ گیا تھا کہ نیلم کی اس کی رفاقت کا اس مسافت کے دورانیے میں محدود دائرے میں رہنا اس تعلق میں نکھار اور دوام ، اعتماد و لطافت کا باعث بنے گا۔

قونیا میں مولانا رومی کا مرقد پر نور
قونیا میں مولانا رومی کا مرقد پر نور
قونیا میں مولانا رومی کا مرقد پر نور
یا حضرت مولانا
یا حضرت مولانا
یا حضرت مولانا
جدید اور قدیم ترکی
جدید اور قدیم ترکی

قسط نمبر دس۔۔۔

مجھے اجازت دیں کہ میں یہاں اپنا بیان صیغہ واحد غائب یعنی Third Person Singular سے First Person Singular ( واحد متکلم ) کی جانب منتقل کرلوں۔اپنے بارے میں یوں خود سے دور کھڑے رہ کر کسی اجنبی کے انداز میں گفتگو کرنا اتنا سہل نہیں۔ آپ سے میں یہ بات شئیر کرلوں کہ میں نے ارسلان سے  ایک بڑی چالاکی کی تھی، وہ اس لیے کہ میں نے انگریز لڑکیوں سے یہ چمتکار سیکھا کہ آخری بات پہلے کرلو تو آئندہ تعلق کے تقاضے نبھانا آسان ہوتا ہے۔اسی لیے میں نے اس رات ا ستنبول میں Kafeka Nargile Cafe میں اس سے پوچھ لیا تھا کہ
Do you love me? Your answer ought to be just a No or Yes
قونیا میں بھی مجھے کچھ زیادہ مزا نہیں آیا ،مجھے مولانا روم اور اس طرح کے صوفیانہ سلسلوں کا کچھ پتہ نہیں۔مجھے لگا کہ ترکی معاشرت ایک شدید اندرونی خلفشار  میں مبتلا ء ہے۔ ایک زبان، مشترکہ ورثے، مذہبی ہم آہنگی نے معاشرے کو جوڑے رکھا ہے۔ اس شہر میں بوڑھی عورت نے حجاب اور جوان نے اسکرٹ پہن رکھا ہے۔یہاں کے باشندے اسے ایک جدید شہر بنانے پر تلے ہیں جب کہ  سیاحت سے ہونے والی آمدنی اسے اپنے قدیم فریم میں سینت کر رکھنا چاہتی ہے۔انسان خود تضاد اور انتشار کا شکار ہو تو اسے باہر کے تضادات لاکھ اجنبی اور افکار آشنا سہی پھر بھی بوجھ لگتے ہیں۔قونیا میں میری کیفیت بھی ایسی ہی تھی۔
کچھ اس میں میرے مزاج کی ماہانہ الجھن بھی آڑے آئی۔پہلا دن مجھ پر بلوغت کے ایام سے آج تک بھاری پڑتا ہے۔میں وہاں برمنگھم میں تو چپ چاپ ایک آدھ آئی بروفین درد کے لیے Beet, Strawberry, Cranberry کی Smoothie تھوڑی سی ووڈکا ملا کرپی لیتی تھی۔یہاں استنبول میں، میں نے صبح صبح اپنی درد کی گولی ہلکی نیند کی گولی Aleve PM ہاٹ چاکلیٹ کے ساتھ لے لی۔اس کی وجہ سے ریل کے ہلکورے اور اس کی قربت کی تحفظ آمیز حدت نے مجھے دھیمے دھیمے نیند کی بانہوں میں دھکیل دیا۔احتیاطاً میں نے اس کی انگلیوں میں انگلیاں پھنسا کر اس کابازو ایسے تھام لیا جیسے بچے بڑوں کی انگلی تھامتے ہیں۔

ہائی سپیڈ ٹرین

جانے کیا بات تھی کہ مجھے وہ بدن، اس دوری ،اس اجتناب کے باوجود وہ رفاقت اپنے وجود کا حصہ لگی ۔ہم عورتیں بھی عجب ہیں۔۔گڈی کی بھابی وہاں برمنگھم میں ماہر نفسیات ہے۔وہ کہتی تھی کہ مرد بہت جھلے کملے ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں ایک تو عورتیں  صرف ایک مرد سے پیار کرسکتی ہیں۔ایسا نہیں،اظہار کی سہولت ہو تو اس تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔دوسرے ہم پر مذہب، دین کا  کوئی گہرا اثر نہیں ہوتا۔ یہ مردوں کے شوق ہیں۔ عورت تو بہت Biological Creature ہے۔اس کی ہر ضرورت بدن سے جڑی ہے۔دودھ پلانے والی راتوں کو بچے کے لیے بیدار ہونے والی مخلوق کیسے افکار کی دنیا میں رہ سکتی ہے۔یہ تو صرف جسمانی تقاضے ہیں۔وہ عورتیں جو افکار کی دنیا میں بہت اودھم مچاتی ہیں ان کی گھریلو اور نجی زندگی بہت غیر معمولی ہوتی ہے۔ وہ چاہے مصورہ فریدہ کولہو ہو، اداکارہ مدھوبالا، روحی بانو اور مارلن منرو ہوں،شاعرہ اور ادیبہ امرتا پریتم، قرۃالعین حیدر ہوں کس کس کا نام لوں۔

اسٹون پیلس ہوٹل کاپوڈوکیا
اسٹون پیلس ہوٹل کاپوڈوکیا
اسٹون پیلس ہوٹل کاپوڈوکیا
اسٹون پیلس ہوٹل کاپوڈوکیا
بید کا جھولا-ہیمک

ٹرین میں جب کچھ دیر کو کھانے پینے کا سلسلہ چلا اور فوڈ ٹرالی دھر ادھر ہوئی ،میں نے خوابیدہ آنکھوں سے نگاہ بھر بھر اسے دیکھا ۔حضرت خود کہیں کھڑکی سے باہر جھانکتے تھے۔ مجھے اس بات کا افسوس ہوا کہ کم بخت دو رات پہلے کہہ دیتے کہYes I love you. Neil ایسا کرتے تو ہوٹل میں اپنے کمرے  میں رات کو دروازہ کھول کر سونے کے لیے جاتے ہوئے میں اسے پیار کے پہلے بوسے سے قبول بھی کرلیتی۔شاید کچھ اور بے تکلفی کی اجازت بھی دے دیتی۔میں تو ایک بریک مانگ رہی تھی۔کون سا میں نے عدالت میں ان سے حلفیہ بیان لینا تھا۔اب خود ناسمجھ ہوں تو میں کیا کرتی۔آپ ہی کہیں ایک مر د کے لیے اس سے واضح اشارہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ میرے جیسی کنواری کلی جس کا بھرپور وجود، ایام کے آغاز سے پہلے لذتِ  طلب سے دہکتا ہو، وہ ایک اصرار کے ساتھ خود ایک بے محاسبہ ماحول میں خود کو عاشق ِ بے دام کے حوالے کرنے کی آفر کرے۔ایک ایسے ماحول میں جہاں ہر قسم کی تحفظ بھری تنہائی بھی میسر ہو ۔وہ مرد بھی کس قدر فضول مرد ہے جو یہ جملہ سن کر   بھی کہ میں نہیں مانتی کہ ایک دلیر مرد ہے۔وہ ذمہ داریوں سے فرار کا متلاشی ہے۔ مٹی کا باوا بن جائے۔۔ مجھے یقین آگیا کہ پاکستان کی بیوروکریسی بھی سالی ایک ایسی بوڑھی گدھی ہے جس سے نہ ٹھیک سے وزن اٹھتا ہے نہ اس کی چال میں راستی ہے۔میں نے اس رات اپنی مایوسی پر گڈو ڈرپوک کو تو نہیں پاکستان کی بیوروکریسی کو گڈی والی ایڈی وڈی وڈی پنجابی گالیاں دیں جس میں پین دی سری بھی شامل تھی۔

سو چار گھنٹے کے سفر کے دوران بے چارے، میرے گڈو جان کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ مجھے بھی کہیں چھوتے۔ میں اگر شکر گزار روح ہوتی تو کہتی کہ بیوروکریسی بھلے سے بوڑھی گدھی سہی مگر مطلوبہ بوجھ چپ چاپ ڈھو لیتی ہے ۔ استنبول سے قونیا تکYüksek Hizli Tren, YHT ہائی اسپیڈ ٹرین میں اس کے کاندھے پر سر رکھ کر سونے والی کو جگا کر اپنے کندھے پر اس مسلسل بوجھ کے باوجود اس نے کوئی احتجاج نہ کیا۔ نہ ہی اس نے ٹرین کے بارے میں مجھے اس کے محاسن گنوائے کہ ترکی کی یہ ریل، مسلم دنیاکی سب سے تیز رفتار ٹرین ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اسے پتہ تھا کہ برطانیہ میں رہ کر مجھے Euro star high-speed Channel Trainمیں  سفر کا کئی دفعہ اتفاق ہوا ہوگا۔میری  عدم دل چسپی کی وجہ سے اور مجھے یوں اونگھتا سوتا دیکھ کر گفتگو کا سلسلہ بھی کچھ منقطع رہا۔

ہوٹل پہنچ کر لابی میں ہی میں نے جتا دیا کہ حضرت اگر مجھے Violate (جنسی دست درازی) کرنے کی کوشش نہ کریں تو بہتر ہوگا کہ دو علیحدہ بستروں والا ایک ہی کمرہ لے لیں۔حضرت کا احتجاج بہت مائلڈ سا تھا مگر اچھا لگا۔بہت شائستگی سے جتانے لگے کہ اس کا احساس اب تک تو آپ کو ہو ہی گیا ہوگا کہ میں اب تک آپ کے معیار کے حساب سے آپ کو برت رہا ہوں۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ بہت Irresistible ہیں۔جس پر میں نے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ یہ برطانیہ نہیں، انہیں یہ کہہ کر کہ وہ خود بھی بہت Adorable ہیں ،ماتھے پر ایک بوسہ دیا۔میں آپ کو جتا دوں اردو بہت شرمیلی زبان ہے، اس میں ہوتا تو سب کچھ ہے مگر بیان پر شرم اور نالائقی، کاہلی اور رائے عامہ کے خوف نے بہت گونگی زبان بنادیا ہے ،ورنہ جس زبان میں ماں بہن کی گالیاں موجود ہوں وہاں اور بھی بہت گنجائش نکلتی ہے سو انگریزی کے یہ تین الفاظ جو یہاں بیان ہوئے ہیں ان کا ترجمہ ان کیفیات کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔

کمرے میں پہنچ کر جب میں سیدھی بستر پر دراز ہوگئی تو گڈو نے میری اجڑی طبیعت کا احوال پوچھا۔میں نے بھی بتادیا کہCode Red ہے۔ حضرت کا موڈ تھا کہ وہاں ہوٹل میں چیک ان کرتے ہی باہر کہیں کچھ کافی وغیرہ پی کر مولانا روم کے مزار پر جاتے جو ہوٹل کے قریب سامنے ہی تھامگر جب میں نے کمر میں شدید درد کی شکایت کی تو ارسلان میاں نے کمر دبانے کی پیشکش کی۔

طفلِ خوابیدہ
کاپوڈوکیا
کاپوڈوکیا
سٹرابری سمودھی
جی چاہے تو شیشہ بن جا
کاپوڈوکیا گھڑ سواری
کاپوڈوکیر کا پونچو

مجھے یہ ایک اچھی پیشکش لگی۔اپنی کمر تک محدود رسائی دے کر میں اس کے ارادے بھی بھانپ سکتی تھی۔میں نے جب انہیں اس پُرسکون اور خوشگوار دباؤ کی نشیلی کیفیت میں آنکھیں بند کر کے پوچھا کہ کیا میرا اس حالت ِ ناپاکی میں مزار پر جانا درست ہوگا۔ ترنت جواب ملا کہ یہاں جو ہر قسم کی، چینی، گوری، جاپانی ہر جگہ کی ایلی میلی عورتیں آتی ہیں وہ کون سی پاک ہوتی ہوں گی۔گوریاں تو ٹوائلٹ میں پانی بھی استعمال نہیں کرتیں۔ان کی ناپاک آمد پر نہ کبھی ترکی نے اعتراض کیا ہے نہ مولانا رومی نے کبھی اپنی اس درگاہ نومیدی پر ان کی آمد کے موقع پر اس بے ہودہ غفلت و جسارت پر کسی قسم کے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔وہ ایک صوفی شاعر ضرور ہیں۔ بڑے اہل رسائی بھی ہیں۔وہ اس فطری مجبوری اور سیاحت کے ٹائم ٹیبل والے تقاضوں کو بھی سمجھتے ہوں گے۔ باتوں کے اسی سحر میں مجھے اپنے پیٹ کے نیچے نرم تکیے کاجوابی دباؤ اپنی کاٹن کی نرم ٹی شرٹ اور کمر کے اوپر بہتے بہتے،سمٹتے،پھیلتے مردانہ ہاتھوں کا پھیلاؤ بہت انوکھا اور کیف آگیں لگا۔وہ خود بھی کہیں مجھے یا حضرت مولانا کے وہ اشعار اس کی توضیح کے ساتھ جھومتے گاتے دکھائی دیے کہ ع
باز آ، باز آ،ہر آن چہ ہستی۔۔۔۔۔۔۔آؤ اپنی ہستی کو بھول کر بار ہا چلے آؤ
گر کافر و گبر بت پرست باز آ۔۔۔۔۔مت سوچو کہ کافر ہو کہ بت پرست،چلے آؤ
ایں درگاہ ما درگہ نومیدی نیست۔۔ یہ میرا آستانہ،آستانہء ناامیدی نہیں
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ۔۔۔۔۔۔وہ توبہ بھی جو تم ہزار بار توڑ چکے ہو اسے بھلا کر چلے آؤ۔
دوپہر تک ہم مزار وغیرہ سے فارغ ہوگئے اور اعلی الصبح کاپوڈکیا چل پڑے۔

اب آپ جو ہم دونوں کے بند کمرے کے تعلقات پر سی سی ٹی وی کیمرے والی نظریں گاڑے بیٹھے ہیں تو جان لیں۔ہم نے قونیا میں کھانا کھایا، ایک خوبصورت سے ٹریس والے ریستوراں پر بیٹھ کر شیشہ پیا۔کمرے میں باہر بالکونی میں مہربان ہوٹل والوں نے بید کا ایک جھولے جیسا ہیمک لٹکا دیا تھا سو میں تو اس میں جھولتی رہی،بہت ساری باتیں کیں۔
میں آپ کو بتاؤں وہ کیسا تھا۔بیورکریسی میں مکمل طور پر مِس فٹ، باہر کی کسی جامعہ میں پروفیسر لگنے کے لائق، کسی بین الاقوامی ادارے میں ترقیاتی کاموں کا سربراہ لگنے کا اہل،میرے بس میں ہوتا تو میں تو اسے اپنے ادارے میں ماڈل اسکاؤٹ، فیشن کی دنیا کے بڑے ایونٹس کا چیف بنا دیتی ۔رات جب وہ سوگیا تو میں بستر پر گالوں کے نیچے ایک اضافی تکیہ رکھ کر اونچا چہرہ کرکے اسے گھنٹوں دیکھا کی۔سوچا کی کہ کیا یہ قدرت کا کوئی بڑا فیصلہ ہے کہ ہم یوں ایک فلائٹ مس ہونے پر ایک کمرے میں لیٹے ہیں۔کیا میرے سرتاج سعید گیلانی کا یوں بزدلی سے الزام دے کر زندگی سے رخصت ہونا کوئی بڑا نقصان ہے یا قدرت کو زندگی کی اس ناخوشگوار شاہراہ پر ایک من پسندہم سفر کی رفاقت مجھے فراہم کرنا مطلوب و مقصود تھا۔عجب معصومیت سے سوتا تھا۔بچوں کی طرح ۔ایک وہ ہمارے سر کے سابقہ تاج سعید گیلانی بھی سوتے تھے،ماں کے پیٹ میں بچے کی طرح۔ گڈو کا سونا ایسا تھا جیسا کوئی بچہ کھیلتے کھیلتے سو گیا ہو۔ لبوں پرمسکراہٹ لیے،ادھ کھلی ہتھیلی میں کھلونا تھامے۔

انہی خیالوں میں جانے کب سوگئی، میری اس نیند میں عجب سکون تھا،نہ وہسکی کا نائٹ کیپ، نہ پین کلر، نہ کوئی Smoothie،نہ درد۔ایسے ہوتے ہیں مرد، اتنے نشہ آور، ایسے سرور بخش۔۔ دیر ہوئی کہ صبح کا کوئی پہر تھا جب مجھے بہت نرم سا ایک احساس ہوا انسانی جلد کا۔حضرت تیار، جینز، چیک کی شرٹ، جیکٹ جوتے موزے،شیو کیے جیل شیل لگا کر کھڑے تھے۔میرے گال پر انگلیوں کی پشت پر بالوں کے سہلانے سے گدگدی تو ہوئی مگر میں نیند کے بہانے آنکھ بند کیے پڑی رہی ۔وہ نیل نیل پکارا کیا۔جانو میرے من کے مندر میں اعلی الصبح بھگوان پوجا کی گھنٹیاں بجا کیں۔کچھ دیر بعد جب آنکھ کھولی تو وہ بے بی کہہ کر تیار ہونے کا کہہ رہا تھا۔صبح پانچ بجے تھے اور کاپوڈوکیا ہماری بس نے چھ بجے روانہ ہونا تھا۔
بس میں بیٹھے تو کچھ رات کا سرور، کچھ لمس کا غرور،میں پھر سوگئی۔وہی کاندھا،وہی خواب،بادلوں سے لدے پھندے شہر میں جب ہم پہنچے تو ہلکی بارش اور چھ بھری ہوئی بسوں سے اترے چینیوں نے پورا شہر سر پر  اٹھا رکھا تھا۔
کاپوڈوکیا،وسطی اناطولیہ کا ایک پہاڑی قصبہ ہے۔قدیم اور قدرے پُراسرار سا۔ایسا لگتا ہے کسی ایسی فلم کا سیٹ ہو جہاں خلائی مخلوق کا ڈیرا ہو۔پہاڑ کی چوٹیوں میں بنے گھر اور ہوٹل،اونچی نیچی بل کھاتی پگڈنڈیاں۔مجھے مناظر،شہر اور لوگ پہلی نظر میں اچھے برے لگتے ہیں۔یہ میرا Blink Decision فی الفور پلک جھپکتے کا فیصلہ ہوتا ہے۔زندگی چونکہ بہت Cushioned گدوں کے تحفظ میں گزری ہے۔فیصلے بھی محدود رہے، سر وجدان اچھے ضرور تھے دیگر استادوں سے مختلف،مگر مجھے بس اچھے لگے،سعید گیلانی، میرے میاں،نہ مجھے اچھے لگے نہ برے۔ گڈی میں مجھے ایک بڑی بہن،ایک دوست،ایک گرو نظر آئی۔ میرے جیسی خاندان  کی اکلوتی لڑکی کو، اس طرح کی دوست میں ماں سے لے کر ہر قسم کا روپ دکھائی دے جاتا ہے۔ایسی دوستیں میری کمزوری ہیں۔ وہاں اسلام آباد میں بھی میری ایک دوست گڈی جیسی ہے اس کو میں چھوٹم کہتی ہوں۔اس کا ذکر بعد میں۔۔۔

یہ ارسلان،یہ کیا بلا ہے؟یہ مجھے اتنا کیوں اچھا لگا کہ میں دوسری رات میں اس سے محبت کے ایسے کھلے اظہار پر اتر آئی کہ ہاں یا نہیں،سفید یا کالا، اعتراف کرو اور ابھی کرو۔
کاپو ڈوکیا بھی مجھے اچھا لگا۔۔وہاں قونیا والوں نے جو ہمارا ہوٹل کا کمرہ بک کیا ،وہ رسید پر تو جڑواں بستر کا تھا مگر آپ جانتے ہیں ہر جگہ یہ سیاحت سے وابستہ تاجر افراد لالچی، موقع  پرست اور بے اصولے ہوتے ہیں۔ وہاں ذرا کچھ اونچائی پر بنے اس ہوٹل میں انتظامیہ کا کہنا تھا کہ قونیا کے ہوٹل والوں نے صرف ایک جوڑے کے لیے بے حد آرام دہ Room with a view کی فرمائش کی تھی۔سو ہم نے پوری کردی ہے۔ہمارے باقی کمروں میں علیحدہ گدے بستر  ڈال کر ہم نے ان چینی خاندانوں کو جگہ دی ہے۔پتہ چلا کہ چین کے شہر کے شہر شایان کے بہت سے مسلمان پورے پورے گھرانوں سمیت یہاں آئے تھے۔
ہم کمرہ دیکھنے گئے۔سجاوٹ حسین،دہکتا ہوا آتشدان ،کشادہ بستر، بستر کے عین مقابل دونوں طرف دیوار پر بڑے آئینے ، تاکہ کوئی فریق لطف و کرم کے بے باک نظاروں سے محروم نہ رہے ۔گڈی ہوتی تو کہتیLevel playing field،مجھے اس کشادہ بستر پر کوئی اعتراض نہ تھا۔اب تک حضرت نے مجھے چھونے میں کسی غیر معمولی جسارت اور سبقت غیر مجازی کا مظاہرہ نہ کیا تھا۔

آج صبح گالوں کو چھوکر گڈو کا مجھے جگانا شاید اس لیے ہو کہ میں سوتے میں بقول گڈی کے بالکل کوئی مغرور شہزادی لگتی ہوں۔ وہ کہتی تھی وہ لڑکی جو مرد کے جذبات کو مستقل اشتعال دلائے اس کا انعام ریپ ہے۔ اسی کلیے کی روشنی میں گڈی جب خاص قسم کا لباس پہن کر باہر جاتی تو میں ہنستے ہوئے لازماً کہتی آج رات اس کے ساتھ کچھ ہو تو اس میں قصور مرد کا نہیں ہوگا۔آج صبح اگر گڈو نے مجھے چھوا تو میں نے یہ سوچ کر معاف کردیا کہ اب مرد کے صبر کی بھی تو ایک حد ہوتی ہے۔

میں نے کچھ دیر ہوٹل کے کاؤنٹر پر اس کے پہلو سے لگ کر اس کی الجھن کا لطف لے کر اور ہوٹل والے کے ان کے ہاں ٹھہرنے کے طویل فوائد کی فہرست سننے کے بعد اسی کمرے کی منظوری یہ کہہ کر دے دی کہ I give you little more chance to prove your self a gentleman
ہوٹل کا جونیئر منیجر ہمیں کمرے میں چھوڑ کر چلا گیا ۔اس کے جاتے ہی ارسلان پوچھنے لگا کہ میری شرافت کی گواہی اور ثبوت کون دے گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں دوں گی مگر شرط یہ ہے کہ اگر کل کی طرح آج قونیا جیسی کمر دبادیں۔۔ اس فرمائش کی وجہ یہ تھی کہ حضرت نے وہیں کاؤنٹر پر پڑے ایک اشتہاری بروشر کو دیکھ کر شام کی ہارس رائیڈ بک کرالی تھی۔مجھے علم تھا کہ گھڑسواری
کے  بعد کمر کا کیا حال ہوگا۔ ارسلان نے اتنی عنایت ضرور کی کہ سواری کے لیے رقم کی ادائیگی کرتے وقت یہ پوچھ لیا کہ گھوڑے دو ہوں گے کہ ایک۔جب میں نے ایک کا کہا توجھٹ مان گئے۔ ہوٹل والوں نے بتایا کہ گھوڑے والوں کے ٹور کا آغاز اور اختتام سامنے والے میدان میں ہوتا ہے۔ یہ رہا ہمارا ٹوکن۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط10

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *