میکوں شام کھا گئی

میکوں شام کھاگئی
چند سال پہلے ذیشان حیدر کا ایک سرائیکی نوحہ بہت مقبول. ہوا تھا ۔بابا میکوں شام کھا گئی!
وہی یاد آ رہا ہے، نوحے میں سیدہ سکینہ بنت حسین علیہ السلام کی طرف سے فریاد کی گئی ہے، کہ بابا مجھے شام کے زندان کی گرمی، لعینوں کے سب و شتم اور طمانچوں نے مار ڈالا ہے،
میں جو آپ کے شفیق سینے پر سر رکھ کر سوتی تھی مجھے سنگلاخ زمین کی گرمی سونے نہیں دیتی، مجھے بھائی علی اصغر یاد آتے ہیں، پیاس لگتی ہے پانی حلق سے نہیں اترتا چچا عباس یاد آتے ہیں_!
پھو پھی زینب عالیہ مجھے دلاسے دیتی ہیں لیکن مجھے شام اور شام کا اندھیرا کھائے جاتا ہے۔! اب میں کیا لکھوں میری آنکھوں کے آگے اشکوں کا ہجوم ہے جس میں منظر دھندلائے جاتے ہیں، میرے سینے میں دفن نوحے سر اٹھانے لگتے ہیں تو رافضی رافضی کا شور انہیں دبا دیتا ہے میں کہاں جاؤں!
میرے لئے خانوادہ ء رسالت کے اجڑنے کا غم اس قدر شدید ہوتا جاتا ہے کہ میں نے غم کی شدت کم،کرنے کے لئے کالے کپڑے پہننا چھوڑ رکھے ہیں میں سیاہ لباس دیکھتے ہی دہل،جاتی ہوں کہ اب وہ سب کچھ سننا پڑے گا جسے سننے کی تاب نہیں لائی جا سکتی، ذوالحج آتے آتے بمشکل دل سنبھلنے جاتا کہ محرم کا نقرئی ہلال پھر سے اشک کشید کرنے کو آسمانِ ہست پر نمودار ہو جاتا ہے!
یہ کونسی شام ہے جو پھر سے نمودار ہوئی جاتی ہے…
اے ہجومِ اشقیاء یہ شام ہے شام_! جہاں علی کی بیٹی محوِ خواب ہے_! کچھ تو حیا کرو! کچھ تو لاج رکھو! وہ کیا. سوچتی ہوگی…
کر کیا رہے ہو؟مجھے بھی شام کھائے جاتی ہے!
کسی نے سید سجاد علیہ السلام سے پوچھا تھا… اے امام آپ پرزندگی میں سب سے زیادہ سخت روز و شب کہاں گزرے؟
سید نے تین بار کہا! شام_ شام_ شام
ہائے شام!! بے کسوں کی شام، ہائے! صبر والوں کی شام
ہائے! مظلوموں کی شام…

Avatar
سائرہ ممتاز
اشک افشانی اگر لکھنا ٹھہرے تو ہاں! میں لکھتی ہوں، درد کشید کرنا اگر فن ہے تو سیکھنا چاہتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *