• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • عرب ملکوں میں مودی کی غیرمعمولی پذیرائی۔۔۔۔منور حیات

عرب ملکوں میں مودی کی غیرمعمولی پذیرائی۔۔۔۔منور حیات

ہمارے ہاں پچھلے کچھ دن سے عجیب شور برپا ہے کہ برادر اسلامی ملک ایک ایسے وقت میں بھارت کے ہندو انتہا پسند وزیراعظم نریندرا مودی کو دھڑا دھڑ اپنے قومی اعزازات سے نواز رہے ہیں،جب اس نے عام طور پر ہندوستانی اور بالخصوص کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔

یہ بات بالکل درست ہے،کہ جب سے ہندوستان   میں بی جے پی کی قیادت میں ہندو انتہا پسند سنگھ پریوار(راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ،وشوا ہندو پریشد ،ہندو مہا سبھااور جن سنگھ) کی صورت میں برسر اقتدار آئے ہیں،تب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔پچھلے پانچ سال میں نام نہاد گئو رکھشکوں نے پولیس کی معیت میں کئی مسلمانوں کو گائے لے جانے یا گائے کو مارنے کے الزام میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا ہے۔پہلو خان اور تبریز انصاری اس کی حالیہ مثالیں ہیں۔اور ان مجرموں کو عدالتیں بھی سزا دینے میں ناکام رہی ہیں۔،بلکہ اس طرح کے جرائم میں ملوث مجرموں کا رہائی پر زبردست استقبال کیا جاتا ہے،اور بی جے پی کے کئی رہنما ایسے لوگوں کو پھولوں کی مالائیں پہنانے بھی پہنچے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ ان پانچ برسوں میں مسلمانوں سے نفرت میں چھ سو فیصد اضافہ ہوا ہے ۔آسام میں چالیس لاکھ کے قریب مسلمانوں کو بہ یک جنبش قلم غیر ملکی گھس بیٹھیے قرار دینے کی تیاری ہے،ان کو چالیس سال پہلے کے شہریت کے دستاویز پیش کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔اور ان کے لئے تیزی سے تفتیشی اور حراستی مراکز کی تعمیر جاری ہے ۔

اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے ہندوستان سے الحاق سے متعلق ان کے آئین کی دفعہ 370 اور اس کے آرٹیکل 35A کو ہٹانے کا یکطرفہ اقدام کر کے جموں وکشمیر کو ہندوستانی آئین میں حاصل کسی حد تک خودمختاری اور خصوصی حیثیت پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ممکنہ طور پر بھارتی انتہا پسند بی جے پی حکومت مسلم اکثریتی کشمیر کا آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے اسرائیلی طرز کے طویل المیعاد منصوبے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ 5 اگست کے بعد سے لے کر اب تک کشمیر میں بدترین لاک ڈاؤن جاری ہے۔ کشمیریوں کے لئے موبائل اور انٹر نیٹ سروس بند ہے، بدترین کرفیو کی وجہ سےلوگ عملاً اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں۔ ان پر بھارتی سکیورٹی فورسز کا بدترین کریک ڈاؤن جاری ہے۔ نوجوانوں کو بغیر کسی جرم کے پکڑ کر حوالات میں بند رکھا جاتا ہے۔ احتجاج کرنے والوں پر سیدھی گولیاں برسائی جاتی ہیں۔ چھرے دار بندوقوں کی گولیاں لگنے سے سینکڑوں نوجوان اور بچے اپنی بینائی کھو چکے ہیں، اور کئی اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ساری دنیا کشمیریوں پر ہونے والی زیادتیوں اور تشدد کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم اسلامی ممالک کی طرف سے انتہا پسند مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزازات سے نوازنا گویا مودی کے مسلم مخالف ایجنڈے کی توثیق کے مترادف ہے۔

ایسے میں اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو بھی “مسلم اُمہ” کے تصوراتی فریب سے باہر آ جانا چاہیے۔ اس رومانوی تصور نے ہمیشہ ہمیں دوسروں کے بھروسے پر رہنے کی لت لگائے رکھی اور خوش گمانیوں کی جنت میں بھٹکائے رکھا۔اب ہمیں بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی پوری توجہ اپنے اندرونی اور بیرونی استحکام پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ہم باقی دنیا حتیٰ کہ اپنے پڑوسیوں سے بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

تلخ حقیقت یہی ہے کہ اب انسانی حقوق کی پامالی، ریاستی جبر اور قبضہ گیری کی مذمت جیسی چیزیں صرف لفظی حد تک رہ گئی ہیں ۔عملی طور پر اب ان چیزوں کی بین الاقوامی سطح پر کچھ اہمیت باقی نہیں رہی۔ صرف کمزور قومیں اور ملک ان چیزوں کا واویلا کر کے اپنے سینے کا بوجھ ہلکا کر سکتے ہیں۔ دنیا کو کسی کے مرنے یا تباہ و برباد ہونے سے قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اور اگر ان آفات کا نشانہ مسلمان بن رہے ہوں تو پھر تو مہذب دنیا کی لا تعلقی دوچند ہو جاتی ہے۔ اب ممالک کے آپس میں تعلقات میں باہمی مفادات، تجارت اور سرمایہ کاری جیسے امور کلیدی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔جن ملکوں کی معیشت مضبوط ہے وہی ملک بین الاقوامی سیاست میں بہتر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ورنہ محض فوجی طاقت پر انحصار کرنے کی صورت میں آپ شمالی کوریا کی طرح ایک الگ تھلگ کونے میں پڑے سڑتے رہیے۔ ہمارے نام نہاد برادر اسلامی ملکوں کے تجارتی اور معاشی مفادات ایک ارب اور تیس کروڑ کی آبادی رکھنے والے بھارت سے ہماری نسبت کئی گنا  زیادہ ہیں۔ سعودی عرب ان کو ہم سے کئی گنا زیادہ تیل فروخت کرتا ہے، اور وہ ہماری طرح بار بار ان سے ادھار نہیں مانگتے۔ متحدہ عرب امارات بھارت کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ان کی آپس میں 50 ارب ڈالر سے زیادہ کی تجارت ہےاور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کی باہمی سرمایہ کاری ہے۔ پاکستانیوں کی زیادہ تر تعداد وہاں جا کر مزدوری کرتی ہے یا ٹیکسی چلاتی ہے جبکہ بھارتی پورے متحدہ عرب امارات کو چلاتے ہیں۔ امارات کی تقریباً 80لاکھ کی آبادی میں سے ہر تیسرا شخص بھارتی ہے۔ زیادہ تر آفس مینجمنٹ، آئی ٹی سیکٹر اور میڈیکل سیکٹر بھارتی چلا رہے ہیں۔ گلف نیوز اور خلیج ٹائمز کا 80 فیصد عملہ بھارتی ہے۔ اور امارات کی ہر مارکیٹ میں آپ کو سبزی اور پھل سے لے کر ان کو بیچنے والے تک بھارتی ملتے ہیں۔ ان کی سڑکوں پر ٹاٹا کی بسیں اور مزدور طبقے کے پاس بجاج کی موٹر سائیکلیں ہیں۔

دنیا کا دستور ہے کہ اپنے غریب رشتہ دار کی بجائے اپنے امیر دوستوں کی زیادہ عزت افزائی کی جاتی ہے ۔ایک ایسا ملک جو اپنے ہاں سے پولیو جیسی بیماری تک ختم نہیں کر سکا ،وہ ایک ایسے ملک کے لئے جنہوں نے اپنے چھوٹے سائز کے باوجود اپنے آپ کو دنیا بھر کی تجارت ،سیاحت ،اور فضائی ٹریفک کا مرکز بنا لیا ہے، کیا کر سکتا ہے ؟کیا ہم ان کو دوسری دنیا سے تعلقات کے بارے میں بتائیں گے ؟

انہیں خوب اچھی طرح سے معلوم ہے کہ کسے بھیک دینی ہے، اور کس سے کاروباری معاہدہ کرنا ہے۔ کس کو تھپکی دینی ہے، اور کسے گلے لگانا ہے۔ کس کے ہاں شکار کھیلنے جانا ہے ،اور کس کے ہاں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔اب بھی وقت ہے ہم ادھر اُدھر کی فکریں چھوڑ کر اپنی معیشت کو مضبوط کرنے پر پوری توجہ دیں۔ اپنے لوگوں کو تعلیم دینے اور انہیں ہنر مند بنانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں نئی نئی صنعتوں کے قیام کی ضرورت ہے، اور پرانی صنعتوں کو مراعات دے کر ان کو مسابقاتی سطح پر لے آ کر ان کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں سرمایہ دار دوست ماحول پیدا کریں۔ پوری توجہ برآمدات بڑھانے پر دیں۔ اپنے لوگوں کو صحت اور صفائی کی بہتر سہولیات دیں۔ با اختیار بلدیاتی ادارے تشکیل دیں۔ پولیس اور عدالتوں کا نظام بہتر کریں تاکہ لوگوں کی انصاف تک رسائی ہو،اور تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہو۔دیہاتوں میں کسان مہنگائی کے ہاتھوں پِس رہے ہیں ان کو سستے ٹریکٹروں ،کھاد اور سستے ڈیزل کی ضرورت ہے۔ زرعی مصارف پر اندھا دھند عائد کیے گئے ٹیکس کم کیجیے۔ ان کی اجناس کے دام کچھ بڑھا دیجیے۔ ۔ جب تک ہم خود اپنے لئے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہونگے، اس وقت تک ہم کشمیریوں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔اور ہم اسی طرح اپنی نالائقیوں کو دور کرنے کی بجائے دوسروں پر کڑھتے رہیں گے۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *