بہت سی ہاجرائیں۔۔۔ہما

عورت کو محبت کی اک بوند ملتی ہے تو وہ بارش سمجھ کر اس میں بھیگنے لگتی ہےاور مرد، مرد کیا کرتا ہے اک بوند پھینک کر عورت کے پاگل پن کا تماشہ دیکھتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہم “چینل کے ڈرامہ سیریل انکار میں یمنیٰ زیدی کے یہ ڈائیلاگ جیسے کسی بدصورت رویے کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈرامے کا مرکزی خیال بیان کررہے تھے۔
ڈرامہ انکار کا یہ تعارفی جملہ ہی کہانی کا پس منظر بیان کرتا نظر آیا
مرد و عورت شاید اپنی فطرت میں محبت چاہتے ہیں، عورت کی محبت فقط سپردگی ہوتی ہے جبکہ مرد کی محبت ؟؟
محبت آدم کی فطرت ہے اسے سکون میسر نہیں آتا جب تک کوئی حوا اس کی  پسلی سے برآمد نہ کی جائے۔لیکن اس فطرت کی تسکین کیلئے ابن آدم محبت کے نام  پر جانے کیا کچھ کرجاتا ہے۔وقتی محبت، ضد، انا، دیوانگی میں وہ کسی کے احساس کو مجروح کرتے ہوئے فقط اپنی جیت کی جنگ لڑتا ہے۔
محبت میں جب تک عورت چھپی کتاب رہے ایک راز رہے اس کی دلچسپی محبت کے نام پر قائم رہتی ہے۔۔اپنے تجسس کو وہ محبت کا پاگل پن قرار دیتا ہے، لیکن جونہی اس کا مقصد پورا ہو، تجسس ختم ہو، وہ اپنے معیار کا جائزہ لینے لگتا ہے۔۔
مرد جب محبت کرتا ہے تو اسے حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر اسے اس حاصل میں کامیابی نہ ہو تو پھر کبھی تیزابی چہرے، کبھی بدنامیاں اور کبھی ہاجرائیں جنم لیتی ہیں۔۔

ڈرامہ سیریل انکار میں ہاجرہ کا کردار یمنیٰ زیدی نے بھرپور طریقے سے نبھاکر بہت سی ہاجراؤں کا ایک واضح پیغام دیا کہ اپنے حق کیلئے ڈٹ جاؤ دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے لیکن کسی کی محبت پر اپنے کردار کو قربان نہ کرو۔
ڈرامہ سیریل انکار میں عمران اشرف نے چوہدری ریحان کا کردار ادا کیا۔
ہاجرہ اور ریحان کے درمیان لڑی گئی اس جنگ کی ابتدا سمیع خان(شایان)کی اس خاموش محبت سے ہوتی ہے جسکا اظہار وہ ہاجرہ سے اسکے اصولوں اور اپنے اردگرد کھینچی گئی اخلاقیات کی دیواروں کی وجہ سے نہیں کرپاتا۔
سمیع خان(شایان )اپنے دوست ریحان چوہدری کو حال دل بتاکر اس سے مدد چاہتا ہے لیکن ریحان چوہدری ہاجرہ کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں تمہیں بتاؤں گا کہ ہر لڑکی ایک جیسی ہوتی ہے اور ان لڑکیوں کے نخرے کیسے ڈھیلے کیے جاتے ہیں
ریحان کا رویہ بھی آجکل ہمارے معاشرے کی نوجوان نسل سے مختلف نہیں تھا ،آجکل ہمارے ڈھکے چھپے معاشرے میں بھی گرل فرینڈز کا تصور زور پکڑتا جارہا ہے جو لڑکا جتنی زیادہ (بچیاں) گرل فرینڈز بناسکے اس کی پرسنالٹی کی داد و تحسین بلند کی جاتی ہے۔۔
ریحان بھی انہی اقسام میں سے ایک ہوتا ہے وہ ہرممکن طریقے سے ہاجرہ کو اپنی طرف مائل کرتا ہے لیکن ہاجرہ پر ریحان چوہدری کی محبت بھی اثر نہیں کرتی اور وہ اپنے طے کردہ اصولوں پر کاربند ہر ایک کے سامنے علم بغاوت بلند کرتی نظر آتی ہے۔

ایسے میں جب ایک لڑکی ہونے کی وجہ سے اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ریحان چوہدری کسی مسیحا کی طرح اس کا سائبان بنتا ہے
وہ ہاجرہ کو بھرپور تحفظ کا احساس دیتا ہے اور ہاجرہ کی عزت اس طرح کرتا ہے کہ اگر کسی احاطے میں وہ چپل اتاردے تو سر جھکا کر اسکی چپل سیدھی کرتا ہے۔
عزت شاید عورت کی کمزوری ہے وہ اسی مرد کو محبت کے لائق سمجھتی ہے جو اسکی عزت کرے، اور یوں ریحان کی جھکی نظریں اور مضبوط سائبان اور بے پناہ عزت واحترام ہاجرہ کو بھی ریحان سے محبت میں مبتلا کردیتا ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کیلئے آمادہ ہوتے ہیں۔

ریحان اپنے مقصد میں تقریباً کامیاب ہوا چاہتا ہے اور آخری کھیل کھیلنے ہی والا ہوتا ہے اور اسے مکمل یقین ہوجاتا ہے کہ ہاجرہ اس کی محبت میں اس حد تک جاسکتی ہے کہ اپنی عزت بھی گنوادے لیکن ہاجرہ ریحان اور اسکی ہوس زدہ محبت کو ٹھوکر مارکر آگے بڑھ جاتی ہے ،اسکے منہ پر انکار کا چماٹ مار کر محبت پر تھوک دیتی ہے اور یہی انکار ریحان کی انا کو بری طرح زخمی کرتا ہے اور وہ ہر صورت ہاجرہ کو اپنانے کی ٹھان لیتا ہے۔

ہاجرہ اپنے گھر آنے والے شایان کے باعزت رشتے کو قبول کرکے اپنی زندگی کا سفر شروع کرنا چاہتی ہے۔۔
لیکن ہاجرہ اب ریحان کی ضد تھی، اسکا جنون تھی اسکا پاگل پن تھی وہ شایان کی دوستی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہاجرہ کو ہر طرح سے قائل کرتا ہے کہ ہم دونوں ایک  دوسرے سےمحبت کرتے تھے اور تم مجھےچاہتی ہو لیکن ہاجرہ اپنے انکار پر قائم رہتی ہے۔
اور پھر ہاجرہ کا خوبصورت چہرہ تو کسی تیزاب گردی سے محفوظ رہتا ہے لیکن قینچیوں کے وار سے بری طرح زخمی ہونے کے بعد وہ دلہن کے لباس میں ہی زندگی و موت کی کشمکش میں جاپہنچتی ہے۔
ہاجرہ اب بھی ہار نہیں مانتی ،وہ بدنامی کا خوف ایک طرف رکھ کر تمام حقائق اپنے باپ کو بتاکر ریحان چوہدری کے خلاف مقدمہ درج کروادیتی ہے۔
جب ایک لڑکی کسی بااثر بگڑے ہوئے نواب، چوہدری وڈیرہ یا وغیرہ وغیرہ کے خلاف آواز بلند کرے تو اسے کن کن اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے اسکا اندازہ ہم خدیجہ کیس دیکھ کر بھی لگاسکتے ہیں۔
جب اسے یونیورسٹی میں کسی لڑکے نے اس کے انکار پر بری طرح زخمی کیا اور مقدمہ کرنے پر اسے بھری عدالت میں زخم دکھانے کا کہا گیا،

دوران مقدمہ ہاجرہ اور اسکے والد کو بھی طرح طرح کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ریحان چوہدری ہاجرہ پر الزام لگاتا ہے کہ یہ لڑکی میری محبت میں دیوانی تھی میرے انکار پر اس نے خود کو قینچیاں مار کر زخمی کیا۔
یعنی وہ جو مریم بننے کی جنگ لڑرہی تھی اس پر یوسف والی تہمت لگادی جاتی ہے۔۔
ثبوت کے طور پر ریحان چوہدری عدالت میں وہ تمام میسجز دکھاتا ہے جو ہاجرہ نے ریحان کی محبت پر اعتبار کرکے اسے بھیجے تھے۔
ہر طرح سے ہاجرہ باپ بھائی ماں اور دنیا کے سامنے شرمندہ ہوتی نظر آتی ہے، بھائی پر جب لوگ باتیں کستے ہیں تو وہ تمام تر غصہ بہن پر اتارتا ہے۔
ہاجرہ اپنی والدہ کا بھرپور دباؤ سہتی ہے کہ جس کے ساتھ محبت کا کھیل کھیلا تھا اب اس کے ساتھ شادی کرو اور ہماری جان چھوڑو ،
ہاجرہ تھک جاتی ہے کہ میں نے محبت نہیں اسکی محبت پر اعتبار کیا تھا معصوم خواب دیکھے تھے لیکن میں محبت کے نام پر اپنا کردار قربان نہیں کروں گی۔
ڈرامہ انکار میں سرکاری نظام میں اثرو رسوخ استعمال ہوتے دکھائے گئے، ایمانداری پر کرپٹ نظام اثر انداز ہوتے دکھایا گیا
بتایا گیا کہ اگر کسی طاقتور کے مقابلے میں کسی کمزور کی مدد کروگے تو چاہے جو بھی عہدہ تمہارے پاس ہو صاحب اقتدار وہ تم سے چھین کر اپنے اثرورسوخ والے شخص کو فوقیت دیں گے۔

کہانی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے، کہیں ہاجرہ ہمت ہارنے لگتی تو اسکا باپ اسکا سائبان بن کر  اسےہمت دلاتا اور اسے حق کی خاطر ڈٹے رہنے کا کہتا۔

بالآخر بہت سی مشکلات جھیل کر ہاجرہ سرخرو ہوتی ہے اور عدالت ہاجرہ پر لگائے گئے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ریحان چوہدری کو اس کے عمل کی سزا دیتی ہے۔

اس تمام ڈرامے کا حاصل کلام یہ تھا کہ احساس کسی کی ملکیت نہیں، عورت محبت کے نام پر بہت جلد پاگل بنائی جاسکتی ہے ،آجکل کے دور میں جہاں ہر ٹین ایجر لڑکا اور لڑکی محبت، عشق و عاشقی کے جنون میں مبتلا ہیں۔بدقسمتی سے بہت سی ہاجرائیں اکثر ریحان چوہدریوں کی باتوں میں آکر ان کی ہر جائز و ناجائز بات مان بیٹھتی ہیں۔
اور پھر ایسے تہی دامن خالی آنکھیں لئے پھرتی ہیں جیسے انکی زندگی کا ہر مقصد ختم ہوگیا ہو۔۔
ہاجرہ اس ڈرامے کے ذریعے بہت سی ہاجراؤں کو پیغام دیتی ہے کہ محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے اگر اس جذبے میں ہوس شامل ہوجائے تو اس محبت کو ٹھوکر مارکر آگے بڑھ جاؤ۔
مرد واقعی محبت کی صرف ایک بوند پھینکتا ہے اس میں بھیگنے سے پہلےہر ہاجرہ کو ہزار بار سوچنا چاہیے کہ جب وہ آپکے پاگل پن کا تماشا دیکھے گا تو کیا یہ تکلیف سہہ پاؤ گی؟؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *