غم حیات کے ماروں کا احترام کرو۔۔۔۔مدثرمحمود

رالف ایمرسن نے کہا تھا کہ  زندگی کا مقصد خوش رہنا ہی نہیں کسی کو خوش رکھنا بھی ہے اور بقول ساغر صدیقی ۔۔غمِ حیات کے  ماروں کا احترام اور خیال ہی عین عبادت ہے۔

کسی انسان کا پرسنل مائل سٹون(ذاتی سنگِ میل) جیسے ڈاکٹر ،انجنیئر، سائنسدان بننا۔۔کوئی عہدہ حاصل کر لینا،سرمایہ دار ہو جانا باعث افتخار تو ہے قابل عزت نہیں ،اگر  جذبۂ خدمت خلق کا وجود نہیں  , عزت اور وقار تو فقط لوگوں کی خیر خواہی اور خدمت میں مضمر ہے . اپنے پرسنل مائل سٹون کو لے کر رعونت میں  پھرنا، میں بہت عزت دار  ہو    گیا ہوں سواۓ خود فریبی کے کچھ نہیں ،سوفوکلز نے کہا تھا کہ  ظلم رعونت اور غرور کی اولاد ہے اور پرسنل مائل سٹون کے غرور کا ظلم خود کو لوگوں کے سامنے بے عزت اور قابل نفرت بناتا ہے  انگریزی میں عزت دار ہونے کے الفاظ ارن   ریسپیکٹ یعنی عزت کمانا کے ہیں- اس  عزت کمانے  کا راز خدمت ِ انسانیت ہے۔۔

دوسری طرف انگریزی ناول نگار فٹز جیرالڈ نے کہا تھا کہ  آپ کی ذہانت اچیومنٹ قدرت کی طرف سے آپ کا چناؤ ہے اور قدرت کا کسی کو منتخب  کرنا خدمت ِانسانیت کا ایک موقع ہے، اسے اپنی محنت کا پھل گردان کر اس کے فوائد کا رخ  اپنی ذات اور فیملی کی طرف موڑ  دینا صریحاً  غلط ہے۔ پرسنل مائل سٹون حاصل کرکے  اپنی ذات اور فیملی کو فوائد پہنچانے والے، لوگوں پر ظلم کرنے والے  کتنے ہی نامی گرامی بادشاہ جنرل عہدے دار اور دولت مند جن کا  طوطی بولا کرتا تھا ،آج تاریخ کی فقط دھول بن گئے جبکہ  مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کرنے والے رنگ نسل مذہب سے بالا تر ہو کر بھی تاریخ میں امر ہو گئے۔

نامور سخی حاتم طائی غیر مسلم ہو کر بھی پیغمبر کائنات کی توصیف پا گیا اور یہاں تک کہ اس کی بیٹی  کو  اس کی وجہ سے پیغمبر کائنات نے اتنی عزت  دے دی  کہ  اپنی چادر تک بچھا دی۔حالیہ دور کے کتنے ہی ڈاکٹرز ہیں لیکن ڈاکٹر روتھ  فاؤ  اور ڈاکٹر ادیب رضوی جیسے لوگ ہی تابندہ اور جاوداں ٹھہرے۔۔ڈاکٹر ادیب رضوی جیسا انسان  جس نےاپنے پرسنل مائل سٹون کو اپنی ذات اور  خاندان کے مالی فوائد کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ فلاح  انسانیت کے لیےوقف کیا اور ایشیا کا سب سے بڑا ڈائیلیسز ہسپتال بنایا، اب  مسیحا کا درجہ پا چکے ہیں۔۔ خدمت کو عزت دو اسی میں عزت ہے ۔پروفیشنلز سیاست دان اور کاروباری افراد جن کی کامیابی اور اچیومنٹس صرف ان کے پرسنل مائل سٹونز ہیں، بڑے مقام پر پہنچ کر بھی بے عزت اور رسوا ہو ئے، کبھی وه چوری پر  وعدہ معاف گواہ بنے ،کبھی سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کر کے اربوں روپے کی سیٹلمنٹ کرتے نظر آئے،اور کبھی سالوں اقتدار میں رہ کر فرعونیت دکھانے والے   دربدر بے عزت ہو کر ووٹ کی عزت مانگتے نظر آئے، ذات اور فیملی کا سماجی تحفظ معاشرے کے مجموعی  تحفظ اور فلاح سے جڑا ہوتا ہے، اور اسی نقطے سے انحراف نے ہماری سوسائٹی کو پستی کی طرف دھکیلا ہے اور شاید اسی بات کو بلیغ نظر فقیر جانتا ہے اور صدا لگاتا ہے “کر بھلا ہو بھلا”۔۔ باب العلم نے بھی یہی فرمایا تھا کہ  زندہ وہی ہے جس کو اس کی عدم موجودگی میں یاد کیا جائے-  اپنی غیر موجودگی میں عزت اور مقام سروسز اور خدمت دینے والا ہی پاتا ہے، خدمت کو عزت دو!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *