مشر منظور پشتین بھائی۔۔۔۔عارف خٹک

“مشر منظور پشتین بھائی ”

السلام علیکم،

میری ایک پنجابی محبوبہ تھی۔ بہت پیاری اور کومل سی۔نہایت شریف النفس اور لیے دئیے انداز میں رہنے والی شخصیت تھی۔ بیچاری نے کبھی کسی بات پر مُجھ سے شکوہ تک نہیں کیا۔ حالانکہ میری پیدائش پر اماں نے ابا سے،ابا نے اماں سے اور سارے گاؤں نے مل کر دونوں سے شکوہ کیا تھا۔

ہم دونوں ہر وقت ساتھ ساتھ رہتے۔ وہ مُجھ سے کہتی تھی،کہ عارف تم پشتون بالکل بھی نہیں لگتے۔ کتنے ہنس مکھ، آزاد خیال اور نرم مزاج ہو۔ حالانکہ کافی دفعہ اس نے یہ بھی شکوہ کیا،کہ جسم بھی نرم ہے۔ یہ الگ بات کہ خاندانی شرافت کی وجہ سے آج تک اس کو کبھی “سختی” نہیں دِکھائی۔ورنہ بار بار ذہن میں خیال آتا تھا،کہ ایک بار دکھا ہی دوں۔
اُس کی محبت میں،میں نے روایتی شلوار قمیض کو طلاق دے دی۔اور ہر وقت پینٹ شرٹ میں گُھومنے لگا۔ کیوں کہ اُس کو میرا پینٹ شرٹ پہننا اچھا لگتا تھا۔ کہتی تھی،مُنہ کافی بڑا ہے۔ بائیں طرف سے منہ پر نظر پڑ جائے تو گینڈے  لگتےہو۔ دائیں طرف سے پڑ جائے تو بھی گینڈا لگتے ہو۔ میں نے پُوچھا اگر سامنے سے نظر پڑ جائے تو ؟جواب دیا،پھر بھی گینڈا ہی لگتے ہو۔ اُس پنجابن محبوبہ کیلئے 108 کلو سے وزن 88 کلو پر کیسے لےکر آیا۔یہ میں جانتا ہوں یا پھر میرا خدا۔ ایک دن کہنے لگی،مُونچھیں تجھ پر نہیں جچتی۔ لہٰذا ہم نے عشق کے احترام میں مُونچھیں بھی مُنڈوا دیں۔

بہتیرا اُس نے میری تعلیمی قابلیت پر شک کا اظہار کیا،کہ آپ واقعی پی ایچ ڈی ہو؟
ہم نے پُوچھا،کہ آپ کو یقین کیوں نہیں آرہا؟کہنے لگی،پٹھان اتنا تو نہیں پڑھتے۔ اب اس کو کیا بتاتا کہ پٹھان جتنا پڑھتے ہیں۔ دنیا کی کوئی قوم اُتنا نہیں پڑھ سکتی۔یہ الگ بات کہ بعد میں یاد نہیں رہتا،کہ ہم نے پڑھا کیا تھا۔کیوں کہ ہم نے ایم اے اسلامیات والوں کو کے۔پی۔کے کا وزیر ثقافت لگتے دیکھا ہے۔ اور جانوروں کو پڑھنے والے آج انسانوں کو انسانیت پڑھا رہے ہیں۔ بلکہ اور تو اور ہم نے آئی۔آر پڑھنے والوں کو فوج میں بھرتی ہوتے بھی دیکھا ہے۔

خیر میں نے اس کی مُحبت میں خود کو بدل ڈالا۔ پہلے اپنا تعارف عارف خٹک کہہ کر کرواتا تھا۔ پھر عارف خٹک سے عارف پر آگیا۔ بالآخر عارف رانا بن گیا۔ سوچا انعام رانا بھی خوش ہوجائےگا۔ روزمرّہ کی زبان میں محاورے بھی پنجابی کے بولنے لگا۔ اُردو جس کا بلتکار کئی سالوں سے کررہا تھا۔ اچانک فوجی اور پنجابی ٹچ دے کر جہاں اہلِ زبان نے سُکھ کا سانس لیا۔وہاں اُردو بھی جذبۂ تشکر سے مغلوب ہوگئی۔

ہم اس پنجابن کی محبت میں اتنا آگے چلے گئے  کہ پورے “لر و بر” کے دُشمن نمبر ایک ڈکلیئر ہوگئے۔ قوم پرستوں نے ہمیں پنجابی استعمار کا نمائندہ کہہ دیا۔ اور ہم نے ریاست پرستی کا نقاب اوڑھ کر خود کو ریاستی گُل خان ثابت کردیا۔ خیر باتیں زیادہ ہیں اور وقت کم ہے۔ کل وہ مُجھے اپنے رشتہ داروں کے گھر لے گئی۔ اور سب کو بتانے لگی کہ میری اس سے شادی ہورہی ہے۔ سب نے پسندیدگی کی نظر سے مُجھے دیکھا۔ لیکن جب ان سب کو معلوم ہوا کہ “لڑکا” پشاور سے ہے۔ تو سب ایسی ترحم آمیز نظروں سے میری محبوبہ کو دیکھنے لگے۔جیسے اس کی شادی مُجھ سے نہیں کسی یہودی سے ہورہی ہے۔
میں ٹوٹے ہوئے دل،بوجھل قدم لے کر اور وہ اک سوچ میں ڈوبی دونوں وہاں سے باہر نکلے۔ میں نے جھجکتے ہوئے پوچھا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟تو وہ عجیب سے انجان لہجے میں بولی “میں کیا کروں لوگوں کی سوچ نہیں بدل سکتی۔ یہاں پنجاب میں ہر بندہ ہر پٹھان کو مکئی بُھوننے والا ہی سمجھتا ہے۔”۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی۔ اور میرا بیگ مُجھے پکڑاتے ہوئے پرائے سے لہجے میں بولی۔جا دفع ہو۔یہاں دوبارہ مُجھے نظر مت آنا۔
مُجھے یوں لگاجیسے اُس نے بھی پشتون قوم پرستوں کی طرح ہمیشہ کے لئے مُجھے تنہا چھوڑ دیا۔مُجھے چنگ چی رکشے میں بٹھا کر ایک جھٹکے سے گھر اور دل دونوں کا دروازہ بند کرنے والی ہی تھی کہ میں نے رکشے سے سر نکال کر ایک آخری کوشش کے طور پر گلوگیر آواز میں اُس سے پُوچھا کہ پی ایچ ڈی ڈگری کا کیا کروں؟
مُڑ کر پُھنکارتے ہوئے بولی،اُس میں بُھونے ہوئے چنے ڈال کر بیچ لینا۔ ۔

منظور پشتین بھائی میں شرمندہ ہوں۔ میں واپس آنا چاہ رہا ہوں۔ کیا آپ کی تحریک میں میرے لئے کوئی جگہ ہے؟
یا آپ کے شیر جوان آج بھی مجھے “پنجابی کتا” کہہ کر دُھتکاریں گے؟
ویسے عابد آفریدی کی محبوبہ تو پنجابن نہیں ہے۔اس کی چھ محبوبائیں اور چاروں بیویاں پشتون ہیں۔ اُس کو تو کوئی سپیس دے دیں پلیز۔ میرا کیا ہے میں دوبارہ کہیں م سے مہر، م سے میر یا م سے مضروب بن کر مغلوب ہوجاؤں گا۔

آپ کا اَز حد شرمندہ بھائی

عارف خٹک،
سابقہ عارف رانا

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مشر منظور پشتین بھائی۔۔۔۔عارف خٹک

  1. کیا بات ہے عارف لالہ. چھا گئے ہیں. آپ کو جگہ مل جائے تو میری بھی بنا لیجیے گا پلیز 😎

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *