گاؤں کے رومان۔۔۔اجمل صدیقی

افلاطون نے کہیں کہا ہے گاؤں خدا نے بنائے ہیں اور شہر انسان نے ۔
دسویں کلاس میں   ایک مضمون کا رٹا لگایا تھا شہری اور دیہاتی زندگی کا ۔۔۔موازنہ جس میں شہری زندگی کی برائیاں اور گاؤں کی خوبیاں دل کھول بیان کی تھیں۔
جہاں ہم رہتے ہیں یہ شہر ہے نہ گاؤں ۔یہ قصبہ ہے ۔ قصبے کے لوگ دوہری اور منافقانہ زندگی گزارتے ہیں ۔ یہ گھر میں ہوں تو شہری انداز اپنا لیتے ہیں اور شہر میں ہوں تو گاؤں کے nostalgia میں مبتلا رہتے ہیں ۔
گاؤں کے لوگ سادہ ہوتے ہیں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں ان کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے۔ جو شہریوں کو مہذب سمجھتے  ہیں،ان کی عقل پر  یوم سیاہ منا نا چاہیے ۔
گاؤں کے لوگ رسم اور قانون کی طرح پتھریلے اور سنگلاخ ہوتے ہیں۔وہاں فطرت آزاد ہوتی ہے لیکن سماج غلام، روایت اور زمین کا ۔ گاؤں کے لوگ زمین کو ماں سمجھتے ہیں زمین تو طوائف ہے آج میری ہے کل کسی اور کی۔ خون ریز ی کرنا ،مقدمے میں ساری طاقت صرف کرنا ۔بے زمینوں کو انسانیت سے خالی سمجھنا ۔ ایک اندھے پن  کی تسکین میں زندگی گزارنا یہ گاؤں کا عمومی کردار ہے۔ گاؤں میں فطرت کا مشاہدہ سطحی ہوتا ہے۔ ملکیت اور رسوم کی کمانی میں ہر چیز کسی ہوتی ہے۔۔مقامیت تہذیب کی بدترین دشمن اور تعصب کی زرخیز نرسری ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *