• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کشمیر کا مستقبل ثالثی سے جڑ گیا ہے؟۔۔۔۔۔اسلم اعوان

کشمیر کا مستقبل ثالثی سے جڑ گیا ہے؟۔۔۔۔۔اسلم اعوان

اس وقت مملکت کی مشرقی و مغربی سرحدوں پہ کئی دہائیوں سے پنپنے والے جنوبی ایشیا کے دو دائمی تنازعات،کشمیر ایشو اورافغان تنازعہ،بظاہر تحلیل ہوتے نظر آ رہے ہیں اورہمارے خیال میں فریقین اب ان دونوں تنازعات کو بنیادی وجوہ اور مقاصد سے الگ کر کے حالات کے جبر کے تحت حل کرنے پہ مجبور دکھائی دیتے ہیں،شاید،ڈپلومیسی کے تقاضے بھی یہی ہوں گے کہ جب کوئی معاملہ زیادہ بگڑ جائے تو اسے ماضی کے روایتی موقف اور مستقبل کی توقعات سے جدا کر کے سر پہ منڈلاتی مشکلات اور حاضر و موجود حالات کے تقاضوں کے مطابق حل کرنا پڑتا ہے،اس لئے ہو سکتا ہے،دو اٹیمی طاقتوں کے مابین جنگ کے امکانات کو ہویدا کرنے والے مسئلہ کشمیر کو بھی اب اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بجائے لمحہِ موجودکے زمینی حقائق کے تحت ثالثی کے ذریعے حل کرنا پڑے گا،بصورت دیگر اب پاک بھارت جنگ بھی اس تنازعہ کو حل نہیں کر پائے گی،مسائل کا حل تو کجا یہ جنگ جنوبی ایشیا سمیت پورے عالمی امن کو خطرات سے دوچار کر سکتی ہے مگر تنازعہ کشمیر کا کوئی حل نہیں دے سکتی۔

یہ بالکل ویسی ہی صورت حال ہے  جیسے نائین الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پہ جارحیت کا فیصلہ کر لیا تو جنرل مشرف کے سامنے صرف دو آپشن تھے،وہ اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے یا پھر عالمی طاقتوں کے عتاب کا سامنا کرے،چنانچہ اس وقت پاکستان کو افغان کانفلکٹ بارے اپنے ماضی کے روایتی موقف اور مستقبل کے منصوبوں کوپس پشت ڈال کےGiven circumstances کے اندر معاملات کو آگے چلانے کا فیصلہ کرنا پڑاجس میں اگرچہ ہمیں ستّر ہزار سے زیادہ جانیں گنوانے کے علاوہ بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا لیکن اس سب کے باوجود جنرل مشرف نے جنگ دہشتگردی کو افغانستان کی سرحدوں کے اندر محدود کر کے خود اپنی مملکت اور اس خطہ کی سلامتی کوایک ہولناک جنگ کے مضمرات سے بچا لیا،یہ اُسی عملیت پسندی کا اعجاز ہے جو آج اٹھارہ سال بعد حالات کے ویسے ہی جبر کے تحت،جس کا اکتوبر2001 ایک میں پاکستان کو سامنا تھا،امریکہ بھی افغانستان چھوڑ کے بے نیل ومرام واپس جانے پہ مجبور ہو گیا ہے،امریکیوں نے بھی افغانستان سے پسپائی کا فیصلہ اپنے ماضی کے موقف یا مستقبل کے منصوبوں کے مطابق نہیں بلکہ حالات کی نزاکتوں کے پیش نظر کیا ہو گا۔

بلاشبہ اس لمحہِ موجود میں مسئلہ کشمیر کا ممکنہ حل یہی ہے کہ استصواب کے روایتی اور اصولی موقف پہ اصرار کیے بغیر اسے حالات کے موجودہ تناظر میں ثالثی طریقہ کار کے مطابق حل کیا جائے۔کیونکہ ثالثی کے عالمی قوانین بجائے خود متنازعہ علاقوں کو سو فیصد کسی ایک فریق کو دینے کی راہ میں حائل ہیں،اس لئے ثالثی سے مراد کشمیر کی تقسیم ہی ہو گی،اس مسئلے  کے آؤٹ آف دی بکس حل کےلئے نوازشریف اور واجپائی کے درمیان طے پانے والے لاہور معاہدہ میں بھی تین آپشنز پہ اتفاق کیا گیا تھا،جن میں ایک تو دریائے طوی کی مشرقی طرف انڈیا اور مغربی جانب کا علاقہ پاکستان کو دینے،دوسرا جموں پاکستان کو اور سری نگر سمیت لداخ بھارت کو دینے اور تیسرے تھوڑی سی ردّ و بدل کے ساتھ اسی موجودہ لائن آف کنٹرول کومستقل سرحد تسلیم کر کے اس تنازعہ کو ہمیشہ کےلئے نمٹانے پہ اتفاق کیا گیا تھا۔شملہ معاہدہ کے وقت بھی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے پرائم منسٹر ذوالفقارعلی بھٹو کوکشمیر کی تقسیم کا آپشن دیا تھا لیکن مسٹر بھٹو جیسے رجاعیت پسند لیڈر نے یہ کہہ کہ اسے مسترد کر دیا تھا کہ”کشمیر کوئی کیک نہیں جسے دو حصوں میں تقسیم کر لیا جائے،یہاں لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب زندہ لوگ بستے ہیں،جن کی رائے اور جذبات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں“۔۔لیکن آج اگر بھٹو زندہ ہوتے تو وہ بھی عملیت پسند سیاستدان کی طرح ایسے حالات میں استصواب کی بجائے ثالثی کا آپشن قبول کر لیتے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ ستّر سالوں میں برصغیر کے بنیادی ڈھانچہ میں کئی ایسی جوہری تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں،جن کی بساط لپیٹنا گردش ایام کو واپس پلٹانے کی کوشش کے مترادف ہو گا،پچھلی سات دہائیوں میں جس طرح بھارت نے کشمیر سے نکلنے والے تین دریاوں پر کئی ڈیم تعمیر کر کے پورے مشرقی پنجاب میں ایگریکلچر کا ایسا وسیع نظام تشکیل دے لیا جس کے ساتھ اب بھارت کی معاشی بقاءوابستہ ہے،بعنیہ اسی طرح پاکستان نے بھی کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پہ ڈیم بنا کے مغربی پنجاب میں زراعت کا ایسا وسیع ڈھانچہ استوار کر لیا ہے جو ہماری ایگرو بیس معیشت کی اساس کا درجہ رکھتا ہے،چنانچہ اس وقت پورے کشمیر کا کسی ایک ملک کی طرف جانا ممکن نہیں رہا،کشمیر اب صرف پاکستان کی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کی اقتصادی اور تزویری شہ رگ بن چکا ہے،اس لئے عملاً اس پر دونوں میں سے کسی ایک ملک کا تصرف محال ہو گا اور آج کے حالات میں کشمیر کو دونوں ملکوں سے الگ کر کے آزاد ریاست بنانے کا درجہ دینے کا امکان بھی عملی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔

سابق آئی ایس آئی چیف جنرل اسد درانی کے مطابق جس وقت امان اللہ خان گلگتی نے ریاست کشمیر کو دوبارہ متحد کرنے کی خاطر جموں و کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ بنایا تو پاکستان اور انڈیا دونوں پوری ریاست کشمیر کی خود مختار حیثیت کے تصور سے جڑے خدشات سے الرٹ ہو گئے کیونکہ خود مختار کشمیر امکانی طور پہ چین سمیت کئی عالمی طاقتوں کے ساتھ دفاعی و اقتصادی معاہدات کا اسیر بن کے بھارت و پاکستان کی سلامتی کےلئے خطرہ بن سکتا تھا۔علی ہذالقیاس،ان ستّر سالوں میں اسی طرح کے کئی ایسے گنجلک معاملات وجود پا چکے ہیں جن سے صرف نظرکرنا دونوں مملکتوں کےلئے اب ممکن نہیں رہا۔اس وقت جب مصائب کے سیلاب بلا نے مسلم دنیا کو گھیر رکھا ہے لیکن ہم عہد زوال کے سکندری مہندسین کی طرح فروحات میں الجھ رہے ہیں،جذباتیت سے قطع نظر کر کے اس مسئلہ پہ جتنا گہرائی میں جا کے غور کریں گے تو ہمیں یہی بات سمجھ آتی جائے گی کہ موجودہ حالات میں مسئلہ کشمیر کا ثالثی کے سوا کوئی اور حل باقی نہیں بچا۔

وزیراعظم عمران خان نے درست کہا کہ ”جنگ اس مسئلے  کا حل نہیں“اس حقیقت سے بھی اغماض ممکن نہیں کہ اس تنازعہ نے اگر طول پکڑا تو کشمیر کے نوے لاکھ باسیوں سمیت انڈیا میں بسنے والے دوسو ملین مسلمانوں کا مستقبل مخدوش ہوتا جائے گا۔گزشتہ دوہائیوں میں استعماری طاقتوں نے ہندوانتہا پسندی کو سرمایا فراہم کر کے بالآخر وہاں اینٹی مسلم سیاسی استبداد یقینی بنا لیا۔بہرحال،اگر بھارتی مملکت پر بی جے پی کا استبدادی غلبہ اسی طرح بڑھتا گیا تو وہ وقت دور نہیں،جب نہرو اور گاندھی کا ہندوستان ایک بار پھر راجواڑوں میں بٹ جائے گا کیونکہ تاریخ کا اہم ترین اصول یہی ہے کہ جو چیز جیسی تیزی سے ابھرتی ہے وہ ویسی ہی سرعت کے ساتھ گرتی ضرور ہے۔تاہم ہماری مقتدرہ کےلئےکشمیری عوام کو اس امر پہ قائل کرنا دشوار ہوگا کہ فی الوقت جنگ اس مسئلے  کا حل ہے نہ اب کشمیری عوام اس تنازعہ کو طویل عرصہ کےلئے اسی حالت میں برداشت کر سکتے ہیں،حالات کا جبر،کشمیریوں سمیت اس خطہ کے عوام کی بقاءاور عالمی طاقتوں کے مفادات کے تقاضے یہی ہیں کہ افغان تنازعہ کا مذاکرات کے ذریعے پرامن حل اور کشمیرکی سافٹ پارٹیشن کو قبول کرلیا جائے۔امریکی اس معاملے  میں اس لئے دلچسپی رکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ڈیڑھ،ڈیڑھ ارب کی آبادیوں کے حامل چین اور بھارت اس خطہ میں تیل کے بڑے خریدار ہوں گے،امریکہ چین کی مڈل ایسٹ،ایران اور روس تک براہ راست رسائی کو روکنے اور ان کیEconomic containment کی خاطرایک بفرسٹیٹ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے،ہندوستان کو جس کی قیمت اسے تنازعہ کشمیر کے حل کی صورت میں دینا ہے ۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *