پسماندہ علاقہ اور ایک مدرسہ۔۔۔عبداللہ ماحی

گزشتہ روز   اپنے استادِ محترم کے ساتھ کراچی کورنگی کے ایک بالکل پسماندہ علاقے میں جانا ہوا۔ وہاں جانے کا مقصد ایک نئی مسجد کے لئے سمتِ قبلہ کا تعین کرنا تھا۔ استادِ محترم کو جاتا دیکھ کر انکی اجازت سے ہم بھی سیکھنے کی غرض سے ساتھ ہو لیے۔ تھیوری کی حد تک تو ہم سمتِ قبلہ کے تعین کا طریقہ پڑھ چکے تھے۔ ہم نے چاہا کہ چلو عملی طور پر دیکھ کر سیکھ بھی لیں۔ اس مختصر سے سفر میں سمتِ قبلہ کاتعین تو ہم نے سیکھ ہی لیا، لیکن ہمیں اور بہت سے سبق حاصل ہوئے۔

ہم جس علاقے میں گئے تھے وہ نہایت ہی پسماندہ تھا۔ گندے راستے، ٹیڑھی میڑھی گلیاں، گاڑی کو ہچکولے کھلاتی اونچی نیچی سڑک، ہر کونے میں کچرے کے ڈھیر۔ عجیب حال تھا۔۔ آپ کسی علاقے کی گندگی کا جو تصور اپنے ذہن میں کرسکتے ہیں وہ ویسا ہی تھا۔
شدید بارش کے بعد اب جب کہ کراچی کی بڑی شاہراہوں اور پوش علاقوں سے اس بارش کے اثرات ختم ہوچکے ہیں تب بھی اس پسماندہ علاقے کی گلیاں کیچڑ سے بھری ہوئی تھیں۔ جگہ جگہ گندہ پانی کھڑا تھا۔ اس گندگی کی وجہ سے فضا میں جو تعفن تھا اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب ہم گاڑی سے باہر نکلے اور بدبودار ہوا نے ہماری سانس کو چھوا۔
ایک جگہ رکشے کے سائز کی ڈبہ نما چیز پر نظر پڑی تو دیکھا کہ وہ ایک چھوٹی سی ٹنکی تھی جس کے آگے موٹرسائیکل لگی تھی اور اس ٹنکی میں سے پائپ کے ذریعے ایک گھر میں پانی پہنچایا جا رہا تھا۔ گویا وہ اس غریب علاقے کا مِنی ٹینک تھا۔ ظاہر ہے کہ بیچارے غریب نے اتنا تھوڑا سا پانی بھی پیسے دے کر خریدا ہوگا۔ کتنا ظلم ہے غریب کے اوپر۔ بیچاروں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔
جو ہم نے منظرکشی کی یہ کراچی کی حدود میں واقع ایک علاقے کی ہے۔ اگر آپ خود وہاں جاکر مشاہدہ کریں تو آپ ہمیں جھٹلائیں گے نہیں۔ اس ابتر صورتِ حال پر کون نوٹس لے گا؟ کون ایسے علاقوں کی صفائی ستھرائی کو اپنی ذمہ داری سمجھے گا؟ ہمارے یہاں تو قومی اور صوبائی حکومتوں کی رسہ کشی چلتی رہتی ہے اور ایک دوسرے پر کراچی کی بری حالت کی ذمہ داری تھوپتے رہتے ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں وسائل اور اختیارات کی جنگ ہی ختم نہیں ہورہی۔

پوش اور صاف ستھرے محلے والوں کے لئے تو وہاں سے گزرنا مشکل ہے چہ جائیکہ ایسی جگہ پر مستقل رہائش کا تصور کیا جائے۔
یہ ساری صورت حال دیکھ کر ہم اپنے رب کے لیے احسان مندی کے جذبات میں ڈوب گئے کہ یا رب! ہم پر آپ کا صرف یہی کتنا بڑا احسان ہے کہ ہمیں رہائش کیلئے صاف جگہ دی۔ یارب! ہم تیری کتنی نعمتوں کے سائے تلے پل رہے ہیں۔ دراصل ہم لوگ نعمتوں کے استعمال کے عادی ہوکر اصل نعمتیں نچھاور کرنے والے کو بھول جاتے ہیں۔ جب ہم اپنے سے خستہ حال لوگوں کو دیکھیں گے تو ہمیں احساس ہوگا کہ اللہ تعالی کے ہم پر کتنے احسانات ہیں۔ اس طرح کی مثالیں ہمارے قریب ہی چند کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہوتی ہیں لیکن ہم ان سے غافل ہوتے ہیں۔

دوسری ایک عجیب چیز جو ہم نے دیکھی وہ ایک مدرسہ تھا جس نے ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ عام سی گلی میں ایک سادہ سا گھر تھا اور انتہائی سادہ سے قاری صاحب۔ قاری صاحب ہمارے استاذِ محترم کی جان پہچان والے تھے۔ ہم اس مدرسے میں قاری صاحب کے ساتھ اور قرآن پڑھنے والے طلباء کے ساتھ کچھ دیر بیٹھے۔ وہ قاری صاحب کا اپنا ذاتی گھر تھا۔۔ سادہ لیکن صاف ستھرا۔ اس گھر میں سے کچھ حصہ انہوں نے قرآن کی تعلیم کے لیے وقف کیا ہوا تھا دو کمرے، ایک کچن، ایک اسٹور اور انہی کمروں میں سے ایک کمرے میں پڑھنے والے طلباء کی رہائش بھی تھی۔
رہائشی طلبہ کے کھانے کا انتظام قاری صاحب لوگوں کی دی گئی رقم سے کرتے ہیں، جبکہ دونوں وقت کا کھانا قاری صاحب کی اہلیہ بناتی ہیں۔ طلباء نے بتایا کہ کھانا بہت نفیس اور عمدہ ہوتا ہے۔
یہ ساری ترتیب تو ویسے ہی قابل رشک اور ان قاری صاحب کی مخلصانہ قرآنی خدمت کا منہ بولتا ثبوت تھی، لیکن جس بات نے ہمیں سب سے زیادہ حیرت زدہ کیا وہ یہ کہ اس مکتب میں پڑھنے والے آٹھ طلباء کراچی کے دو مایہ ناز دینی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل ذی استعداد علماء تھے۔ 2 جامعہ دارالعلوم کراچی کے اور 6بنوری ٹاؤن مدرسے کے فاضل تھے۔

ان طلبہ نے درس نظامی سے پہلے قرآن کریم حفظ نہیں کیا تھا لیکن انہیں قرآن کریم حفظ کرنے کا شوق تھا۔ قاری صاحب نے علماء کے لئے حفظ قرآن کی ترتیب بنائی اور ان لوگوں کو اطلاع کی گئی تو ان کا پرانا شوق جاگ گیا اور یہ حفظِ قرآن کے لئے یہاں آ گئے۔ آج کل جب کہ طلبہ درسِ نظامی سے فارغ ہوتے ہی منبر و محراب اور مسند و منصب کی تلاش میں ہوتے ہیں، ان آٹھ لوگوں کا شوق اور جذبہ لائقِ داد و تحسین ہے۔
ان میں سے دو ساتھی جن سے ہماری تفصیلی بات ہوئی انہوں نے بتایا کہ ہم میں سے ایک، ایک ماہ میں دس پارے اور دوسرا بارہ پارے حفظ کر چکا ہے۔ ہم اس ساری ترتیب اور ان طلبہ کے نیک جذبے سے انتہائی متاثر ہوئے اور کافی دیر تک تعریفی کلمات سے ان کے اس شوق کو سراہتے رہے۔
اس سے ہمیں یہ سبق ملا کہ دینی تعلیم اور دینی خدمت عالی شان عمارتوں اور وسیع درسگاہوں کی محتاج نہیں۔ اگر کوئی اخلاص کے ساتھ خدمت کرنا چاہے تو اس طرح بھی کر سکتا ہے۔ انتہائی سادگی اور خاموشی کے ساتھ۔ نہ کوئی مشہوری ،نہ کوئی دعوؤں سے بھرپور اشتہار۔ یہ تو ویسے بھی تاریخ رہی ہے کہ عظیم لوگ بڑے بڑے کارنامے بالکل خاموشی اور سادگی کے ساتھ انجام دے جاتے ہیں اور وہ زبانی دعوے نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کا کردار اور ان کے کارنامے اس دنیا میں روشنی کی کرنیں بکھیرتے اور ان کی شخصیت کو دنیا کے سامنے آشکارا کرتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *