ارینج میرج پر تنقید۔۔ لبنی مرزا

یہ مضمون جلدی جلدی لکھ رہی ہوں کیونکہ کینیڈا میں‌ ایک ڈاکٹر سہیل پائے جاتے ہیں جو بھی مجھے لکھنا ہو وہ پہلے لکھ دیتے ہیں۔ انہوں نے ایولیوشن کی سائنس، کزن میرج کے نقصانات، باؤنڈریز کے احترام، مخلوط شادیوں اور جینڈر کی شناخت پر وہ سارے مضامین پہلے چھاپ دئیے جن پر میں‌ نے اتنا ٹائم اور محنت خرچ کئیے تھے۔ انہوں نے پہلے سے ہی لکھ دیا اور مجھ سے بہتر لکھا تو پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے کی کیا تک ہے؟ اس سے پہلے کہ وہ اس ٹاپک پر لکھیں، میں‌ جلدی سے لکھ دیتی ہوں۔ اس میں جان بوجھ کر اپنی زندگی کے ایسے تجربات کا زکر کروں‌ گی جو ڈاکٹر سہیل کبھی نہیں کرسکیں گے۔ ان کو اپنے مریضوں کی وجہ سے پتا تو ہوگا لیکن وہ ان کے اپنے تجربے نہیں ہوسکتے۔ خواتین ہونے کے نقصانات کا سب زکر کرتے ہیں لیکن خاتون ہونے کے بہت سے فائدے بھی ہیں۔ اس کا فائدہ اٹھاؤں گی۔ ہمارا بہت زبردست “کامپیٹیشن” چل رہا ہے اور جنگ میں‌ سب کچھ جائز ہے۔

حال ہی میں‌ ایک  ویب سائٹ پر ایک آرٹیکل پڑھا جو ارینجڈ میرج پر تنقید میں‌ لکھا گیا تھا۔ یہ سننے میں‌ ایک معصوم اور بچکانہ سا سوال لگتا ہے لیکن ارینجڈ میرج کا سوال آج کی دنیا میں‌ جو کہ اجتماعی پدرانہ معاشرے سے ہٹ کر انفرادی معاشرے کی طرف بڑھ رہی ہے نہ صرف گہرے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس سے کئی دیگر اہم سوال جڑے ہیں۔

جس دن نوید ٹیسٹ پاس کر کے ڈرائیونگ لائسنس لے کر گھر آیا تو کہتا ہے کہ میں‌ آرگن ڈونر ہوں۔ اس کے لائسنس کے کونے پر ایک چھوٹا سا لال رنگ کا دل چھپا ہوا ہے۔ ایسے لوگ اگر حادثے کا شکار ہوکر مرجائیں تو ان کے آرگنز دیگر مریضوں کے لئیے نکال لئیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ہم سب خود بھی آرگن ڈونر ہیں لیکن اپنے بچے کے لئیے ایسا سوچنا نہایت مشکل کام ہے۔ ہمت جمع کرکے میں‌ نے یہی کہا کہ آئے ایم پراؤڈ آف یو! ہر قدم، ہر فیصلہ، ہر چؤائس ایک انسان کو الگ راستے پر ڈال دیتی ہے۔ مکان خریدنا، بیچنا، نوکری کا کانٹریکٹ سائن کرنا، لائف یا ہیلتھ انشورنس لینا، شادی کرلینا، بچے پیدا کرنا، طلاق لینا، سرجری یا دوا لینے کا فیصلہ، اپنی وصیت لکھنا یہ سب بچوں کے کھیل نہیں ہیں۔ ان کے لئیے زہنی بلوغت کی ضرورت ہوگی جو خود بخود عمر کے ساتھ نہیں‌ آجاتی۔ آپ اپنے گرد بہت سارے لوگ دیکھیں‌ گے جن کے بال یقینا” سفید ہوچکے ہیں‌ لیکن وہ آج بھی جذباتی اور ذہنی لحاظ سے گیارہ بارہ سال سے آگے نہیں‌ بڑھے۔ وہ کالج ڈگری ہوتے ہوئے بھی، ساری دنیا کی ساری کتابیں سامنے ہوتے ہوئے بھی خود سے کم تعلیم یافتہ لوگوں‌ کے پاس جاکر اپنی زندگی سے متعلق سوال پوچھتے دکھائے دیتے ہیں۔ اس صورت حال کو ذہن میں‌ رکھتے ہوئے اس معاشرے کا تصور کریں‌ جو یہ نقلی بڑے مل کر بنائیں گے۔

جب سکھر میں‌ ہم چھوٹے بچے تھے تو ایک بار گڑیا کی شادی کی۔ میری گڑیا تھی اور سہیلی کا گڈا۔ وہ پنک پلاسٹک کے گڈے گڑیا تھے۔ میری امی نے بریانی پکائی اور پردے کے پیچھے سے ہمیں‌ چپکے سے دیکھتی رہیں۔ سہیلی کے بھائی نے نکاح‌ پڑھایا اور ہم لوگوں‌ نے خود سے ان کے سر انگلی سے جھکا جھکا کر قبول ہے قبول ہے کہہ دیا۔ پھر گڑیا اپنے سارے کپڑوں‌ اور کھلونوں‌ کے ساتھ سہیلی کے گھر رخصت ہوگئی۔ اس کے بعد جب میں‌ اس سے ملنے جاتی تو گڑیا کے چہرے پر ہمیشہ پلاسٹک کی منجمد مسکراہٹ چپکی ہوتی تھی۔ اس بات کو بہت سارا ٹائم گذر گیا اور آخر ایک دن میرے ذہن میں‌ سوال پیدا ہوا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کوئی ہمیشہ ایک ہی طرح‌ مسکراتا رہے اور یہ بھی کہ اپنی گڑیا کو کالج بھیجنا چاہئیے تھا۔

جیسا کہ پچھلے ایک مضمون میں‌ بھی لکھا تھا، ہر جاندار کے گرد ایک دائرہ ہے۔ یہاں‌ تک کہ امیبا جو کہ ایک خلیے کا جاندار ہے اس کی بھی ایک سیل وال ہوتی ہے جو اس کو باہر کے ماحول سے جدا کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح‌ انسانوں‌ کے گرد بھی ایک دکھائی نہ دینے والا دائرہ ہے جس کا احترام ضروری ہے۔ صرف کتابوں‌ نے ہی نہیں‌ بلکہ میرے اپنے دو بچوں‌ نے مجھے ان دائروں کے بارے میں‌ مزید سکھایا ہے۔

جب نوید چھوٹا تھا تب ہالی وڈ مووی میٹرکس نکلی۔ یہ مووی دیکھی تو سوچا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم سب بھی ایک میٹرکس میں‌ ہوں‌ جس کے بارے میں‌ ہمیں‌ شعوری طور پر علم نہ ہو؟ اگر یہ مضمون پڑھنے والے ایک لمحہ رک کر غور کریں‌ تو آپ بھی سمجھ جائیں‌ گے کہ دنیا کے انسان اپنے اپنے میٹرکس میں رہ رہے ہیں جو انسانوں‌ کا ہی بنایا ہوا ہے۔ نوید کو پیار سے نیو پکارنا شروع کیا۔ ایک دن چار سال کا نوید آنکھوں‌ میں‌ اپنا عکس دیکھ کر کہتا ہے کہ امی کی آنکھوں میں‌ نوید ہے۔ نوید کو گود میں‌ اٹھا کر کہا بیٹا امی کے دل میں‌ بھی نوید ہے۔ نوید امی کے دل میں‌ ضرور ہمیشہ رہے گا لیکن وہ ایک جدا شخصیت رکھتا ہے۔ نوید نے جب تین سال کی عمر میں‌ اسکول جانا شروع کیا تو اس نے ایک افریقی کالی لڑکی سے دوستی کرلی جس کا نام تھا ایلی۔ نوید اور ایلی روزانہ سارا دن ہاتھ میں‌ ہاتھ ڈالے گھومتے رہتے اور نوید کہتا کہ وہ میری گرل ہے۔ ایک تین سال کا بچہ بھی انہی بچوں کو دوست بناتا ہے جن کے ساتھ کھیلنا اس کو اچھا لگے۔ نوید کی اریجنڈ میرج نہ ہم کراسکتے ہیں اور نہ ہی کرانی چاہئیے۔ وہ اچھا بنا رہے گا تو کوئی اچھی خاتون اس کی زندگی کا حصہ بنی رہے گی ورنہ نہیں۔

ایک دن چھ سال کا نوید ٹی وی دیکھ رہا تھا تو اس نے پوچھا،”امی کیا ہمارے پاس ہیلتھ انشورنس ہے؟” جی بیٹا ہمارے پاس ہیلتھ انشورنس ہے لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ نوید نے کہا کہ ٹی وی پر لوگ کہہ رہے تھے کہ 50 ملین امریکی لوگوں‌ کے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں‌ ہے۔ یہ سن کر پتا چلتا تھا کہ اس کو اپنے اردگرد کی دنیا سمجھ آرہی ہے اور وہ اس میں اپنی جگہ اور حالات کے بارے میں‌ خود سے سوچتا ہے۔ ایک دن وہ میٹرکس مووی دیکھ رہا تھا تو بولا امی اس کا نام بھی نیو ہے۔ ہر سال کی طرح‌ اپنے ساتھ کام کرنے والوں اور پڑوسیوں‌ کو دعوت دی اور کہا کہ نوید کی چھٹی برتھ ڈے پارٹی ہےآپ لوگ آئیں۔ دوست اور پڑوسی برتھ ڈے پر آئے اور انہوں‌ نے نوید کے لئیے تالیاں‌ بجائیں اور اس کو تحفے دئیے۔ نوید ساری پارٹی میں‌ چپ چپ تھا۔ وہ خاموشی سے اپنے کھلونوں‌ سے کھیل رہا تھا۔ جب سب چلے گئے تو نوید سے پوچھا کہ بیٹا کیا بات ہے؟ کیا آپ کو اپنی برتھ ڈے پارٹی میں‌ مزا نہیں‌ آیا؟ تو نوید نے سر اٹھایا اور کہا “امی آپ نے میرے لئیے برتھ ڈے پارٹی نہیں‌ کی تھی، آپ نے اپنے لئیے میری برتھ ڈے پارٹی کی تھی۔” اس سے سمجھ آیا کہ عمر کے ساتھ اس کو اپنی ترجیحات کے اپنی فیملی کی ترجیحات سے الگ ہونے کا اندازہ ہونا شروع ہوگیا تھا جو کہ ایک نارمل ہیومن ڈیویلپمنٹ کے اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

نوید کی ساتویں‌ برتھ ڈے آئی تو اس سال ہم نے خود کسی کو نہیں‌ بلایا۔ اس نے اپنے سارے کلاس فیلوز کو بلایا۔ میں نے سوچا کہ امریکہ میں‌ کرکٹ زیادہ لوگ نہ جانتے ہیں‌ اور نہ سمجھتے ہیں اس لئیے کرکٹ برتھ ڈے پارٹی رکھنا بچوں کو دلچسپ بھی لگے گا اور وہ اس سے کچھ نیا سیکھیں‌ گے۔ نوید کے سارے لڑکے اور لڑکیاں‌ دوست وقت پر پہنچ گئے جن کے والدین ان کو چھوڑ کر چلے گئے۔ ان بچوں نے کیک کاٹا، کھایا پیا، نوید کافی خوش لگ رہا تھا۔ پھر وہ سب کرکٹ کھیلنے لگے۔ نوید کے ابو آہستہ سے بالنگ کراتے اور بچے شاٹ مارنے کی کوشش کرتے۔نوید کے ابو جان بوجھ کر کیچ گرا دیتے تاکہ ان کو اور کھیلنے کا چانس ملے۔ ان سب بچوں کو بار بار بتانا پڑا کہ ہوا میں‌ بیس بال کی طرح‌ مت لہراؤ بلکہ زمین پر کرکٹ بیٹ رکھو۔ جب کھیل ختم ہوگیا تو ایک بچے نے لان میں‌ بھڑوں کا چھتہ چھیڑ دیا۔ مکھیاں ادھر ادھر پھیل گئیں‌ اور انہوں‌ نے دو تین بچوں‌ کو کاٹ لیا۔ یہ اچھا ہوا کہ کسی کو شدید الرجی نہیں‌ تھی اور کوئی خطرناک حادثہ نہیں‌ ہوا۔ یہ ایک یادگار برتھ ڈے ہو گئی جس کے بارے میں نوید اپنی ساری زندگی نہیں‌ بھولا۔

شادیاں گڈے گڑیا کا کھیل نہیں‌ ہیں۔ خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں‌ جہاں ہابیز یعنی مشغلوں‌ کی شدید کمی ہو وہاں‌ پر شادیوں‌ کو تفریح کا ایک بڑا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ انسانوں کو تفریح کی ضرورت ہے۔ ہم لندن میں‌ بس کا ٹؤر کررہے تھے جہاں وہ جگہ دیکھی جہاں درجنوں افراد کو اکھٹے پھانسی دی جاتی تھی اور لوگ اپنے بیوی بچوں‌ کے ساتھ دور دور سے ان کو دیکھنے آتے تھے۔ جہاں ناچ، گانا، شاعری، کھیل کود اور ڈرامے بند کردئیے جائیں وہاں‌ لوگ موت کا تماشہ دیکھنے جمع ہوجاتے ہیں۔ یہ ہیومن سائیکی کا اہم حصہ ہے۔ ساؤتھ ایشین شادیاں‌ آج بھی تفریح اور معاشرے میں‌ اپنی دھاک بٹھانے کے لئیے کی جاتی ہیں حالانکہ وہ ایک اہم اور سنجیدہ فیصلہ ہے جس پر لوگوں‌ کی زندگی کا دارومدار ہے۔ پارٹی ختم ہوجاتی ہے اور پھر ان پارٹنرز کو ساتھ میں‌ نباہ کرنا ہوتا ہے۔ شادی کرنا زندگی کا ایک بہت بڑا فیصلہ ہے جس پر 90 فیصد خوشی یا غم کا دارومدار ہے۔ جن انسانوں کو اس طرح‌ بڑا نہیں‌ کیا جارہا جہاں وہ اپنے لئیے کوئی فیصلے کر سکیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ لوگ کبھی اتنی زہنی پختگی حاصل کرپائیں گے کہ اپنی زندگی میں‌ آنے والے سنجیدہ مسائل سے نبٹ سکیں یا کوئی ادارہ یا ملک ٹھیک سے چلا پائیں؟ “ڈسیشن میکنگ” یعنی کہ فیصلہ بنانا ایک پیچیدہ ذہنی مشق ہے جس میں‌ چار خانے بنا کر پروز اینڈ کانز یعنی کہ فائدے اور نقصانات لکھ کر آخر میں‌ جو سب انوالوڈ پارٹیز کے فائدے کا سولوشن نکلے وہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔

کل ایک ینگ آدمی کو دیکھا جو انتہائی مٹاپے کا شکار تھا۔ اس نے اپنے مستقبل اور صحت کے لئیے یہ فیصلہ کیا کہ بیریاٹرک سرجری کروالے۔ یہ ایک الیکٹو پروسیجر ہے یعنی لازمی نہیں۔ سرجری کروانے کے بعد اس کا وزن گھٹنا شروع ہوگیا۔ بہت سارے لوگ اتنی ہمت نہیں‌ کرپاتے کہ اس سرجری کی پروز اینڈ کانز کو سامنے رکھ کر اپنے لئیے یہ فیصلہ کریں۔ فیصلہ نہ کرنا بھی ایک فیصلہ ہے جس کے علیحدہ کانزیکؤنسز ہوتے ہیں۔ اگر ہم ہمت نہ کرپائیں تو فیصلہ وقت خود بھی کردیتا ہے۔ شائد اس وقت وہ ہمارے حق میں‌ نہ ہو۔

آج ایک خاتون کو دیکھا جن کی کولیسٹرول انتہائی زیادہ تھی۔ ان کی عمر، دیگر بیماریوں‌ اور کولیسٹرول لیول کو دیکھ کر یہ بتا سکتی ہوں‌ کہ اگلے پانچ سال میں‌ ان کو دل کا دورہ پڑنے والا ہے۔ اس سے شائد وہ نہ بچ پائیں گی کیونکہ خواتین اور ذیابیطس کے مریضوں‌ کو جب دل کا دورہ پڑرہا ہو تو ان میں‌ ٹیپکل علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ ان کو خاموش دورہ پڑتا ہے جو کہ انتہائی خطرناک بات ہے۔ انہوں‌ نے اس بیماری کی کوئی بھی دوا لینے سے صاف انکار کردیا۔ ان کو تمام انفارمیشن دینے کے بعد اور اس کو ریکارڈ کا حصہ بنا کر میری پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری ہوگئی۔ افسوس اپنی جگہ رہے گا کہ ان کو نہیں‌ بچا پائی لیکن جو لوگ خود کو نہ بچانا چاہتے ہوں، آپ ان کو نہیں‌ بچا سکتے۔ ریذیڈنسی میں‌ ایک خاتون گردوں‌ کے فیل ہوجانے کے بعد داخل ہوئیں، ان کو بتایا گیا کہ ڈیالسس کے بغیر وہ مر جائیں‌ گی۔ انہوں‌ نے کہا کہ مرنے دو اور تین دن کے بعد وہ مر گئیں۔ انہوں نے اپنے لئیے کامپیٹنٹ بالغ ہونے کی حیثیت سے فیصلہ کیا جس کا ہر انسان کو حق حاصل ہے۔

زندگی کی کئی سطوحات ہیں۔ ایک تتلی کی مثال لیں تو میٹامورفوسس سے گذر کر انڈا لاروا بنتا ہے، لاروا پیوپا اور پیوپا اڈلٹ یعنی کہ بالغ تتلی بن جاتا ہے۔ یہ تبدیلیاں کسی بھی فرد یا معاشرے کی میچورٹی کا لازمی حصہ ہیں جن کے بغیر وہ ذہن تشکیل نہیں‌ دیا جاسکتا جو زندگی اور دنیا کی پیچیدگیوں‌ کو سمجھ سکے۔ ایک ایسے انسانی معاشرے کو جہاں انفرادیت کو نظر انداز کرکے ہر انسان کو ایک پلاسٹک کے سانچے میں‌ ڈھالا جائے اور اس کے سامنے پہلے سے گذاری ہوئی زندگیوں کا خاکہ رکھ دیا جائے جس میں‌ اس کو اپنے وقت سے لکیروں کے اندر ہی رنگ بھرنا ہو، جہاں تمام افراد ایک دوسرے کو لاروا یا پیوپا کی سطح‌ پر منجمد رکھنے میں‌ مصروف ہوں، کوئی معنی خیز زہنی یا مادی ترقی ممکن نہیں۔ اصلی زندگی میں‌ انسان گرتے ہیں، سنبھلتے ہیں، غلطیاں کرتے ہیں، ان سے سیکھتے ہیں، پھر اور غلطیاں کرتے ہیں، کپڑے جھاڑ کر، زخم چاٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پھر سے میدان میں‌ اترتے ہیں۔ زندگی نئے سوالوں کے جواب اور ایسی جگہوں میں‌ راستے بنانے کا نام ہے جہاں‌ پہلے کوئی نہیں‌ گذرا۔ ہمارے سامنے ہر روز ایسے مسائل کھڑے ہوں گے جو بالکل نئے ہیں۔ ان کے جواب تلاش کرنے ہوں گے۔ پہلے سے لکھا ہوا مٹا کر نیا لکھنا ہوگا۔ اور اپنے ہی لکھے ہوئے کو مٹا کر بہتر لکھنا ہوگا۔ نیوی گیشن سسٹم کو بھی وقت کے ساتھ اپ ڈیٹ کرنا ہوتا ہے۔ دنیا کا نقشہ ایک سا نہیں‌ رہتا۔ کہیں پل بن گئے اور کہیں سڑکیں۔ اگر وقت کے ساتھ نہ چلیں‌ تو کہیں دیوار سے ٹکرائیں گے اور کہیں بلاوجہ دریا تیر کر پار کریں گے۔

آج ہمارے سامنے جو سب سے بڑا سوال کھڑا ہے وہ یہ ہے کہ کیا اس مستقل بدلتی دنیا میں‌ ہم خود کو اور دوسرے لوگوں‌ کو لاروا بنائے رکھیں‌ گے جو آنکھوں پر پٹی باندھ کر نسل در نسل ایک ہی دائرے میں‌ گھومتا رہے اور سمجھے کہ وہ بہت دور نکل گیا ہے یا ان کو تتلیاں بننے کی اسپیس فراہم کریں‌ گے جن کے حسین رنگوں‌ سے آسمان نکھرنے لگے۔ ​

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا
ڈاکٹر لبنیٰ مرزا
طب کے پیشے سے وابستہ لبنی مرزا، مسیحائی قلم سے بھی کرتی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *