اساتذہ کے بیس نمبر اور جنسی ہراسانی۔۔۔اے وسیم خٹک

نوٹ:یہ تحریر معاشرے میں پنپ رہے ایک گھمبیر مسئلے کی نشاندہی کررہی ہے،اور آزادی اظہارِ رائے کے تحت شائع کی جارہی ہے،اگر کوئی قاری اس کا جواب دینا چاہے تو مکالمہ حاضر ہے!

میری سی جی پی اے پچھلے سمسٹر میں بیماری کی وجہ سے بہت کم آئی ہے ۔ اس سال پلیز سر آپ کے پاس میرے تین پیپر ہیں اگر انٹرنل مارکس آپ اچھے دے دیں تو میری سی جی پی اے اچھی آجائے گی اور پچھلے سمسٹر کی کمی پوری ہوجائے گی ۔ یہ ایک طالبہ اپنے پروفیسر کو ریکوئسٹ کررہی تھی ۔ پروفیسر نے طالبہ کو بھوکے بھیڑئیے کی طرح سر سے پاؤں تک دیکھا اور کہا بیٹا تین بجے کے بعد مجھے آفس میں ملو ۔ کچھ کرلیں گے ۔۔ اب وہ بات مانتی تو اچھے نمبر مل جاتے اگر خاموش رہتی تو اسکا سی جی پی اے دوبارہ خراب ہوجاتا۔

وہ سارے پیپرزمیں اے گریڈ کے ساتھ پاس تھی، صرف ایک پیپر میں وہ فیل تھی۔ جسکی بنیادی وجہ اسکی مِس کے ساتھ دوستی سے انکار تھا کیونکہ اسکی ٹیچر لیسبین تھی، ٹیچر نے کلاس کی خوبصورت ترین طالبہ سے تعلق بنانے کی بہت کوشش کی کہ وہ اس کے ساتھ دوستی کرے مگر اس نے انکار کیا، حتیٰ کہ اس ٹیچر نے اپنے بھائی کے لئے اس کا رشتہ بھی مانگا ۔ جس پر   انکارکردیا گیا۔ اور یہ وہ بنیادی وجہ تھی کہ ٹیچر نے اسے انٹرنل مارکس بہت کم کر دئیے جس وہ آخری سمسٹر میں فیل ہوگئی ۔

یہ دو کہانیاں آج کل تعلیمی اداروں میں رونما ہونے والی عام سی کہانیاں ہیں جس میں دونوں طرف سے میل اور فی میل کی جانب سے طالبات کو جنسی ہراسانی کا سامناکرنا پڑ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ سمسٹر سسٹم میں 20 نمبر بطور سیشنل ٹیچر کے ہاتھ میں ہونا ہے کیونکہ سے لے کر پیپر چیکنگ تک سبھی ٹیچر کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اسی کا استعمال کرتے ہوئے کسی کو پاس یا فیل کرنے کا اختیار بھی ٹیچر کے پاس ہوتا ہے، 8سے 10 کو فیل کرکے ٹیچر یونیورسٹی کےلئے پیسے بنا نے کا سبب بھی بن جاتا ہے اور پھر اس پر مستزاد اور غضب یہ کہ سمرسمسٹر میں بھی وہ مضمون وہی ٹیچر پڑھاتا ہے۔ جس نے طالب علم یا طالبہ کومضمون کسی وجہ سے فیل کیاہوتاہے اور سٹوڈنٹ اس بارے میں کوئی بھی آواز نہیں اٹھا سکتا ۔

ملک بھر میں کئی عرصہ سے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے واقعات رونما ہورہے ہیں ۔ جو رپورٹ ہونے والے واقعات سے زیادہ ہیں ۔ بی بی سی کی  ایک رپورٹ کے مطابق 2017 میں مجموعی طور پر سو سے زیادہ طالبات کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔اور اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہورہاہے ۔ گزشتہ ہفتے پشاور یونیورسٹی کی طالبہ نے اپنےایک پروفیسر پر ہراسانی کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کرلیا جس نے اپنے والد کے توسط سے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پروفیسر نے مجھے ایک ہی پیپر میں کئی مرتبہ فیل کیا۔ متاثرہ لڑکی کے وکیل کے مطابق طالبہ کے تمام مضامین میں 80 فیصد سے زیادہ نمبر ہیں مگر اسے پرچے میں بار بار فیل کیا جا رہا ہے۔ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس اکرام اللہ خان نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں پتہ ہے یونیورسٹی میں انٹرویو کے دوران کیا ہوتا ہے، جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ایسا کرنا اختیارات کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے، ایسے کیسز کی انکوائری نیب سے کرائی جائے گی۔ پشاور ہائیکورٹ نے وائس چانسلر اور ملزم پروفیسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر جواب طلب کر لیا۔ اس حوالے سے وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق کا ایک موقع پر کہناتھا کہ ہراساں کرنے کا ایک بڑا سبب یونیورسٹیوں میں سمسٹر سسٹم ہے جس میں فیکلٹی کا کردار زیادہ طاقتور ہے جس کے زیادہ تر ذمہ دار اساتذہ نظر آتے ہیں جن کو سمسٹر نے اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ وہ کسی بھی طالب علم کے مستقبل کو بلا خوف و خطر داؤ پر لگا سکتے ہیں، حالانکہ ملک میں سمسٹر سسٹم متعارف کروانے کا مقصد تھا کہ ایسا نظام متعارف کروایا جائے جو تدریس، تحقیق اور ایجادات کے لئے معاون ثابت ہوسکے مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوسکابلکہ الٹا یہ ہراسانی کا باعث بن گیا۔

اس حوالے سے طالبات کا کہنا ہے کہ سمسٹر سسٹم کی بدولت اکثر اساتذہ کی جائز اور ناجائز دونوں باتیں ماننی پڑتی ہیں اساتذہ کے ساتھ ساتھ ساتھی کلاس فیلوز اور گیٹ پر کھڑے سکیورٹی گارڈز جن کی ذمہ داری ہی سٹوڈنٹس کی حفاظت کرنا ہے وہ بھی ہمیں ہراساں کرتے ہیں ۔ ان کا یہ بھی موقف تھا کہ اگر کلاس میں سٹوڈنٹ کوئی سوال کرے اور استاد کو ناگوار گزرے تو وہ سوال طالب علم کی جانب سے بدتمیزی تصور کیا جاتا ہے جس کے بعد سٹوڈنٹ سمسٹر میں ناکام ہی رہتا ہے اسی طرح اگر تحقیق کے مراحل میں بھی طلباء اپنے سپروائزر سے اختلاف رائے رکھے تو بھی اس کا تھیسز مشکل میں پڑ جاتا ہے حتی کہ ڈگری کا حصول مشکل ہوجاتاہےایک طالب علم نےکہا کہ سمسٹر سسٹم میں جتنا استاد کو خوش رکھو گے اتنا فائدے میں رہوگے۔ پروفیسر کی سالگرہ   کب ہے ،اس کو کھانے میں کیا پسند ہے اور وہ کس قسم  کا لباس پہننا پسند کرتے ہے یہ سب معلومات طالب علم کے پاس لازمی ہوں کیونکہ سمسٹر سسٹم نے استاد کو بہت طاقتور بنا یا ہے اور اداروں میں فیکلٹی کی کمی کے باعث ایک ٹیچر پندرہ کریڈٹ آور پڑھاتا ہے جس میں ایک کلاس کے ساتھ کبھی دو تو کبھی تین مضامین بھی آجاتے ہیں جس سے طلبا۶ اساتذہ کے ہاتھوں بلیک میل اور ہراساں ہوتے نظر آتے ہیں کیونکہ سمسٹرسسٹم ہی ایسا سانپ ہے جو کسی بھی طالب علم کے مستقبل کو ڈس سکتا ہے ۔ جب تک استاد کے ہاتھوں میں یہ بیس نمبر ہونگے ہراسانی کے واقعات رونما ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو اس حوالے سے کوئی میکنزم بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اساتذہ کے بیس نمبر اور جنسی ہراسانی۔۔۔اے وسیم خٹک

  1. Sessional marks are one of the reasons of harassment, however, you should also come up with solid suggestions how to combate the ugly menace of harassment at educational institutions.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *