• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ازدواجی حد بندی: رفیقِ حیات کو تسکین فراہم کرنا۔۔۔حافظ صفوان محمد

ازدواجی حد بندی: رفیقِ حیات کو تسکین فراہم کرنا۔۔۔حافظ صفوان محمد

نکاح اور اس کے متعلقات کو میں اسلام سمیت کسی بھی مذہب کا حکم نہیں سمجھتا لیکن یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہر آسمانی اور غیر آسمانی مذہب نے اپنے پیروکاروں کو جہاں سماجی زندگی کے کئی شعبوں میں ہدایات دی ہیں وہاں عقدِ نکاح کے بارے میں بھی بیش از بیش باتیں کی ہیں جنھیں ہر مذہب والوں نے اپنے پیروکاروں کے لیے ایس او پیز میں ڈھال لیا ہے اور بدلتی سماجی، سیاسی اور معاشرتی ضرورتوں کے تحت ان میں لچک لائی جاتی رہتی ہے۔ چنانچہ ایک ہی مذہب میں مختلف فرقوں کے ماننے والوں کے ہاں یہ ایس او پیز ذرا ذرا مختلف ہوتے ہیں اور بساحالات تو جوہری طور پر مختلف ہوجاتے ہیں۔

آگاہ رہیے کہ نکاح کا اولین مقصد میاں بیوی میں مودت یعنی باہم گرم جوشی اور تپاک و تسکین پہنچانے کے جذبات کا ہونا ہے۔ اگر یہ مقصد پورا نہیں ہو رہا ہے تو نکاح کا مقصد صرف افزائشِ نسل رہ جاتا ہے، اور اپنے آس پاس کھلی آنکھوں سے دیکھ لیجیے کہ بیشتر میاں بیوی، بلاتفریقِ نسل و مذہب، نسل کشی کے جانوروں ہی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

بارِ دگر اور بالوضاحت عرض ہے کہ نکاح کا مقصد اگر صرف افزائشِ نسل ہوتا تو یہ کام تمام حیوانات بطریقِ احسن کر رہے ہیں۔ چند ایک حیوانات کے علاوہ ہر حیوان کی نسل موجود اور ازخود نمو پذیر ہے اور بیشتر صرف اس نسل کو معدومیت کا خطرہ ہے جو پورے کرہ ارض کے لیے کوئی خاص وظیفہ سرانجام دینے سے قاصر ہوچکی ہے۔ نکاح کا اولین مقصد اگر زوجین میں محبت اور باہم تسکین کا سبب ہونا نہ ہوتا تو نبی کریم فلاں فلاں طلاق موثر نہ کراتے۔ سنت سے کسی ایسی طلاق کا ثبوت نہیں ملتا جو اولاد نہ ہونے کی وجہ سے کرائی گئی ہو اور نہ کسی ایسی طلاق کا جس کی وجہ بانجھ پن ہو۔ چنانچہ مطالعہ سنت سے واضح ہوا کہ نکاح کا بنیادی مقصد اولاد ہے ہی نہیں۔

نکاح کے فریقین یعنی میاں بیوی ایک دوسرے کو تسکین دینے کے لیے کہاں تک جائیں، اس کے لیے قرآن و سنت سے رجوع کیا جائے تو قرآن کی تین آیات اور حضرت محمد علیہ السلام کی 37 سالہ ازدواجی زندگی کامل رہنما ہے۔ یاد رہے کہ آپ علیہ السلام نے کم و بیش 11 بیویوں اور متعدد لونڈیوں کے ساتھ یہ طویل وقت گزارا۔ قرآن کی پہلی آیت سورہ مریم کی آیت نمبر 96 ہے: ان الذین آمنوا وعمل الصالحات سیجعل لھم الرحمٰن ودا، اور دوسرے سورہ بقرہ کی آیات نمبر 187 اور 223 کا ایک ایک ٹکڑا ہے: ھن لباس لکم و انتم لباس لھن، اور نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انیٰ شئتم۔ اس آخری آیت کی تفسیر میں لمبی بحثیں ہیں جن کا لبِ لباب یہ ہے کہ صحابہ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کو تسکین دینے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے تھے اور نبی کریم اور خلافتِ راشدہ نے کسی کو کسی طریقے سے نہ روکا اور نہ کبھی کوئی حد یا تعزیر جاری کی۔ اس کے علاوہ ھن لباس لکم و انتم لباس لھن میں یہ مفہوم موجود ہے کہ اپنے پردے یعنی بیڈ روم کی باتوں کو پھیلاتے یعنی ادھر ادھر ذکر کرتے مت پھرو۔ جیسے ایک دوسرے کو خوش کرسکو کرتے رہو۔

میاں بیوی کا ایک دوسرے کو تسکین پہنچانے کے لیے دورِ جدید کے آلات اور طریقے استعمال کرنا اسی دلیل سے درست ہے جس دلیل سے دورِ جدید کی دیگر ایجادات و آسائشات کا استعمال درست ہے۔ سائنس کی ترقی نے انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں ایسی ایسی سہولتیں پیدا کی ہیں جن کا صرف بیس سال پہلے محض سوچنا بھی ممکن نہ تھا۔ سائنس کی دی ہوئی ان سہولیات سے اپنے علم و معلومات کو بڑھانا چاہیے اور اپنی شخصی مہارتوں میں اضافہ کرکے بہتر اور کارآمد رفیقِ زندگی بننا چاہیے۔ یہ سب سہولتیں انسان کی بہتری کے لیے ہیں اور دورِ جدید کے مہذب انسانوں کا شعار ہیں۔ جسے جو سہولت ہمدست ہوتی ہے وہ اسے اپنے رفیقِ حیات کو تسکین پہنچانے کے لیے اچھے طریقے سے استعمال کرے؛ اسلام ان ایجادات اور طریقوں کے درست استعمال سے نہیں روکتا۔ ہاں، اگر کوئی شخص سنت زندگی سے مراد اونٹ یا گدھے کی سواری لیتا ہے اور رفعِ حاجت کے لیے وہ اور اس کے بیوی بچے کھیتوں ہی میں جانے کو اسلام کی تعلیم سمجھتے ہیں تو یہ سوچ انھیں مبارک۔ ہم نہ ایسا کرتے ہیں اور نہ ایسا کرنے کو اسلام کی تعلیم سمجھتے ہیں۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *