کشمیر اور موڈی ٹرمپ۔۔۔۔آفاق فاروقی

مجھے جنرل قمر باجوہ کی ایکسٹینشن کا اندازہ تو بہت پہلے سے تھا اور مارچ  19کو اس تناظر میں پوسٹ بھی لگادی تھی ، مگر یہ بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ افغانستان سے امریکہ کی باعزت واپسی کے لیے اس بار امریکہ کو ڈالر شالر نہیں بلکہ پوری پوری قیمت چکانی ہوگی اور مسئلہ کشمیر پر ُمک مکا کروانا پڑے گا ، مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہے بھارت کو بھی اپنی معشیت کی پوری اڑان کے لیے اس مسئلے سے جان چھڑوانی ہوگی ، میرے کان تو اس وقت بھی نہیں کھڑے ہوئے جب پاکستانی سفارت کار ٹرمپ اور خان ملاقات کے موقع پر پاکستانی صحافیوں سے ترلے ڈال رہے تھے کہ پلیز کشمیر پر سوال نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہوگا” ڈر یہ تھا موڈی ٹرمپ جانے کیا جواب دیکر دورے کی ایسی تیسی ہی نہ کردیں مگر مودی نے کشمیر پر جو جواب دیا،عمران کی پورے دورے میں یہی کمائی  تھی ، میں تواُس وقت چونکا جب خبر پڑھی جنرل باجوہ کوپینٹاگون میں ریڈکارپٹ کے ساتھ اکیس توپوں کی سلامی دی گئی ، اس دن سے کل رات تک میں بیسیوں، حاضر ریٹائرڈ سفارت کاروں ،صحافیوں دانشوروں سے پوچھ چکا ہوں “ کیا کبھی پینٹاگون نے کسی فوجی سربراہ کو وہ بھی تیسری دنیا کے فوجی سربراہ کے لیے اکیس توپ کے گولے ایویں ضائع کیے ہیں ۔۔”؟

سب کا ایک ہی جواب تھا “ نہیں “۔۔۔۔ میں ادھر ادھر کریدتا رہا کہ کہیں کچھ تو خاص ہے ، افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے ساتھ ہمارے بہت سے مفادات بھی جڑے ہیں ،اگر امریکہ جاتے ہوئے افغانستان  میں ہمارا حصہ دیتا ہوا جارہا ہے تو ہمیں اور کیا چاہیے کہ اس طرح بھارت مشکل میں پڑتا ہے اور جب سے امریکہ اور طالبان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہوئے ہیں ہر طرف کہا بھی یہی جارہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کی شرائط کی روشنی میں بھارت کو افغان مسئلے میں ڈمپ کردیا ہے ، مگر پھر اچانک بھارت نے کشمیر کا اسپیشل اسٹیٹس ختم کرکے کشمیر پر قبضہ کرلیا ، کشمیر سے اسلام آباد بیجنگ دہلی واشنگٹن لندن ، نیویارک تک جیسے ہاہا کار مچ گئی پھر اسلام آباد نےاپنا  بھارتی سفیر بھیج دیا ،جو پہلے سے اسلام آباد میں بیٹھا تھا، واپس بھیجنے سے انکار کردیا ،مگر سفارتی تعلقات ختم نہیں کیے ،اس کے ساتھ ہی ایک ایسا اعلان کیا جس نے پھر کان کھڑے کردئیے اپنی ہر طرح کی تجارت بند کرنے کے اعلان کے ساتھ فرمایا مگر ہم اپنے افغان بھائیوں کو کسی مشکل میں نہیں ڈالیں گے انکے لیے بھارت کی تجارتی راہداری کھلی رہے گی ، یہ بالکل ایک غیر انسانی رویہ تھا ، فطرت کے مکمل خلاف ۔

میں پہلے بھی ایک مضمون میں کہہ  چکا ہوں ،یہ سب باقاعدہ ڈیزائن بھی ہوسکتا ہے مگر آج صدر ٹرمپ کے غیر معمولی اور بالکل اچانک بِنا  کسی کے پوچھے اپنے ہی طور پر ، مسئلہ کشمیر پر تفصیل سے بات کرنا اور ایک روز پہلے دونوں فریق ممالک کے وزرائے اعظموں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کے بعد صدر ٹرمپ کا وزیراعظم مودی سے اسی ویک اینڈ پر فرانس میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کا عزم و ارادہ ۔۔ یہ سب معمول کی بات نہیں ہوسکتی کہ جہاں مسئلہ کشمیر ستر سال پرانا ہے وہیں امریکہ کا اس مسئلے پر ایک مخصوص رویہ بھی اتنا ہی پرانا ہے۔ ایک دم اچانک امریکی صدر کا مسئلہ حل کرانے کے لیے بیتاب ہونا بلکہ کہنا چاہیے مچلنا ۔۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ، پھر جس دن مریم نواز گرفتار ہوئی  میری تو ہنسی ہی   نکل گئی کہ جنگ پر جانے والی کوئی  ریاست ایسے حساس نازک ترین موقع پر کسی اندرونی سیاسی سماجی تقسیم کو برداشت کرسکتی ہے ۔۔ جس کی معیشت پہلے ہی عالمی اداروں اور غیر ملکوں کے پاس گروی پڑی ہو ۔؟

مجھے مریم کی گرفتاری نے دال میں کچھ کالا کا احساس دلایا ، تو آج صدر ٹرمپ کے عزم و ارادے نے سارا معاملہ ہی صاف کردیا ، ڈونلڈ ٹرمپ کو جاننے والے جانتے ہیں انھیں انکار  بالکل پسند نہیں انکی ضد ، اور انا ، لڑ جانا ، اڑجانا ہی تو انکی اصل شناخت ہے ، اب سب سمجھ میں آرہا ہے اور صاف صاف اور بالکل واضع سمجھ میں آرہا ہے کہ عمران کی موجودگی میں جنگ اور جیو کے سنیر صحافی عظیم ایم میاں کے کشمیر کے تناظر میں کیے جانے والے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کا جواب slip of tongue بالکل نہیں تھا ، اور اس جواب پر بھارت کا ردعمل بھی سوچا سمجھا تھا پھر بظاہر جلد بازی میں بھارت کا کشمیر کا اسپیشل اسٹیٹس ختم کرنا بھی طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا کہ مذاکرات کی میز پر زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مسائل کا ہونا بھی ضروری ہے ، یہاں مجھے لگتا ہے امریکہ ہی کے مشورے پر ایسا کیا گیا ہو جیسے ، امریکی قانونی نظام سے واقف لوگ جانتے ہیں ، گرفتار ملزم پر کم از کم دس سے بارہ مقدمات بنائے جاتے ہیں اور پھر دس پر بار گین کرکے دو میں ملزم سزا ہنسی خوشی قبول کرلیتا ہے ، پاکستان کی کمزور معیشت ، سیاسی سماجی تقسیم کے ساتھ بھارت کے مقابلے میں اس کا سائز عالمی منڈی میں دونوں کی ساکھ ، ان سب معاملات کی روشنی میں لے اور دو کا فیصلہ ہوگا ، اور پھر بھارت نے کشمیر کا اسپیشل اسٹیٹس بحال کردیا تو اس کے بدلے جو جو بھی دیا جائے گا وہ سب چھپ جائے گا کہ پاکستان کی چھلانگیں اور اس کامیابی پر آنیاں جانیاں دیکھنے دکھانے والی ہونگی اور کشمیریوں پر بھی اپنا اسٹیٹس بحال ہونے پر شادی مرگ کی کیفیت طاری ہوجائے گی ،۔

ابھی کل ہی ایک انتہائی  سینئر  سفارت کار کہہ  رہے تھے ، موجودہ حالات میں اگر بھارت مذاکرات کے لیے ہاں کردے تو ہم مشکل میں پڑ سکتے ہیں کہ فریقوں کو مذاکرات کی میز پر سارے پتے شو کرنے پڑتے ہیں اس موقع پر نہ بھارت بلف کھیل سکتا ہے نہ ہمیں کھیلنے دے گا ، اور ہمارے   پلے ہے کیا ۔۔؟ لگتا ہے ایل او سی انٹر نیشنل بارڈر بننے جارہی ہے ، ادھر ہم اُدھر تم کی بنیاد پر مسئلہ حل ہوگا دونوں طرف کے کشمیری کھلے آ جا سکیں گے معمول کا کاروبار کرنے کی اجازت ہوگی ، مگر صدر ٹرمپ نے اس سارے معاملے کو ذرا پیچیدہ بنا دیا ہے کہ کشمیری کچھ اور ہی چاہتے ہیں ، جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایک آزاد خود مختار کشمیری ریاست نہ پاکستان کو منظور ہے نہ بھارت  ایسا چاہے گا ، نہرو نے ایک بار تاریخی جملہ کہا تھا “ کشمیر کو ایک آزاد خود مختار ریاست کے طور پر قبول کرنے سے کہیں بہتر ہوگا کشمیر کو ایک پلیٹ میں رکھ کر پاکستان کو تحفے میں دیدیا جائے ، مگر یہ بیسویں نہیں اکیسویں صدی ہے سائنس کی اکثر بنیادی تھیوریاں بھی اٹھا کر پھینک دی گئی ہیں ، یہ تو پھر سیاست ہے جس کا نہ پیندا ہوتا ہے نہ سر ، کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر میری پریشانی یہ ہے اگر مسئلہ کشمیر حل ہوگیا تو صدر ٹرمپ ، مودی کے ساتھ نوبل انعام کے لیے عمران خان نامزد ہونگے یا جنرل باجوہ ۔۔؟

خیر یہ تو جملہ معترض تھا ، آخری بات یہ ہے اگر پاکستان مسئلہ کشمیر عالمی عدالت لے جانے سے باز رہے تو یقین کرلیجیے گا کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرلیا گیا ہے کہ آج صدر ٹرمپ کے بیان کے فوری بعد پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر عالمی عدالت لے جانے کے اعلان پر ، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا ردعمل انتہائی قابل غور ہے “ پاکستان کو مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اور اس مسئلے کو مختلف فورمز پر لے جاکر مشکل بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *