• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسئلہ کشمیر کی چکی میں پستا گلگت بلتستان۔۔۔۔رینچن لوبزانگ

مسئلہ کشمیر کی چکی میں پستا گلگت بلتستان۔۔۔۔رینچن لوبزانگ

کشمیری دوست جس بنیاد پر گلگت بلتستان والوں کو کشمیری اور علاقے کو جموں و کشمیر کا حصّہ قرار دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ علاقے تقسیم ہند سے پہلے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ رہے ہیں ۔اور یہ کہ اقوام متحدہ میں پاکستان اور انڈیا نے جن قراردادوں پر دستخط کئے ہیں اور جن جن علاقوں میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی (plebiscite) استصواب رائے ہونا ہے ان میں جموں و کشمیر ،لداخ اور گلگت بلتستان بھی شامل ہے ۔

دیکھیں ،کشمیری بھائیوں کی اس منطق کی رو سے تو ہندوستان آج بھی برطانیہ کا حصّہ ہے اور ہندوستانی دراصل انگریز ہیں، بلکہ خود کشمیری اصل میں “جموال” ہیں کیونکہ جس مہاراجہ کے زیر انتظام ایک صدی سے زیادہ گزارے اور آج تلک اس پر فخر کرتے ہیں وہ کشمیری نہیں بلکہ جموں کے ڈوگرہ راجپوت ہندو خاندان سے تھے۔۔۔

اور رہا اقوام متحدہ کے زیر اہتمام استصواب رائے تو پاکستان اور ہندوستان اس کی ابتدائی شکل کو ابتدائی چند سالوں کے اندر ہی مسخ کر چکے ہیں ۔استصواب رائے میں ابتدا میں تین آپشنز رکھے گئے تھے ۔پاکستان ہندوستان یا آزاد ریاست جو اقوام متحدہ کے چارٹر سے کچھ نہ کچھ میل کھاتی تھی ۔مگر بعد میں دونوں ممالک نے متفقہ بدنیتی سے اس میں سے تیسرے اور اہم ترین آپشن “آزادی” کو اس خطّے میں رہنے والے لاکھوں انسانوں سے پوچھے بنا ہی ختم کروادیا۔دوسری بات اقوام متحدہ کی جن قراردادوں کی بات خاص طور سے پاکستان بڑی شد و مد سے کرتا ہے اس کی پہلی ہی شرط یہ ہے کہ تمام متنازعہ علاقوں سے پاکستان اپنی پوری فوج، سامان اسلحہ اور غیر مقامی افراد و سول انتظامیہ کو نکال لے جائے جبکہ انڈیا صرف اتنے فوجی رکھے جتنا امن و امان کے لیے ضروری ہو ۔تمام متنازعہ علاقوں کا کنٹرول استصواب رائے منعقد ہونے تک انڈیا سنبھالے گا جبکہ اقوام متحدہ کا کمشنر اسکی نگرانی کرے گا ۔چلیے  کیجیے بسم اللہ اور فوجیں نکال لیجیے ۔دوسری اور اہم بات یہ کہ سابقہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ جناب کوفی عنان نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادیں باب چھ کے تحت ہیں جو کہ نان بائینڈنگ ہیں یعنی کہ اقوام متحدہ ان پر زبردستی عمل درآمد نہیں کرواسکتی بلکہ یہ متعلقہ ملکوں کی رضا مندی سے ہی ممکن ہے ۔اقوام متحدہ کی binding قراردادیں باب سات کے تحت آتی ہیں جن پر سلامتی کونسل زبردستی عمل درآمد کرواتی ہیں جیسے کہ کویت اور ایسٹ تیمور بارے قراردادیں تھیں ۔اب اس صورتحال میں ہم گلگت بلتستان والے اقوام متحدہ کی بوسیدہ و غیر اہم قراردادوں کے بجائے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے حق آزادی کو زیادہ قرین عقل و حقیقت خیال کرتے ہوۓ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان ہندوستان اور جموں کشمیر سمیت تمام آپشنز کو اب اوپن کردیا جائے اور ڈوگروں کی یلغار سے قبل کی تمام آزاد ریاستوں اور قوموں کو بشمول جموں،کشمیر ،لداخ اور گلگت بلتستان کو حق خود ارادیت و حق آزادی دیا جائے ۔ہم کشمیری بھائیوں کی بھی حق خود ارادیت و آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہوۓ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی ہماری حق خود ارادیت و حق آزادی کو تسلیم کریں گے ۔

دیکھیے! تاریخی حقائق یہ ہیں کہ گلگتی دارد نسل سے ہیں اور انکی جڑیں سوات،کوہستان اور سینٹرل ایشیا سے جاملتی ہیں۔جبکہ بلتی تبتی منگول نسل سے ہیں جس میں دارد ،ترکستانی و یارقندی خون بھی شامل ہوتے رہے ہیں ۔گلگت بلتستان ہزاروں سال تک چھوٹی بڑی آزاد و خود مختار ریاستوں کی شکل میں اپنا الگ وجود،جداگانہ تشخص، تہذیب و ثقافت،اور زبان کے ساتھ موجود رہا ہے ۔گلگت بلتستان میں شینا،بلتی ،بروشسکی ،واخی اور خوار بولی جاتی ہے ۔جبکہ 1947 کے بعد ہجرت کرکے آنے والے کشمیری خاندان بھی اب بلتی اور شینا ہی بولتے ہیں اور اپنے آپ کو گلگتی بلتی ہی کہلواتے ہیں ۔لہذا زبردستی کی ایک ریاست میں شامل رہنے کی بنیاد پر ہمیشہ کے لیے اس علاقے سے نتھی کئے رکھنے کو نا عقل و شعور تسلیم کرتی ہے اور نا ہی بین الاقوامی قوانین ایسی کسی جبر کو جواز فراہم کرتی ہیں

چلیے، اس سو سالہ ڈوگرہ بادشاہت کی تاریخ پر بھی کچھ سرسری نظر دوڑاتے ہیں۔ لاہور کے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اعلی فوجی و انتظامی کارکردگی دکھانے پر جموں کے جنگجو گلاب سنگھ کو 1833 میں جموں و کشمیر کا گورنر نامزد کردیا جنہوں نے جموں و کشمیر پر قبضہ مستحکم کرنے کے بعد اپنے وزیر سردار زور آور سنگھ کے ذریعے سے 1835 میں لداخ کو فتح کر لیا۔زور آور سنگھ کو راجہ سکردو راجہ احمد شاہ مقپون کے باغی بیٹے نے 1839 میں بلتستان پر حملے کی دعوت دی اور راجہ کھرمنگ نے بھی حمایت کی یقین دہانی کرائی ۔اس وقت راجہ سکردو کا پورے بلتستان بشمول کارگل پر حکمرانی تھی ۔ویسے تو کھرمنگ شگر خپلو رونگ یول اور کارگل کے اپنے اپنے راجے تھے مگر یہ سب راجہ سکردو کے طابع باج گزار تھے ۔مگر اندرونی اختلافات نے ڈوگروں کی توسیع پسندانہ عزائم کو آسان تر کردیا اور ڈوگروں نے بزور شمشیر اور سازشوں کے ذریعے سے 1840 میں پہلے بلتستان اور پھر گلگت پر بھی قبضہ کرلیا۔سکردو کے قلعہ کھر فوچو کی فتح کے بعد ڈوگرہ فوج نے آگ و خون کی جو ہولی کھیلی اس کو بلتی قوم کبھی نہیں بھول سکتی۔1842 میں شگر کے راجہ حیدر خان نے ڈوگروں سے پہلی جنگ آزادی لڑی اور بلتستان کو آزاد کرالیا مگر اندرونی سازشوں نے اس کامیابی کو چند مہینوں میں ہی دوبارہ ناکام بنا دیا اور وزیر لکھپت کی سربراہی میں ڈوگروں نے بلتستان پر دوبارہ قبضہ کرکے اپنا کٹھ پتلی راجہ مقرر کردیا ۔گلگت کے راجہ گوہر امان اپنی پوری زندگی ڈوگروں کے خلاف مزاحمت کرتے رہے اور کئی بار انکو شکست سے دوچار کیا۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ گلگت بلتستان ڈوگروں کی عملداری میں مرضی و منشا سے نہیں بلکہ بزور طاقت شامل رہے ہیں ۔

آئیے یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ خود ڈوگروں کو یہ ریاست ملی کیسے ؟
لاہور کے عظیم مہاراجہ رنجیت سنگھ کی انگریزوں کے ہاتھوں آخری اینگلو سکھ جنگ میں شکست کے بعد انگریزوں نے انکے جموں و کشمیر کے گورنر گلاب سنگھ کے ساتھ 1846 میں ایک دس نکاتی معاہدہ کیا جسے تاریخ میں “معاہدہ امرتسر” کہا جاتا ہے ۔اس معاہدے کی رو سے انگریزوں نے جموں و کشمیر کو بعوض مبلغ پچھتر ہزار سکہ نانک شاہی کے گلاب سنگھ کے ہاتھوں بیچ دیا۔معاہدے کی رو سے گورنر گلاب سنگھ کو جموں و کشمیر لداخ اور گلگت بلتستان کا آزاد مہاراجہ تسلیم کر لیا گیا ۔یہ طے پایا کہ انگریز اور مہاراجہ ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام کریں گے ،اور یہ کہ مہاراجہ انگریزوں کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کرتا ہے جس کے اعتراف کے طور پر ہر سال ایک اعلی نسل کا گھوڑا ،چھ جوڑے بکرے بکریوں اور کشمیری شالوں کا تحفہ تاج برطانیہ کو پیش کیا جائے گا۔اس دوران سوویت یونین کی پیش قدمیوں کے پیش نظر انگریزوں نے 1877 میں گلگت،ہنزہ، نگر، غذر اور دیامر کو مہاراجہ سے لیز پر لے لیا اور 1889 میں اس تمام علاقے کو گلگت ایجنسی قرار دے کر اپنے پولیٹیکل ایجنٹ کے ماتحت کردیا ۔اس ایجنسی میں دریائے سندھ کے اس طرف کا علاقہ استور اور بلتستان شامل نہیں تھے جو بلتستان و لداخ وزارت کے نام سے مہاراجہ کے پاس رہے ۔1935 میں اس لیز کو مزید ساٹھ سال کے لیے توسیع دی گئی۔انگریزوں نے ہندوستان سے چلے جانے اور تقسیم کا فارمولا طے ہونے کے بعد مہاراجہ کو گلگت ایجنسی کی لیز منسوخ کرنے کا اشارہ دے دیا جنہوں نے لیز منسوخ کرکے 31 جولائی 1947 کو لداخ بلتستان اور گلگت ایجنسی کو ملا کر ریاست کی سب سے بڑی وزارت شمالی صوبہ کے نام سے قائم کردی اور اسکے پہلے گورنر بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ جموال نے یکم اگست 1947 کو انگریز پولیٹیکل ایجنٹ کرنل بیکن سے گلگت ایجنسی کا سرکاری کنٹرول حاصل کرلیا۔15 اگست 1947 کو تقسیم ہند کے نتیجے میں ہندوستان و پاکستان نام سے دو آزاد ریاستوں کے قیام کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے دونوں ریاستوں کو معاہدہ قائمہ (standstill agreement) کے لیے خط لکھا یعنی ریاست جموں و کشمیر لداخ و گلگت بلتستان دونوں ممالک میں سے کسی بھی ملک میں شامل نہیں ہوگی بلکہ اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھے گی ۔پاکستانی گورنر جنرل مسٹر ایم اے جناح نے اس معاہدے کو فوراً  تسلیم کرلیا جبکہ انڈین گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس پر غور کرکے جواب دینے کا کہ دیا۔اسی دوران گلگت سکاؤٹس کے مقامی جوانوں و َافسروں اور ڈوگروں کی فوج میں شامل کچھ مسلمان افسروں و جوانوں کے درمیان اندرون خانہ خفیہ رابطے ہوگئے اور مہاراجہ کے انڈیا سے الحاق کی صورت میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر اتفاق کرلیا گیا ۔اس بارے میں گلگت سکاؤٹس کے آخری انگریز کمانڈنٹ میجر براؤن بھی اپنی کتاب میں اعتراف کرتے ہیں کہ کچھ پر اسرار سرگرمیاں وہ محسوس کررہے تھے ۔یہ بے پناہ عوامی دباؤ  اور گلگت سکاؤٹس کے مقامی افسروں و جوانوں کی خفیہ سرگرمیوں کا نتیجہ تھا کہ میجر براؤن کو ناچار و ناچار انکے موقف کی حمایت کرنی پڑی ۔میجر براؤن اپنی کتاب The Gilgit Rebellion میں لکھتے ہیں کہ
“جب میں نے گلگت پہنچ کر جوانوں و افسروں سے حلف لیا کہ وہ مہاراجہ کے وفادار رہیں گے تو انہوں نے کہا کہ میجر صاحب ہم بس آپکے وفادار ہیں ”
مطلب واضح تھا کہ مہاراجہ کے تو وفادار وہ ہرگز نہیں اگر میجر براؤن نے مہاراجہ کی طرف داری زیادہ کی تو خود انکے لیے بھی خطرہ تھا ۔یہ وہ حالات تھے کہ پاکستان کی جانب سے 22 اکتوبر 1947 کو معاہدہ قائمہ کی خلاف ورزی اور کشمیر میں قبائلی لشکر کشی کے نتیجے میں جب مہاراجہ نے 26 اکتوبر 1947 کو انڈیا سے الحاقی دستاویز پر دستخط کردئے تو میجر براؤن کو گلگت سکاؤٹس کے ساتھ مل کر یکم نومبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ کے گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کرکے حفاظتی تحویل میں لینا پڑا۔اور اسی دن انقلابی کونسل نے سامنے آکر راجہ شاہ رئیس خان کی صدارت میں جمہوریہ گلگت کا اعلان کردیا جسکے کمانڈر انچیف کرنل حسن خان تھے ۔پاکستان کو پیغام دیا گیا کہ نئی آزاد مملکت کے ساتھ الحاقی شرائط طے کرنے کے لیے اپنا نمائندہ جلد از جلد بھیج دیا جائے ۔جسکے جواب میں صوبہ سرحد کے تحصیلدار سردار محمد عالم خان 16 نومبر کو گلگت ائیرپورٹ پر اترے اور انقلابی کونسل کے ارکان کی نا اتفاقی و نا تجربہ کاری اور میجر براؤن کی کرنل مرزا حسن خان کے ساٹھ ذاتی رنجش اور انگریزوں کے اس علاقے کو مشق ستم رکھنے کی پالیسی کے سبب گلگت بلتستان بنا کسی شرائط و معاہدے کے پاکستان کی جھولی میں جاگرا ۔جنہوں نے پورے جموں و کشمیر کے لالچ میں کشمیر سے آزاد شدہ گلگت بلتستان کو دوبارہ سے کشمیر کا حصّہ قرار دے ڈالا ۔یہی نہیں بلکہ اسے اپنے سے سات گنا چھوٹے رقبے پر مشتمل آزاد کشمیر کی ملکیت مانتے ہوۓ ان سے 28 اپریل 1949 کو معاہدہ کراچی کے نام سے ڈیل کرکے (جس میں کوئی گلگتی بلتی نمائندہ شامل نہیں تھا)اپنی کالونی بنا لیا اور پچھلے بہتر سالوں سے اپنی من مرضی کرتا آرہا ہے۔ پہلے اس متنازعہ علاقے کو ایف سی آر کی چکی میں پیسا گیا ۔پھر بھٹو نے ایف سی آر ہٹایا تو ساتھ میں قانون باشندہ ریاست کو بھی لپیٹ دیا جس سے غیر مقامیوں کا ایک سیلاب یہاں امنڈ آیا ۔اس سے جو ڈیمو گرافی تبدیل ہوئی تو جنرل ضیاء نے 1988 میں ایسا فرقہ وارانہ قتل عام برپا کروایا کہ آج تلک ہم اپنے زخم چاٹتے ہیں ۔جبکہ گلگت بلتستان سے ایک جیسے متنازعہ حیثیت کا حامل آزاد کشمیر بہتر سالوں سے آزاد ریاست کے مزے لوٹ رہا ہے ۔
قصّہ مختصر گلگت بلتستان اس قضیے کے کہ جس کو مسئلہ کشمیر کہتے ہیں سب سے بڑے victims ہیں ۔یوں سمجھ لیں کہ پچھلے بہتر سالوں سے ہم نا تین میں ہیں اور نا تیرہ میں ۔ہم نا پاکستانی بن سکے ہیں اور نا ہی ہم کشمیری ہیں ۔تو پھر آخر ہم ہیں کون اور چاہتے کیا ہیں ؟؟

حقیقت یہی ہے کہ ہم صرف گلگتی اور بلتی ہیں،گلگت بلتستان ہمارا وطن ہے اور ہماری شناخت بھی ۔ہماری شناخت کشمیری ہرگز نہیں ہے ۔نا ڈوگروں سے پہلے تاریخی طور پر کشمیر کا حصہ رہے اور نہ  ہی ہماری زبان و ثقافت آپس میں ملتی ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ  “اب جبکہ پاکستان نے ہمیں ہماری کامیاب جنگ آزادی کے باوجود مسئلہ کشمیر کا حصّہ قرار دے ہی دیا ہے تو اپنی ہی قرار دی ہوئی “متنازعہ حیثیت” کے حقوق تو دے دیئے جائیں ۔ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل تک لٹکا کے مت رکھیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی آزاد کشمیر طرز پر ریاست گلگت بلتستان کے شہری ہونے،اپنا الگ آئین و جھنڈا ، باشندہ ریاست کے نفاذ کے ساتھ مکمل حق حکمرانی دیا جائے جہاں ہم اپنی یونیک کلچر کے ساتھ آزادی کے ساتھ جی سکیں۔۔۔یہی وہ طریقہ ہے کہ جس کے ذریعے آپ اقوام عالم کو بتاسکتے ہیں کہ ہندوستان نے جس خصوصی حیثیت سے اپنے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر کو محروم کیا ہے وہ ہم نے اپنے زیر انتظام آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کو دے دیئے ہیں ۔۔۔تبھی آپکی بات میں وزن پیدا ہوگی اور دنیا آپکی باتوں کو سنجیدہ لے گی ۔۔۔!

Avatar
رینگچن لوبزانگ
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والا ایک کمزور و ناتواں شخص

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *