آزادی کیسی ہوتی ہے؟۔۔۔۔۔حسن کرتار

کہنے کو تو برِصغیر کے موجودہ بڑے ممالک ہندوستان اور پاکستان اپنے اپنے مخصوص دنوں میں اپنے دیشوں کی آزادی یا تقسیم کا اتنا شاندار اور شور شرابے سے بھرپور جشن مناتے ہیں کہ ان دنوں گمان ہوتا ہے شاید پوری دنیا میں یہ دو ممالک ہی کبھی آزاد ہوۓ تھے ۔۔۔

مگر آزادی کیا ہوتی ہے؟ اور آزاد انسان یا آزاد ممالک کیسے ہوتے ہیں؟ اور یہ کون طے کرتا ہے کہ کون آزاد ہے اور کون غلام اور وہ کون ہیں جو اب تک آزادی کے صحیح مفہوم سے واقف ہی نہیں؟۔۔۔ اگر باری باری یہ سوال ہر انسان سے کیا جائے تو یقینا ً ہر کوئی اپنے اپنے فہم کے حساب سے انکے مختلف جواب دے گا۔

یہ بھی سامنے کی باتیں ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان کے ریاستی پروپیگنڈوں کے باوجود دونوں ممالک میں ایک وسیع تعداد ایسی پائی  جاتی ہے جو 1947ء میں ہوئے انسانی تاریخ کے اس اہم واقعے کو انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا سانحہ سمجھتی ہے۔۔۔ ان لوگوں کے نزدیک تقسیم کے حامی تمام بڑے ہندو، مسلم اور سکھ لیڈرز انگریزوں کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوۓ اور یہ تقسیم سراسر غیرضروری اور غیر فطری تھی۔۔۔ جناح انگریزوں کے بہت قریبی وفادار تھے اور انگریزوں نے جو ان کے حوالے کیا چپ کر کے وصول کیا اور کئی  مسلم اکثریتی علاقوں سے محروم ہونے کے باوجود نہ صرف پاکستان کے گورنر جنرل بننے پر غیر جمہوری اکتفا کیا بلکہ اس بیانیے کو کہ ہندوستان میں دو بڑی قومیں ہندو اور مسلمان آباد ہیں اور ان دونوں کیلئے علیحدہ علیحدہ وطن ہونے چاہئیں اس بیانیے کو جناح نے خود ہی شروع میں غلط ثابت کر دیا۔۔۔ دوسری طرف نہرو نہ صرف انگریزوں کے بہت قریب تھے بلکہ انگریزوں سے اپنی باتیں منوانا بھی جانتے تھے اس لئے نہ صرف کمال چالاکی سے اپنے من پسند علاقے حاصل کیے  بلکہ پاکستان کیلئے شروع سے ہی ایسے جال بن دئیے جن میں سے پاکستان ابھی تک نکلنے سے قاصر ہے۔۔۔

ہندوستان اور پاکستان کی سن سنتالیس سے لیکر اب تک کی تاریخ بہت متنازعہ ہے۔ ایک طرف ہندوستان نہرو کو بڑا لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف پاکستان جناح کو قائداعظم بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔۔۔ مگر بیچ میں کچھ نیوٹرل تاریخ دان ہیں منٹو، قرۃ العین حیدر، خوشونت سنگھ اور کئی  ایسے ادیب ہیں جو اصل حقیقت کو کچھ اور طرح سے بیان کرتے ہیں۔۔۔ اور نہرو اور جناح دونوں کو مفاد پرست، کوتاہ نظر اور ٹپیکل سیاستدان ثابت کرتے ہیں۔

دونوں دیشوں میں ایک اکثریت پائی  جاتی ہے جو صرف اپنی اپنی ریاستوں کے بیانیوں پر اندھا دھند اعتماد کرتی ہے۔۔۔ اس اکثریت میں ایک وسیع طبقہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں  نے یا کبھی کسی اسکول کا منہ نہیں دیکھا یا اسکول سے کالج جانے سے پہلے ہی تعلیم کو خیرباد کہہ دیا ۔ مگر ان لوگوں میں ایک طبقہ پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ لوگوں کا ایسا بھی ہے جو سب سمجھنے کے باوجود بھی محض نیشنلزم کے فریب کے زیرِ اثر اور اپنے ذاتی مفاد کیلئے اس تقسیم کو سانحے کے طور پر لینے کی بجائے ہمیشہ آزادی کہہ کر مناتا ہے ۔۔۔۔ ان میں دونوں دیشوں کے بڑے بڑے اخبارات، ٹی وی چینلز کے لوگ اور اعلیٰ یونیورسٹیوں سے پڑھے لوگ تک شامل ہیں۔۔۔
ان لوگوں کے حال پر جرمن مفکرنطشے کی یہ باتیں مکمل صادق آتی ہیں۔۔۔

“ریاست میں اسے کہتا ہوں جہاں سب زہر پیتے ہیں۔ اچھے بھی برے بھی
ریاست میں اسے کہتا ہوں جہاں سب اپنے آپ کو کھو دیتے ہیں۔ اچھے بھی برے بھی۔
ریاست جہاں سب کی سُست خودکشی زندگی کہلاتی ہے۔”

عہد ِ حاضر کا شاید ہی کوئی عظیم مفکر ہو جس نے نیشنلزم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہو عظیم سائنسدان آئن سٹائن نیشنل ازم کو انسانیت کیلئے کینسر سمجھتے تھے۔ اس بات کی زندہ مثال پاکستانیوں اور ہندوستانیوں بلکہ کسی حد تک بنگلہ دیش کے لوگوں کے روز و شب ہیں۔۔۔

یہ ممالک ہر طرف سے غربت، بے روزگاری، کرپشن، بے تحاشا  آبادی، وسائل کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی جیسے سنگین مسائل سے گھرے ہیں۔۔۔ مگر ان کی حکومتیں اور اسٹیبلشمنٹ اصل مسائل کو جنگی بنیادوں پر حل کرنے کی بجاۓ اپنی اپنی عوام کو سطحی لیڈرز کے قصیدوں، جنگی بیانیوں، جھوٹے قصوں اور سبز باغوں کے وعدوں کے میٹھے زہر پر زندہ رکھے ہوئے ہیں۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کو آزادی حاصل کیے ستر سال سے اوپر ہو چلے ہیں۔ پر نہ عوام کی حالت بدلی ہے نہ ان ممالک میں کوئی بڑی تبدیلی آئی ہے الٹا روز بہ روز نئے مسائل کا انبار لگتا جا رہا ہے۔۔۔

“اب کیا کیا جاسکتا ہے؟”

1۔ دونوں ممالک کو اپنے اپنے ملک کے حالات بہتر کرنے کیلئے سطحی نیشنل پروپیگنڈوں کی بجائے دیانتداری سے کام لینا چاہیے اور نئی  روشن تاریخ لکھنے کی طرف قدم بڑھانے چاہئیں۔
2۔اپنے اپنے ملک کے اندرونی حالات ٹھیک کرنے چاہئیں ۔ اور کشمیر، بلوچستان یا جو جو ریاستیں یا صوبے وفاق سے ناراض ہیں ان کے مسائل سنجیدگی سے سننے چاہئیں اور ان کے تمام جائز مطالبات پورے کرنے چاہئیں ۔۔۔
3۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی طرف دائمی دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیئے اور تجارت اور تمام طرح کے عوامی رابطوں کیلئے ویزہ فری تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔۔۔

حرفِ آخر

یہ کیسی آزادی ہے یہ کیسا ستم ہے کہ اس خطے کو بے رحمی سے تقسیم کرنے والے اور ہمیں اس دلدل میں پھنسانے والے انگریز جب چاہیں ان دونوں ممالک کا بآسانی سفر کر سکتے ہیں اور ہم لوگ جو اس خطے کے اصل اور پرانے باسی ہیں نہ سرحد کے اس پار آزاد ہیں نہ سرحد کے اس پار آزاد ہیں۔۔۔ بہت دنگا فساد بہت شور شرابہ ہو چکا آئیے اب نئے زمانے کی طرف قدم بڑھائیں اور آنے والی نسلوں کیلئے ایک ایسا پرامن اور خوشحال خطہ چھوڑ کر جائیں جو فی الحال محض دیوانوں کا خواب سا لگتا ہے۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *