• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • آکٹاویو پاز کی شاعری اور جانب میکسیکو۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ /1

آکٹاویو پاز کی شاعری اور جانب میکسیکو۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ /1

کیا آکٹاویو پاز ایسے شاعر کے لیے کارلوس فونٹس ایسے ناول نگار کے لیے فریدہ کوہلو ایسی خبطی مصور ہ کے لیے، مارلن برانڈو کی فلم ’’ویوا زچال‘‘ کیلیے، ایک سومبریروہیٹ کے لیے، آگ کے ایک بوٹ کے لیے، قدیم مایا تہذیب کے لیے اور ٹکیلاشراب کے ایک گھونٹ کے لیے، میکسیکو کی جانب پرواز کرتے جانا جائز ہے۔ شاعری، ریت، خون اور انقلاب کی سرزمین کی جانب سفر کرنا جائز ہے۔

ہاں جنوبی امریکہ کا رُخ کرنا پہلی بار اور میکسیکو ایسے دھوپ بھرے ویرانے کی جانب چل دینا جائز ہے اگر…آپ کے دل کے صحرا میں شاعری کے ببول کا ایک پھول کھلتا ہے۔ نثرنگاری کا معجزہ آسمانی صحیفوں کی قربت میں لے جاتا ہے۔ مصوری کے سب رنگ آپ کے بدن کے کینوس پر نقش ہیں۔ مارلن برانڈو کی اداکاری کی تاثیر آپ کی رگوں میں رواں ہے۔ زندگی کی کڑی دھوپ میں آپ کو ایک سو مبریرو ہیٹ درکار ہے۔ آپ اپنی حیات کی کڑواہٹ کو آگ کی ایک بڑھیا کے سپرد کر دینا چاہتے ہیں۔ اگر آپ بقیہ دنیا سے تب منقطع جنوبی امریکہ میں جنم لینے والی عظیم مایا تہذیب کے تعمیر کردہ اہرام دیکھنا چاہتے ہیں اور ٹکیلا شراب کا ایک گھونٹ بھرنا چاہتے ہیں جو بقول منٹو بدن میں جہاں جہاں سے گزرتی ہے انقلاب زندہ باد دیکھتی چلی جاتی ہے۔ صرف تب جب آپ کے ذہن میں ایسے فتور بھرے ہیں میکسیکو کا سفر جائز ٹھہرتا ہے۔

آپ سوال کر سکتے ہیں کہ اگر میں آرلینڈو کے جھیلوں کے شہر میں عینی کے ہاں ایک پرمحبت، پر آسائش اور بے پرواہ زندگی بسر کر رہا تھا اور میں نے بالآخر گھر کے پچھواڑے میں واقع گولف کورس میں ایک سیاہ بھالو کو ٹہلتے دیکھ لیا تھا، اس کا پیچھا کرکے اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش کر چکا تھا تو بیچ میں میکسیکو کہاں سے آ گیا۔ ویسے ایک عجب سانحہ درپیش ہے کہ میں صحیح معنوں میں میسیکو نہیں جا رہا تھا لیکن مجھے یہ کہنے میں بھی تامل ہو گا کہ میں واقعی میکسیکو جا رہا تھا چونکہ میں خود بھی اُلجھا ہوا ہوں اس لیے میرے بیانیے سے آپ بھی اُلجھ تو گئے ہوں گے۔ یہ اُلجھن سُلجھ تو جائے گی لیکن ذرا منتظر رہنا پڑے گا کہ پردہ اٹھنے پر کیا آشکار ہو گا۔

ہسپانوی زبان کا شمار دنیا کی دوچار بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ نہ صرف ہسپانیہ، پرتگال اور پورا جنوبی امریکہ اسی زبان میں محبت کرتا ہے، نفرت کرتا ہے اور شاعری کرتا ہے بلکہ انگریزی اور فرانسیسی شاعری کے مقابلے میں ہسپانوی شاعری میں جذبوں کی شدت کے الائو بھڑکتے ہیں۔ یہ بیباک، بے دھڑک اور کسی حد تک وحشی ہے اور اس میں اداسی کے گہر ے اندھے تالاب ہیں اور فنا کی سیاہی کی تصویریں مدھم ہوتی ہیں۔ ہسپانوی شاعری کے بارے میں مجھے کچھ زعم نہیں ہے کہ میں اس کی گہرائی میں اترا ہوں البتہ سپین کے گارلیالور کا اور چلی کے پابلونرودا کو مکمل طور پر پڑھا ہے اور ان کی شاعری ایک خاص اداس انداز میں میری نثر پر اثر انداز ہوئی ہے۔ ’’اُندلس میں اجنبی‘‘ میں لورکا کے بہت حوالے اس لیے بھی موجود ہیں کہ لورکااپنے مورش ماضی پر فخر کرتا تھا۔ آکٹاویو پاز ان دونوں سے مختلف کیفیتوں کا شاعر ہے۔ اس کی تمثیل نگاری بے حد منفرد اور دل کو چھونے والی ہے۔ پاز کی سب سے مشہور نظم ’’سن سٹون‘‘ یعنی ’’سورج پتھر‘‘ ہے اور یہ ایسی بڑی نظم ہے کہ اسے میرے پندرہ برس کے نواسے نوفل نے بھی پڑھ رکھا ہے۔ میں اس کے چیدہ چیدہ حصے دیگر نظموں کے علاوہ انگریزی کے ترجمے کو سامنے رکھ کر ان کا بہت ہی آزاد اردو ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔

یاد رکھیے پاز بہت آسانی سے سمجھ میں آنے والا شاعر نہیں ہے۔ ’’بلور سے تراشا ہوا بید مجنوں، پانی سے بنا ایک سفیدہ ایک فوارے کا ستون جس پر ہوا کی چادر تنی ہے ایک درخت جس کی جڑیں گہری ہیں اور جو رقص کرتا ہے مُڑتا ہوا ایک دریا جو بل کھاتا ہے۔ آگے بڑھتا پھر پیچھے ہوتا ہے۔ چکر لگا کر ہمیشہ کے لیے پہنچ جاتا ہے، ایک ستارے کا پرسکون راستہ ،یا آہستگی سے پھوٹتا ایک جھرنا ،بند پلکوں کے سکوت میں پوشیدہ پانی، تمام شب بہتا ہوا۔ اور مستقبل کی پشین گوئیاں کرتا… ایک سرسبز سلطنت جسے زوال نہیں۔۔آنکھوں کو چندھیا دینے والے سراب پروں والے۔ جب یہ پرکھلتے ہیں آسمان کی بلندی پر دنوں کے گھنے پن میں ایک سفر کا راستہ، مستقبل کے دن دکھوں کی دمک، ایک پرندے کی مانند چمکتی ہوئی۔ جو ایک جنگل کو حنوط کر دیتی ہے اپنے گیت سے وہ پرندہ ان شاخوں میں جو اوجھل ہوتی جاتی ہیں روشنی کے لمحے جن پر پرندے چونچیں مارتے ہیں ’’جیسے بارش کو سنتے ہیں‘‘ مجھے سنو جیسے بارش کو سنتے ہیں نہ توجہ سے اور نہ بے توجگی سے قدموں کی مدھم چاپ، باریک پھوار پانی جو کہ ہوا ہے، ہوا جو کہ وقت ہے دن ابھی ڈھل رہا ہے اور رات ابھی تک نہیں آئی دُھند کی بھول بھلیاں، کونے کے موڑ پر وقت کی بھول بھلیاں، موڑ پر اس وقفے میں مجھے سنو جیسے بارش کو سنتے ہیں سنے بغیر سنو جو میں کہتا ہوں گفتگو کرنا، عمل کرنا میں، جو میں دیکھتا ہوں جو میں کہتا ہوں میں اس کے درمیان میں جو میں کہتا ہوں اور جو میں خاموش رہتا ہوں اس کے درمیان میں جو میں خاموش رہتا ہوں اور جو میں خواب دیکھتا ہوں اس کے درمیان میں شاعری، انکار اور اثبات کے درمیان پھلتی ہوئی جو میں خاموش رہتا ہوں، خاموش رہتا ہے جو میں کہتا ہوں، خواب دیکھتا ہے جو میں بھول جاتا ہوں،وہ میں نے کہا نہیں یہ تو ایک عمل ہے، عمل ہے، جو کہا جاتا ہے شاعری بولتی ہے اور سنتی ہے یہی حقیقت ہے اور جونہی میں کہتا ہوں کہ شاعری حقیقت ہے یہ واہمہ ہو جاتی ہے کیا یہ اب زیادہ حقیقت ہو گئی ہے؟

’’ایک گلی‘‘ طویل اور خاموش ایک گلی ہے میں سیاہی میں چلتا ہوں، ٹھوکر کھا کر گرتا ہوں پھر اٹھتا ہوں اور میں ایک نابینائی میں چلتا ہوں میرے پاؤں خاموش پتھروں اور خشک پتوں کو کھلتے ہیں میرے پیچھے کوئی ہے اور وہ بھی خاموش پتھروں اور خشک پتوں کو مسلتا ہے میں رفتار آہستہ کرتا ہوں تو وہ بھی آہستہ چلنے لگتا ہے اگر میں بھاگتا ہوں تو وہ بھی بھاگنے لگتا ہے میں مڑ کر دیکھتا ہوں، کوئی نہیں ہر شے تاریکی میں ہے جس کا کوئی دروازہ نہیں صرف میرے قدم میری موجودگی سے آگاہ ہیں میں مُڑتا ہوں، کونے سے مڑتا ہوں جو گلی تک مجھے لے جا رہا ہے اور وہاں کوئی میرا منتظر نہیں، کوئی میرا پیچھا نہیں کر رہا جہاں میں ایک شخص کا تعاقب کر رہا ہوں جو ٹھوکر کھاتا ہے اور سنبھل جاتا ہے اور جب مجھے دیکھتا ہے تو کہتا ہے…کوئی نہیں! ’’آخری سویر‘‘ ’’تمہارے بال جنگل میں گم ہو گئے ہیں۔ تمہارے پائوں، میرے پائوں کو چھوتے ہیں تم نیندمیں اس رات سے بڑی ہو لیکن تمہارا خواب اس کمرے میں سما سکتا ہے باہر ایک ٹیکسی گزرتی ہے، پرچھائیوں سے بھری ہوئی دریا جو ہمیشہ بہتا ہے، واپس بہنے لگا ہے کیا کل ایک اور دن ہو گا؟ چنانچہ میں ہسپانیہ کے سب سے عظیم ناول نگار سروانتے کے کردار ڈان کے خوتے کی مانند ایک مرتبہ پھر سفر کے لیے نکل کھڑا ہوا تھا، ایک لاغر روزی نانتے گھوڑے کے ساتھ جو کہ میرا بدن ہے۔ کیا میں واقعی آکٹوویوپاز کے میکسیکو کی جانب چلا جا رہا تھا؟ بلور سے تراشا ہوا بید مجنوں، پانی سے بنا ایک سفیدہ…روشنی کے لمحے جن پر پرندے چونچیں مارتے ہیں۔ مجھے سنو جیسے بارش کو سنتے ہیں۔ شاعری بولتی ہے اور سنتی ہے۔ ہر شے تاریکی میں ہے اور اس کا کوئی دروازہ نہیں۔ تمہارے بال جنگل میں گم ہو گئے ہیں…کیا واقعی؟

جاری ہے

بشکریہ 92 نیوز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *