جنرل باجوہ صاحب ڈٹ گئے۔۔۔خرم شبیر

جنرل باجوہ صاحب ا تنے پروفیشنل اور غیرتمند افسر ہیں کہ اپنی ایکسٹینشن کی باتیں کرنے والے کئی صحافیوں اور اپنے ساتھیوں کی طبعیت صاف کر چکے ہیں اور دو ٹوک الفاظ میں یہ باور کروا چکے ہیں کہ میں ایک پروفیشنل سولجر ہونے کے ساتھ ساتھ قانون کا احترام کرنے والا سچا پاکستانی ہوں میں کبھی یہ چیز برداشت نہیں کروں گا کہ میری وجہ سے کسی بھی حقدار کی حق تلفی ہو اور میری ایکسٹینشن کی وجہ سےان کا کیرئیر ختم ہو جائے اور میں تین سال مزید اس پوسٹ پر قبضہ کیے رہوں ،ایسا کبھی سوچنا بھی  مت،یہ ایک پروفیشنل سولجر اور ادارے کی توہین ہے جو میں کبھی نہیں چاہتا۔

جنرل صاحب کی ان نیک تمناؤں کو پیارے اور ہینڈسم وزیراعظم کے گوش گزار کیا گیا، تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور پریشانی میں ہنگامی میٹنگ بلائی گئی کہ اس مسئلے کا کیا حل نکالا جائے۔ طرح طرح کے مشورے دئیے گئے ،دلیلیں گھڑی گئیں، کہ ایسا کرنے سے جنرل صاحب رُک سکتے ہیں، حالات اور بارڈر پر موجودہ صورتحال کو ایسے خوفناک انداز میں پیش کیا گیا کہ پی ایم صاحب کے اوسان خطا ہو گئے۔ ایسے میں ایک آدھ گستاخ نے یہ مشورہ بھی دیا کہ جنرل صاحب بڈھے ہو گئے ہیں اب بہتر ہے کہ ان کے بعد آنے والے جنرل کے بارے میں ڈسکس کیا جائے اور ایک تازہ دم جنرل کو یہ ذمہ داریاں سونپی جائیں، یہ مشورہ آنے کی دیر تھی کہ تمام کابینہ کے اراکین اپنی نشستوں پر اُچھل کر رہ گئے کہ ہماری صفوں میں ایسا غدار کہاں سے پیدا ہو گیا، فوراً گارڈز کو بلوایا گیا اور اس کی کرسی میٹنگ روم سے باہر پھنکوا دی گئی، حالانکہ وہ چلاتا رہا کہ باجوہ صاحب خود یہ چاہتے ہیں لیکن اس کی ایک نہ سُنی گئی۔ گستاخ غدارِ وطن کو باہر نکال کر کاروائی کا دوبارہ آغاز کیا گیا اور کابینہ کا اجلاس اس نتیجے پر ختم ہوا کہ ایکسٹینشن دینا ناگزیر ہے ورنہ ملکی معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے، میٹنگ ختم ہوتے ہی جی ایچ کیو فون ملایا گیا اور ملاقات کی اجازت مانگی گئی “حضور بہت ضروری معاملہ ہے جو مل کر ہی حل کیا جا سکتا ہے” بادل نخواستہ اجازت ملتے ہی  شکرانے کے دو نوافل پی ایم ہاؤس کے سارے سٹاف کو ادا کرنے پڑے اور گیٹ پر موجود شکورے نے بشیرے سے کہا دعا کرو میٹنگ کامیاب نہ ہو ورنہ ساری رات نوافل ادا کرنے پڑیں کہ جو خاتونِ اول نے مان رکھے ہیں۔ اللہ اللہ کر کے  خفیہ ملاقات ہوئی اور پی ایم صاحب نے میٹنگ کا ایجنڈا بیان کرنے کی کوشش کی ہی تھی کہ فوراً جھاڑ پلا دی گئی کہ خبرار ایسا سوچا بھی تو، یہ کبھی نہیں ہو سکتا “I am a professional soldier and I don’t want to let down my institution at any cost” یہ جملہ سننے کی دیر تھی کہ ہنڈسم صاحب پاؤں میں گر گئے اور زاروقطار روتے ہوئے عرض کیا حضور بس ایک مرتبہ میری عرض سن لیں اس کے بعد جو آپ کا فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا۔

اجازت ملتے ہی  جنرل صاحب کو سمجھایا گیا کہ ہمیں اس بات پر ایمان کی حد تک یقین ہے کہ جناب ایک قانون پسند افسر اور پرفیشنل سولجر ہیں لیکن ملکی حالات اتنے ابتر ہو چکے ہیں کہ آپ کا رکنا ناگزیر ہے۔ حضور آپ چلے گئے تو ملکی حالات ہاتھ سے نکل جائیں گے دشمن ملک میں داخل ہونے کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے اور آپ کے جانے سے اس کو مزید حوصلہ ملے گا اور کسی  بھی وقت حملہ کر کے ہمیں فتح کر لےگا۔ آپ کے جانے کی خبر سن کر دشمن ملک میں ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا جا رہا ہے خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور حملے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ خُدارا ملک پر رحم کھائیں اور رک جائیں ،کیا آپ کو اس ملک سے اتنی بھی محبت نہیں کہ اس ملک پر اپنے اصولوں کو قربان کر سکیں کیا آپ کے اصول اس ملک کی سلامتی سے زیادہ بڑے ہیں کیا آپ کو اتنا بھی خیال نہیں آتا کہ آپ کے جانے سے اس ملک کی معیشت پر کیا گزرے گی۔ آپ چلے جائیں گے تو کشمیر کی آزادی کیسے ممکن ہوگی سارے نقشے جو کشمیر پر قبضہ کرنے کیلئے آپ نے تیار کیے ہیں ابھی تک اور کوئی سمجھ نہیں سکا آپ کے بغیر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے آپ خود بتائیں۔ آپ نے دہشتگردی کی کمر توڑ ڈالی ہے ایسا نہ ہو آپ کے جانے کےبعد وہ مہروں کا علاج کروا کر پھر سے کھڑی ہو جائے اور ہمارے خواب چکنا چور کر دے۔ آپ کے بغیر کیسے ہم امریکہ سے ڈیل کرکے  کشمیر کا سودا کر سکتے ہیں، یہ آپ ہی کی دور اندیشی اور خارجہ پالیسی کی مہارت تھی کہ ہم نے بھا رت کو ہر میدان میں پچھاڑا ہے آپ کے بعد ہم دوبارہ پرانی پوزیشن پر آ جائیں گے۔ اللہ کا واسطہ ہے آپ کو آپ کے بچوں کی قسم اس قوم کے حال پر رحم کریں اور رک جائیں، بس صرف تین سال زیادہ نہیں، صرف تین سال۔۔۔ خدارا مجھے نا امید نہ کرنا ،اس قوم کو نا امید نہ  کرنا اور یہ بیڑا جو اُٹھایا ہے اس کو پار لگانا ہے آپ نے ،یہ صرف آپ ہی کر سکتے ہیں مائی لارڈ، صرف آپ۔

اتنا سب سننے کے بعد جناب باجوہ صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کلیجہ  منہ کو آگیا کہ میں یہ کیا کرنے جا رہا تھا ،اپنے ملک کو اس حالت میں چھوڑ کر  ایک سچا سپاہی کیسے جا سکتا ہے۔میں اپنے خون کے آخری قطرے تک یہ جنگ نہیں چھوڑوں گا اور کبھی انڈیا کو اس بات کی خوشی نصیب نہیں ہوگی کہ ایک جرّی جنرل میدان چھوڑ کر بھاگ گیا۔ جاؤ جا کر اعلان کرو کہ ڈٹ کر کھڑا ہے باجوہ۔ پاکستان  زندہ باد۔

یہ نعرہ سنتے ہی بشیرہ اور غفورا گیٹ پر غش کھا کر گر پڑے کیونکہ ساری رات سٹاف نے نوافل ادا کرنے میں گزارنی تھی اب۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *