کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط9

سویرا کے سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معینہ تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے

افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاًًًً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی وڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مذکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

قسط نمبر آٹھ کا آخری حصہ!

ارسلان نے اس رسم دلداری کی تکمیل پر آہستہ سے کہا”ہم سول سرونٹس پیار کو بھی پوسٹنگ سمجھتے ہیں۔ اس کی ذمہ داری اور اس کے perks شمار کرتے ہیں۔
جس پر نیلم نے زچ ہوکر کہا ”اتنا چھوٹا سا سوال کہ Do you love me? Yes or No. اور جانم آپ نے اتنا مجھے پورا سائبریا گھمادیا“۔
اس کی آنکھوں میں جھانک کر ارسلان نے بہت نرمی سے کہا،” اس وقت آپ اپنی نجی زندگی میں جس ذہنی الجھن کا شکار ہیں ۔مجھےڈر ہے میری ہاں یا نہ اس کی روشنی میں دیکھی جائے گی۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے اس تعلق میں ایسا ایک لمحہ ضرور آئے گا جب آپ اس پیار کی حق دار ٹھہریں گی تب یہ کسی سوال کا جواب نہیں بلکہ میرا اعتراف، میری سپردگی اور آپ کے وجود دلفریب کاانعام ہوگا۔میرا دل کہتا ہے کہ وہ لمحہ بہت دور نہیں۔فی الحال میرے اقرار  کو میرا ٹوکن سمجھیں۔باقی ادائیگی حسب موقع  اور پیار کے سود کے ساتھ ادا ہوگی، گولڈ فار گولڈ کے انداز میں۔نیلم نے مزید اصرار کو فضول جانا۔

قسط نمبر9!

کچھ دیر اور بیٹھ کر ان دونوں نے وہاں جس اہم مسئلے پر گفتگو کی، وہ نیلم کی طلاق کا تھا.ارسلان نے اسے سمجھایا کہ پاکستان میں طلاق کا قانونی طریقہ عورت اور مرد کے لیے مختلف ہے۔مرد کو فیملی عدالت میں طلاق کے لیے کیس فائل نہیں کرنا پڑتا۔ عورت پر البتہ اس شرط کا لازماً اطلاق ہوتا ہے۔سو نیلم کے لیے یہ سوال بہت اہم ہے کہ طلاق میاں سعید گیلانی دے رہے ہیں یا وہ خلع مانگ رہی ہے۔ کوشش کرے کہ سعید اسے ایک stamp paper پر طلاق کا احوال اور شرائط لکھ کر بھیج دے جس کی دوسری کاپی وہ مصالحتی عدالت میں جمع کرائے گا۔وہاں سے ایک تاریخ پر دونوں فریقین کو عدالت کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔سعید کی جانب سے کارروائی کے لیے کم از کم تین ماہ کی معیاد لازم ہے۔ اس طرح کا سرٹیفکیٹ جاری ہونے میں اکثر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ایسی صورت میں ہم اپنے اثر و رسوخ کو کام میں لائیں گے۔

نیلم نے اس تمام گفتگو کے  پیچھے یہ سازش نوٹ کی حضرت اس کے اس سوال کے جواب میں کہDo you love me? Yes or No سے وابستہ Commitment سے بچنا چارہے
ہیں۔اس نے خود کو ٹٹولا تو حیرت ہوئی کہ وہ کیوں اس بات پر بضد ہے۔ذہن و دل کے بے در و دیوار، نہاں خانے میں یہ جواب بھی منڈلاتا ہوا ملا کہ اس کو اس شادی کے یوں ختم ہوجانے پر ایک شدید نقصان کا احساس ہوا ہے جس کا ازالہ وہ گڈو جیسے classy prize- catch سے فی الفور کرنا چاہتی ہے۔کسی اور کو بھلے سے دکھانا مقصود نہ ہو مگر خود کے ذاتی اعتمادکے لیے یہ یقین دہانی بھی بہت کافی تھی۔  اس نفسیاتی Rebound میں گڈو کے اس تعامل اور ہچکچاہٹ سے وہ کچھ بے مزہ سی ہوگئی ہے۔
اس بے چارگی اور بے لطفی سے جان چھڑانے کے لیے اس نے ایک پہلو دار، تہہ در تہہ نسوانی shock- tactic سے کام لیا اور رائفل کے گولیوں کے برسٹ جیسے چند سوال کرلیے مگریہ سب کچھ کرنے سے پہلے نیلم نے چالاکی سے مگر قدرے غیر محسوس انداز میں اس تازہ دہکائے گئے  شیشے کی نے واپس لے کر ایک گہر ا کش لیا اور اس کے گرم کسیلے دھوئیں کے اثر کو حلق میں شراب کی نشیلی تلخی میں الجھا کر پوچھ لیا کہ
میرے آج رات کے تین سوال۔۔۔
پہلا اگر ہم کل واپس پاکستان چلے جائیں تو کیسا رہے گا؟ دوسرا  سوال یہ کہ وہ اس کے یعنی نیلم کے لیے آئندہ کیسی زندگی کا نقشہ دیکھ رہا ہے اور تیسرا کیا اس نے شادی کے لیے کسی خاتون کا انتخاب کررکھا ہے ۔اس  بیانیےکی چاٹ میں، کھٹی املی کی چٹنی انڈیلتے ہوئے گڈو پرایک خوش مزاج طنز یہ بھی کرلیا کہ جس طرح کا وہ ہے تو کیا گزارا اس طرح کی فلائیٹوں کے مس ہونے اور ائیرپورٹس کے نائٹ کرفیو کے دوران ملنے والی خواتین پر ہے۔

اس بیان آخر سے گڈو کے چہرے پر ایک ہلکی سی ناگواری اور کرب کی جھلک دیکھ کر اسے رحم بھی آیا۔ خالص مادرانہ رحم۔ اس جذبہ ء ترحم سے اس نے خود کو یہ باور کراکے نجات پالی کہ یہی تو وہ کیفیت تھی جس کے کنوئیں میں وہ اپنے یوسف بے آسرا کو دھکیلنا چاہتی تھی۔نیلم کی جانب سے فلائیٹوں کے مِس ہونے اور ائیرپورٹس کے نائٹ کرفیو کا سن کر گڈو نے کہا اسے ایک جوک یاد آرہا ہے۔ جوک ذرا ڈرٹی ہے مگر وہ اس میں سے ناپسندیدہ الفاظ، حذف کردے گا۔

بنئیے کی مارک ٹو
گنگا اشنان
گنگا اشنان
چتور گڑھ کی حسینہ
پھلواریا بنئیے کا گھر
گرینڈ بازار کی رونق

نیلم کہنے لگی ڈرٹی جوک اس کے لیے مسئلہ نہیں۔ اس کی برمنگھم والی دوست گڈی کی آدھی گفتگو اسی طرح کے جوکس پر مشتمل ہوتی ہے۔ ارسلان کو چونکہ اس نے گڈی کا مردانہ ورژن جانا اور مانا ہے لہذا وہ ذہنی طور پر تیار ہے کہ مرد ہونے کے ناطےvulagarity اور بے باکی کی یہ مقدار کچھ زیادہ ہوسکتی ہے۔ابتدا میں وہ گڈی کے ڈرٹی جوکس سے پریشان ہوتی تھی جس کا علاج گڈی نے یہ نکالا کہ اسے ابتدا ہی میں قائل کرلیا کہ ڈرٹی جوکس سوائے اس کے کچھ اور نہیں ہوتے کہ ہم عورتوں کے پاس کچھ پوشیدہ اعضا ایسے ہیں جن کا ذکر مردذ را زیادہ للچا کر اور قدرے غیر ذمہ داری سے کرتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ان لطائف جنسی میں جن لطف بھرے اعمال کا ذکر ہوتا ہے وہ سب ہم مل جل کر کئی دفعہ سرانجام دے چکے ہوتے ہیں۔ سو جوک از آن دا ہاؤس۔۔
ارسلان کہنے لگا کہ بنارس کے ایک قصبے پھل واریا میں مندر کے انچارج پنڈت اور ایک ادھیڑ عمر کا بنیا پڑوسی تھے۔بنیا چتوڑ گڑھ۔ راجھستان سے بیاہ کر ایک بہت سندر،چھوٹی گائے جیسی مدھ  مست ،پندرہ اور سولہ برس کی سرحد پر ڈولتی بیوی لایا تو پنڈت جی للچا اٹھے۔ مندر میں گھنٹی کی آواز کے ساتھ ہی دھرم ویر بنیا گنگا اشنان (نہانے)چلا جاتا۔پنڈت نے اس کی اعلی الصبح رفاقت کا کھوج لگا کر یہ فیصلہ کیا کہ وقت مقررہ سے پہلے گھنٹیاں بجانے سے کام چل جائے گا۔لاجونتی (چھوئی موئی) نئی نویلی لطف و وصال کے کوئلوں پر دہکی منہ  پر گھونگٹ ڈالے مست چڑھتی ندی جیسے بدن والی بملا دیوی کو کیا پتا کہ کون آیا،میرے من کے دوارے سپنوں کا سنسار لیے۔یوں پنڈت جی کو ایک آرزو مند، سجدہ گاہ میسر ہوگئی۔
چالاک بنیے کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ شادی سے پہلے تو جب وہ اشنان کرکے مندر آتا تھا تو پڑوس والے پنڈت جی وہاں پہلے موجود ہوتے تھے۔پاس پڑوس سے بے تاب بڈھے بھی ہانپتے کھانستے، رام نام جپنے کو آجاتے تھے۔ اب کچھ دنوں سے وہ تنہاء ہی بیٹھ کر ہنومان چالیسا پڑھتا رہتا تھا۔کوئی گھنٹے بھر بعد پنڈت جی بھی شاداں  و فرحاں آجاتے تھے۔ ایسی ہی ایک رات تھی ایسا ہی سماں تھا کہ اس نے گھنٹیاں سُنیں توجلدی سے چھپ  کر گھر سے نکل کر پچھواڑے تاک لگا کر بیٹھ گیا۔کیا دیکھتا ہے کہ پنڈت جی مندر سے گھنٹیاں بجاکر بھاگم بھاگ واپس آئے اور بملا دیوی کے لہلہاتے کھیت جیسے بدن سے لپٹ گئے۔وہ بھاگوان بھی یہ سوچ کر کہ شاہراہ کو مسافر کی شناخت کی کیا چنتا۔جیسے پتی، ویسے پنڈت جی ۔ ناری کا دھرم ہی سیوا ہے۔وصال کی چاندنی میں پنڈت جی کو چنریا بنا کر اوڑھے پڑی رہی۔بنیئے کو یہ سپردگی،یہ راضی بہ رضا معاملہ دیکھ کر دکھ تو بہت ہوا ،مگر سوچا ۔پنڈت جی سے کون بگاڑ کرے۔دنیا اور دھرم دونوں ہی ہاتھ سے نکل جائیں گے۔بہتر ہے مفاہمت کا راستہ پکڑیں۔ جمہوریت سب سے بہتر انتقام ہے۔
چپ چاپ اس نے بیوی کا ہاتھ تھاما اورگھر کا سامان لادا اور چل دیا۔پھیری لگا کر سود کا دھندا کرتا تھا۔ اپنے بھائی کے پاس جے پور پہنچ گیا۔گُنی تھا۔۔ بھائی کی مدد سے کاروبار ویسا ہی پہلے جیسا جم گیا۔ خوش حالی کا ہاتھی ڈیوڑھی پر جھومنے لگا۔پرانی گھر والی کا زچگی میں دیہانت ہوگیا۔نئی نویلی ٹھکرائین ملی تو پرانے گھاؤ بھول گیا۔ اسی آوک جاوک میں ایک دن ریلوے اسٹیشن پر پرانے پنڈت جی مل گئے۔حال احوال ہوا تو بنیے نے پوچھا پنڈت جی یہ تو بتائیے کوئی ویاہ وغیرہ رچایا،گھر گرہستی بھی مانڈی(ہندی گجراتی میں بسائی) کہ ابھی بھی خالی مندر کی گھنٹیوں پر گزارا ہے۔
نیلم جواب کی کاٹ سے ہنستے ہنستے دہری ہوگئی۔اس بے تکلفی میں ارسلان کی نگاہوں نے بھی برگنڈی برا میں بجتی گھنٹیوں کا خوب خوب لطف لیا۔۔

ہنسی کے اس پر ہیجان دورے کے اختتام پر وہ انگریزی میں ”آؤ چلیں“ کہہ کر اس اضافے کے ساتھ کھڑی ہوگئی کہ ”میرے کچھ جواب راستے میں، کچھ ہوٹل پہنچ کر“۔ارسلان نے باہر ہونے والی بارش کی جانب اشارہ کیا تو وہ سراسیمہ سی ہوگئی۔ارسلان نے اسے ایک منٹ رکنے کا اشارہ کیا اور خودکیفے کے منیجر کو جاکر جانے کیا کہا کہ اس مرد مہرباں نے جھٹ سے ایک چھتری نکال کر دی۔
نیلم کو یہ حاضر دماغی،یہ معاملہ سازی اچھی لگی۔چھتری درمیانہ سائز کی تھی۔بارش کا رخ سامنے سے تھا لہذا اس نے تجویز دی کہ وہ سردی کے پیش نظر اپنا کوٹ سامنے کرکے پہن لے،چھتری وہ پکڑے اور اس کے سامنے چلے۔۔تین گلیوں تک ہوٹل کی مسافت ایسی تھی کہ اسے کئی بار شانوں اور کمر سے تھامنے کی وجہ سے نیلم کا بدن ایک مکمل طور پر چارج کیا ہوا یو۔پی۔ ایس بن گیا۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر وہ جب اپنا پاجا مہ سوٹ پہن کر اس کی طرف کا کمرے کا مشترکہ دروازہ کھول کر اندر آئی تو بدستو وہی جواب کا مطالبہ تھا۔یہ ضد بھی تھی کہ وہ کمرے کا دروازہ کھلا رکھے گی کیوں رات میں شاید وہ اس کا باتھ روم استعمال کرے اس کی طرف گرم پانی کا مسئلہ ہے اور وہ اس وقت ہوٹل کی روم سروس والوں کو زحمت دینے کے موڈ میں نہیں۔

پہلا سوال کیا، اگر ہم کل واپس پاکستان چلے جائیں تو کیسا رہے گا؟دوسرا  سوال یہ کہ وہ اس کے یعنی نیلم کے لیے آئندہ کیسی زندگی کا نقشہ دیکھ رہا ہے اور تیسرا کیا اس نے شادی کے لیے کسی خاتون کا انتخاب کررکھا ہے ؟
حضرت کا اس سوال کا جواب یہ تھا کہ پاکستان جانا کوئی مسئلہ نہیں اس میں معمولی سی رکاوٹ ٹکٹ کی تبدیلی کے اخراجات ہیں۔زندگی میں کھانے اور سیرکے بارے میں میری سوچ یہ ہے کہ پہلی آفر کو اگرٹھکرادیا جائے تو یہ کفران نعمت ہے۔اس کھانے اور سیر کے لیے پھر بہت دن مزید انتظار کرنا پڑتا ہے۔وہ مل جائے تو اس کا لطف جاتا رہتا ہے۔زندگی اگر مزید موقع دے تو وہ ایشیا مشرق وسطی افریقہ کے کئی ممالک دیکھ سکتی ہے۔وہ جانا چاہتی ہے تو وہ اس کی خواہش کا احترام کرے گا مگر جو کچھ ہے وہ صبح ہی ہوگا۔ بس وہ سوچ لے کاپوڈوکیا، قونیا اور استنبول سیاحت کے حساب سے بہت ہاٹ سپاٹ ہیں۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ نیلم کے لیے پہلا چیلنج تو ایک آسان اور بے مخاصمت طلاق کا ہے۔ طلاق کے بعد کہروڑ پکا جیسی چھوٹی سی بستی میں زندگی گزارنے کا ہے۔ تیسرے سوال کا جوب یہ ہے کہ نہیں اس کے ریڈار پر کوئی عورت بطور بیوی موجود نہیں۔جب وہ سونے کے لیے ا پنے کمرے میں جانے کے لیے کھڑی ہوئی تو نیلم کو پتہ ہی نہ چلا کہ وہ کیا لمحہ تھا جب اس نے ایک انہونی بات کی کہ وہ نہیں مانتی کہ ایک دلیر مرد ہے۔وہ ذمہ داریوں سے فرار کا متلاشی ہے۔
رات کا جتنا پہر باقی تھا وہ کئی دفعہ اس کے کمرے میں آئی۔اس کے جاتے ہی گڈو میاں نے اپنے کپڑے ادھر اُدھر اتار پھینکے اورباکسر میں کمفرٹر کمر پر لپیٹ کر سوگئے۔مرغے اور اوشا کی غیر موجودگی کی وجہ سے کاتھاز بھی نہیں کیے وہ خود بھی چار بجے کی سوئی نو بجے اٹھی۔

اگلے دن انہوں نے سیر بھی کی، مشہور زمانہ توپ کاپی میوزیم بھی دیکھا۔استنبول اور اس کی رفاقت ایک خوش گوار مہلت تھی جس کا وہ بھرپور لطف لے سکتی تھی مگر اسے توپ کاپی میں ایک بناوٹ اور دوری کا احساس ہوا۔ سچ پوچھیں تو اس میں میوزیم کے ماحول سے زیادہ اس کی  اپنی کسیلی کیفیت اور ایک طویل ناخوشی سے بوجھل موڈ کا دخل ہے جس سے وہ گزر رہی تھی۔
نیلم کی اس کیفیت کا سبب یہ تھا کہ اسے وہ تمام الزامات یاد آتے رہے جو سعید گیلانی کے آخری طلاق کے اعلان والے ایس ایم ایس میں لگائے گئے تھے ۔ اسے وکیل سے طلاق کے کاغذات تیار کرنے کی دھمکی ،اس کی جانب سے سعید کے والدین کی اور اپنی مسلسل بے عزتی   کا بودا سا جواز بھی تھا۔اس پر یہ بھی جھوٹی تہمت لگائی گئی تھی اس کی کسی ناکامی کے باعث اس کے والدین کو پوتے کی عدم موجودگی کا دکھ سہنا پڑا اور اس پر یہ آخری زہریلی دھونی کہ اس کا اسٹینڈ بائی میاں اس کی دوست گڈی سعید کی غیر موجودگی سے مچل کر اس سے ملنے اڑ کر پہنچ جائے گی۔ ان سب کی وجہ سے اس کے اندر بہت ٹوٹ پھوٹ ہوئی تھی۔
نیلم کوان خیالات نے گھیر لیا کہ وہ کیسی نادان تھی نہ اس نے کبھی برطانیہ کی شہریت کے حصول کا سوچا،نہ ہی اس کی  بے اعتنائی پر اپنے بدن کے لیے کوئی سہارا ڈھونڈا۔نہ وہاں محنت سے کمائے ہوئے اپنے پاؤنڈز پر اس کی در اندازی کا کبھی برا منایا ۔ اس کے پاس لے دے کر اب یہ کل آٹھ ہزار سات سو پاؤنڈ زبینک میں موجود تھے ۔ اس کے علاوہ یہ پانچ ہزار پاؤنڈ ز جو مختلف حوالوں سے کمپنی کے پاس جمع تھے اور اب وہی کل سرمایہ تھا۔ وہ اپنی اچھائی کے بیان کا یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتی کہ عمر کے اس اٹھائیسویں برس کے آغاز میں بھی اس کا شمار ان نیک بیبیوں میں کیا جاسکتا ہے جو نہ صرف کسی مرد کے لبوں کے بوسے سے نآشنا ہے بلکہ مسلمہ طور پر کنواری بھی ہے۔ نیلم کسی طور قطعی مذہبی، مشرقی عورت نہیں۔زندگی کے مزے لوٹنے ہوں تو وہ کسی سے پیچھے رہنے والی نہیں۔ اس کے باوجود ایک چیختی ہوئی حقیقت یہ ہے کہ یہ شادی جانے کیسا بندھن، جانے کیسا شیشے کا گھر تھا جس کی ہر دیوار ہر چھت کا اس نے پاس رکھا جب کہ وہاں یورپ اور برطانیہ باہر کی دنیا کے رنگین لطف بھرے مواقع اور بلاوے بہت تھے۔
اس بے لطفی میں عجب بات یہ تھی کہ رسلان کی رفاقت میں استنبول میں بھی کوئی وابستگی محسوس نہیں ہوئی۔روم اور استنبول کی سیاحت کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں تاریخ کا شعور اور تجسس کا تال میل بہت تنا ہوا اور کتابی حوالوں سے مزین ہونا چاہیے۔ ارسلان کی خوبی یہتھی کہ وہ اس بات کو عمدگی سے سمجھ گیا تھا کہ نیلم کی اس کی رفاقت کا اس مسافت کے دورانیے میں محدود دائرے میں رہنا اس تعلق میں نکھار اور دوام ، اعتماد و لطافت کا باعث بنے گا۔

جاری ہے

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *