کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط8

سویرا کے سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معینہ تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاًًًً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مذکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

قسط نمبر سات کا آخری حصہ
سوچ کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ایسے میں کہیں یہ بھی سوجھی کہ بہت آہستہ سے وہ اپنی طرف سے دروازہ کھول کر جھانکے۔دیکھے تو سہی حضرت کیا کرتے ہیں، کیسے سوتے ہیں۔ کچھ دیر کو وہ اس تذبذب میں مبتلا رہی کہ جاگ گئے تو گڈو میاں کیا سوچیں گے۔اسے بستر میں  گھسیٹا تو وہ کیسے دامن چھڑائے گی۔ بدن اور دل کا سردست وہ حال ہے کہ ایک بوسہ گردن پر، کان کی لو پر ایک گرم سانس کی مہکار، کمر پر ہلکا سا دباؤ اگر یہ سب کچھ ہوا تووہ تو بس برمنگھم کی مشہور دکان سوئیٹ ہارٹ کی ملائی یا زعفرانی قلفی بن جائے گی۔
نہیں وہ ایسا نہیں۔گرینڈ باز ار کے جالولو حمام میں جب اس نے اس کے پیسے بھی دینے چاہے تو اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکنے کی کوشش کی۔ وہ تنہا حمام کی طرف بھی جانے پر رضامند نہ تھی سو ارسلان کا ہاتھ اس نے تھامے ہی رکھا۔وہاں سے واپس باہر آنے کے بعد بھی اس نے کوئی عجلت اور رغبت نہ دکھائی نہ ہاتھ تھاما،نہ کمر پر ہاتھ رکھا ،نہ کولہوں کو چھوا، نہ سینے کے قریب بدن کو لایا۔ ورنہ گڈی کہتی تھی کہ چالاک مرد،مافیا اور امریکہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اپنا سبق، کتاب شہوت میں پچھلا باب دہرائے بغیر وہیں سے شروع کرتے ہیں، جہاں چھوڑا تھا، مثلاً ہاتھ تھامنے کے بعد ان کا اگلا اقدام چوما چاٹی اور پھر اس کے بعد کی ملاقات میں ہل من مزید کے  نعرے کے ساتھ Do More کا مطالبہ۔

ہوٹل کے کمرے کا دروازہ
جنین انسانی
طفلِ خوابیدہ
رات کی بات
منیلا رسی
تجھ لب کی صفت
کافکا نرگیلا،استنبول
استنبول کا شیشہ
گرینڈ بازار استنبول
گرینڈ بازار استنبول

قسط نمبر آٹھ
نیلماں نے دل میں سوچا کہیں یہ حضرت بھی تو سعید گیلانی کی طرح دور افتاد گلیشئر نہیں۔اس نے خود کو یہ سمجھا کر اس خیال سے پیچھا چھڑایا کہ جب وہ کئی دفعہ ائیر پورٹ پر مختلف اوقات میں نیچے جھکتی تھی تو گڈو میاں کی نگاہیں چئیر لفٹ کی طرح اس کے سینے کے درمیان ادھر سے ادھر دوڑنے لگتی تھیں So its all about timing۔ خود کو یہ کہہ کر سمجھایا کہ اب وہ کون سی مسز سعید گیلانی ہے۔میاں صاحب نے طلاق کا فیصلہ بھی بلاوجہ بِناکچھ سنے ، کچھ کہے یک طرفہ ہی سنا دیا ہے۔اب تو سب کچھ صرف کاغذی قانونی کارروائی کا مسئلہ ہے۔ اب وہ آزاد اور اپنے فیصلوں میں ایک خود مختار عورت ہے۔
درمیان میں حائل مشترکہ دروازے کی کنڈی کھولتے وقت اس نے اتنی احتیاط ضرور کی کہ کوئی آواز نہ ہو مگر پھر بھی یہ کمرے کوئی ساؤنڈ ریکارڈنگ اسٹوڈیو نہ تھے۔ایک ہلکا سا کھٹکا ضرور ہوا۔ وہ ٹھٹھک کر ایک طرف ہوگئی کہیں حضرت جاگتے ہوں تو انہیں دروازے کے دوسری طرف کسی کی بے قراری اور کھوج بھری حرکت کا احساس نہ ہو۔وہاں زندگی کے کوئی آثار نہ تھے۔ایسا لگتا تھا کہ صاحب سلامت آغا ارسلان گھوڑوں کے کوئی تھوک تاجر تھے جو شہر بھر کے گھوڑے بیچ کر سورہے تھے۔

وہ خود بھی بہت لائٹ سلیپر تھی۔ سعید اس کا میاں بھی ایسا ہی تھا۔بستر پر زور سے کروٹ لو یا ہاتھ، لات سوتے میں لگ جائے تو آنکھ کھول کر چپ چاپ دیکھ کر سوجاتا تھا۔ اس لمحہء مداخلت میں اس کی نگاہ میں ایک بے زاری ہوتی جو پوچھ رہی ہوتی کہ رات کو بھی چین نہیں۔خود کو لپیٹ کر کونے میں ایسے سوتا تھا جیسے ماں کے پیٹ میں کوئی  جنین ( fetus ) نشو و نما پاتاہو۔اس نے ایک عجب حرکت کی ،سوچا  کہ وہ کنڈی کھل جانے پر اس کے کمرے کا جائزہ لے، اس سے پہلے مگر اپنی ٹی شرٹ کے نیچے باتھ روم میں جاکر دوبارہ برا پہن لی جس سے سینے  کی بے باکی کو کچھ پردہ نصیب ہوا۔اس کے بعد اس نے دروازہ بہت آہستگی  سے کھولا۔

باتھ روم کے دروازے کو کچھ ہلکے سے دھکا دیا تاکہ روشنی کچھ اور پھیل جائے۔اس حرکت میں یہ بھی راز تھا کہ اگر گڈو جاگ جائے تو وہ کہہ سکتی تھی اس کے کمرے میں گرم پانی کا مسئلہ ہے سو اس نے سوچا اسے تکلیف دینے سے پہلے خود چیک کرلے Its all so English(یہ ذرا انگلش انداز ہے)۔
روشنی کے پھیلاؤ سے ارسلان کے کمرے کا منظر زیادہ بہتر واضح ہوگیا تھا۔ حضرت جی بستر پر ایک ہاتھ چہرے کے نیچے رکھے پیٹ کے بل ڈھیر پڑے تھے۔ٹانگ کا ایک حصہ، سفید کمفرٹر کے باہر تھا باکسر شارٹس کی کنار تک کمفرٹر بھی کھسکا ہوا تھا۔جسم طاقت اور حجم کے حساب سے مناسب تھا۔ چربی نام کو نہ تھی۔ اسے یاد آیا کہ وہ کراٹے کا براؤن بیلٹ ہے۔کاتھاز اور مرغے کے پیچھے بھاگنے میں کم بخت جسم نے خوب مسل۔ میلہ سجایا تھا۔ریشہ ریشہ Abaca plant کی گتھی ہوئی منیلا رسی جیسا۔منہ  ویسے ہی بچوں جیساکھلا تھا۔بال بھی بکھرے ہوئے تھے مگر وجود میں ایک شانتی تھی۔ اسے اپنے جذبات میں کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی تو وہ بہت خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی آئی اور چٹخنی لگادی۔

سوچتی رہی کہ ارسلان کو جگا ئے اور ساتھ لے کر سامنے کسی کیفے میں جا گھسے۔بہت آہستگی سے یہ سوچ کر دروازے پر دستک دینا شایداچھا نہیں ،نیلم نے یہ طریقہ مہذب جانا کہ اسے اپنے روم سے ہی فون کردیا۔فون کے بجنے کی آواز اسے اپنے کمرے میں بھی سنائی دی اور دوسری گھنٹی پر فون اٹھ بھی گیا۔وہ چپ تھی کہ دیکھیں کیا ردِ  عمل آتا ہے، اس کے ہیلو کے بعد جب اس نے قدرے سنجیدگی سے گڈو کہا تو وہاں سے سوال ہوا کہ نیل آر یو اوکے؟
اس نے بھی ہنسی سے اٹھلا کر کہا ”یا نیل از اوکے، بٹ آئی وانٹ ٹو گو آؤٹ“۔
اوکے گیو می فائی منٹس۔پانچ منٹ  بعد وہ کمرے کے باہر دستک دے کر کھڑا رہا۔
باہر آئی تو نیلمان نے جینر اور کاندھے پر ڈوریوں سے بندھے جامنی جالی دار ہالٹر پر اپنا کیپ پہنا ہوا تھا۔ان کی ضد میں ایسی ہی دو برگنڈی (سرخی مائل کاسنی) شراب جیسے ریشمی جگمگ کرتے برا اسٹریپس بھی کاندھے کی اجلی جلد پر ریسنگ ٹریک کے نیم قوس جیسی ڈھلوان پر احتیاط سے مڑ کر کہیں کمر کی پشت کی طرف جاکر چھپ گئے تھے۔چلتے چلتے ناف میں وہ گھنٹی والی رنگ بھی اڑس لی تھی۔بالوں کو لائٹ کومبنگ سے کاندھے پر چھوڑ دیا گیا اور ہونٹوں پر اسٹریپس کی ہم رنگ blackened violet لپ اسٹک اور کانوں کے جھمکے اور ناک کی لونگ وہی تھی جو اولین
ملاقات میں دکھائی دی تھی۔ارسلان کو یہ پہناوا، یہ روپ اچھا لگا۔

ہوٹل سے ذرا سے فاصلے پر انہیں Kafeka Nargile Cafe نظر آگیا تو دونوں اندر چلے گئے اور باہر کا منظر د کھا تی ایک خاموش کو نے سے جڑی کھڑکی سے لگ کر، وہ اور نیلم آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ سڑک پر لوگوں کی آمدو رفت اور شور کم تھا، اندر البتہ زیادہ تر وہ جوڑے موجود تھے جنہیں ان ہی کی طرح عشق میں غیرتِ جذبات نے سونے نہ دیا تھا۔ان گل رُخان استنبول کی دھیمی دھیمی سرگوشیوں میں گفتگو کا خاصا رومانچک سا ماحول  بن گیا تھا۔

نیلم نے اپنے لیےWhisky nightcap لے لیا۔ ارسلان کو کہنے لگی کہ میرا نائٹ کیپ کے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔گورے تو عام طور پر اس کو one-off سمجھ کر پیتے ہیں مگرمجھے ایک دو پیگز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شراب کے معاملے میں میں بہت مضبوط اعصاب کی مالک ہوں۔جلد نہیں بہکتی۔ tippling so used to (عادتاً شراب پینا)۔ پارٹی از آن دی ہاؤس
(میزبانی کا ذمہ اس کا ہے)۔یہ کہہ کر پرس سے اپنے سگریٹ نکال کر میز پر رکھ دیے ، ساتھ ہی اس سے بھی پوچھ لیا کہ وہ کیا پینا پسند کرے گا ۔
منڈلاتے ویٹر کو ارسلان نے سمجھایا کہ اس کے لیے ترکی قہوہ،شہد کے ساتھ اور ڈبل ایپل میں پودینے کے تمباکو والا شیشہ لے آئے۔
جب ارسلان کی فرمائش پرآنے والا ڈبل ایپل میں پودینے کے تمباکو والا شیشہ دہکا دیا گیا تو اس نے(Let your own Lady Neel do the honours خدمت کا موقع آپ اپنی نیل صاحبہ  کوعطا کریں) کہہ کرارسلان سے پہلے خود ایک گہرا کش لیا اور دھواں یوں چھوڑ دیا کہ ارسلان کا چہر ہ اس نے ڈھانپ دیا گیا۔۔

نیلم کو کچھ اطمینان سا تھا کہ حضرت گہری نیند سے جاگے ہیں اس لیے ذہنی طور پر کچھ Blank ہوں گے۔ یوں بھی شب کے اس پہر، ایسا دعوت گناہ دیتا وجود سامنے ہو تو کون مرد ہے جو اپنے عقل و دانش کے سیٹ بیلٹس باندھ کر رہ سکتا ہے۔موجودہ کیفیت میں اسکے بارے میں، انہیں کھوجنا، پرکھنا اور کسی قسم کا فیصلہ کرنا آسان ہوگا۔ اسے اندازہ نہ تھا کہ اعلیٰ حضرت کا Bio Clock بچپن کا سدھایا ہوا ہے۔ مطلوبہ اوقات میں سونا جاگنا، کمانڈوز اور امریکہ کے مشہور سیل فوجیوں کی طرح اب فطرت ثانیہ ہے، مجبوری نہیں۔ ارسلان کے اس نیم خوابیدہ سراپے کے پیچھے تنہائی پسند تیندوے کی مانند ایک پھرتیلا دماغ یہ سوچ کر بیدار تھا کہ یوں نیند سے جگا کر اسے یہاں لانے کی پشت پر جانے کیاا یجنڈاہے۔ کش لگا کر نیلم نے ایک ادا سے انگڑائی لے کر بدن کا قوس بنا کر اپنا کیپ (کوٹ) ایک جانب اتار کر رکھا تو مرد مقابل کی نگاہوں کے سامنے اس جسم جواں کے حوالے سے دل ربائی کے طائفے ہلارے لینے لگے۔
دوسرے گھونٹ کے ساتھ ہی نیلم نے اپنی شرنج کی بساط بچھائی اور کہنے لگی کہ I have few questions and I need many answers.
(میرے پاس سوال تو چند ہیں مگر جواب بہت سے درکار ہیں)۔
All in one journey and a single night
وہ کہنے لگا(ایک مسافت میں ایک رات کے دوران)
I lost some one gradually but I want to find some one quickly
(میں نے کھویا تو بتدریج ہے مگر میں کسی کو بہت عجلت سے پانا چاہتی ہوں)
I have no issues with speed. But I am not sure about your loss?
( مجھے آپ کی عجلت پسندی پر کوئی اعتراض نہیں، مگر مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ نے کس کو کھودیا ہے؟)
رات کو جو آخری پیغام مجھے ملا تھا اس میں سعید نے مجھے طلاق دینے کا کہا ہے“ نیلم بلا کم و کاست اصل موضوع کی جانب لوٹ گئی۔

ارسلان نے بھی بہت آہستہ سے جتلادیا کہ اسے اس ایس ایم ایس کے بعد ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ کوئی بڑی بات ہوئی ہے۔ وہ فوراً ہی بہت Off- colour(بے لطف) ہوگئی تھی۔ جیسے اسے ایک اندرونی کشمکش، ایک ناقابل بیان نقصان کا سامنا ہو، ایک اندرونی عدالت لگی ہو جس میں منصف کو ہی یہ ناپسندیدہ فیصلہ کرنا ہو کہ وہ خود مجرم نہیں۔
اسی اثنا میں نیلم نے کہنیوں کے سہارے میز پر جھک کر ، ہتھیلیوں کی رحل بنا کر اس پر چہرہ رکھ دیا ایسا کرنے سے سینے کی گولائیوں نے جب ہالٹر سے بغاوت کرکے باہر جھانکا تو کچھ دیر کو ارسلان کو لگا کہ پینے والی سے زیادہ شراب کا نشہ خود اس پر طاری ہوا ہے۔ نیلم کا اگلا سوال یوں تو انگریزی میں تھا کہ Do you love me? Your answer ought to be just a No or Yes

(کیا آپ مجھے پیار کرتے ہیں۔مجھے اس کا جواب صرف ہاں یا نہ میں درکار ہے)
ارسلان کو اس سوال کی اتنی جلد توقع نہ تھی۔ رفاقت، شاہراہء وقت پر کچھ مسافت طے کرلیتی ہے تو ایسے سوال معمول کی گفتگو کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت مگر یہ سب کچھ ناگہانی تھا اس نے جواب دینے سے یہ کہہ کر پہلو تہی کی کہ
”آپ کو کیا لگتا ہے؟“
نیلم نے گلاس سے بڑا گھونٹ لیا اور اس کے ہاتھ  سے، شیشے کی نے بلاتکلفی سے  یوں چھینی کہ اس کے ہاتھ  پر نیلم کی ہتھیلی کی  ایک آشنا سی لگاوٹ  کا بِلاعجلت کچھ دیر قیام رہا۔ اسے لگا اس کی آج رات اس کی اپنی ہر بے تکلفی کا جواز یہ ہے کہ اس کا اپنا میاں سعید گیلانی ایک مرد تھا جو اس کی قدر کرنے سے محروم تھا اور ایک یہ مرد ارسلان آغا اس کا ا اپنا نامزد گڈو ہے جس پرنوازش لمس و
وصال کے ہر سلسلے پر اس کا اپناکنٹرول ہے۔اس سپردگی اور اس جسمانی حوالگی کا اس کے پاس کوئی ٹائم فریم نہیں۔ یہ سامنے موجود ذہین طالب علم کو جامعہء دلبری کی جانب سے مہیا ا یک ایسے Student Loan کی سہولت ہے جس کی واحد شرط یہ ہے کہ Pay as you earn(ادائیگی آمدنی سے مشروط ہے)
شیشے سے لمبا کش لے کر اس نے کہا میں نے آپ کو پہلے ہی جتا دیا تھا کہ. I have few questions and I need many answers
(میرے پاس سوال تو چند ہیں مگر جواب بہت سے درکار ہیں)۔
ارسلان نے اس اعتراض کا بہت دھیمے سے مجرمانہ اعتراف سے سر نیہوڑا کر جواب دیا کہ۔۔
I got dissuaded by your puff (میں آپ کی مرغولہ سازی سے بھٹک سا گیا تھا)۔
اس جواب سے میزپر ہتھیلیوں پر رکھے اس چہرے  کی اداکاری کے اشارے کی نشاندہی ارسلان نے پف کا ذکر کرکے یوں کی کہ یہ سوچ کرنیلم خود ہی جھینپ کے شرما گئی۔ ارسلان کو ان ہی لمحات میں پہلی دفعہ اپنے علم میں یہ اضافہ محسوس ہوا کہ سرخی گالوں کے علاوہ سینے کی گولائی پر بھی   جلوے دکھا دیتی ہے۔ خون کا فوارہ دل سے چھوٹتا ہے۔ وہی دل جو چولی کے پیچھے اور چنری کے نیچے ہوتا ہے۔ ۔ توبہ اس آدمی کو بات چیت میں کسی جگہ گھیرنا کتنا مشکل ہے۔بضد ہوئی کہ”میرا جواب؟“۔
”آپ بہت Intricate (نازک اور پیچیدہ) ہیں“۔ارسلان نے تبصرہ کیا تو نیلم اس لفظ کے استعمال سے بھیگ گئی۔سر دست وہ ایسی ہی تھی۔ بِلّور (کرسٹل) کی ایک صراحی جیسی، ایک گل تازہ،کینوس پر مکمل تصویر کے سامنے آرٹسٹ کا تھامے ہوئے فائنل ٹچز والے برش جیسی۔ایک غلط اسٹروک اور تصویر بگڑ جاتی۔اسے اپنی جرات اور عجلت،اپنے حتمی پن اور اصرار سبھی پر حیرت ہوئی۔یہ بھی خیال آیا کہ اسے آئی لو  یو نہ کہنا گڈو کے لیے بھی حوصلوں کی بات ہے۔ہاں کہتا ہے تو خود اس کے لیے یہ وہ شہتیر ہوگا جو شادی کے اس Ship -Wreck کے بعد اس متلاطم سمندر میں اس کے ہاتھ لگا ہے۔۔
”ہاں یا نہیں“۔گلاس میں اس کی وہسکی ختم ہورہی تھی۔اس نے ویٹر کو اشارہ کیا تو ارسلان نے بازو کے نیچے بغل کی سطح پر بادل کے پیچھے چاند جیسے اجالے دیکھے۔۔
”نہ کہوں تو یہ جھوٹ ہوگا“۔ اس نے کہا۔لیکن اس سے پہلے ایک درخواست کہ آپ اس مئے نوشی کو اب یہاں اس گلاس پر روک دیں۔
ڈرپوک۔شرابی عورت، پاکستان کی بیوروکریسی سے ہینڈل نہیں ہوتی۔نیلم نے کہا۔۔
وہ کھڑی ہوئی اور بار کاؤنٹر پر جاکر ویٹر کو منع کر کے لوٹ آئی تھی۔ ارسلان کا جواب یہ تھا کہ I found you in your senses and sensuality and i love with all my sensibility.
)میں نے تمہیں باہوش و حواس پایا تھا اور آپ میں ایک سرمستی تھی اور میں آپ کو اپنے مکمل ادراک کے ساتھ چاہنے کا خواہشمند ہوں)
واپسی پر اس نے گڈو کو گلے لگا کر کہاکہ ” آپ کا جواب اب بھی نامکمل ہے“۔
”آپ اگر سننے پر رضامند ہوں تو میرے پاس ایک وضاحت بھی ہے اور جواب بھی“۔
”ارشاد“ ۔ ۔گفتگو کو سنجیدگی کے دھرّے (ایکسل) پر ٹکا رکھنے کے لیے اس نے (bit chilly here) کہہ کر اپنا لیوینڈر رنگت کا بغیر بٹن کا کیپ ارسلان کی جانب پشت کر کے دوبارہ کاندھوں پر یوں اٹکا لیا کہ بازو اور رخ سے آتی ہوائیں تھم گئیں مگر سامنے کے مناظر کی جلوہ سامانی رنگوں کی اس پروفائلنگ جس میں سیاہ،جامنی،لیونڈر اور جلد کی چاندنی کے اجالے شامل تھے ان سب کی حشر سامانی میں مزید اضافہ ہوگیا۔

ارسلان نے اس رسم دلداری کی تکمیل پر آہستہ سے کہا”ہم سول سرونٹس پیار کو بھی پوسٹنگ سمجھتے ہیں۔ اس کی ذمہ داری اور اس کے perks شمار کرتے ہیں۔
جس پر نیلم نے زچ ہوکر کہا ”اتنا چھوٹا سا سوال کہ Do you love me? Yes or No. اور جانم آپ نے مجھے پورا سائبریا گھمادیا“۔
اس کی آنکھوں میں جھانک کر ارسلان نے بہت نرمی سے کہا،” اس وقت آپ اپنی نجی زندگی میں جس ذہنی الجھن کا شکار ہیں مجھے ڈر ہے میری ہاں یا نہ اس کی روشنی میں دیکھی جائے گی۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے اس تعلق میں ایسا ایک لمحہ ضرور آئے گا جب آپ اس پیار کی حق دار ٹھہریں گی تب یہ کسی سوال کا جواب نہیں بلکہ میرا اعتراف، میری سپردگی اور آپ کے وجود دلفریب کاانعام
ہوگا۔میرا دل کہتا ہے کہ وہ لمحہ بہت دور نہیں۔فی الحال میرے اقرارکو ٹوکن سمجھیں۔باقی ادائیگی حسب موقع اور پیار کے سود کے ساتھ ادا ہوگی گولڈ فار گولڈ کے انداز میں۔نیلم نے مزید اصرار کو فضول جانا۔

جاری ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *