آرمی چیف ،ایکسٹینشن ، حکومت اور عوام۔۔۔قیس

15 اگست 1947سے لیکر 20اگست2019تک سولہ جنرل پاکستان ٓارمی کے سپہ سالار رہ چکے ہیں۔ جمہوری ادوار میں یہ دوسرا موقع  ہے کہ کسی چیف آف آرمی اسٹاف کو ایکسٹینشن دی گئی ہے۔ اس  سے پہلے صدر آصف علی زرداری صاحب نے جنرل اشفاق پرویز کیانی صاحب کو تین سال کی ایکسٹینشن دی تھی ۔ ایکسٹینشن دینے پر موجودہ وزیر اعظم پاکستان نے سب سے زیادہ تنقید کی تھی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ  صاحب کی ایکسٹینشن کے فیصلے پر کئی حلقے تنقید کر رہے ہیں اور کئی حلقے اس فیصلے کو خوش آئندہ کہہ کر خیر مقدم کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں بھی دبے لفظوں میں تنقید کر رہی ہیں ۔ کچھ صحافی حضرات کھل کر تنقید کر رہے ہیں اور کچھ حمایت کر رہے ہیں ۔ حمایت کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ اس وقت پاکستان کے بیرونی حالات ٹھیک نہیں ہیں اور تقریباً حالت جنگ میں ہے اور اس وقت سپہ سالار کی تبدیلی نہ  کرنا ایک بہت مضبوط فیصلہ ہے اور ساتھ ساتھ ریاست مدینہ بھی کہتے ہیں ۔ جبکہ ریاست مدینہ میں جب حضرت عمررض خلیفہ بنے تو انہوں نے حضرت خالد بن ولید رض کو سپہ سالاری سے معزول کر دیا تھا  ۔

بدقسمتی سے پاکستان میں حقیقی جمہوری نظام کبھی آیا ہی نہیں  ،اس لیے عوام کی رائے کو کبھی بھی اہمیت نہیں دی گئی اور نہ ہی اپوزیشن کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ میری ذاتی رائے کے مطابق جنرل صاحب چاہے کتنے ہی قابل کیوں نہ ہوں لیکن ایکسٹینشن نہیں دینی چاہیے ۔ اس طرح کے فیصلوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک شخص اس ملک کے لئے ناگزیر ہے یا پھر خدانخواستہ باقی جنرل اس قابل نہیں ہیں کہ وہ سپہ سالاری کی ذمہ داریاں اٹھا سکیں۔

Qais
Qais
Me Qaisar Hussain MSc (Pak Study) MA (IR)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *