کشمیر اور قومی اتفاق رائے۔۔۔مدثر محمود

کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت اور ظلم کی وجہ سے ہندوستان کا یوم آزادی اس بار نہیں مناؤں گا”۔۔۔

سلمان رشدی جیسے ملعون اور شیطان کی زبان سے نکلے یہ الفاظ اس بات کے غماز ہیں کہ  بھارتی مظالم اور بربریت پر تو شیطان بھی چلا اٹھے,  جبکہ مملکت خداد   اد  کے چند نام نہاد دانشور اور مفاد پرست سیاستدان  بجاے اس نازک موقع پر متحد ہونے کے  پاک فوج اور موجودہ حکومت پر دشنام طرازی اور   کشمیر بیچنے کا راگ الاپ رہے ہیں-  کشمیر کو  پاکستان کی شہ رگ کہنا قانونی جغرافیائی  اوراسلامی نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ معاشی نقطہ نظر کے حوالے سے بھی اہم ہے کیوں کہ پاکستان کی زراعت اور معیشت کا زیادہ تر انحصار کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر ہی  ہے اس بنا پر کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔اس لیے حکومت اور فوج پر کشمیر بیچنے کا سوال قطعی غیر منطقی ہے۔

یہ وقت ہمیں اپنی سیاسی اور فکری وابستگی سے بالا تر ہو کر صرف پاکستان اور کشمیر کے بارے یکسوء  ہوکر سوچنے کا ہے، کشمیر اسلامی اور پاکستانی المیہ ہی نہیں ،انسانی المیہ بھی ہے،کشمیر کو ہمیشہ بھارت نے قدرتی مناظر اور نسوانی حسن کے حوالے سے ہی دیکھا ہے کبھی ان کا بالی ووڈ کشمیر کی کلی جیسی فلمیں بناتا ہے، کبھی لوک سبھا کے ممبرز کشمیر کی خوبصورت لڑکیوں سے صحبت کی بات کرتے ہیں اور کبھی بھارتی فوج آزادی مانگنے والوں پر اندھا کر نے والی پیلٹ گنوں کا استعمال کرتی ہے ۔۔

انسانی قدروں کی یہ بے قدری  انسانی المیہ نہیں تو اور کیا ہے جس پر ایک  رشدی جیسا انسان  چیخ اٹھا ہے، تو  ہم یک آواز اور متحد کیوں نہیں ہو سکتے? کیا رحمان کے بندے شیطان کے بندے سے بھی کم تر ہو گئے ہیں? کیا ہم عمران خان پر فاشسٹ ہونے کی تنقید اور فوج پر سیاست کرنے کی تنقید بعد میں نہیں کر سکتے؟۔۔۔ کیا تبدیلی کے مضمرات پر تبصرے کچھ وقت کے لیے مؤخر نہیں کیے جا سکتے?کیا ایمرجنسی خارجی حالات داخلی طور پر ایک مٹھ ہونے کا تقاضا نہیں کر رہے- کشمیر کے ہندوستان سے متنازعہ الحاق کے بعد یہ تاریخی موقع  ہے، جب بھارت کشمیر پر اخلاقی اور قانونی جواز ہی کھو چکا ہے تو پاک فوج اور حکومت کو متفقہ بیانیہ دیا جائے تا کہ عالمی اور سرحدی محاذ پرکشمیر جیتا جا سکے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کشمیر اور قومی اتفاق رائے۔۔۔مدثر محمود

  1. This writer lacks knowledge of internal situation. When all the opposition is behind the bars then from whom you are demanding solidarity support. Moreover when inflation is sky high then how can people of Pakistan respond to external situation. Thanks

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *