• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ایکسٹینشن بہت ضروری سہی مگر یہ تو غور کریں کہ یہ دی کیوں جاتی ہے۔۔غیور شاہ ترمذی

ایکسٹینشن بہت ضروری سہی مگر یہ تو غور کریں کہ یہ دی کیوں جاتی ہے۔۔غیور شاہ ترمذی

بلآخر توقعات کے عین مطابق وزیر اعظم عمران خاں نے 29 نومبر 2019ء سے 28 نومبر 2022ء تک کی اگلی 3 سالہ مدت کے لئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو بطور 10ویں آرمی چیف عہدہ پر توسیع دے دی ہے- قیام پاکستان سے أج تک پاک آرمی کے 6 کمانڈر انچیف اور 10 آرمی چیف میں سے وہ 7ویں خوش قسمت جرنیل ہیں جنہیں اپنی مقررہ 3 سالہ مدت کے علاوہ ان کی خدمات اور احسن کارکردگی کی وجہ سے مزید ایکسٹینشن دی گئی ہے- ان سے پہلے جنرل ایوب خاں 16 جنوری 1951ء سے 26 اکتوبر 1958ء تک, جنرل موسی خاں 27 اکتوبر 1958ء سے 17 جون 1966ء تک, جنرل یحی خاں 18 جون 1966ء سے 20 دسمبر 1971ء تک, جنرل ضیاء یکم مارچ 1976ء سے اپنی موت 17 اگست 1988ء تک, جنرل پرویز مشرف 6 اکتوبر 1998ء سے 28 نومبر 2007ء تک اور جنرل اشفاق پرویز کیانی 29 نومبر 2007ء سے 29 نومبر 2013ء تک آرمی کے سربراہ رہے- ایکسٹینشن لینے والے ان آرمی سربراہان کی مدت ملازمت کے پہلے 3 سال تو انہوں نے ریگولر مدت ملازمت پوری کی جبکہ باقی ماندہ مدت کے لئے وہ خود کو ایکسٹینشن دیتے رہے- اس فہرست میں البتہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور اب جنرل قمر جاوید باجوہ ہی ایسے 2 سربراہان آرمی ہیں جنہیں جمہوری حکومت نے مدت ملازمت میں توسیع دی- دیگر 5 جرنیل وہ تھے جنہوں نے دور آمریت میں ملک و قوم کے وسیع تر “مفاد” میں خود کو ہی ایکسٹینشن دیتے رہنے کی سعادت حاصل کی- جنرل ایوب خان نے اکتوبر 1958ء میں جمہوری حکومت کو لات مار کر گراتے ہوئے جب خود اقتدار سنبھالا تو انہیں یہ خطرہ محسوس ہوا کہ اگر انہوں نے خود کو مزید ایکسٹینشن دی تو کہیں جونئیر افسران میں بےچینی نہ پھیل جائے- اس لئے انہوں نے خود کو 4 سٹار جنرل سے براہ راست 5 سٹار جنرل یعنی فیلڈ مارشل ترقی دے دی اور اپنی جگہ جنرل موسی خاں کو 27 اکتوبر 1958ء سے 17 جون 1966ء تک آرمی چیف بنائے رکھا- واضح رہے کہ 1973ء کے آئین سے پہلے آرمی چیف کی مدت ملازمت 4 سال ہوا کرتی تھی-

فیلڈ مارشل 5 سٹار جنرل ہوتا ہے جس کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں ہوتی اور وہ تادم مرگ 5 سٹار جنرل ہی رہتا ہے- اس عہدہ پر روایتی طور پر اس 4 سٹار جنرل کو حکومت وقت ترقی دیتی ہے جس نے دشمن ملک سے کوئی جنگ جیتی ہو- مثال کے طور پر انڈین آرمی چیف کوڈینڈرا کپر مڈاپا کیری آپا (Kodandera “Kipper” Madappa Cariappa) وہ پہلے جنرل تھے جنہیں انڈیا کی منتخب جمہوری حکومت نے فیلڈ مارشل کے طور پر ترقی دی کیونکہ انہوں نے کشمیر پر قبضہ کے لئے اپنی حکومت کے اہداف پورے کئے- مجھے بہت شرمندگی ہے مگر سچ یہی تو ہے کہ کشمیر کے بیشتر اور اہم ترین علاقہ پر قبضہ کر کے انڈیا یہ جنگ جیتا تھا جبکہ ہم شکست سے ہمکنار ہوئے- انڈین آرمی چیف کوڈینڈرا کپر مڈاپا کیری آپا (Kodandera “Kipper” Madappa Cariappa) کی اس کارکردگی کی وجہ سے انہیں 5 سٹار جنرل یعنی فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا گیا- جیسا کہ اوپر عرض کیا ہے کہ فیلڈ مارشل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے اس لئے 1965ء کی پاک-انڈیا جنگ میں کوڈینڈرا کپر مڈاپا کیری آپا (Kodandera “Kipper” Madappa Cariappa) کو بطور آرمی چیف دوبارہ طلب کیا گیا اور تب کے اصلی انڈین آرمی چیف نے ان کی ماتحتی میں یہ جنگ لڑی- جب جنرل ایوب خان نے 1958ء میں خود کو 5 سٹار جنرل یعنی فیلڈ مارشل کے طور پر ترقی دی تو ان کے کریڈٹ میں کوئی جنگ نہیں تھی جس میں لڑ کر اور فتح یاب ہو کر انہیں یہ ترقی دی گئی ہو- البتہ 1949ء سے 1958ء تک ہر سویلین جمہوری حکومت کو لات مار کر معزول کرنے کی کارکردگی ضرور ان کے کھاتہ میں ہے-

انڈین آرمی میں ایک دوسرے فیلڈ مارشل بھی تھے- جن کا نام تھا سام ہرموسجی جمشید جی مانک شاہ (Sam Hormusji Framji Jamshedji Manekshaw) جنہوں نے 1971ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوانے کا کارنامہ سرانجام دیا- انہوں نے 8 جون 1969ء سے 15 جنوری 1973ء تک انڈین آرمی کی کمان کی اور 1971ء کی جنگ جیت کر فیلڈ مارشل کا عہدہ حاصل کیا- انڈین آرمی کے موجودہ سربراہ جنرل بپن راوت 31 دسمبر 2016ء سے انڈین آرمی کی 27ویں سربراہ کے طور پر کمانڈ کر رہے ہیں اور انڈین آئین کے مطابق 30 دسمبر 2019ء کو اپنے عہدہ سے ریٹائر ہو جائیں گے- تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تقسیم ہند سے آج تک کسی بھی انڈین آرمی چیف کو ایکسٹینشن نہیں دی گئی چاہے وہ 4 سٹار جنرل آرمی چیف ہوں یا پاکستان سے 2 جنگیں جیتنے والے 2 عدد 5 سٹار فیلڈ مارشل جنرل-

پاکستان میں دور آمریت میں ایکسٹینشن پانے والے 5 آرمی جنرلوں کے پیچھے جو وجوہات ہیں, ان کا جائزہ لینے کی اس لئے ضرورت نہیں ہے کہ وہ صاف واضح ہیں کہ ان کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ اپنے دور اقتدار کو طوالت دی جائے- سنہ 2010ء میں سابق صدر آصف زرداری نے بھی جب جنرل اشفاق پرویز کیانی کو 3 سال کی توسیع دی تھی تو اس وقت مالاکنڈ, سوات اور جنوبی وزیرستا ن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری تھی- تمام دفاعی ماہرین اور تجزیہ نگار یہی کہہ رہے تھے کہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع بہت ضروری تھی- لیکن تب اس موقع پر اپوزیشن راہنما عمران خاں نے ایک ایک انٹرویو کے دوران آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کے امر کی شدید مخالفت کی تھی۔ انہوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم کے دوران بھی کبھی کسی آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع نہیں دی گئی۔ یعنی ادارے اپنے قوانین کے مطابق کام کرتے ہیں۔ جب کسی ادارے کے قوانین کو کسی مخصوص شخص کے لئے توڑا جاتا ہے تو آپ اُس ادارے کو تباہ کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں آپ کو پالیسی بتا رہا ہوں کہ اگر اس ملک کو بچانا ہے تو ہمیں اپنے ادارے مضبوط کرنا ہوں گے۔ جب کسی ایک شخص کے لئے کوئی قانون تبدیل کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ پورے ادارے کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سوال پر کہا کہ “اس طرح ادارے کمزور ہوتے ہیں- جنرل مشرف نے بھی کس طرح اداروں کو کمزور کیا۔ آپ بتائیں کہ ایک وقت ایسا بھی آگیا تھا کہ فوج شہروں میں بھی نہیں گھُستی تھی۔ جنرل کیانی کو اس بات کا مکمل کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے مشرف کے بعد فوج کے امیج کو بہتر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں شوکت خانم کا بانی, چئیرمین سب کچھ ہوں لیکن وہاں کی انتظامیہ نے میری سفارش بھی رد کر دی تھی- ایک پُرانے ملازم کی والدہ کے لئے میں نے سفارش کی تو اسپتال کی انتظامیہ نے مجھ سے کہا کہ ان کی عمر 5 سال زیادہ ہے, اس لئے ہم آپ کی سفارش نہیں مان سکتے- لہٰذا ادارے ایسے کام کرتے ہیں”-

وزیر اعظم عمران خاں کی جانب سے اپنے اس دیرینہ مؤقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے جنرل باجوہ کی مزید 3 سال کے لئے ایکسٹینشن دینے سے ترقی پانے والی فہرست میں پہلے 4 جرنیل مدت ملازمت میں توسیع سے متاثر ہوں گے- سنیارٹی کے مطابق فہرست میں پہلے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار ہیں جو اس وقت سٹریٹجک کمانڈ ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہیں۔ اس سے قبل وہ ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں اور بھارت میں بطور ملٹری اتاشی کی ذمہ داری بھی ادا کر چکے ہیں۔ دوسرے نمبر پر نہایت ہی اہم عہدے پر فائز موجودہ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا ہیں۔ اس سے قبل وہ کمانڈر ٹین کور راولپنڈی بھی رہ چکے ہیں۔ تیسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز کور کمانڈر کراچی اور چوتھے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل نعیم اشرف کور کمانڈر ملتان ہیں۔ آرمی روایات کے مطابق پہلے 4 جرنیلوں میں سے ایک تو چئیرمین جوائنٹ چیف بن جائیں گے جبکہ باقی 3 جنرلز فوج کے کلچر کے مطابق یا تو قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لیں گے یا اپنی مرضی کے مطابق اپنی ٹرم پوری کریں گے۔ جنرل باجوہ کی توسیع سے سب سے پہلے متاثر ہونے والے جنرل کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا جا سکتا ہے لیکن اُس کے اختیارات محدود ہو جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں آرمی چیف ایک بااثر عہدہ ہے اور جو آفیسر آرمی چیف بن سکتا تھا لیکن اُس کو وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا جائے تو اس کے اندر کچھ کھونے کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ موجودہ آرمی چیف اُن کے لیے فائدہ مند ہیں تو ایسا بھی تو ممکن ہے کہ آئندہ آنے والا آرمی چیف مزید باصلاحیت ہو۔ یہ بھی ممکن ہے ایک آرمی چیف نے 3 سال اچھا کام کیا ہو اور جب وہ باعزت ریٹائر ہونا چاہے مگر اُسے توسیع دے دی جائے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ اگلے 3 سال بھی حکومت کے لئے سود مند رہے گا- توسیع سے جو عزت بنی ہوئی ہے ہو سکتا ہے وہ بھی متاثر ہو یا سیاسی چھاپ لگ جائے اس لئے سسٹم کو نہیں چھیڑنا چاہئے- توسیع کا مطلب یہ بھی تو ہوتا ہے کہ آرمی چیف سے نیچے جو لوگ ہیں اُن کو اس قابل نہیں سمجھا جا رہا کہ وہ اس عہدے کی ذمہ داری لے سکیں- اس سے یہ تاثر بھی تو ابھر سکتا ہے کہ فوج کا ادارہ 4/5 جنرلز کی ٹریننگ بھی نہیں کر سکا کہ وہ فوج کے سربراہ بن سکیں۔

ہمارے سسٹم میں بائی ڈیفالٹ یہ تاثر بنا ہوا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم سب سے زیادہ طاقتور اس وقت محسوس کرتا ہے جب وہ نئے آرمی چیف کی تقرری کرتا ہے- یہی ہماری سیاسی تاریخ ہے اور اس کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں دیکھیں تو جنرل راحیل شریف کا ایک اپنا طریقہ کار تھا- اس سے پہلے جنرل کیانی اور جنرل مشرف کا بھی اپنا طریقہ کار تھا۔ جب ایک نیا آرمی چیف آتا ہے تو حکومت کے ساتھ کام کرنے کا اس کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے جو ریٹائر یونے والے پرانے آرمی چیف کی بہ نسبت مختلف ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اکثر نجی محفلوں میں جنرل باجوہ کی بہت تعریفیں کرتے رہتے تھے۔ اس حوالہ سے کہا جاتا تھا کہ شاید وہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کر دیں گے؟۔ مگر ان تعریفوں کے ساتھ ساتھ عمران خان دوستوں سے یہ بھی کہتے رہے کہ جنرل باوجوہ ایکسٹینشن نہیں لیں گے- اسلام آباد میں کچھ اس طرح کی افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مدت ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں مگر وزیراعظم عمران خان مان نہیں رہے تھے۔ اسی لئے فوج کے کچھ لوگ اپوزیشن کو کہہ رہے تھے کہ آپ احتجاج کریں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں- مگر راقم کا یہ کنفرم خیال ہے کہ اگر جنرل قمر باجوہ اگر خود ایکسٹینشن لینے کے خواہش مند تھے تو عمران خاں ایکسٹینشن نہ دینے کے اپنے واضح مؤقف کے باوجود بھی بخوشی و رضا یہ ایکسٹینشن دیتے- اب یہ ایکسٹینشن ہونے سے یہ بحث فضول ہو چکی ہے کہ یہ ایکسٹینشن جنرل باجوہ نے خود لی یا حکومت نے حالات کے پیش نظر انہیں دی- دوسری طرف تحریک انصاف کے مرکزی راہنماؤں نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ آرمی چیف نے خود کیا ہے کیونکہ اس وقت ملک میں احتساب کا عمل چل رہا ہے اور پھر دیگر ملکی معاملات پر بھی فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں- اس لئے یہ طے پا چکا ہے کہ پاکستان کو ترقی کہ طرف لے کر جانے کے لئے عمران خاں اور جنرل باجوہ کی ٹیم مل کر کام کرتی رہے- شاید اسی لئے دفاعی مبصرین کی اکثریت کا یہی کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع درست اور بروقت فیصلہ ہے کیونکہ پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ جنرل باجوہ کی قیادت کی پاک آرمی کو بہت ضرورت تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حالات کے مطابق کیا گیا ہے۔ اللہ کرے یہ فیصلہ قوم اور ملک کے لئے مبارک ہو-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *