چند عوامی مطالبات ۔۔۔محسن علی

مجھے نہیں معلوم ان مطالبات سے   کتنے  پاکستانی ،کس قدر متفق ہوں گے، کس قدر نہیں مگر میرے نزدیک یہ ایک فریم ورک پلان ہے جس میں آئین کے تحت مزید وضاحت اسمبلی کے تحت کی جاسکتی ہے۔
مطالبہ نمبر ا: میرا ماننا تو یہ ہے کہ اب عوام اور حکمران  طبقے  کوایک دوسرے کو معاف کرکےسوشل ڈیموکریسی کا نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے
۲: سب کوقومی دھارے میں لاکر ہتھیار کی سیاست ختم کروادینی چاہیے اور سب کو مل کرپاکستان کا نیا تعلیمی نظام ایک طرز کا نافذ کرنا چاہیے ۔
۳ :  کراچی  ساحل سمندر کے گرد تمام تر گھر قومی تحویل میں لے کر وہاں انٹرنیشنل ریسورٹ بنائے جائیں اور وہاں صاف پانی کا پلانٹ لگوایا جائے ۔
۴: پاکستان کے آئین سے قادیانی ترمیم ختم کی جائے ۔
۵: تمام اسیران سیاسی و جن کے کیسیز چھ ماہ سے نہیں چل رہے انکی نوعیت دیکھ کر ان کو رہا کیا جائے اگر کیس مضبوط نہیں بصورت دیگر  ان کو ان کے گھر والوں سے ملاقات کا موقع فراہم کیا جائے پراسیکیوشن تیز کی جائے ۔
۶: تمام  مذاہب   کو تبلیغ کی اجازت د ی جائے۔
۷:اسلامی جمہوریہ پاکستان سے یونائٹڈ اسٹیٹس آف پاکستان سوشل سیکولر ڈیموکریٹک پاکستان بنایا جائے۔
۸:جبری گمشدگی کرنے والے ادارے کے سربراہ ان لوگوں کا کورٹ مارشل کریں جنہوں نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر یا اپنے تئیں اگر لوگوں کو اٹھایا ہے انکو سامنے لایا جائے کورٹ مارشل کیا جائے

۹ : تمام لیڈران کو پاکستان لاکر اگلے الیکشن کروائے جائیں ایک بار سب کو عام معافی دی جائے۔
۱۰۔ الیکشن کے تین ماہ بعد بلدیاتی الیکشن کروائیں جائیں اور نہ کروانے والی صوبائی کابینہ نااہل  قرار دی جائے دو سال  کے لیے
۱۱:تمام انڈسٹریز کا ٹیکس تیرہ فیصد کم کیا جائے دس سال کے لئے اور سات فیصد ٹیکس کے پیسے سے بجلی بنائیں۔
“ب” تمام تر ٹیکس سے بقیہ چھ فیصد ٹیکس جو بچے گا انڈسٹریز ہر فیلڈ کے سترہ لوگو ں کو  پی ایچ ڈی کی ڈگری    دوسرے ملک  سے کروائیں ۔
۱۲ الف: دوکانوں  و ریڑھی والوں کے ٹیکس سے غریب بستیوں کے اسکول چلائے  جائیں
“ب” دوکانوں کے شیلٹر ٹیکس سے دوکانوں کی چور و ڈکیتوں سے حفاظت کی جائے
۱۳: ٹریفک سگنل توڑنے پر دو ماہ لائسنس معطل اور  گاڑی ضبط کی جائے،عام و خاص سب کو  پانچ ہزار جرمانہ کیا جائے۔
۱۴ : کسی بھی سرکاری افسر پر دباؤ کے جرم میں بیس لاکھ جُرمانہ اور گیارہ ماہ جیل کی سزا دی جائے۔
۱۶:فوج کو بتدریج بیرکس بھیجا جائے اور پولیس کو بتدریج بہتر بنایاجائے ملک بھر کے کونے کونے میں پولیس ہو ایف سی نہیں
“ب” ملک بھر کے تمام شہروں ، قصبوں ، گاؤں دیہات میں بلدیاتی نظام جلد از جلد رائج کیا جائے
۱۷:ریاستی ادارے معاہدہ کریں کہ کسی نے ایک دوسرے کے کام میں دخل اندازی کی تو میڈیا ٹرائل و سخت سزا دے کر ، ملک بدر کردیا جائے گا ۔
۱۸: تمام شہروں میں پانچ ہزار گز پر ہوا سے اور سولر سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے جائیں
۱۹:پانچوں صوبوں کے بڑے شہروں کے درمیان انڈر گراونڈ ٹرین چلائی جائے یا ٹنل بنایا جائے
۲۰: تاریخی اہمیت کےحامل شہروں میں گھریلو صنعتوں کو وسعت دی جائے
۲۱:کراچی میں سو فلائی اوورز والا ادھورا کام پورا کیا جائے اور شہر کے اندر ٹرین سسٹم بحال کیا جائے
۲۲:بلوچستان میں سب سے بڑا سائنسی ریسرچ سینٹر قائم کیا جائے عالمی معیار کا
۲۳: کے پی کے میں سب سے بڑا لائبریری پارک بنایا جائے اور خیبر دروازے کے ساتھ بڑی کتاب نصب کی جائے
۲۴: بلوچستان کے طرز کا ذ ریعہ آبپاشی پورے ملک میں نافذ کیا جائے پانی کی بچت کے لئے
۲۵: پاکستان کی آبادی جہاں تین لاکھ سے زائد ہے وہاں یونیورسٹیاں قائم کی جائیں
۲۶: تمام شہریوں سے نوے دن میں اسلحہ لیا جائے پولیس کو اسلحہ دیا جائے سکیورٹی گارڈ سسٹم ختم کیاجائے
۲۷:تمام صوبوں میں نئے شہر بنائیں جائیں اور بالکل نئے شہر بسا کر فقیر،محنت کش و مزدوروں کو دئیے جائیں
۲۸: تمام صوبوں میں بڑے لائبریری پارک بنائیں جائیں سولر سے چلنے والے جو چوبیس گھنٹے کھُلے ہوں جہاں غریب لوگ تعلیم اور طریقے سے بہتر شہری بن سکیں۔
۲۹: پولیس تھانوں میں ہی علاقے کے لوگ نادرہ کارڈ ، ڈرائیونگ لائسنس ونگ ، پاسپورٹ اور این جی اوز رجسٹرڈ وغیرہ ہوں۔
۳۰: کوٹہ سسٹم جو مہاجر و سندھ کے درمیان تعصب کی بنیاد ہے فی الفور ختم کیا جائے کراچی کو جلد از جلد صوبہ بنایا جائے ۔
۳۱: جن کے کیس کو پانچ سال ہوچکے کیس نہیں چل رہے انہیں رہا کرکے گھر بھیجا جائے عدالتی کاروائی میں ہی پیش کیا جائے۔
۲۳: سندھی ، بلوچی ، مہاجر، پٹھان کسی بھی قوم کے گمشدگان کے نام تفصیل دی جائے اور گھر والوں سے ملوایا جائے فی الفور
۳۳:سوئیس اکاونٹ والے سارے لاڈلوں کو پاکستان لاکر تفتیش کی جائےبصورت دیگر انکے غیرملکی اثاثے منجمند کروادئیے جائیں پابند کیا جائے وہ پاکستان پیسہ لاکر بزنس کریں یہاں نوکریاں پیدا کریں ورنہ اثاثے  قومی تحویل میں لے لئے جائیں اور کسانوں میں زمین  بانٹ دی جائے  ۔
۳۴: کتابیں لکھنے والوں کو پچھتر یا پچاس سال تک رائیلٹی دی جائے تمام تر پبلشرز رجسٹرڈ ہوں ۔
۳۵: تمام تر ادارے اپنی فیڈ میں ہر سال کم سے کم سترہ پی ایچ ڈیز مُلک کو دیں
۳۶: تمام تر الیکٹرک کیبلز انڈرگراونڈ کی جائیں اورعوامی جگہوں سے موبائل سگنلز و سم سگنلز نکالے  جائیں.

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *