انسانیت انسانوں کی دوست ہے؟۔۔۔۔ہما

سن عیسوی کے مطابق سال کے تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں، ہر دن دنیا کے کسی نا کسی مسئلے سے جڑا ہوا ہے، لیکن دنیا کے مسائل اتنے ہیں کہ ایک دن منالینے کے بعد اگلے سال ہی اس مسئلے کو دوبارہ سوچنے، اس پر قراردادیں پاس کرنے کا دن آتا ہے۔

انسانوں کی دنیا میں ایک دن انسانیت پسندوں کیلئے بھی مختص ہے۔جی آج دنیا بھر میں انسانیت پسندوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔۔۔۔کیاانسانیت انسانی فطرت کا حصہ ہے ؟یاانسانیت انسانوں کیلئے محض ایک چوائس ہے کہ ؟جو چاہے اختیار کرے اور جو چاہے انسان ہوتے ہوئے اپنی فطرت کے خلاف چلے۔

دنیا کے حالات یوں تو بہت ابتر ہیں اور انسانیت مفادات میں دب کر کہیں کھو گئی ہے، لیکن شاید دنیا میں انسانیت پسندوں کا کوئی عالمی دن مناکر انسانوں میں انسانیت پیدا کردی جاتی ہو، سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت کی معراج پاکستان میں بھی تسلیم کی جاتی ہے؟

پاکستان میں  انسانی حقوق سے متعلق ماضی میں کیا ہوتا رہا، مستقبل میں کیا ہوگا ،اس سب کو چھوڑ کر پاکستان کی اعلی وزارتِ انسانی حقوق پر نظر دوڑائیں جہاں شیریں مزاری صاحبہ براجمان ہیں۔۔۔

موجودہ انسانی حقوق کی وزیر کو انسانیت پسندوں میں کس قدر دلچسپی ہے، اس  کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انسانی حقوق کے ادارے کا فوکل پرسن ایک ایسے بااثر شخص میر افتخار   کو بنایا گیا جو اپنے ملازم پر بدترین تشدد کے بعد نازک جگہوں پر سریہ گھسا چکا ہے۔

اس درندگی پسند انسان کی میڈیا پر تصاویر وائرل ہوتی رہیں، زخمی غریب ڈرائیور اور میرافتخار   دونوں کے اختیار اور بے اختیاری کا نوحہ، غم و غصہ اور تشویش عیاں ہوتی رہی جبکہ  اس شخص سے اس جرم کا حساب اس طرح لیاگیا کہ ہیومن رائٹس منسٹری میں اہم عہدہ دیکر تمام الزامات دھو دئیے گئے۔

کیونکہ بھائی جان یہ ہے پاکستان۔۔۔۔۔

یہاں انسانیت پسند اسے قرار دیا جاتا ہے جس کے پاس طاقت ہو، جس کے پاس دولت ہے ،یہاں انصاف بکتا ہے۔

یہاں رمشا جیسی بچیاں بااثر افراد کی ہوس کی بھینٹ چڑھ کر قتل کر دی جائیں تب بھی قانون حرکت میں آتا ہے نہ ہی کوئی کسی کا بال بیکا کرسکتا ہے،یہاں ساہیوال میں ننھے بچوں کے سامنے والدین بے دردی سے قانون کے نام پر بھونے جاتے ہیں ،قانون کے محافظ ہی قانون شکنی کرتے ہیں۔۔یعنی،

پتھر سارے زنداں کی دیوار میں چُن کر حاکم نے
پاگل کتے چھوڑ رکھے ہیں ہم سب کی رکھوالی کو

میں اسوقت بہت جلد بازی میں لکھ رہی ہوں جو واقعہ آپکو یاد آئے اسے اس ورلڈ ہیومنٹیرین ڈے پر یاد کرتے جائیں۔
کراچی میں بارش میں کرنٹ سے مرنے والوں پر تو انسانیت پسندی لاگو نہیں ہوتی ناں؟
وہ تو کے ای ایس سی کا معاملہ ہے اور کے ای ایس سی کے بقول جو لوگ  اپنی بداحتیاطی سے مرے۔
اب کے ای ایس سی نے تو انہیں نہیں کہا تھا کہ بارش میں گھر سے روزگار کمانے نکلیں۔
انٹرنیشنل ہیومنٹیرین ڈے پر ہم اموات کے رونے سے نکلیں تو کسی اور انسانی معاملے پر سوچیں کہ ہمیں اور کن کن معاملات میں انسانیت پسندی درکار ہے۔
یاد آیا ۔۔ابھی دو دن پہلے ایک پندرہ سالہ بچہ دو سو روپے چوری کرنے کے عوض خدائی فوجداروں کے ذریعے خصوصی ریمانڈ پر برہنہ کرکے انویسٹیگیٹ کیا گیا۔
معصوم بچہ دو سو روپے کی ایک غیر معمولی رقم کے عوض زندگی ہار گیا۔
اپنا وقت مانگتے مانگتے اپنا وقت پورا کرگیا!


فی الوقت ہمارے وزیراعظم ،ہیومن رائٹس کی وزیر، ان کے مشیر اور شاید ارکان حکومت تک یہ خبر پہنچنے میں وقت لگے کیونکہ وہ کشمیر پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے میں مصروف ہیں۔
اپوزیشن اس مسئلے تلے کچھ دیر سکون کا سانس لے رہی ہے۔اور آج دنیا بھر میں انسانیت پسندوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے!

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *