منافقت زندہ باد۔۔۔محمد افضل حیدر

موجودہ زمانے میں منافقت ایک ہمہ گیر اور عالمگیر انسانی طرز ِعمل بن چکا ہے۔ کیا چھوٹا کیا بڑا، کیا گورا کیا کالا ،ہر کوئی اس کی سحر انگیزی سے متاثر نظر آتا ہے۔ اس کی اثر پذیری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ لوگ اب ہر چیز پر سمجھوتا کر لیتے ہیں مگر منافقت پر نہیں ,اس کے بغیر گھٹن اور کم مائیگی کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ موجودہ دور کی بہترین پالیسی اور کامیاب ڈپلومیسی بن چکی ہے۔ ہر بڑا اور چھوٹا ملک اور ہر کامیاب عالمی لیڈر اپنی عوام اور دیگر ممالک کے ساتھ کامیاب سفارت کاری اور سیاسی کار گزاری کے نام پر منافقت کرتے نظر آتے ہیں۔مصلحت ہو یا ثالثی ,مظلوم کی فریاد ہو یا مدد کی پکار، اس پر کب اور کس طرح منہ پھیرنا ہے یہ انہیں منافقت ہی سکھاتی ہے۔
منافقت ایک زبردست سفارت کاری ہے جس کے ذریعے پوری دنیا میں کڑوی اور میٹھی گولیاں بانٹی جا رہی ہیں۔ ضمیر نام کا ایک خودکار انسانی سسٹم جو اس کامیاب طرز عمل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اس کی اب کوئی نہیں سنتا۔۔ منافقت ایک قابل قبول وائرس بن کر تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے ,گلی کوچہ,گھر محلہ,گاؤں, شہر غرض اس چمتکاری رویے نے اپنا تسلط دیگر ممالک تک بھی قائم کر لیا ہے۔ اب کئی دہائیوں سے خود کو مہذب کہلوانے والے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آکر مزید ترقی کر رہے ہیں۔
اب اس ریس میں کوئی ورلڈ چیمپئن بنا ہے تو وہ ہمارا معاشرہ ہے۔ وہ کونسی ایسی کامیابیاں اور کامرانیاں ہیں جو ہم نے اس میدان کارزار میں حاصل نہیں کیں۔۔ ہم بجا طور پر اس میدان عمل کے سکندر ہیں۔ہماری کامیابیوں کا سلسلہ کہیں تھم نہیں رہا اور ہم مسلسل عالمی ریکارڈ پہ ریکارڈ بناتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ یہ مقابلے انفرادی سطح پر بھی جاری ہیں اور اجتماعی طور پر بھی, ہر خاص و عام اس ریس میں اپنے مقابل سے آگے نکلنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔
ہمارے معاشرے میں موجود منافقین بے تحاشا ترقی کر رہے ہیں۔ ان کی غیر فطری ترقی دیگر پیش روؤں کے لئے مشعل راہ ہے۔ وہ لوگ اس قابل تقلید مثال پر عمل کرکے خود کو اس غیر روایتی ترقی کا حقدار بنا رہے ہیں۔ ہمارے اس پاکستانی معاشرے میں موجود منافقین کی جو تین بڑی قسمیں ہیں وہ درج زیل ہیں۔
1:مستقل مزاج منافق
2:غیر مستقل مزاج منافق
3:حادثاتی یا جزوقتی منافق
1:مستقل مزاج منافق:
یہ منافقین کی سب سے بڑی اور فعال قسم ہے۔ اس قسم کے منافق ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ منافقت ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے۔ یہ اٹھتے بیٹھتے,چلتے پھرتے,جاگتے سوتے منافقت سے کام لیتے ہیں۔ گویا منافقت ہی ان کی زندگی کا واحد سہارا ہوتی ہے۔ یہ لوگ پیدائشی منافق ہوتے ہیں۔پیدا ہوتے ہی ان کے بڑے ان کے منہ میں منافقت کی ہی گُڑتی ڈالتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت بھی منافقت کے قدیم و جدید اصولوں کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔شعور کے پختہ ہونے تک ایک اچھا خاصا منافق پک کر تیار ہو جاتا ہے۔ یہ بنیادی طود پر فطری منافق ہوتے ہیں, یہ جھوٹ نہ بولیں, وعدہ خلافی نہ کریں, کسی سے دغا بازی نہ کریں,کسی کی خوشامد نہ کریں تو ان کی دکان نہیں چلتی۔۔ یہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔اپنے ذاتی فائدے کے لئے ملک و قوم کا نقصان کرنے میں بھی یہ کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔نت نئے اثاثے بنانا اور اپنی ناجائز کمائی کا تحفظ کرنا ان کی زندگی کا بنیادی مقصد بن جاتا ہے۔ ان کا سارا کاروبار,ان کی تمام تر نوکری محض منافقت کے سہارے ہی چل رہی ہوتی ہے۔ اپنے اس کام میں خیر و برکت کے لئے یہ کبھی کبھی فلاحی کاموں کا سلسلہ بھی شروع کرتے ہیں تاکہ لوگوں کی آنکھوں میں مزید دھول جھونکی جا سکے ۔لوگوں کی غمی خوشی میں بھی شرکت کرلیتے ہیں اور وہاں درپیش صورت حال کے مطابق خود کو غمگین اور خوش حال بنا لیتے ہیں، رونا پڑ جائے تو مگر مچھ کے آنسو بہا لیتے ہیں اور اگر ہنسنا پڑ جائے تو دل کھول کر مصنوعی قہقہے بھی لگا لیتے ہیں ۔یہ زبردست ایکٹر اور آسکر ونر پر فارمر ہوتے ہیں۔ لوگوں سے نت نئے وعدے کرتے ہیں مگر پورا کوئی بھی نہیں کرتے۔
منافقین کی یہ لاٹ ہمارے ملک کے سیاستدانوں اور زیادہ تر امیر اشرافیہ پر مشتمل ہے جو خود کو اس ملک کا اصل وارث سمجھتے ہیں مگر اپنی دولت ملک سے باہر ٹھکانے لگانے میں ہی مصلحت جانتے ہیں۔ یہ اپنے مخالفین کو بُرا اور کرپٹ کہتے نہیں تھکتے اور ہر وقت اصول اور انصاف کا راگ الاپتے ہیں مگر بات جب خود پر آتی ہے تو پتلی گلی سے نکل لیتے ہیں۔منافقین کی یہ قسم انتہائی کامیاب اور با اثر ہے۔۔
2:غیر مستقل مزاج منافق :
یہ والے منافق منافقت کو پارٹ ٹائم مشغلے کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ یہ فطری منافق نہیں بلکہ سچویشنل منافق ہوتے ہیں۔ انہیں جب بھی ضرورت پڑتی ہے یہ اپنے پارسائی کے پلو کو ذرا سرکا کر باہر تانکا جھانکی کر لیتے ہیں۔ منافقین کی یہ قسم کم خطرناک ہوتی ہے۔ یہ لوگوں کو کم نقصان پہنچانے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے منافق زیادہ تر خوشامد کو اپنا ہتھیار سمجھتے ہیں۔جھوٹی تعریف و تحسین سے یہ ہر صاحب اقتدار کے اردگرد منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ یہ کسی بھی کامیابی کے لیے اپنی قابلیت اور محنت سے زیادہ شارٹ کٹ لگانے کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ شارٹ کٹ انہیں دوسروں کی برائی اپنی اچھائی اور طاقتور کی خوشنودی میں مضمر ملتا ہے۔ ایسے منافق کسی سیکرٹ ایجنٹ کی طرح چھپ کر کام کرتے ہیں، کبھی کھل کر سامنے نہیں آتے۔اور اگر بد قسمتی کے ساتھ کبھی پکڑے جائیں تو اپنے بے داغ ماضی اور نام نہاد پارسائی کا حوالہ دے کر بچ نکلتے ہیں۔ منافقین کی یہ قسم زیادہ تر پرائیویٹ اداروں اور نیم مذہبی تنظیموں میں موجود ملتی ہے۔ یہ لوگ اپنے پیش روؤں کو مکر و فریب سے اٹے اپنے پاؤں تلے روند کر آگے بڑھنے کی تگ و دو میں ہمہ تن مصروف نظر آتے ہیں ,بات بن گئی تو ٹھیک نہیں تو وہی نیک نامی اور پارسائی کا پکا راگ۔۔
” اے منافقت تیرا ہی آسرا “کا نعرہ ان کا رہنما اصول ہوتا ہے۔ ایسے منافق زیادہ تر حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر یا پھر کسی احساس کمتری کی وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ورنہ یہ کوئی اتنے بُرے بھی نہیں ہوتے۔۔
حادثاتی یا جزوقتی منافق :
منافقین کی یہ قسم ہمارے معاشرے میں تیزی کے ساتھ فروغ پا رہی ہے۔ منافقوں کی یہ غیر روایتی سی قسم ہے۔ کیونکہ اس طرح کے منافق شوق سے منافق نہیں بنتے بلکہ انہیں مجبوراً بننا پڑتا ہے۔ حالات یا کوئی حادثہ ان کو ایسا بنا دیتا ہے۔ ایسے لوگ درپیش صورت حال کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں اور زیادہ تر جھوٹ بول کر اپنی جان چھڑاتے ہیں۔ یہ معصوم اور بیچارے قسم کے منافق ہوتے ہیں جوکہ فطرت نہیں بلکہ حالات سے تنگ آکر منافقت کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسے معصوم منافق زیادہ تر شادی کے بعد پروان چڑھتے اور فروغ پاتے ہیں یہ زیادہ تر بیویوں کی ہولناک تابکاری سے بچنے کے لئے ان کی جھوٹی تعریف کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں یہ بیچارے اپنی واجبی سی شکل و صورت والی بیوی زرینہ کو کترینہ بنانے پر تلے رہتے ہیں۔ گھر وقت پر آنے سے کتراتے ہیں اس لئے بیوی کو کام کی زیادتی کا بتا کر بہت بڑی زیادتی کرتے ہیں۔موبائل فون میں اپنی کسی سہیلی کا نمبر کبھی اس کے اصل نام کے ساتھ محفوظ نہیں کرتے بلکہ لسٹ میں اس کا نام عموماً نذیر کریانے والا یا شوکت دودھ والے کے نام سے سیو ہوتا ہے۔۔یہ کبھی پکڑیں جائیں تو زیادہ ردعمل دینے کے بجائے سیدھا پاؤں پکڑ لیتے ہیں۔ ایسے ہومیو پیتھک قسم کے منافق زن مریدی کو نجات کا ذریعہ اور اپنا دین و ایمان سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ مالی لحاظ سے قدرے کمزور ہوتے ہیں اس لئے عام طور پر ادھار مانگتے نظر آتے ہیں۔
مختصر یہ کہ منافقت اب منافقت نہیں رہی بلکہ مجبوری اور فیشن بن چکی ہے۔ اب کہیں پر کوئی جھوٹ بولتا ,ملاوٹ,وعدہ خلافی اور اقربا پروری کرتا ہوا نہ دکھائی دے تو حیرت ہوتی ہے کہ ان کا دماغ تو ٹھیک ہے۔ہمارے اس معاشرے میں ڈیم, عید کے چاند,نظریات و عقائد,سیاست و مذہب,رنگ و نسل,نیا یا پھر پرانا پاکستان ہر جگہ نا اتفاقی ہے مگر منافقت ایک ایسا قومی اور قابل قبول طرز عمل ہے جس پر سب متفق اور رضا مند ہیں۔ اس لئے سندھی ,پنجابی ,پٹھان, بلوچی اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ کوئی لگائے یا نہ لگائے” منافقت زندہ باد “کا نعرہ ہر خاص و عام لگا رہا ہے۔

محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں.عرصہ دراز سے کالم , اور افسانہ نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں..معاشرے کی نا ہمواریوں اور ریشہ دوانیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں.. جب گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو پھر لکھتے ہیں..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *