کیا ہمیں کچھ جاننے کا حق ہے؟۔۔۔رضوان یوسف

سن 65 کی جنگ کے فوراً  بعد جب تاشقند میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور انڈیا کے پردھان منتری لال بہادر شاستری کی ملاقات کروائی گئی اور ایک طرح کا صلح نامہ تاشقند معاہدہ تحریر کیا گیا ۔ اس کے ٹھیک اگلے دن لال بہادر شاستری کی تاشقند میں موت ہوئی تو آج تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ انہیں واقعی دل کا دورہ پڑا تھا کہ زہر دے کر مارا گیا تھا ۔ اب تک سات ہزار کے قریب تحقیقاتی رپورٹ شائع ہو چکی ہیں ان کی موت پر ۔ اکثر رپورٹس میں انہیں زہر دینے کا شک روس کی کےجے بی پر ڈالا گیا ۔ کچھ میں سی آئی آے کو موردِ  الزام ٹھہرایا گیا ۔ کچھ رپورٹس میں انڈین بیوروکریسی اور سیاسی پارٹیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔

اب آتے ہیں پاکستان میں ہوئے 17 اگست کے واقعے پر ،جس میں پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاءالحق کا طیارہ ایک دھماکے سے پھٹ گیا ۔ حیرت کی بات ہے کہ  ہمیں چند تحریروں کے علاوہ آج تک کوئی بھی تحقیقاتی رپورٹ  نظر نہیں آئی۔ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی عوام سے یہ سب کچھ چپھائے رکھنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے ۔ ہم آج تک اس سے لاعلم ہیں کہ یہ کسی دوست کی مہربانی تھی یا کسی دشمن نے موقع  سے فائدہ اٹھایا تھا ۔ یا یہ ہمارے ملک کی کوئی اندرونی کہانی تھی ۔

آخر اتنے سارے جنرلز کو ایک ساتھ راستے سے ہٹانے کا کیا مقصد تھا ۔ بحث یہ نہیں کہ جنرل صاحب کو ئی نیک آدمی تھے یا برے آدمی تھے، حقیقت یہ ہے کہ  وہ صدرپاکستان تھے ۔ کیا ان کا مارے جانا پاکستان کا نقصان تھا یا کسی خاص فائدے کے لئے یہ قربانی دینی پڑی ۔

یہ راز جو کچھ لوگوں کے دلوں میں دفن ہے کیا کسی روز اس سے پردہ اٹھ سکے گا ؟

شاید کچھ لوگ تو اس راز کے ساتھ ہی دفن بھی ہو چکے ہیں لیکن جو ابھی زندہ ہیں کیا ان کا ضمیر انہیں ملامت نہیں کرتا کہ حقیقت سے پاکستانیوں کو آگاہ کریں ؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *