اپنا ٹائم آئے گا۔۔۔سلمان نسیم شاد

بہادر آباد  کراچی کے علاقے بہادر آباد میں چند روز قبل  چوری کے الزام میں مہذب شہریوں نے بہیمانہ تشدد کرتے ہوئے پندرہ سالہ ريحان کو موت کی نیند سلادیا۔ملزمان دانیال یوسف اور فیروز خان دوران تشدد ہاتھ میں پستول لہراتے ہوئےویڈیو بناتے رہے اور مبینہ ڈکیت 15 سالہ ریحان پر لاتیں، پتھر اور ڈنڈےبرساتے رہے۔ہلاک ہونے والے کم سن ریحان کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے تھا۔ مقتول ریحان نے جو ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اس پر تحریر تھا “اپنا ٹائم  آئے گا”

اب سوال یہ آتا    ہے اگر یہ بچہ ڈکیٹ تھا بھی تو ایک کم سن نہتے بچے کی جان لینا کون سی بہادری ہے۔ یہاں اس ملک میں 73 سال سے مختلف ادوار میں ہمارے سیاست دان، آمر و جمہوری حکمران ملک کی غریب عوام کو بری طرح لوٹ رہے ہیں۔ ان پر شب خون مار رہے ہیں۔ جن کی وجہ سے آ ج تک  ملک و قوم بدترین معاشی مسائل کا شکار ہے۔

اس بچے پر تشدد کرکے اس کو ہلاک کرنے والے ان جیسے لوگ ہی ان چور ڈاکو لٹیرے سیاست دانوں اور حکمرانوں کو اپنے سروں پر بٹھاتے ہیں۔ ان کی بدکاری، ان کی سیاہ کاری ان کی آمریت پر ان کی وکالت کرتے نہیں تھکتے۔

ان چور ڈاکوں کے حق میں نعرے لگاتے ہیں۔ ان کو الیکشن میں ووٹ ڈال کر ہم پر مسلط کرواتے ہیں۔ اور 15 سال کے ایک کم سن  بچے کو تشدد کرکے ہلاک کردیتے ہیں اور اپنے جرم پر شرمندہ ہونے کے بجائے جواز پیش کرتے ہیں کہ یہ بچہ نہیں چور تھا۔

دنیا کا کون سا قانون ،کون سا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے ،کسی نہتے کم سن بچے کو باندھ کر اس پر اس طرح کا بیہمانہ تشدد کرکے اس کی جان لے لی جائے۔

انسانیت کی تذلیل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اب تو ایسا لگتا ہے یہ عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ہر طاقتور اپنے سے کمزور پر حکمرانی کرتا ہے۔ اس کو بھیڑ بکری سمجھتا ہے۔ اور ہر طاقتور اپنی چوہدراہٹ غریب اور اپنے سے کمزور پر ہی چلاتا     آیا ہے۔

ہماری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ اس بار اس واقعہ کا فوری نوٹس لیا جائے۔ اور ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے۔ تاکہ آئندہ کوئی شہری قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرسکے۔ یہ نہ ہو کہ اس بار بھی طاقتور مقتول کے کمزور و غریب لواحقین پر دباؤ ڈال کر یا پیسوں کی چمک سے ان کا منہ نہ بند کردیں۔

سلمان نسیم شاد
سلمان نسیم شاد
سلمان نسیم شاد کراچی فری لانس جرنلٹس رائٹر و بلاگر بائیں بازو کی سوچ اور ترقی پسند خیالات رکھنے والی شخصیت ہیں ایک علمی و ادبی گھرانے سے وابستگی رکھتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *