• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • عالمی سیاست کے بدلتے افق اور ہمارا قومی رویہ۔۔۔اسلم اعوان

عالمی سیاست کے بدلتے افق اور ہمارا قومی رویہ۔۔۔اسلم اعوان

انڈین پارلیمنٹ کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا تحفظ کرنے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور35A کو ختم کر کے لداخ کو یونین کے تابع اور وادی کی خود مختیار پوزیشن ختم کرنے کا معاملہ اس خطہ میں سیاست کی بدلتی حرکیات کا پتہ دیتا ہے،یہ پیش دستی فقط انتہا پسند ہندو قیادت کی سوچ کا شاخسانہ نہیں بلکہ اسکے پیچھے ان عالمی طاقتوں کے وسیع تر مفادات کی خفیہ سکیم کارفرما ہو گی جو جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو بدلنا چاہتی ہیں۔تاہم مودی نے صرف کشمیر کا آئینی اسٹیٹس ہی نہیں بدلا بلکہ بھارتی ریاست کی پوری نظریاتی اساس تبدیل کر ڈالی،یہی تغیر اب جنوبی ایشیا کے معاشی و سیاسی مرکز، ہندوستان،کے مستقبل کا تعین بھی کرے گا۔

بھارتی رویے  میں یہ تبدیلی چونکہ جنوبی ایشیا میں برپا عالمی طاقتوں کی پیکار سے جڑی ہوئی ہے،اس لئے اسے عالمی تناظر سے جداکر کے سمجھنا مشکل ہو گا۔بھارت کی طرف سے کشمیر جیسے بین الاقوامی طور پہ مسالمہ تنازعہ کو بلڈوز کرنے کی جسارت دراصل امریکہ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں بڑی شفٹ کی تمہید نظر آتی ہے،اس سے نہ صرف پاک و ہندکے سیاسی تمدن میں گہری تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوگی بلکہ انہی عوامل کے تال میل سے خطے  کے دیگر ممالک کے مفادات بھی متاثرہوں گے ۔

فی الحال کشمیریوں کے مستقبل بارے کوئی پیشگوئی کرنا تو ممکن نہیں لیکن یہ تو صاف نظر آ رہا ہے کہ اب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والی بھارتی ریاست بتدریج استبدادی نظام کی طرف بڑھتی جائے گی اورآمریتوں کےلئے جنت کی حیثیت رکھنے والاپاکستان،جمہوری ریاست بن کے ابھرے گا۔اگر ہم موجودہ حالات کو تقسیم ہند کے تاریخی تناظر میں رکھ کے دیکھیں تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ پاکستانی معاشرے  پہ مذہبی انتہا پسندی کے غلبہ کے ردعمل میں ہندوستان بھی سیکولرجمہوریت کو ترک کرکے مذہبی انتہا پسندی کی راہ اپنانے پہ مجبور ہوا ،لیکن اس تبدیلی کی وجوہ محض مذہبی جدلیات تک محدود نہیں ہیں ،بلکہ حالات کی یہ غیر معمولی کروٹیں عالمی سیاست کے تقاضوں سے منسلک ہیں۔

یہ بات ریکارڈ پہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے وقت کانگریس کے لیڈرجواہرلعل نہرو نے برطانوی گورنمنٹ پہ واضح کردیا تھاکہ انڈین آرمی برطانیہ سمیت مغربی طاقتوں کے مفادات کےلئے استعمال نہیں ہو گی،شاید نہرو کے اسی موقف نے برٹش اسٹبلشمنٹ کو ہندوستان کی تقسیم کی راہ دکھائی ،تاکہ برصغیر کے شمال مغربی حصوں پہ مشتمل ان صوبوں،جہاں کی مارشل نسلیں ڈیڑھ سو سال تک انگریزوں کےلئے فوجی خدمات سرانجام دیتی رہیں،کو الگ ریاست کا درجہ دیاجائے تاکہ ہندوستان چھوڑنے کے باوجود مستقبل کی جنگوں کےلئے انگریز کو یہاں سے افرادی قوت ملتی رہے۔

ایسا لگتا ہے،انگریزوں نے اپنی وفادار اشرافیہ کو آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل کرانے اور الگ مملکت کے مطالبات کو پذیرائی،اسی مقصد کے تحت دی تاکہ یہاں سے کوآرڈینیٹنگ آرمی کی صورت میں اسے ایک حربی قوت میسر رہے،اسی لئے ہماری ستّر سالہ سیاسی تاریخ میں عسکری بالادستی کا عکس نمایاں دکھائی دیتا ہے۔جب تک ہندوستان میں انڈین نیشنل کانگریس حکمران  تھی اس وقت تک بھارتی سیاست پہ نہرو ڈاکٹرین کو بالادستی حاصل رہی اورغیرجانبدارممالک سے وابستگی کے باوجود بھارت کے ساتھ دائیں اور بائیں بازو کی مغربی طاقتوں کا رویہ ہمدردانہ رہا،دنیا نے حقیقی اولاد کی مانند انگلی پکڑ کے انڈین جمہوریت کی چلنا سیکھایا۔اس کے برعکس امریکہ سمیت مغربی اشرافیہ نے روزاول ہی سے پاکستان میںجمہوریت کی حوصلہ شکنی کرکے فوجی آمریتوں کو توانائی بخشی جس کے نتیجہ میں یہاں ایک زبردست فوجی قوت ارتقاءپذیر رہی،جو اِس وقت نہ صرف خطہ کی سیاست کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے عالمی معاملات میں بھی اس کا کردار موثرہے۔

امرواقعہ بھی یہی ہے کہ عالمی طاقتوں کے جنگی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر طویل مدت تک تازہ خون اور گراؤنڈ فورسیز کی فراہمی کےلئے یہاں نچلی سطح تک عسکریت پھلتی پھولتی رہی۔لیکن 1979 میں افغان جنگ کے دوران جنرل ضیاءالحق نے غیر اعلانیہ انداز میں ایٹمی قوت حاصل کرنے کے علاوہ مغربی مفادات کےلئے کام کرنے والی کوآرڈینیٹنگ  آرمی کے تصور کو بدل کے دفاعی اداروں سمیت عسکری تنظیموں کو مخصوص نظریاتی اساس فراہم کر کے یہاں ایک مسلم نظریاتی آرمی کھڑی کرنے میں کامیابی پائی،جنرل کی یہی جسارت پاک امریکہ تعلقات میں پہلی دراڑ بنی اور شاید یہی گستاخی ضیا الحق کو راستے سے ہٹانے کا سبب بھی بنی ہو۔

بہرحال،جنیوا معاہدے کے ذریعے افغانستان کو خانہ جنگی کی آگ میں دھکیلنے،طالبائزیشن اورنائن الیون کی آڑ میں 2001 میں افغانستان پہ امریکی جارحیت اسی بنیادی پالیسی سے انحراف کا ردعمل تھی۔نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیکر ہمیں نامطلوب جنگ میں گھسیٹنے کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما تھی کہ پاکستان کو سیٹو سنٹومعاہدات کی پرانی ڈگر پہ واپس لایا جائے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہماری مقتدرہ میں قومی سلامتی سے متعلق اہم فیصلے خود کرنے کی صلاحیت بڑھتی گئی اور وہ امریکہ کی پرواہ کیے  بغیر چین،روس اور مڈل ایسٹ کے ساتھ آزادانہ تعلقات کی استواری کے ذریعے دفاعی و معاشی خودمختیاری حاصل کرنے کےلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگی۔

دریں اثناءامریکہ مقتدرہ بھی پاکستان سے مایوسی کے بعد اسرائیل کی وساطت سے بھارتی سیاست میں ابھرتی ہوئی بھارتیہ جنتا پارٹی کی صورت میں ایک ایسی سیاسی قوت سے ہم آہنگ ہونے میں کامیاب ہو گئی جو عالمی سیاست میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے رسوخ اور فوجی طاقت سے خوفزدہ تھی۔چنانچہ ان حالات میں مودی انتظامیہ نہرو ڈاکٹرین کو پس پشت ڈال کے بخوشی انڈین آرمی کو امریکہ کی کو آرڈینیٹنگ آرمی بنانے پہ تیار ہو گئی۔اس وقت امریکہ و ہندوستان کے درمیان تعاون کی اساس کوارڈینٹنگ آرمی کا یہی تصور ہے،جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارتی سیاست میں انتہا پسندی اورفوج کے اثر ورسوخ کوبڑھاتا جائے گا اور بہت جلد پنڈت جواہر لعل نہرو کا غیروابستہ،سیکولرجمہوری ہندوستان مغربی استعمار کے مفادات کی خاطر اتھاریٹیرین رجیم میں بدل دے گا۔اسی عالمی تناظر میں ہماری داخلی سیاسی کشمکش بھی نئی راہیں متعین کرے گی۔

اگرچہ بظاہر نیب کی طرف سے نوازلیگ کی صف اول کی قیادت کی مشکیں کسنے اور قومی دھارے کے میڈیا میں مریم کی آواز کو دبانے کی ناگوار صورت مشرقی و مغربی سرحدوں   پہ برپا ہنگام میں ڈوب گئی لیکن حیران کن طور پہ دن بدن بڑھتی ہوئی سیاسی مزاحمت کو کہیں نہ کہیں سے توانائی ضرور مل رہی ہو گی،شاید عالمی ذرائع ابلاغ بھی بہت جلد یہاں جمہوریت کی پشت پناہی پہ اتر آئیں۔اگرچہ بظاہر اب بھی یہی لگتا ہے کہ ہماری منتخب لیڈر شپ ابھی ان تصورارت سے ہمیں نجات نہیں دلا سکتی جس کی وہ خود اسیر رہی لیکن حالات اب بدل رہے ہیں۔بلاشبہ قومی پالیسی ابھی نادیدہ قوتوں کے کنٹرول میں ہے لیکن مستقبل قریب میں یہ ناتواں سیاسی جماعتیں رونے دھونے کی بجائے عملی مزاحمت کی طرف بڑھتی نظر آئیں گی اوربہت جلد کشمیر ایشو سمیت پوری خارجہ پالیسی سیاسستدانوں کے ہاتھ آجائے گی۔تاہم اختیارات میں حصہ پانے کےلئے سیاستدانوں کوغیرمتزل عوامی حمایت اور وہ عقلی اہلیت حاصل کرنا پڑے گی جو انہیں عالمی سیاست کے ابدی دھارے سے ہم آہنگ رکھ سکے۔حالات کی کوکھ سے پیدا ہونے والے ان مواقع سے نوازلیگ فائدہ اٹھا سکتی تھی لیکن اس وقت صرف پیپلزپارٹی ہی وہ جماعت ہے جو عالمی سیاست کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کہ ملک کے اندر سیاسی جوڑتوڑ میں اپنی راہیں متعین کرتی نظر آتی ہے۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *