کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط7

سویرا کے سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو  کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے
افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً  افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مذکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب ِ داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

قسط نمبر چھ کا آخری حصہ!
نیلم کی زندگی کا مشکل ترین مرحلہ یہ ایئرپورٹ اور ہوٹل تک کا تھا۔جہاز سے باہر آتے ہوئے لگا کہ زندگی میں اتنے  بڑے  چیلنج کا کبھی اسے سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ وہ تمام بڑے فیصلے ، جو اس کی زندگی کے سنگ ہائے میل تھے ان کی ایک ہائی اسپیڈ فلم اس کے نہاں خانہ وجود کے اسکرین پر چلنے لگی۔ وجدان سے شادی کا سوچنا اور اس فیصلے پر اپنے جبرو باپ کے احترام میں شادی نہ کرنا  جوانی کی کنٹرول اسٹریک تھی۔اپنے ضبط اور والدین سے وفاداری کا پاس۔
سعید کی دلہن بن کربرطانیہ آنا ایک رسم دنیا اور ایک نئی دنیا کی کھوج تھی۔سعید کے مد مقابل دستیاب سب رشتے قرابت داروں اور برادری والوں کے تھے۔ سب ہی بہت روٹین سے مرد تھے۔برطانیہ آنے کے فیصلے میں نیلم کے  سامنے یہ نقطہ بھی تھا کہ اگر شادی میں کوئی اڑچن آئی تو وہ اس سے جان چھڑا کر وجدان اور گڈی جیسا بوہیمیئن لائف اسٹائل اپنا لے گی یا کوئی مالدار مرد گھیر کر اس کی دولت کے مزے لوٹے گی۔ یہ فلائٹ کیا مس ہوئی، یہ اجنبی کیا ملا، یہ کیسی عجب صورت حالات بنی کہ جو محض ایک حادثہ تھاوہ ہی پیار کا عنوان بن گیا۔ وہ جو اجنبی تھا وہی روح کا ارمان بن گیا۔

چوبیس اقساط کی ساتویں قسط!
ترکی بہ ترکی
سامان کے کنویئر بیلٹ پر آنے سے لاؤنج سے باہر سواری کی تلاش تک وہ اسے چھپ کر بھی اور بے دھڑک ہوکر دیکھتی رہی، دل کی آنکھ سے، کن انکھیوں سے،ہر طرح سے۔کوئی ایسی علامت، کوئی ایسا لفظ، کسی قسم کی بے تابی وصل،اسے چھونے کی معمولی سی کوشش کا کوئی تو سراغ ملے۔اس کا امتحان اس نے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر لے  بھی لیا  تھا۔یہ ایک طرح کیBaitتھی۔پاکستانی مرد بھلے سے اپنی دانست میں لاکھ ابن بطوطہ اور صلاح الدین ایوبی سہی مگرمغرب کی سان پر چڑھی (کمان) اس جیسی من بھاؤنی عورت کی اس اشارتی دعوت کو نظر انداز کرنا بڑے جگرے کی بات تھی۔

نیول رنگ
مفت کا سرکاری پاسپورٹ

مردوں سے مکمل جسمانی اجتناب کے باوجود اسے اندازہ تھا کہ مرد کی نگاہ میں, اس کی حرکات میں,وہ کیا علامات ہوتی ہیں جن سے اس کی طلب کا اندازہ ہوتا ہے۔ایسا نہ تھا کہ حضرت ارسلان آغا جی مٹی کے مادھو تھے۔جب وہ جھکی تھی تو اس کے گریباں میں جھانک کرحضرت کی آنکھوں میں ویسی ہی چمک بیدار ہوئی تھی جیسے غریب بچوں کی آنکھ میں آئس کریم کون دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔یہ بہت مختصر سا لمحہ تھا۔اس نے جب اس دید بانی کو رنگے ہاتھوں پکڑا تو حضرت جھینپ کر ایک دم ہی غائب الزماں ہوگئے۔اس کے بعد طلب تو اکثر نشست و برخاست میں دکھائی دی مگر اظہار سرے سے مفقود تھا۔کندھے پر ہاتھ رکھنے کے باجود جب کئی مرتبہ وہ ارداتاً اس سے بدن جوڑ کر قریب کھڑی تھی ارسلان نے اسے کسی طور چھونے میں پہل نہ کی ۔ نیلم  کودل کے کسی دور دراز گوشے سے ادراک نسوانی کی یہ باز گشت ضرور سنائی دی کہ حضرت کی یہ احتیاط اور یہ رکھ رکھاؤ ایک ایسا بڑا خفیہ جال ہے جس میں الجھ کر وہ اسے ایسی جگہ لے جاکر اُلٹی چھری سے ذبح کرے گا کہ اس کو پینے
کے لیے پانی بھی نہ ملے گا۔اپنی اس فکر مندی سے اسے الجھن ہوئی، اس نے سوچا کہ یہ کونسے خمیر سے اللہ میاں نے عورت کوگوندھا ہے کہ وہ کبھی بھی مکمل طور پر آسودہ اور بے فکر نہیں ہوتی۔چنتا کی جونکیں ہر وقت اس کے وجود سے کیوں چمٹی رہتی ہیں۔

اس حوالے سے اس نے عجیب عجیب باتیں سوچیں۔ارسلان جب دوران پرواز ٹوائلٹ کی طرف گیا تھا،اس نے اس کے چھوٹے سے سفری تھیلے میں سے اس کا پاسپورٹ نکال کر جلدی جلدی اس کی تصویریں بنالی تھیں۔ گڈو نے اپنے تعارف میں کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا۔۔ حکومت پاکستان کا جاری کردہ نیلا،گرے -ٹس  پاسپورٹ،نام ارسلان آغا، گھر کا پتہ بھی مری کے پاس اسلام آباد کے ایک گاؤں سترہ میل کا تھا۔سرکاری عہدہ بھی ڈائریکٹر،وزارتِ  زراعت کا تھا۔ اب کیا خطرہ ہوسکتا ہے ،سوائے اس کے کہ وہ اس سے جنسی دست درازی کرے۔

اس طرح کا تو اب تک خفیف مظاہرہ بھی نہ ہوا تھا، نہ گفتگو کی کسی بداحتیاطی سے،نہ ہی چھو لینے کی جسارت سے۔اس نے دیکھا بھی بہت سلیقے اور تہذیب سے تھا۔ سوائے نیول رنگ کے اس کے بدن کا کوئی حوالہ اس طویل محفل میں نہ ہوا تھا۔پاکستانی مرد کے لیے جیتی جاگتی عورت کی ناف میں مچلتی رنگ کا جلوہ ایسا کوئی معمولی منظر نہ تھا کہ اسے چپ کرکے  گھونٹ بھرلیا جاتا۔حضرت بولے تو ٹھیک ہی بولے تھے۔This much is fine with me
باہر وہ اس سے ذرا پرے ہٹ کر دس منٹ تک سعید کی  آمد کا جھوٹ موٹ سا انتظار کرتی رہی۔آپ تو جانتے ہی ہیں عورتوں کے اس چمت کار کو ہندی میں تریا چلتر کہا جاتا ہے(تریا ہندی زبان میں نوجوان اور چالباز حسینہ کو کہا جاتا ہے اور چلتر، نخرہ،فریب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے)

گرینڈ بازار
ترکش حمام
جالولو حمام
گرینڈ بازار کا ہوٹل
گرینڈ بازار کا ریستوراں
گرینڈ بازار استنبول کی قالین فروش
سویٹ ہارٹ برمنگھم والے
ملائی زعفرانی پستہ قلفی

جب نیلم نے اعلان کیا کہ وہ نہیں آئے گا، سعید تاؤ کھاکر شاید پاکستان چلا گیا ہے تو ارسلان نے آہستہ سے پوچھ لیا کہ کیا نیلم کو بھی تاؤ آتا ہے۔ یہ سوال سن کر نیلم نے لمحے کی خفت کا بوجھ مٹانے کا سوچا۔وہ ایک Silly سا اسکول گرل والا مذاق کرے اور خود ہی اس پر ان کی طرح Giggle بھی کرے اس سے شاید سعید کے ارادہ  طلاق کے انکشاف اور محرومی کی تلخی کم ہوجائے۔مجھے اس وقت بہت تاؤ آتا ہے جب مجھے کسی کا پورا نام لینا پڑے۔مجھے آپ کو ارسلان آغا کہہ کر پکارنا پڑ رہا ہے تو بہت تاؤ آرہا ہے۔میری واحد دوست گڈی ہے میں اسے Gees کہتی ہوں گڈی بھی نہیں۔ا تنا کہہ کر وہ زور سے ہنسی تو دو تین قریب کھڑے ہوئے ڈرائیور بھی ہنس دیے۔تب نیلم نے دیکھا کہ ترک مرد مہذب اور دلکش ہیں۔اس کا تو آسان علاج یہ ہے کہ آپ مجھے اس نام سے پکاریں جو آپ کو اشتعال دلانے سے بازرکھے۔کیا میں آپ کو گڈو کہہ سکتی ہوں۔
I have left so much behind. I hope you won’t mind?
وہ کہاں کا باز رہنے والا تھا آہستہ سے پوچھ بیٹھا”اور اس ایک نام سے اس نقصان کی تلافی ہوجائے گی”کوشش کرتے ہیں۔ah you want me to be your partner in this new change over(اچھا تو آپ کی مرضی ہے کہ اس تبدیلی میں خاکسار آپ کا رفیق کار ہو)
at least be around to help me realign (کم ا ز کم اس تبدیلیء سمت میں میرے پاس رہیں) اس نے انگریزی میں ہی کہا وہ آج کے بعد اسے گڈو ہی پکارے گی چاہے وہ چیف سیکرٹری پنجاب بن جائے یا اس کی شادی عالیہ بھٹ سے ہی کیوں نہ ہوجائے۔ اس نے کہا ،نہ تو اسے نام پر اعتراض ہے نہ چیف سیکرٹری پنجاب بننے پر مگر عالیہ بھٹ اسے پسند نہیں۔
اسے کون پسند ہے؟
”مجھے وہ لوگ اچھے لگتے ہیں جو مجھے اپنائیت سے بلاتے ہیں“۔ارسلان نے جواب دیا
ایسا کوئی ملا؟اب سوال کرنے کی باری نیلم کی تھی۔
آپ ہی نے ڈھونڈ کر دینا ہے۔میں بھی تو آپ کیrealign ہونے میں مدد کررہا ہوں۔

وہ اس دل چسپ سوچ میں غلطاں تھی کہ جواب میں گڈو نے بھی اسے کوئی نام دینے کی سوچی ہے کہ نہیں۔ وہ نام اللہ جانے کیا ہوگا۔نیلم،ارسلان آغا کے مقابلے میں چھوٹا سا نام ہے۔شاید حضرت فیصلہ کرچکے ہیں کہ اس کے نام و شناخت کا نیلم سعید گیلانی والا شرعی حصہ اس کی فلائٹ مس ہوتے ہی ضائع ہوگیا ہے اور اب وہ ان کے لیے محض نیلم ہے جسے وہ نیل یا نیلو پکار بھی لے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اتنے میں کیوی ٹیکسی والے انہیں گرینڈ بازار کے ہوٹل میں لے جانے پر تل گئے۔رات ہونے کی وجہ سے شہر خوبصورت لگا مگر گرینڈ بازار کے ہوٹل پہنچ کرنیلم نے دو عجب فرمائشیں کیں۔ایک تو ہوٹل میں کمرہ لینے کا معاملہ وہ خود طے کرے گی ۔ کارپوریٹ فلور پر ایک دوسرے سے متصل دوکمرے انہیں مل گئے۔ کرایہ فی کمرہ دس ڈالر زیادہ تھا مگر وہ ایک اجنبی ملک میں تن تنہا کمرے میں ارسلان کے کمرے سے   کسی دور افتادہ کمرے میں نہیں ٹھہرنا چاہتی تھی۔ انگلینڈ کی بات اور تھی۔وہاں کے ادارے اور ان کی دسترس کا اسے اندازہ تھا مگر ترکی ایک نئی ٹرف تھا۔ اتفاق سے برابر برابر یہی دو کمرے دستیاب تھے۔کمرے میں پہنچ کر اسے ذرا گھبراہٹ ہوئی ،دونوں کے درمیان اندر بھی ایک دروازہ تھا ۔اس نے فیصلہ کیا کہ جس طرف سے چٹخنی لگتی ہے وہ والا کمرہ وہ خود رکھے گی اور اس کمرے میں دروازے کا راز اس سے پوچھے گی۔حضرت نے یقینا ً گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے۔وہ یورپ میں خود بھی گھومی تھی مگر عام طور پر کمپنی کی جانب سے اور گڈی کے ساتھ ہی اس کا قیام ہوتا ہے۔وہاں یہ چنتا نہیں ہوتی تھی۔

سامان کمرے میں رکھ کر کچھ دیر بعد وہ ہوٹل سے باہر بازار کی طرف نکل آئے۔گرینڈ بازار کے باہر سے ذرا ہٹ کر دوران سیر ان کی نگاہ ایک قدیم حمام پر پڑ گئی جس کا نام ترکی زبان میں Cagaloglu Hamam تھا۔ انہیں بعد میں اندر جاکر معلوم ہوا کہ یہ 1741 کا بنا ہوا غسل خانہ کسی امیر البحر کے نام سے موسوم تھا ترکی نام Cagaloglu کا درست تلفظ جا لولو تھا۔ حمام کا مشورہ اس کا اپنا تھا۔جب اس نے پوچھا کہ آج ہی تو؟“نیلم نے کہا کہ ’وہ ماضی کی کچھ کثافتیں آج ہی جسم سے میل کی طرح دھوڈالنا چاہتی ہے۔Rub away the dead skin of past،اس نے لفظ نیلم کو سوپ کے بلبلوں میں نہلا کر پتھروں،لوفا، اور کھردرے چمڑے سے پہلوانوں جیسی ایک ترکی خاتون Ece نے دوگھنٹے تک   کچھ ایسا رگڑا لگایا کہ جب وہ باہر آئی تو اسے لگا وہ جسمانی ثقالت کے حوالے سے بادلوں میں اڑتی پھر رہی ہے۔ سعید گیلانی سے جڑی کلفت اور کڑواہٹ جو شادی   کی ایک ناپسندیدہ تہہ کی صورت میں سرد موسم میں ایڑیوں کی مردہ چمڑی بن کر اس وجود کامل سے چپکی تھی وہ حمام میں کہیں دوران رگڑائی جھڑ کر بہہ گئی ہے۔اداسی اور مایوسیوں کی  دھول میں اٹا جسم جسے وہ برطانیہ سے جرمنی اور پھر  پاکستان لے جانا چاہتی تھی، وہ بھی کہیں راستے میں ہی تھکن سمیت رہ گیاہے۔ایسا لگا کہ اس کا بدن ایک ہوائی جہاز ہے جس نے نئے مقام پر لینڈنگ سہل بنانے کے لیے Fuel dumping کی(وہ عمل جس میں جہاز تیل گرادیتے ہیں۔)۔ دونوں کو بھوک لگ رہی تھی وہیں باہر ایک روڈ سائیڈ ہوٹل میں کھانا کھایا۔ کچھ دیر گھومے۔طے یہ ہوا کہ فی الحال ہوٹل جا کر سو جاتے ہیں کل وہ توپ کاپی میوزیم، اور گرینڈ بازار کی سیر کریں گے۔کل ہی وہ کاپوڈوکیا اور قونیا  ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے جانے کا معاملہ طے کرلیں گے۔

حمام کے مساج میں ہی اس نے آنکھیں بند کرکے  اس تعلق کے حوالے سے بہت کچھ سوچا مگر اسے لگا کہ یہ سوچیں کسی مٹیالی آنکھوں میں چبھنے والی دھند میں گم ہوگئی ہیں۔ ہوٹل واپسی پر اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے ،بستر پر لیٹ کر اس نے آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کی تو نیند دامن چھڑاکر بھاگ نکلی ،تعلقات کے معاملے میں اس نے حساب لگایا تو پوری زندگی میں شعور آشنا ہونے کے بعد چار پانچ ہی ایسے لوگ تھے جو اس کی زندگی میں کسی اہمیت کے حامل تھے۔بند دروازے کے اس پار، برابر کے کمرے میں لیٹا یہ شخص کیا اس کی زندگی میں کوئی نیا مستقل اضافہ تھا۔مشکل یہ تھی کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں سوچنا بھی مشکل تھا۔فلسفہ بگھارنے کی ذہن کو عادت نہ تھی۔ ورنہ وہ سوچتی کہ کیا جس کے بارے میں اس کے دل و دماغ میں دھیمے دھیمے طوفان ہلکورے لے رہے ہیں کیا وہ سارا دن اس کی نگاہوں کے سامنے نہ تھا کہ وہاں سے کوئی منظر باہر کھینچ کر وہ اپنے تخیل کی چادر تان کر اسے نگاہوں میں بسا کر   اس کے بارے میں سوچ سکتی تھی۔ مسئلہ یہ تھا سوچ کے حوالے سے وہ بہت بنیادی، ہدف آشنا اور سادہ مزاج تھی۔ سوچ کے ان طوفانوں کو ٹالنے کے لیے تنگ آن کر وہ بالکونی میں آگئی اور وہاں کھڑی باہر کے نظارے دیکھتی رہی۔ لابی میں
سے کمرے کی جانب آتے ہوئے البتہ اس نے ارسلان سے یہ سوال پوچھ لیا تھا کہ یہ درمیان میں دروازے کی منطق کیا ہے۔کمرے کی  بکنگ اگر اس نے خود نہ کی ہوتی اور کارپوریٹ فلور میں اپنی سہولت کی خاطر دو متصل کمروں پر اصرار اس کی جانب سے نہ ہوتا تو وہ شک کرتی کہ یہ دروازے والا گیم پلان ارسلان کا تھا۔ ایسا ہوتا تو ارسلان  اس کی نظروں سے فوراً گر جاتا۔قدرے توقف اور دوبارہ استفسار کرنے پر بتایاکہ کارپوریٹ دنیا میں اہل معاملہ کی کوئی حسین ماتحت بھی یا امور کاروبار سے جڑی خواتین میں سے کوئی خواہشات کی تکمیل کی سہولت خاطر شریک قیام ہوسکتی ہے ۔بظاہر اکاؤنٹ والوں کو اور کھوج لگانے والوں کو یہ دو کمرے لگیں گے۔

”آپ کو یہ سب کیسے پتہ؟“نیلم نے اٹھلا کر پوچھا۔

وہ بتانے لگا کہ جنرل پرویز مشرف کے چہیتے کچھ سابق فوجی افسران نے ایک سویلین ادارے میں چن کے اسلام آباد میں چند حسین نوجوان خواتین کو اپنا اپناسیکرٹری رکھ لیا تھا۔بازار سے زیادہ تنخواہ دیتے تھے۔کام کاج واجبی ہوتا تھا۔ سرکاری امور کی انجام دہی میں یہ التزام لازم تھا کہ حسین لگیں،ساتھ سفر کریں اور باس کے بارے میں مثبت سوچ، رازردارنہ اور تابعدارانہ رویہ(یعنی (Secretive and Fully Submissive رکھیں۔ ان ماتحت خواتین کے ہاں بھی عصمت سے زیادہ سیر،ملازمت اور نت نئے مواقع کی تلاش کا معاملہ تھا۔ان میں سے ایک سیکرٹری تو بعد میں ایک وزیر اعظم کے ساتھ بھی اس طرح کے میثاق مصلحت اور شاہراہ ترقی پر گامزن ہوکر ان کی تیرہ شبوں کی ساتھی رہی۔ان افسران کے سندھ میں دفتر کو کرائے   پرلینے کا اہتمام یوں ہوا کہ کرائے کی مد میں ہر دو متصل کمروں کی دیوار میں ایک دروازہ نصب کرنے کے اخراجات بھی شامل کردیے گئے۔ اصل دفتر،بیسمنٹ میں بنا۔ سابق فوجی افسر بضد ہوتے تھے کہ کوئی مٹینگ کسی اور ادارے کے افسران کے ساتھ بارہ بجے سے پہلے شروع نہ ہو۔وہ اپنی سیکرٹری صاحبان کے ساتھ دورے پر آتے۔میٹنگ کے شروع ہونے سے پہلے کمر درد کی شکایت عام اور با آواز بلند کی جاتی۔مقامی افسر ان ا ن مہمان مجاہدین کی عمر اور سیکرٹری صاحبان سے رات بھر کی مچائی ہوئی دھماچوکڑی کی لاج رکھنے کے لیے سارا الزام کراچی کی مرطوب اور زنگ لگانے والی ہوا کو دیتے تھے۔وہ سارا درد یہ کہہ کر لپیٹ دیتے تھے کہ سمندر کے قریب ہونے کی وجہ سے گھر کی گرلیں،بجلی کا سامان اے سی کے آؤٹرز، کمپریسر فرج ٹی وی سب خراب ہوجاتے ہیں۔سابق فوجی افسر کی اس بے رحم ہوا کے سامنے کیا وقعت ہے۔
نیلم نے گھڑی پر نگاہ ڈالی تو بمشکل پونا ایک بجاتھا۔
رات بارہ سے تین بجے صبح تک کا دورانیہ نیلم کے لیے وہ جہاں کہیں بھی ہو ایک عرصہء بے قراری ہوتا تھا۔ آج شام تو حمام اور مساج نے بدن کو یوں بھی بادلوں کی طرح مست اور ہلکا بنادیا تھا۔دماغ بھی بیدار تھا اور دل بے قرار۔کچھ جام گھٹکانے کی، کچھ سگریٹ پینے کی بھی طلب تھی۔ ہوٹل سے سامنے والی سائیڈ پر روڈ اور گلیوں میں لوگ ادھر ادھر مختلف قہوہ خانوں میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ اسے خیال آیا کہ ترکی باشندوں کے مغربی لباس میں مشرق اب بھی اندر کی طرف ریشمی استر بن کر چمٹا ہوا تھا۔وقت شاید وہاں بھی ایک پیما نہء اوقات نہ تھا۔ سمے کی دھارا میں بہتی ہوئی عمر کی  خوش گپیوں میں گزارے لمحات کا تا حیات سلسلہ تھا۔مغرب کی طرح سر ِ شام بستر میں جا گھسنے سونے اور صبح جلد اٹھ کر کام پر جانے کا رجحان شاید ان کے ہاں بھی نہ تھا۔زندگی کی رفتار اسے ائیر پورٹ سے نکلتے ہی کچھ خراماں خراماں سی لگی تھی۔مشرق کی سی آسودہ حال سستی سے عبارت۔

نیلم کو ایڈونچر کی سوجھی تو اس نے بالکونی سے ارسلان کے کمرے کی طرف جھانکا۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تو نہ تھا مگر بالکونی کے دروازے پر پڑے پردے سے روشنی کی ایک موٹی کرن دامن چھڑا کر ریلنگ پر پڑ رہی تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ باتھ روم کی لائٹ ارادتاً جلتی ہوئی چھوڑ دی گئی تھی۔
سوچ کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ایسے میں کہیں یہ بھی سوجھی کہ بہت آہستہ سے وہ اپنی طرف سے دروازہ کھول کر جھانکے۔دیکھے تو سہی حضرت کیا کرتے ہیں، کیسے سوتے ہیں۔ کچھ دیر کو وہ اس تذبذب میں مبتلا رہی کہ جاگ گئے تو گڈو میاں کیا سوچیں گے۔اسے بستر میں گھسیٹا تو وہ کیسے دامن چھڑائے گی۔ بدن اور دل کا سردست وہ حال ہے کہ ایک بوسہ گردن پر، کان کی لو پر،ایک گرم سانس کی
مہکار،کمر پر ہلکا سا دباؤ اگر یہ سب کچھ ہوا تووہ تو بس برمنگھم کی مشہور دکان سوئیٹ ہارٹ کی ملائی یا زعفرانی قلفی بن جائے گی۔

نہیں وہ ایسا نہیں۔۔گرینڈ باز ار کے جالولو حمام میں جب اس نے اس کے پیسے بھی دینے چاہے تو اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکنے کی کوشش کی۔ وہ تنہا حمام کی طرف بھی جانے پر رضامند نہ تھی سو ارسلان کا ہاتھ اس نے تھامے ہی رکھا۔وہاں سے واپس باہر آنے کے بعد بھی اس نے کوئی عجلت اور رغبت نہ دکھائی، نہ ہاتھ تھاما،نہ کمر پر ہاتھ رکھا،نہ کولہوں کو چھوا ،نہ سینے کے قریب بدن کو لایا۔ ورنہ گڈی کہتی تھی کہ چالاک مرد،مافیا اور امریکہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اپنا نیاسبق، کتاب شہوت و وصال کا پچھلا باب دہرائے بغیر وہیں سے شروع کرتے ہیں، جہاں چھوڑا تھا، مثلاً ہاتھ تھامنے کے بعد ان کا اگلا اقدام چوما چاٹی اور پھر اس کے بعد کی ملاقات میں ہل من مزید کے  نعرے کے ساتھ Do More کا مطالبہ۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط7

  1. جناب اقبال دیوان صاحب ۔ السلام علیکم ۔ آپ کی تحاریر بہت متاثرکن ہوتی ہیں ۔ آپکی تصنیف آنٹی ایم اور دیگر کہاں سے مل سکتی ہیں ۔ شکریہ ۔ منیب الرحمن

Leave a Reply to منیب الرحمن جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *