دیرینہ خواہش کی تکمیل۔۔۔محمد احمد

رابطة_علماء_السند
وادی مہران کی علمی، ادبی اور تاریخی حیثیت مسلم ہے، علماء سندھ کسی تعارف کے محتاج نہیں، تمام شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں۔ کوئی فن ایسا نہیں جہاں علماء سندھ نے قلم کو حرکت نہ دی ہو، تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، جغرافیات، فلکیات، سیاسیات، سماجیات، علم الکلام، علم العروض، فنون لطیفہ اور شعر شاعری سمیت سب علوم وفنون میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔

عالمِ  اسلام ان کی عظیم خدمات کا معترف ومقروض ہے، جب ہم سندھی علماء کرام کی خدمات وتعارف پر عرب حضرات کے پی ایچ ڈی مقالے دیکھتے ہیں تو ششدر  رہ جاتے ہیں، عرب جو کسی عجم کی علمی حیثیت بڑی مشکل سے مانتے اور تسیلم کرتے ہیں انکی زبانیں اور قلم سندھی بزرگوں کی تعریف سے تر اور انکی گردنیں ادب سے جھکی ہوئی ہیں۔ زندہ قوم کی علامت اور شناخت یہ ہے کہ وہ اپنے اسلاف واکابر کی تاریخ محفوظ کرتے ہیں اور نئی  نسل کو اپنے بڑوں کی خدمات سے آگاہ کرتے ہیں۔جس قوم نے اپنے بزرگوں کی تاریخ محفوظ نہیں کی وہ زندہ ہوکر بھی مردہ ہے۔

دوسری بات یہ کہ جس قوم کے علماء کرام نے نسلِ نو کی دورِ  جدید کے مطابق اور ہم آہنگ رہنمائی نہیں کی تو کوئی طاقت اس قوم کو ناکامی سے نہیں بچاسکتی، اس کے نوجوانوں کی صلاحیتیں اکارت جاتی ہیں، جذبے ماند پڑجاتے ہیں، بالآخر  وہ قیمتی اثاثہ ضائع ہوجاتا ہے۔ عرصہ دراز سے معصوم تمنا اور خواہش تھی کوئی رجل رشید اس عظیم کام کا بیڑہ اٹھائے، سب حضرات اپنے  دلوں میں یہی آرزو رکھتے تھے۔ لیکن کوئی اظہار نہیں کرتا تھا، گر اظہار کردیا تو عملی اقدام نہیں کرتا تھا، اس عظیم غرض اور مقصد کے لیے ایک دو ماہ قبل راقم الحروف نے سب دوستوں کے سامنے ایک دردِ دل رکھا جس پر دوستوں نے نیک تمناؤں اور خواہشات کا اظہار کیا، لیکن میرے انتہائی محترم اور لائق فائق دوست، محقق عالم دین، سابق ریسرچ افسر اسلامی نظریاتی کونسل، ماہر مضمون عربی و اسلامیات، سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ، جام شورو، ومتخصص فی الحدیث جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن اور استاد الحدیث جامعہ انوار العلوم کنڈیارو حضرت مولانا عبدالباقی ادریس السندی نے عملی جامہ پہنانے کے لیے راقم الحروف سے رابطہ کیا اور بڑی محبت اور اخلاص کے ساتھ پروگرام کی میزبانی قبول کی. اور فرمایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس حوالے سے کچھ عملی اقدامات کریں۔ ورنہ قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ پھر طے یہ ہوا کہ سندھ بھر کے ممتاز علماء کرام کو دعوت دی جائے اور کام کا طریقہ کار وضع کیا جائے٬ پھر ہم دونوں نے اس مقصد جلیل کے لیے طویل مشاوت اور جدوجہد کے بعد ہم خیال ساتھی منتخب کیے اور ایک دعوت نامہ ترتیب دیا گیا جو سنجیدہ، فکر سلیم، نامور اور محقق علماء کرام کی خدمت میں ارسال کیا گیا، سب نے دلی خوشی کا اظہار فرمایا اور اپنے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

پھر مشاورت سے  سب ساتھیوں کا باقاعدہ پہلا اجلاس قاسمیہ لائبریری کنڈیارو میں طے ہوا تھا، لیکن حالیہ بارشوں کی وجہ سے قاسمیہ لائبریری سخت متاثر ہوئی، جس کی وجہ سے ہم نے جامعہ دارالعلوم سکھر کا انتخاب کیا، حضرت مولانا مفتی نذیر احمد عثمانی صاحب زیدمجدھم (رئیس الجامعہ) نے صدقِ دل سے اجازت مرحمت فرمائی اور بے انتہا خوشی کا اظہار فرمایا، جس کے لیے رابطے کا کردار حضرت مولانا مفتی ولی اللہ مہر صاحب نے ادا کیا، ہم ان کے اور پوری ٹیم کے نہایت مشکور ہیں۔ آج 13ذوالحج 1440 بمطابق 15 اگست 2019 بروز جمعرات دس بجے صبح جامعہ دارالعلوم سکھر میں ہم فکر ساتھیوں کی پہلی بیٹھک تھی۔ اجلاس کے ایجنڈا میں شرکائے مجلس کا تعارف اور تنظیم کا نام اور اغراض ومقاصد شامل تھے۔
سندھ کے ممتاز تعلیمی ادارے جامعہ دارالعلوم سکھر نے میزبانی کا شرف بخشا جو یقیناً  ہمارے لیے نیک فالی کا سبب ہے، خوبصورت وحسین اور دلکش ماحول میں جامعہ دارالعلوم سکھر کے میٹنگ روم میں سندھ بھر سے 15 علماء کرام نے شرکت کی جو بلاشبہ اپنے اپنے  فن  کے ماہر اور قدیم و جدید علوم پر کامل دسترس رکھنے والے ساتھی تھے، مفتی بھی تھے تو پی ایچ ڈی ہولدڑ بھی، کالم نگار بھی تو مصنف بھی۔ یہ سمجھیں کہ پورےسندھ کا لب لباب اور کِریم جمع تھا۔اجلاس طے شدہ وقت سے معمولی تاخیر کے ساتھ مفتی ولی اللہ مہر صاحب زیدمجدھم کی صدارت میں حضرت مولانا قاری عمران علی پیزادہ حفظہ اللہ کی تلاوت سے شروع ہوا۔

نظامت کے فرائض حضرت مولانا عبدالباقی ادریس السندی سرانجام دے رہے تھے، اجلاس کی کاروائی بندہ (راقم الحروف) نوٹ کررہا تھا، سب سے پہلے شرکاءِ مجلس کا تعارف کرایا گیا، جب تعارف ہونے لگا تو ایسے لگا کہ ہر ایک اپنی ذات میں انجمن ہے، تمام شرکاءِ مجلس فہم وفکرِ سلیم کے مالک اور نامور و محقق عالم دین تھے۔
اس کے بعد سب حاضرینِ مجلس نے باقاعدہ عملی نظم وضبط بنانے اور تاریخ سندھ جدید عالمی اسلوب کے مطابق مرتب کرنے، نوجوان فضلاء کرام کی معاشرتی، معاشی رہنمائی، صحافتی، تصنیفی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لیے دعوت وارشاد کے جدید منہج، دینی طبقے کو درپیش جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مفید سے مفید تر تجاویز دیں۔ اور مولانا نیاز احمد راجپر صاحب شدید علالت کی وجہ سے تشریف نہیں لائے، البتہ انہوں نے بڑی جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ تجاویز مرتب کرکے بھیجی تھیں، جو مولانا عبدالباقی ادریس السندی نے شرکاءِ مجلس کو پڑھ سنائیں۔
بعد ازاں اتفاق رائے سے مجلس کا نام “رابطة علماء السند” تجویز کیا گیا، تنظیم کے دستور ومنشور اور اغراض ومقاصد وضع کرنے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جن میں درج ذیل اراکین اپنی خدمات سرانجام دیں گے:
1: حضرت مولانا مفتی عبدالباقی ادریس السندی
2: حضرت مولانا مفتی ولی اللہ مہر صاحب
3: حضرت مولانا نیاز احمد راجپر صاحب
4: حضرت مولانا چوھان سلیم اللہ سندھی
5: (حضرت مولانا) محمد احمد (راقم الحروف).
یہ کمیٹی ایک ماہ کے اندر اپنی تجاویز وسفارشات مرتب کرکے اگلے اجلاس میں شرکاءِ مجلس کے سامنے رکھے گی۔
ان سفارشات وتجاویز کی منظوری کے بعد پھر ان اغراض ومقاصد کی روشنی میں باڈی کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا، اس پلیٹ فارم میں حصہ لینے کا طریقہ کار اور کام کا طریقہ کار بتادیا جائے گا۔
رابطة علماء السند کا اگلا اجلاس 11محرم الحرام بروز جمعرات جامعہ دارالعلوم سکھر میں منعقد ہوگا۔ ان شاء اللہ

شرکاء مجلس کا تعارف:
1: حضرت مولانا مفتی عبدالباقی ادریس السندی
(سابق ریسرچ افسر، اسلامی نظریاتی کونسل، وماہرِ مضمون عربی و اسلامیات سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ جام شورو، ومتخصص فی الحدیث وعلومه از جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن، واستاد الحدیث جامعہ انوار العلوم، کنڈیارو).
2: حضرت مولانا مفتی ولی اللہ مہر صاحب
(ناظم اعلی ومفتی جامعہ دارالعلوم سکھر، وایڈیٹر سہ ماہی “العلم” سکھر)۔
3: حضرت مولانا امتیاز احمد السندی
(سربراہ شعبہ عربی جامعہ عمر کراچی)۔
4: حضرت مولانا محمد یاسین مہر صاحب
(ایم فل اسکالر، ولیکچرر اسلامیات کیڈٹ کالیج پنوعاقل، سکھر)۔
5: حضرت مولانا مفتی عبدالقادر میمن صاحب
(مدرس جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن حمادیہ ٹھیڑھی، خیرپور میرس)۔
6: حضرت مولانا رحمت اللہ سومرو صاحب
(ناظم تعلیمات جامعہ دارالعلوم سکھر)۔
7: حضرت مولانا چوہان سلیم اللہ سندھی صاحب۔
(مشہور مترجم، وکالم نگار، وڈائریکٹر امام انقلاب عبید اللہ سندھی اکیڈمی)۔
8: حضرت مولانا قاری عمران علی پیزادہ صاحب
(ایم فل اسکالر، ولیکچرر اسلامیات آئی بی کالیج، دادو)۔
9: حضرت مولانا لطف اللہ بروہی صاحب
(ایم فل اسکالر، وٹیچر اسلامیات واپڈا ہائی اسکول حیدر آباد، ومدرس جامعہ شمس العلوم حیدر آباد).
10: حضرت مولانا لطف اللہ میمن صاحب
(استاد الحدیث جامعہ دارالعلوم کریمیہ، ضلع قمبر)۔
11: حضرت مولانا کلیم اللہ مہر صاحب
(متخص فی الحدیث وعلومه جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن، کراچی)
12: حضرت مولانا علی محمد قاسمی صاحب
(مصنف، اور استاد الحدیث مدرسہ مدینۃ العلوم سکھر)۔
13: حضرت مولانا بدر الدین مہر صاحب
(ایم فل اسکالر، شاہ عبد اللطیف یونیورسٹی، خیرپور میرس)۔
14: حضرت مولانا محمود احمد صاحب
(استاد مدرسہ عربیہ اصحاب صفہ لکھی غلام شاہ ضلع شکارپور)۔
15: (حضرت مولانا) محمد احمد (راقم الحروف)
(کالم نگار، وناظم تعلیمات مدرسہ عربیہ اصحاب صفہ، لکھی غلام شاہ، ضلع شکارپور)۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *