شادی کی گیارہویں سالگرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

آج میری شادی کی گیارہویں سالگرہ ہے۔

اس سے مجھے امیتابھ بچن کا وہ ڈائیلاگ یاد آگیا “خوش تو بہت ہوگے تم آج؟”۔ امیتابھ بھی غالباً کسی دشمن سے اپنے غم کی بابت پوچھ رہا تھا کہ میرے دکھ پر خوش تو بہت ہوگے تم۔ بس کچھ ویسا ہی معاملہ ہے۔ مخاطب بس آپ لوگ ہیں “دوستوں”۔

نصرت صاحب فرما گئے “غم ہے یا خوشی ہے تو۔۔ میری زندگی ہے تو” تو بھیا ایسا ہے کہ آج مجھے ٹائم مشین ملے اور دوبارہ انتخاب دیا جائے تب بھی میں دوبارہ اسی رفیقہ حیات کا انتخاب کروں گا جس کا گیارہ سال پہلے کیا۔ اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں بھی ہیں اور یہی عقل مندی کا تقاضہ۔ عین ممکن ہے آپ کا ٹائم مشین پر ایمان آخرت کی زندگی سے زیادہ ہو، کم از کم میرا تو نہیں۔ اور مجھے بتایا گیا ہے کہ وہاں بھی آپ کی موجودہ رفیقہ حیات آپ کے ساتھ نتھی ہوں گی۔ سمجھ آئی؟ “غم ہے یا خوشی ہے تو۔۔ میری زندگی ہے تو”۔

بوبیتا میرا جگری اور لنگوٹیا ہے۔ کل ہی محفل میں مجھے میرا ہی قولِ خبیث یاد دلا گیا جو کبھی بیگم کی غیر موجودگی میں حالت وجد میں ادا ہوا “یار یہ ساتھ ہوتی ہیں تو ساتھ رہنا مشکل ہوتا ہے اور جب دور ہوتی ہیں تو رہنا مشکل تر ہوتا ہے”۔ بوبیتا کی بیگم اس وقت ساتھ ہیں۔ کچھ دن بعد شاید دور چلی جائیں کچھ عرصے کے لیے۔ لہذا کیلے کے چھلکے پر سے گرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ میری بیگم اک عرصہ ہوا اکیلے میکے نہیں گئی۔ یا میکہ ادھر آجاتا ہے یا میں بھی ساتھ ہی چل نکلتا ہوں۔ میں بوبیتا کی طرح خوش قسمت نہیں کہ فی الحال بیگم کے اکیلے میکے جانے کا کوئی امکان نہیں۔ “آج خوش تو بہت ہوگے تم؟”

شادی کے فوراً بعد مجھے یرقان ہو گیا تھا۔ کھانا بند۔ صرف پینا ہوتا تھا۔ اور پینا بھی فقط پانی یا شربت بذوری (اگر املا غلط ہے تو نشاندہی کریں میرے خاندان میں کوئی حکیم نہیں گزرا)۔ ہر وقت خان صاحب (مطلب کپتان نہیں پٹھان والے خان) کا لطیفہ یاد آتا۔۔۔ “خوچہ۔۔۔ پاس رہ کر بھی کتنی دوری ہے”۔ میں زوجہ محترمہ کو چمکتی آنکھوں سے دیکھنا شروع کرتا اور پھر چمک کی جگہ اداسی لے لیا کرتی۔ نیک بخت نے میری خوب خدمت کی۔ ڈاکٹر کے حکم پر دو جگ پانی معدے میں آنکھیں دکھا کر انڈیلتی، ہر دوسرے وقت پچھلے وقت کے مقابلے میں پھیکی تر دال ابال کر کھلاتی۔ باقی کا دن ہم ڈبو کھیلتے۔ ظاہر ہے باقی کچھ بچا ہی نہیں تھا۔ شادی کے بعد ریاست میں تعلیمِ (اصل والی) بالغاں کا کس قدر فقدان ہے مجھے تب سمجھ آیا جب یرقان ٹھیک ہونے پر پتہ چلا کہ یہ ایس ٹی ڈی نہیں۔ ایک ماہ ضائع ہوا میرا۔ ذہن میں بس ایک ہی لفظ چلے جا رہا تھا۔ “لعنت”۔

ہم دونوں نے گیارہ سال میں اچھا برا ہر طرح کا وقت دیکھا۔ میری ایک ملازمت ایسی بھی تھی جہاں تنخواہ دو دو ماہ نہ ملتی۔ ان دنوں کچھ ایسے ہی حالات چل رہے تھے۔ آفس سے گھر آیا تو مژدہ ملا گھر میں تیل سبزی نمک مرچ سب ختم۔ اگلے کھانے کو کچھ نہیں۔ ہم دونوں ہی ہوتے تھی تیسرا کوئی تھا نہیں تب تک۔ دونوں بیٹھ گئے اب کیا کریں۔ خوب سوچا۔ پھر اچانک زوجہ محترمہ اٹھیں اور ایک بیگ لے کر آئیں۔ اس بیگ میں سکے پڑے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پروفیسر کے پلین پر عمل کر کے کوئی سکوں کی Money Hiest سے آیا ہو۔ خیر، میں سکے لے کر قریبی دکان پہنچ گیا۔ وہاں سے میں نے “لطیف گھی” مبلغ ۲۳ روپے سکہ رائج الوقت خریدا بشمول دیگر سامان کے اور گھر واپس ہوا۔ کھانے کا جو ذائقہ اس رات ہمیں ملا شاید دنیا کا بہترین ریستوران بھی نہ دے پائے۔

گیارہ سالوں میں کئی نشیب و فراز آئے۔ کبھی مالی معاملات نے تنگ کیا تو کبھی گھر میں نوک جھونک نے۔ پیسہ بہت اہم شے ہے لیکن پیسہ سب کچھ نہیں یہ ادراک رکھنا بہت اہم ہے۔ ایک مثال دیتا ہوں۔ کچھ عرصے سے میں نے حربہ آزمانا شروع کیا کہ جس دن دوستوں کے ساتھ لمبی محفل ہوتی اس سے پہلے یا اس کے بعد بطور رشوت بیگم کو مال لے جاتا۔ کچھ دن تو یہ چلا۔ پھر اگلی کو سمجھ آگئی۔ اس کے بعد ہم نے باقاعدہ قانون پاس کروایا کہ مہینے میں ایک بار نائٹ لانگ محفل دوستوں کے نام دینے کی اجازت ہوگی۔ اور آپ عورت کو ناقص العقل سمجھتے ہیں؟

کبھی پیپسی میں مینٹوس ڈال کر دیکھی ہے؟ ایسا فوارہ مارتی ہے کہ نہ پوچھیے۔ میرے نزدیک شادی کے پہلے پانچ سال ویسے ہی volatile ہوتے ہیں۔ یا کم از کم میرے لیے رہے۔ میں نے اس دوران باہمی عزت و احترام، محبت اور سب سے اہم چیز بھروسہ قائم رکھا۔ بھروسے کا عالم یہ ہے کہ کل ہی بیگم مجھے ماضی بعید کی ایک دوشیزہ نما دکھائی۔ واٹس ایپ پر موصول ہونے والی ان تصاویر پر ناچیز کا ردعمل تھا “اے اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر کہ تو نے مجھے کردہ و ناکردہ گناہوں کی سزا دنیا میں دینے سے گریز کیا”۔

گھر میں ہر معاملے میں ایک شخص کے پاس ویٹو پاور ہونا لازمی ہے۔ پچھلے گیارہ سال سے میں آفس نکلتے ایک سوال روز سنتا ہوں۔ “آج کیا پکاؤں”۔ میری اہلیہ بھی ایک ہی جواب سنتی ہیں۔ “جو مرضی”۔ کیا پکے گا کیا نہیں یہ میرا فیصلہ نہیں۔ کہاں رہنا ہے کہاں نہیں یہ ہم دونوں مل کر طے کرتے ہیں مگر حتمی فیصلہ میرا ہوتا ہے جس کی عزت میرا خیال ہے میری بیگم کرتی ہیں۔ بچوں کی تعلیم پر بیگم کا فیصلہ حرف آخر ہوا کرتا ہے۔ مذہبی تربیت بیگم کرتی ہیں جس میں اکثر میں لبرلزم کا تڑکہ لگاتا رہتا ہوں کہ میری بیگم شدھ نہ سہی اچھی خاصہ مذہبی ضرور ہیں۔ انہوں نے کیا پہننا ہے کیا نہیں یہ ان کا مسئلہ ہے۔ میں نے کیا پہننا ہے کیا نہیں عموماً یہ بھی انہی کا مسئلہ ہوتا ہے۔ میں یہاں سست بھی ہوں اور مجبور بھی۔ انا اللہ مع الصابرین۔

ساس بہو والے معاملے میں میرا تجربہ برا بھی رہا اور اچھا بھی۔ جب جب میں بیچ میں بولا میری نہ وہ دنیا رہی نہ یہ دنیا۔ آخر میں نتیجہ یہ نکالا کہ ساس بہو کے معاملات میں “سرپنچ” بن کر فیصلہ دینا دنیا کی سب سے بڑی احمقانہ حرکت ہے۔ اس کا حل ہمیشہ بیک ڈور ڈپلومیسی میں پنہاں ہے۔ بیوی اور ماں سے ان دونوں کے باہمی تعلقات کے لیے الگ الگ چینل بنانے میں ہی عافیت ہے۔ میں اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہوں کہ میری اماں کی بہو بھی ایک ماں ہے اور میری بیوی کی ساس بھی کبھی بہو تھیں۔ پنچائت کھانا پکانے پر لگے گی اور اختتام شادی کے دن جوڑے کے ناپ پر بھی ختم نہیں ہوگی۔ بات جب ماں یا بیوی کی حمایت کی ہوگی تو پنچایت بٹھانا نہ آپ کو اچھا بیٹا چھوڑے گی نہ اچھا شوہر۔ الحمد للّٰہ اس معاملے میں ناچیز اچھا بیٹا بھی ہے اور اچھا شوہر بھی۔ بیک ڈور ڈپلومیسی کی اہمیت مسلمہ ہے۔

بیوی کی دعا خدا کے نتائج فوری طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہ نتیجہ بھی میں نے ذاتی طور پر اخذ کیا۔ ایک بار آفس کے ایک کام سے امریکہ جانا ہوا۔ جیسا کہ پہلے بتایا کہ بھروسہ اہم شے ہے لہذا بیگم کو مطلع کر کے میں سٹرپنگ کلب چلا گیا۔ شریف خاتون ہے کچھ نہ بولی خوشی خوشی اجازت دی کہ میری حدود اچھے سے جانتی ہے۔ ایک ہفتہ خوب مزے سے گزرا۔ واپس آیا تو اگلا سفر لاس ویگاس کا تھا۔ بیگم نے ایسی خشوع و خضوع اپنائی کہ اللہ پاک نے اس سفر سے پہلے ہی میری ملازمت ہی بدل ڈالی۔ بیگم کی دعا پنکھ نہیں طاقتِ راکٹ والی پرواز مگر رکھتی ہے۔

بھروسہ بہت اہم ہے پھر بیگم کتنی ہی شک کرنے والی کیوں نہ ہو۔ لیکن یاد رکھیے بھروسہ دو طرفہ ہوا کرتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی حد تک ہماری بیگمات شاذ ہی ہمارے بھروسے توڑا کرتی ہیں۔ یہ ہم ہی خبیث ہوتے ہیں جو یہاں وہاں منہ مارنے کی قبیح حرکت کرتے ہیں۔ یہ بیوی بچوں کے ساتھ شدید زیادتی ہے۔ الحمد للّٰہ میری بیگم کو مجھ پر مان ہے کہ میں بھروسے کی حد تک اچھا شوہر ہوں۔ ثبوت یہ ہے کہ میرے موبائل سے لیپ ٹاپ تک کا پاسورڈ بیگم کو معلوم ہے۔ لیکن اس کا ایک نقصان ضرور ہے۔ بیگم کو واٹس ایپ پر موصول ہونے والی ویڈیوز سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ کون سا دوست کس حد تک خبیث ہے۔ اور یہاں سے شروع ہوتی ہے آپ کے دوستوں کی بیگم کے نزدیک درجہ بندیاں۔ مثلاً مچھر میرا ایک لنگوٹیا ہے۔ اس سے ملاقات پر بیگم کبھی ناک نہیں چڑھاتی مگر اسحاق ڈار، ایک اور دوست، بیگم کی بیڈ بکس میں ہے۔ گو وہ میرے حق دوستی کی تعظیم ضرور کرتی ہیں۔ یاد رہے کسی کے راز واٹس ایپ یا میسنجر سے ڈیلیٹ کرنا مت بھولئیے۔

بات لمبی ہوگئی۔ ارادہ تھا گیارہ سال بعد محبت نامے کی تبدیل شدہ صورت ظاہر کروں کہ کیسی ہوتی ہوگی تاہم یہ تحریر ایک “بیسٹ پریکٹسز” کی شکل اختیار کر گئی۔ بہرحال مجھے اور میری اہلیہ کو شادی کے گیارہ سال مبارک ہوں۔ دعا ہے کہ ہم بچوں کے پیروں پہ کھڑے ہونے تک ان کے ساتھ رہیں اور جب الگ ہوں تو اکٹھے ہی الگ ہوں کہ زندگی کے سفر میں شریک حیات کا الگ ہوجانا ایسا ہے جیسے بچے کے ناز نخرے اٹھانے والا موجود نہ ہو۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *