کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط6

سویرا کے سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معینہ تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔

افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاًًًً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سِکس اور ہالی وُڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مذکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیبِ  داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں!

طفل خوابیدہ
پیانو پر انگلیاں ،کہ دیکھا کرے کوئی
ٹرنچ کوٹ
ایچ از فار ہاک
مصنفہ اور میبل گوز ہاک,گوز ہاک میبل

قسط نمبر پانچ کا آخری حصہ!

نیلم کو مرغ والی بات بہت عجب لگی ،اس کا دل چاہا کہ وہ اس سے اس عجیب ورزش کا پوچھے مگر اسے لگا کہ ایک دفعہ اس کی آنکھیں پھر بند ہوگئی ہیں،بے چارہ مروتاً نیند کے باجود سونے کی اجازت نہیں مانگ رہا۔اس نے خود ہی سوچا کہ اگر انجیلا پارک جو کوریا کی گالف چیمپئن تھی اپنے شوق کی وجہ سے گالف کلب لے کر نزدیکی قبرستان میں چلی جاتی تھی اور وہاں قبر تا قبر پریکٹس کرکے چیمپئن بن گئی تو مرغے کے پیچھے جان کھپانا بھی یقینا ً تربیت کا کوئی مرحلہ ہو گا۔
ان بیوروکریٹس اور بزرگوں کی حرکات کا کچھ پتہ نہیں کہ یہ کس  کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں۔ارسلان سے وہ پوچھتی تو وہ کہتا کہ یہاں کیماڑی کراچی میں ایک بزرگ تھے۔ ان کی بیٹھک میں  گدے اور سفید چادر بچھی رہتی تھی، سالک ساتھ کے کمرے میں دروازے سے لگ کر بیٹھتے تھے۔مسئلہ دریافت کرنے پر بزرگ کمرے میں بچوں کی طرح قلابازیاں لگاتے تھے ،کچھ دیر سانس بحال ہوتی تو وہ سوالات کے  جواب دیتے تھے۔
ذرا دیر میں اس کی آنکھ کھلی تو اس نے ارسلان کو کہا کہ وہ سو جائے۔ وہ تھک گیا ہوگا،حضرت بھی جیسے آدھی روٹی پر دال لیے بیٹھے تھے(دہلی کی عورتوں کے محاورے میں  آسرا نہ کرنا)پیر لمبے کیے اور قلندر کی طرح ڈھیر ہوگئے۔

نیلم کو جب یہ یقین ہوگیا کہ وہ واقعی دنیا و مافیا سے بے خبر چھوٹے بچوں کی طرح منہ  کھولے سو رہا تو وہ اس کی نشست کی طرف آئی اور انگلی اس کے منہ  میں ڈال کر جلدی سے کھینچ لی۔نیلم کو لگا کہ سویا ہوا مرد گود کے بچے کی طرح ہوتا ہے۔عورت کو پیار ہو تو اس سے زیادہ بے ضرر اور کنٹرول کرنے میں آسان کوئی اور وجود نہیں۔اسے لگا وہ صبح تک اسے دیکھتی رہے تب بھی اس کا دل نہیں بھرے گا۔اس  نے بہت  آہستگی سے اس کے بالوں کی اوپری سطح پر کسی مشاق Pianist کی طرح اوپر اوپر سے انگلیاں پھیریں  جیسے وہ کوئی‘Ivorite(وہ پلاسٹک جو ہاتھی دانت کی مانند ہوتا ہے) کا بنا ہوا کی بورڈ ہوں۔ابھی اس کی بورڈ کو چھیڑکر پیانو بجانے کا  فیصلہ نہیں ہوا۔
بے چارہ۔۔چلو اس کی کوئی مدرنگ کرتے ہیں، اس نے اپنا ٹرینچ کوٹ اس کے گارمنٹ بیگ سے نکالا اورارسلان پر ڈال دیا تاکہ امیر مقام خوشبو بھی سونگھتے رہیں گے اور اس کی وجود کی متروکہ گرماہٹ سے لپٹ کر سوتے بھی رہیں گے۔رات کی خنکی کے پیش نظر اپنا کیپ پہن لیا اور شال  ایک طرح سے پشت پر جمالی اور اپنے آئی پیڈ پر ہیلن میکڈونلڈ کی مشہور کتاب ایچ از فار دی ہاک پڑھنے لگی۔ایک بیٹی نے اپنے مرحوم باپ کی یاد میں باز کو سدھانا سیکھا۔ یہ وہ داستان تھی۔

گڈی کی فرمائش
اسکی پول ائیر پورٹ
کراٹے کی مشق جسے کاتھا کہتے ہیں
کاتھاز

قسط نمبر چھ!
دوران مطالعہ جلد ہی اسے احساس ہوا کہ دھیان کچھ منقسم سا ہے۔کتاب ایک صدمے، ایک محرومی کے نشیب و فراز سے نمٹنے کے لیے انفرادی mechanisms . کی اہمیت اجاگر کرتی ہے اسے عین اس وقت گڈی کے  گاؤں کے شیو کمار بٹالوی یاد آگئے۔ ان کی مشہور نظم اس کتاب کے ٹائٹل اور حوالے سے اسے اداس کرگئی۔اس مرد خوابیدہ کو کچھ پتہ نہ تھا کہ اس کے سامنے بیٹھی ہوئی خاتون کو سردست زندگی کے کن بڑے فیصلوں کا سامنا ہے۔
گڈی ہفتے دس دن میں کسی شام بار سے نکل کر اپنے فلیٹ پر دھونی رماتی ۔نیلم اپنے میاں سعید کو ایک مختصر سا میسج اپنی دیر سے آمد کے بارے میں کردیتی۔ اس بے راہ روی پر ساس بڑ بڑاتی تو سعید موضوع بد ل دیتا۔ دھونی کا اہتمام یوں ہوتا کہ ایک بڑا سا کھلا کھلا گیروے رنگ کا بے بٹن،بے تسمہ کفتان پہن کر جب کسی نئی جسمانی قربت کا احوال سنانا ہوتا،جسموں پر پڑے نشانات وحشت اسے بطور ترغیب دکھانا ہوتے تو وہ تانپورہ لے کر جگجیت سنگھ کے انداز میں یہ گیت بخور جلا کر گاتی۔اس کی ضد ہوتی کہ نیلم بھی اس کے سامنے برہنہ یا کم از کم ایک سرخ یا سیاہ ساڑھی پہن کر دیوی بن کر بیٹھے۔سرخ رنگ اس وقت جب شب ِ وصال آسودہ اور من پسند ہوتی اور سیاہ اگر وہ کوئی شبِ مایوسی رہی ہوتی۔کیرتن (سکھوں کی عبادت میں تعریفی نغمات ) کی محافل میں شرکت کی وجہ سے گڈی کو گائیکی کا غیرمعمولی گیان تھا۔گڈی گاتی۔
مائے نی مائے میں اک شکرہ یار بنایا
اوہدے سر تے کلغی
تے پیریں جھانجر
او چوگ چگیندا آیا
اک اودے روپ دی دھوپ تکھیری
او دوجا مہکاں ترایا
تیجا او دا رنگ گلابی
او کسی گوری ماں دا جایا۔۔۔۔۔۔

کراساں اور کافی

لو لو ایپلک پاؤچ

نیلم نے یہ سوچ کر خود اپنے  گریبان کے  اندر جھانکا۔ سینے کی گولائیاں بے نشان تھیں اس نے زیرِ  لب گڈی کی نقل میں گاتے ہوئے سوچا کہ کیا یہ مصنفہ ہیلن میک ڈونلڈ کا وہ Goshawk. ، Mabel. ہے ویسا ہی ایک شکرہ جس کا ذکر شیو کمار نے اپنی نظم میں کیا تھا۔ کیا وہ بھی اس کی طرح پرندے پالنے کے شوق میں پڑ رہی تھی۔
اپنے درد و الم کو دور کرنے کے لیے وہ بھی میبل پالنے پر تو نہیں اتر آئی۔اسے سدھانا اور پالنا آسان نہ ہوگا۔پل بھی گیا اور سدھا بھی لیا تو کیا میبل اس کا بن کر رہے گا۔جب وہ اسے پرواز کے لیے اسلام آباد ائیر پورٹ پر رہا کرے گی تو کیا وہ لوٹ کر واپس آئے گا؟
پڑھتے پڑھاتے،سوتے جاگتے، اسے دیکھتے دیکھتے جانے کیا لمحات آئے گئے کہ کسی پل نامحسوس انداز میں وہ نیند کی وادیوں میں اس وقت تک بھٹکا کی جب تک کہ  اسے صبح کے شور نے بیدار کردیا۔۔صبح کی پہلی فلائٹوں کے مسافروں کی ہل چل سنائی دی۔حضرت اب بھی سو رہے تھے۔بڑے آئے فجر کی اذان سے کچھ دیر پہلے اٹھنے، ذکر اذکار کرنے والے،کہاں کی تلاوت اور نماز سے فراغت۔ارے آپ کے  پلے ہوئے مرغے یہاں اسکی پول ائیر پورٹ پر کہاں۔ ایک آدھ دیسی مرغ بھی نہیں کہ ڈربے سے باہر نکال کر اس کو پکڑنے کی کوشش کریں۔کراٹے کے کاتھاز بھی کرنے کی جگہ نہیں بھلے سے براؤن بیلٹ ہوں۔ہاں آپ کو تو اوشا ہاتھ پکڑ کر بیڈ روم تک چھوڑ آتی تھی۔یہ غلطی ہوئی اس لیے آپ ٹھیک سے سو نہیں پائے۔ میں کون ہوں کہ آپ کے لیے یہ سب کچھ کرتی۔یہ تو ایک چانس میٹنگ ہے۔ آپ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے اگر آپ پر میں نےBurberry کے پرفیوم کی خوشبو سے رچا ہوا ٹرینچ کوٹ ڈالا ہو۔

گھر کے بستر کا مزہ اور ہے اوشا کی کون جانے کیا پتہ وہ واپس اپنے بیٹے اور گرے پریٹ والے کمرے میں جاتی ہے یا اس کے فرائض میں افسر خوابیدہ کو کمبل سی گرمی کا فراہم کرنا بھی شامل ہے۔فیاض آدمی ہیں، بستر بھی یقیناً مقامِ  فیض و کشاکش ہوگا۔اسلام آباد میں سونے والیاں،بستر زادیاں، لندن سے کم نہیں۔ملازمت اور مال کے فوائد کی بھرمار کے لیے کونے کونے سے اہل طلب آتے ہوں گے۔ گڈی کہتی تھی وہاں ہندوستان میں عورت کنفیوژن میں زیادہ سیکس کرتی ہے بہ نسبت ادھر اپنی طرف انگلینڈکے It is all about choice. If you like it do it.Whats a big deal.(ایسا بھی کیا، یہ تو من چلے کا سودا ہے، من کرے تو موج کرو)

وہ اس سوچ میں تھی کہ اسے کیسے جگائے ،عین اس لمحے کسی کے ہاتھ  سے سیل فون گرا ،اور حضرت کی آنکھ کھل گئی، ورنہ اس کا ارادہ تھا کہ وہ اسے خود ہلکی سی چپت لگا کر منا بھائی ایم بی بی ایس والوں کی طرح کہے گی، چندا ماموں سوگئے سورج چاچو جاگے۔دیکھو پکڑو یارو گھڑی کے کانٹے بھاگے،ایک کہانی ختم تو دوجی شروع ہوگئی ماموں ۔اس کا مردوں کے ساتھ صبح اٹھنے کا تجربہ بہت محدود تھا۔وجدان کے ساتھ اس کا نائٹ کرفیو رات دس بجے شروع ہوجاتا تھا۔وہ بھی اس کا احترام کرتا تھا۔یہ سوچ کر کہ نیلم اگر مہرباں ہوئی تو گھڑی کا وجود بے معنی ہوگا، شکھری دوپہر میں کالج سے آن کر پردے کھینچ لیں گے، بلائنڈ گرالیں گے تو رات خود ہی دھمی لڈی چل پڑے گی۔سعید کو ایک دفعہ اس نے چھیڑنے کے لیے اعلی  الصبح یہ کہہ کر  جگا دیا تھا کہ صبح ہوگئی ماموں ،تو اس نے لیٹے  لیٹےاس کے کولہے پر لات رسید کی تھی اور انگریزی میں ایف۔ او بھی کہا تھا۔یعنی F – -k off

مسکرا کرگڈو نے اسے ا ے ویری گڈ مارننگ کہا اور ایک جھٹکے سے اس کا کوٹ سنبھال کر اٹھ بیٹھا، سلیقے سے اس کا کوٹ لٹکایا اور باتھ روم سے ہو کر آیا۔سعید ایسا نہ تھا ،اس کے کپڑے اشیاء  کرسیوں اور صوفے پر پڑی ہوتی تھیں۔واپسی پر ناشتے پر اس نے بتایا کہ وہ ناشتے کا شوقین ہے،نیلم کو کافی کراساں کی عادت تھی۔

اتوار ہونے کی وجہ سے ائیرپورٹ پر رش نہ تھا۔یہ واپس لوٹنے والوں کا دن تھا ،جانے والوں کا نہیں۔لنچ تک وہ وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔فون نمبر اس کے ڈائریکٹر اسپیشل پراجیکٹس اینڈ فارن اسسٹنس ۔ منفل والے کارڈ پر لکھا تھا وہ اسلام آباد آنا چاہے تو اس کا اپنا گھر بھی حاضر ہے۔ ان کے پاکستان بھر میں مختلف مقامات پر پراجیکٹس ہیں۔طعام اور قیام کا معقول بندوبست ہے۔وہ جہاں ہو بتادے ،وہ بھی دورہ بنا کر پہنچ جائے گا۔نیلم نے احتیاط سے اس کے فوٹو۔ گریبس بنائے۔وہ کارڈ وغیرہ گم کردیتی تھی مگر اس کا کارڈ اپنے تین چار کریڈٹس کارڈ کے درمیان اس نے Lulu Guinness Applique Lip Lottie Pouch: میں اڑس لیا۔یہ گم ہوگیا تو ظلم ہوگا۔وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اسے دفاتر میں خوار ہوکر تلاش کرے۔میرا شکرہ میرا میبل، میرا گڈو میرے بلانے پر آئے گا۔وہ ہنس دی جس پر ارسلان کو خاصی حیرت ہوئی۔

باہمی گفتگو اور مسافروں کو دیکھنے کے  دوران  ان پر اس کے دل چسپ تبصرے اور اپنی مختلف پوسٹنگز سے جڑے واقعات سنتے ہوئے ،نیلم کو پتہ ہی نہ چلا کہ ان کی پونے تین بجے کی فلائیٹ کا وقت آگیا ہے۔اس کی ناخوشی کے حوالے سے جب ارسلان نے مزید کریدا تو وہ کہنے لگی اگر ترکی میں نہیں تو بہت ممکن ہے۔۔پاکستان جاکر اس کی یہ شادی ختم ہوجائے۔ایسا ہوا تو اس کا پاسپورٹ پاکستانی ہے۔ اس کا نجی سامان شوہر کے گھر موجود ہے ،وہ کیسے ملے گا؟

آئی ماسک
گتکا
گتکا
استنبول کا لیفٹ لگیج

ارسلان نے کہا عدالت میں جو فیصلہ ہوگا اس میں وکیل کے ذریعے یہ بات ڈلوائی جاسکتی ہے کہ وہ یہ سامان گڈی کے حوالے کریں گے۔ میں اورگڈی دونوں ساتھ جاکر اس کی دی ہوئی فہرست   کے حساب سے لے لیں گے۔وہ نہ دیں تو؟ نیلم نے پوچھا۔ہم ان کا کشمیر میں ناطقہ بند کردیں گے۔عدالت کے حکم پر اس کا جینا دوبھر کیا جاسکتا ہے۔

ساڑھے تین گھنٹے کی ٹرکش ائیرلائن کی فلائٹ نے  انہیں ساڑھے آٹھ بجے استنبول پہنچانا ہے۔ دونوں ممالک کے وقت میں دو گھنٹے کا فرق تھا۔نیلم کے دل میں یہ تفکرات کُلبلا رہے تھے کہ رات ایک اجنبی ملک میں ایک مکمل اجنبی مرد کے ساتھ ائیرپورٹ سے ہوٹل کے مراحل کیسے طے ہوں گے۔اسے یہ بخوبی علم تھا کہ وہاں سعید اسے لینے نہیں آیا ہوگا۔کیا یہ ممکن ہے کہ وہ استنبول سے سیدھا اسلام آباد کا ٹکٹ لے لے۔ وہ اگر استنبول میں قیام کرتی ہے تو سعید کے پاس اس کے الزام لگانے کو ایک اور کھڑکی کُھل جائے گی۔سعید کے خیال کو تو اس نے اپنا بورڈنگ کارڈ سنبھالتے وقت ایک جھرجھری لے کر جھٹک د یا۔اس جھپک میں اسے یاد نہ رہا کہ وہ اپنے بلندیوں کے خوف (Acrophobia)کی وجہ سے  کاؤنٹر پر یہ  بتانا بھول گئی کہ اسے ونڈو سیٹ نہ دی جائے۔

تین مسافروں کی سیٹ میں درمیان والی پر کوئی ترکی بوڑھا براجمان تھا۔مسئلہ یہ تھا کہ  اسے انگریزی نہیں آتی تھی۔آئیل سیٹ پر ارسلان میاں درمیان میں   اور وہ  خود ونڈو سیٹ کے ساتھ۔کچھ یوں بندوبست تھا۔ وہ سن نہیں پائی کہ مرد فضائی میزبان کو انگریزی میں ارسلان نے جانے کیا کہا کہ وہ اس بوڑھے کو لے کر کہیں اور بٹھانے چل دیا اور ارسلان نے کہا کہ وہ اب اپنے خوف اور سچ کو نبھانے کے لیے چاہے توآئیل کی سیٹ پر آسکتی ہے بلکہ وہ چاہے تو درمیان سے ہینڈل ہٹانے کی وجہ سے   سو بھی سکتی ہے،اس کی جانب پیر کرکے۔جہاز میں رش نہ تھا اس لیے اس کے ذہن میں نہ رہا کہ وہ پوچھتی کہ درمیان والے مسافر کو اس نے کیوں کر ٹھکانے لگایا  ۔

جہاز کے بلند ہونے کا اعلان ہوا تو وہ کچھ پریشان لگی۔ارسلان نے یہ سب بھانپ لیا۔اپنی سیٹ سے کمبل ہٹا کر اسے  اوڑھنے کی تلقین کی۔اس نے یہ تجویز رد کردی۔ البتہ اپناا ٓئی ماسک آنکھوں پر چڑھا لیا۔فلائٹ کے دوران وہ چپ چپ رہی،شاید کچھ دیر کو سو بھی گئی تھی کہ رات جب حضرت سویا کیے تھے تو موصوفہ انہیں تا دیر انہماک سے دیکھا کیے تھیں۔ مہ نو کو کیا پتہ ہے کہاں جاکے رات ٹھہرے۔ارسلان کو کچھ نہیں خبر تھی کہ نیلم کو ملنے والے ا ٓخری ایس۔ ایم۔ایس سے اس شادی کا ڈراپ سین ہوگیا تھا۔وہ رات اسے بہت دیر دیکھ دیکھ کر یہ سوچ سوچ کر دیر تک اشکبار رہی تھی۔اچھا ہوا کہ اس نے اس اعزا داری کے لمحات میں اسے آنکھ کھول کر نہیں دیکھا۔اس نے دو تین دفعہ پوچھا بھی کہ وہ کل شام کی نسبت  چپ چپ ہے مگر اس نے اسے ایک خوب صورت انگریزی کے فقرے

There is a tide in the affairs of men. Which, taken at the flood, leads on to fortune”

سے ٹال دیا تھا چوں کہ اس جملے میں آئندہ طوفانون سے فائدہ اٹھانے کی نوید تھی لہذا ارسلان کو پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ وہ انگریزی نہیں جس کا مطلب وہ سمجھ رہا ہے۔اس جملے سے نیلم کو ایک دھواں۔ پردہ (Smoke-Screen)تان لینے کی مہلت مل گئی۔

ہر عورت کو اللہ نے اس صلاحیت سے نوازا ہے کہ وہ بہ یک وقت کئی لیول پر کئی پہلو سے سوچ سکتی ہے۔ اپنی اس ذہنی گتکے بازی میں دکھاوے کا ایک روپ بھی دنیا کی خاطر وہ سب کی نگاہوں کے سامنے لہراتی رہتی ہے۔ یہ دکھاوا اس بنیادی کیفیت سے بہت جدا ہوتا ہے جو اس کے ذہن میں در پیش مسائل سے جڑکر چل رہی ہوتی ہے۔ اس لیے ارسلان کو بھی اس کیفیت کا کچھ زیادہ اندازہ نہ ہوا,جس کا نیلم رات گئے شکار ہوئی تھی۔ایک خوش فہمی البتہ اسے دامن گیر رہی کہ شاید وہ اس کے ساتھ ترکی گھومنا چاہتی ہے اور اس بات کے حوالے سے ذہنی الجھن کا شکار ہے کہ وہاں اس کا میاں سعید اگر موجود ہوا تو یہ رومانٹک تعلق ایک ائیر پورٹ سے شروع ہوکر دوسرے ائیر پورٹ پر اختتام پذیر ہوجائے گا۔ اسے اس احساس تفاخر نے سرشار رکھا کہ کہیں دور جاکر نیلم نے اسے اپنے میاں سعید گیلانی سے بہتر سمجھا ہے۔

ایئر پورٹ لاؤنج میں آتے ہوئے احتیاط آشنا ارسلان نے نیلم سے دور چلنا شروع کردیا۔نیلم کو یہ اچھا لگا۔اس نے اشارے سے کہا بھی کہ ساتھ رہیں مگر وہ کہنے لگا کہ شیشوں کے پار کھڑا سعید  اگر دیکھ رہا ہوگا تو مشکل ہوگی۔یہ فیصلہ جہاز میں ہی ہوگیا تھا کہ نیلم اپنا بڑا سا سوٹ کیس اور چھوٹا سا رول آن وہاں امانت بیگج یعنیAtaturk Airport Left Luggage/ Baggage میں چھوڑ
دے گی۔اس کے چھوٹے سے سوٹ کیس میں اپنا سامان رکھ لے گی جو چار پہیوں  کی وجہ سے لانا لے جانا آسان تھا۔ارسلان نے پوچھا بھی کہ اگر سعید نے پوچھا یہ کیا ہے کہ اس کا سامان دوسرے کے بیگ میں  سے   نکل رہا، تو وہ کہے گی کہ غلط ٹیگ لگ جانے کی وجہ سے یہ گڑبڑ ہوئی ہے۔اس کی مزید تفتیش سے بچنے کے لیے اس نے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا My Husband, My Answers.This is# metooویسے اسے یقین ہے کہ وہ لوزر وہاں اس کے لیے نہیں رکا ہوگا۔بس ایکout of an abundance of caution(ایسی احتیاط جو کسی ایسے امر کے حوالے سے ہو جس کا امکان محض ایک اندیشہء دور دراز ہو) ہم کچھ دیر انتظار کریں گے۔
سامان جلد آگیا اور وہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر لاؤنج سے باہر آگئے۔
نیلم کی زندگی کا مشکل ترین مرحلہ یہ ایئرپورٹ اور ہوٹل تک کا تھا۔جہاز سے باہر آتے ہوئے لگا کہ زندگی میں اتنا بڑا چیلنج کا کبھی اسے سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ وہ تمام بڑے فیصلے کی جو اس کی زندگی کے سنگ ہائے میل تھے ،ان کی ایک ہائی اسپیڈ فلم اس کے نہاں خانہ وجود کی  اسکرین پر چلنے لگی۔ وجدان سے شادی کا سوچنا اور اس فیصلے پر اپنے جبرو باپ کے احترام میں شادی نہ کرنا ،جوانی کی کنٹرول اسٹریک تھی۔اپنے ضبط اور والدین سے وفاداری کا پاس۔

سعید کی دلہن بن کربرطانیہ آنا ایک رسم دنیا اور ایک نئی دنیا کی کھوج تھی۔سعید کے مد مقابل دستیاب سب رشتے قرابت داروں اور برادری والوں کے تھے۔ سب ہی بہت روٹین سے مرد تھے۔برطانیہ آنے کے فیصلے میں نیلم کے  سامنے یہ نقطہ بھی تھا کہ اگر شادی میں کوئی اڑچن آئی تو وہ اس سے جان چھڑا کر وجدان اور گڈی جیسا بوہیمیئن لائف اسٹائل اپنا لے گی یا کوئی مالدار مرد گھیر کر اس کی دولت کے مزے لوٹے گی۔ یہ فلائٹ کیا مس ہوئی، یہ اجنبی کیا ملا، یہ کیسی عجب صورت حالات بنی کہ جو محض ایک حادثہ تھاوہ ہی پیار کا عنوان بن گیا۔ وہ جو اجنبی تھا وہی روح کا ارمان بن گیا۔

جاری ہے!

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *