• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اندیور: آسان زبان، گہری فکر اور قلبی واردات کا فلمی گیت نگار ۔۔۔احمد سہیل

اندیور: آسان زبان، گہری فکر اور قلبی واردات کا فلمی گیت نگار ۔۔۔احمد سہیل

آمد: یکم جنوری 1924 ۔۔۔ رخصت: 27 جنوری 1997{ عمر 73}
ان کا اصل نام شیام لعل بابو تھا۔ اندیور جھانسی کے ضلع کے چھوٹے سے قصبے ” بروا ساگر ” کے دھرسنا گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں بہت سرگرم رہے۔ اسی زمانے میں انھوں نے فرنگی سامراج کے خلاف ایک نظم لکھی جس کی پاداش میں انھیں پابند سلاسل بھی کیا گیا ۔

جنگ عظیم دوم اپنے عروج پر تھی ہندوستان میں ’’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘‘ شروع ہو چکی تھی۔آہستہ آہستہ اس تحریک نے زور پکڑنا شروع کر دیا۔ مہاتما گاندھی اور ان کے پیرو کار اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے ۔ایک 18سالہ لڑکا بھی بڑے جوش و خروش سے اس تحریک میں شامل تھا۔ اس لڑکے کا جذبہ اور استقلال قابل رشک تھا۔ مہاتما گاندھی نے بھی اس لڑکے کی جرات اور حوصلے کی تعریف کی ،اس وقت اس 18سالہ نوجوان کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ وہ آنے والے وقتوں میں ہندوستان کی فلمی صنعت کے اہم ترین گیت نگاروں میں شامل ہو گا
اندیور بھارتی فلمی صنعت کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ بطور گیت نگار ان کی 1949 میں نمائش کے لیے پیش ہونے والی فلم ’’ملہار‘‘ کے گیت سے ہوئی جسے مکیش نے گایا’’تارہ ٹوٹے دنیا دیکھے۔۔۔دیکھا نہ کسی نے دل ٹوٹ گیا۔ ‘‘ اسی فلم میں لتا اور مکیش کی آوازوں میں ایک دوگانا: ’’بڑے ارمانوں سے رکھا ہے بلم تیری قسم۔۔۔پیار کی دنیا میں یہ پہلا قدم۔‘‘ ان گانوں کی طرزیں موسیقار روشن نے ترتیب دیں، جو پاک و ہند میں چہار جانب گونجنے لگے۔ اندیور نے فلموں کے لیے ہزاروں گیت لکھے جن میں سے اکثر بے حد مقبول ہوئے۔ 1980کے نازیہ اور زوہیب حسن کے مقبول گیت’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے۔ انہوں نے ہمیشہ معیاری شاعری کی اور اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ وہ لکیر کے فقیر نہیں تھے بلکہ انہوں نے اپنی شاعری کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔80ء کی دہائی میں موسیقار بپی لہری کی آمد ہوئی اور انہوں نے تخلیق کے ٹھہرے ہوئے پانیوں میں پتھر پھینکا۔انہوں نے بھارتی موسیقی میں ایک نئی صنف کا اضافہ کیا جس کا نام تھا “ڈسکو” تھا۔۔ یہ صنف تیزی سے نوجوانوں میں مقبول ہوئی لیکن اس کا ایک نقصان ہوا اور وہ یہ کہ فلمی گانوں کی اہمیت کم ہو گئی۔کئی بے معنی گیت لکھے گئے لیکن اندیور نے بپی لہری کے لیے بھی بامعنی گیت لکھے اور معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔’’ہمت والا‘‘ کے اس گیت پر غور کیجئے،’’نینوں میں سپنا ‘‘اسی طرح ’’تحفہ‘‘کا یہ گیت ’’پیار کا تحفہ تیرا ،بنا ہے جیون میرا‘‘کسی توصیف کا محتاج نہیں۔ اندیور کی فلمی شاعری کی بہت سی پرتیں ہیں انہوں نے اپنے گیتوں کو نئے رویوں اور مزاجوں سے آشنا کیا ہے۔ وہ اپنے گانوں میں آسان اردو کے الفاظ استعمال کیا کرتے تھے انھوں نے تین سو/ سے زائد 300 فلموں کے گانے لکھے وہ پانچ دہائیوں تک فلمی گیتوں سے منسلک رہے۔ اندیور کے قریبی دوستوں میں لکشمی کانت پیارے لال، کلیاں جی آنند جی، مکیش اور منوج کمار شامل تھے۔ ان کے یہ فلمی گانے بھلائے نہیں جاسکتے :
* قسمیں وعدے پیار وفا ( اپکار۔ 1967)
* چندن سا بدن۔۔۔۔ میں تو بھول چکی بابل کا دیس ۔۔۔۔پھول تمھیں بھیجا ہے خط میں، پھول نہیں میرا دل ہے( سرسروتی چندرا۔ 1968)
* دلہن چلی او بہن چلی ۔۔۔۔ کوئی جب تمہارا ردے توڑ دے ۔۔۔ ( پورب و پچھم۔ 1970)
* پل بھر کے لیے کوئی ہمیں پیار کرلے ، تھوڑا ہی سہی۔۔ ( جانی میرا نام ، 1970)
* زندگی کا سفر ، ہے یہ کیسا سفر ( سفر۔ 1970)
* یہ میرا دل ( ڈان 1978)
* مدھوبن خوشبو دیتا ہے (ساجن بن سہاگن۔ 1978)
* میرا چاند مجھے آیا ھے نظر ( مسٹر عاشق۔ 1996)
* دیکھا تجھے تو ھو گئی دیوانی ( کوئل۔ 1997)
* وقت کرتا جو وفا آپ ھمارے ہوتے ( دل نے پکارا 1971 )
* اورے تال ملے ندی کے جل میں ندی ملے ساگر میں (انوکھی رات 1968 )
1976 میں اندیور کے لکھے ہوئے گیت۔” دل ایسا کسی نے میرا توڑا”۔ کو فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ اس کے علارہ ان کے لکھے ہوئے فلمی گیتوں ۔ ” ایک تو نہ ملا ” ( ہمالیہ کی گود میں۔ 1966)، ۔۔ سمجھوتہ غموں سے کرلوں زندگی میں غم بھی ملتے ہیں'”(سمجھوتہ۔ 1974) ۔۔۔ فلم ” ریشم کی ڈوری” (1975) اور فلم ” طوفان”،(1985) کو فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔ ممبئی میں فوت ہوئے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *