• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تیسری دنیاکےمنگوکوچوان اورتبدیلی نماآزادی۔۔۔ساجد محمود خان

تیسری دنیاکےمنگوکوچوان اورتبدیلی نماآزادی۔۔۔ساجد محمود خان

SHOPPING
SHOPPING

سعادت حسن منٹو مرحوم کا افسانہ “نیا قانون” ایک ایسی کہانی ہے جس میں وہ تقسیم ہند سے قبل انگریز سرکار کے بنائے ہوئے قانون (1935 گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ) اور ایک سادہ لوح کوچوان کا ذکرکرتا ہے ۔ 1935 گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ منظور تو اگست 1935 میں ہی ہو گیا تھا مگر اس کا باقاعدہ اطلاق یکم اپریل 1937 کو کیا گیا تھا۔ اس افسانے میں مرکزی کردار ایک سادہ لوح اور ان پڑھ کوچوان منگو کا ہے۔ منگو کوچوان بظاہر تو پڑھا لکھا نہیں ہوتا مگر ہندوستان کے حالات کی خبر ضرور رکھتا ہے۔ اس کے ملکی معاملات سے باخبر رہنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ وہ سواریاں ہوتی ہیں جو منگو کے تانگے میں سفر کرتے ہوئے ہندوستان کے  دیگر معاملات کو زیر بحث لاتی  ہیں۔ یہی سیاسی اور حالات حاضرہ کی باتیں وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق آگے اپنے دوستوں کو بیان کرتا ہے۔ ایک دن وہ کسی سواری سے 1935 کے قانون کے نفاذ کے بارے میں سنتا ہے۔ جس سے وہ اپنی فہم کے مطابق یہی مطلب لیتا ہے کہ 1935 ایکٹ کے نفاذ کے بعد سب کچھ بدل جائے گا اور ہندوستان کے باشندوں کو گوروں کے برابر یکساں حقوق حاصل ہونگے۔اور اس نئے قانون کے نفاذ سے ہندوستان میں آزادی کا ایک نیا دورشروع ہو جائے گا۔
آخر کار منگو کوچوان کا وہ خاص دن بھی آتا ہے جس دن اس نے نئے قانون کے نفاذ کا سن رکھا تھا۔ اس دن منگو نے آزاد فضاؤں میں سانس لینا تھا۔ اس کے خیال میں سب کچھ بدل گیا ہو گا اور وہ گورے انگریز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے گا۔ اسی غلط فہمی میں وہ انگریز سپاہی سے لڑ پڑتا ہے اورسیدھا جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ جاتا ہے۔ جہاں   اس کو معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی اور آزادی کا جو خاکہ اس کے ذہن میں تھا وہ اس کی غلط فہمی کے سوا کچھ اور نہ تھا۔
اگر آج بھی کسی کو یہ لگتا ہے کہ ہم ( ہم سے مراد تیسری دنیا کی بے شعور عوام) بڑی بڑی سرمایہ دار ریاستوں / افراد / پارٹیوں کے سامراج سے آزاد ہیں اور تبدیلی آگئی ہے تو ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ کوئی نیا قانون لاگو نہیں ہوا ہے اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہ صرف ہمارے آقاؤں کی تبدیلی ہے اب ہمارے آقا اور وہ پیچیدہ جال تبدیل ہو چکے ہیں۔ آسان بھاشا میں اب ہم ایک آقا کی غلامی سے دوسرے آقا کی غلامی میں باعزت طریقے سے تشریف لاچکے ہیں۔ بسا اوقات غریب اور پسماندہ عوام کو نئے آقا کی آواز ذرا سریلی سی لگتی ہے مگر درحقیقت وہ نیا آقا بھی پچھلے آقا کی طرح ایک موقع شناس اور اپنی  طاقت کومزید دوام بخشنے کے چکرمیں ہوتا ہے۔ آج بھی ایشیاء اور افریقہ کے بیشتر ممالک کے عوام ایک حکمران کی تبدیلی کو اپنی خوشحالی کا ضامن سمجھ بیٹھتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کسی ملک کے باشندوں کی سوچ میں بنیادی تبدیلیاں نہیں آئیں گی تو ملک کے حالات تبدیل نہیں ہونگے مثلاً اگر کوئی ملک ٹیکس کے حوالے سے نہایت عمدہ قوانین بنا لے مگر جب تک معاشرے میں ٹیکس کے حوالے سے مثبت سوچ نہیں ہو گی اور لوگ ٹیکس دینا اپنا قومی فریضہ نہیں سمجھیں گے تو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔ اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر امریکہ نے جرمنی اور جاپان جیسے ممالک کو بھی قرضے دیئے جبکہ پاکستان اور مصر جیسے ترقی پذیر ممالک کو بھی قرضے دیئے گئے اور نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔ جاپان اور جرمنی پھر سے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو گئے، کیونکہ ان کے لو گوں کی  شعوری سطح پہلے  سے مثبت اور بلندتھی۔ میری ناقص رائے کے مطابق اگرکسی بھی ملک کو عالمی سامراجی قوتوں سے نجات حاصل کرنی ہے تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں لوگوں پر سرمایہ کاری کریں اور لوگوں کو باشعور بنائیں تاکہ وہ حقیقی لیڈرشیپ منتخب  کر کے ملک کے بنیادی مسائل پر توجہ دے۔

SHOPPING

نوٹ:- اس کالم میں پیش کردہ رائے ایک عمومی اور ذاتی رائے ہے جس کی کسی شخص ، پارٹی یا ملک سے مشابہت محض اتفاق ہو گا ۔

SHOPPING

ساجد محمود خان
ساجد محمود خان
۔ سیاسیات کا طالب علم۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *