کشمیر ایشو،حل اورسٹانس۔۔۔۔ماسٹر محمد فہیم امتیاز

کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل سکتا ہے اگر یہاں پر ذرا سی بھی ڈھیل اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا تو۔
پہلا قدم یہ اٹھایا  گیا ہے، کہ  آرٹیکل 370 کا خاتمہ بھارتی پلان کا پہلا آدھا حصہ ہے صرف، اور اگر یہ صرف پہلے حصے تک ہی رہتا تو اسکا ہماری صحت کے اوپر ذرا برابر بھی فرق نہیں ہے، بلکہ اسی کو بھارت کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ آرٹیکل 370 ہی تھا جس کی بدولت مقبوضہ کشمیر بھارتی قانون کی حد تک اور دنیا کو دکھانے کے لیے ہی بھارت سے جڑتا تھا لیکن اب یہ اس آرٹیکل کو ختم کرکے خود اپنے ہی قانون کے مطابق غاصبانہ قابض ہیں، اس کے بعد بھارت کی طرف سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات، عالمی قوانین کی ،کی جانے والی ساری پامالیاں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، مزید بوسٹ ہونے والی تحریک آزادی، کشمیر،موجودہ صورتحال (ساری دنیا کی نظریں کشمیر پر) یعنی جب یہ ایشو آٹو میٹکلی ہائی لائٹ اور گلوبلائز ہو چکا تو ہمارے پاس بہت اچھا فرنٹ ہے ہم اس پر کھیل سکتے ہیں، یہ موقع ہے جب بھارت نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے عالمی قوانین اور انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے تو ہمیں پوری قوت سے  سفارتی محاذ پر ٹوٹ پڑنا چاہیے ۔
اقوام متحدہ، او آئی سی، آئی سی جے، سلامتی کونسل سمیت تمام تر تنظیموں کو تمام تر مسلم ممالک سے کوآرڈینیٹ کر کے ہینگ کر کے رکھ دیا جائے۔
سفارتی محاذ پر قانونی اعتبار سے بھارت کی تاریخ کی کمزور ترین گرفت ہے یہ کشمیر پر، یہاں اگر ہم درست کھیل جاتے تو کشمیر کی آزادی کے ساتھ ساتھ بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر آئیسولیٹ بھی کر سکتے ہیں اور پاکستان کا جو گراف بہتر ہوا عالمی سطح پر اس کو بھی نقصان نہیں پہنچے گا۔

دوسرا طریقہ جنگ ہے ۔
جنگ میں بھی ہمیں کوئی نقصان نہیں ہے سواۓ اس کے عالمی برادری کی طرف سے پریشرائز ہونا پڑے گا ہمیں,بھارت  نے ہماری ہی رسی سے ہمارے ہاتھ باندھنے کی کوشش کی ہے,
ہماری رسی یہ تھی کہ عالمی برادری میں ہم  پر اپنا تاثر بہتر کرنے کیلئے جو گزشتہ کچھ عرصہ سے دہشت گردی کا لیبل لگایا جا چکا تھا اسکو ہٹانے کیلئے ہم نے مسلسل عالمی قوانین کی پاسداری کی ہے، ہم ہر ہر عالمی معاہدے پر کاربند رہے اور امن کے لیے تمام تر کاوشیں بروئے کار لاتے رہے ہیں، صرف اس لئے کہ پاکستان کا امیج زیادہ سے زیادہ کلیئر ہو، اسی چیز کو انڈیا نے استعمال کیا اور یہ جارحانہ قدم اٹھایا کیونکہ اسے پاکستان کی طرف سے کسی جارحیت یا کم از کم پہل کی توقع نہیں تھی۔

تو یہاں پر یہ ہے کہ اگر ہم جنگ کرتے ہیں تو ہم بھی عالمی قوانین  کو پسِ  پشت ڈال دیں گے اور میرے خیال میں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے، میں نے ایک دو دن پہلے ٹویٹ کی تھی کہ ہم عالمی قوانین کی پاسداری کے خواہاں ہیں مگر اس صورت میں اور اس وقت تک جب وہ صرف اکیلے ہمارے لیے نہ ہوں ۔ یعنی کہ اگر تو بھارت بھی اس پر عملدرآمد کررہا ہے تو اوکے موسٹ ویلکم کشمیر کے لئے قانونی و سفارتی جنگ لڑتے ہیں لیکن جب دوسری طرف سے جارحیت ہورہی ہے اور اس پر عالمی برادری بھی خاموش ہے آنکھیں بند کیے  بیٹھی ہے تو یہاں پر ہمیں عالمی قوانین کی موم بتی بنا کر اقوام متحدہ کو واپس کر دینی چاہیے جو وہ انسانی حقوق کی پامالی پر جلا کر بین کر سکے اور ایک کے جواب میں دو قدم آگے بڑھاتے ہوئے بزور شمشیر کشمیری مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے۔

اور یہاں پر ایک چیز بہت واضح ہے کہ اگر جنگ ہوتی ہے اور پاکستان کشمیر یا اس کا کچھ حصہ لے لیتا ہے تو کچھ بھی نہیں ہونے والا ۔ پہلے بھی  ہم نے جو حصہ آزاد کروایا وہ اب پاکستان کا حصہ مانا جاتا ہے اگر پاکستان سٹیپ فارورڈ کرتا ہے اور کشمیر پر قبضہ چھڑوا لیتا ہے تو یہ شاٹ کٹ ہوگا اور اس میں ہمیں نقصان یہ ہوگا کہ عالمی برادری میں ہمارا تھوڑا سا گراف ڈاؤن ہوگا تھوڑا سا اس کے علاوہ ہمیں کوئی نقصان نہیں لیکن اگر اس کے بدلے ہمیں کشمیر ملتا ہو تو یہ نقصان کوئی نقصان نہیں ہے، یہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے چیمپئن جائیں بھاڑ میں۔

خیر تو دو طریقے ہیں۔
• قانونی و سفارتی
•جنگ

دونوں صورتوں میں ہم نے اپنی ریاست اور اپنی فوج کیساتھ کھڑے ہیں یہ مین سٹانس ہے ۔

اس کریٹیکل صورت حال میں ہم نے عوام کا مورال بلند کرنا ہے، متحد کرنا ہے، عوام کو مایوسی سے نکالنا ہے ، ریاست کیساتھ کھڑا کرنا ہے عوام کو فوج کیساتھ کھڑا کرنا ہے ان کا اعتماد بحال کرنا ہے اور بتانا ہے کہ یہ دو راستے ہیں اور ان شاءاللہ ان میں سے بہتر رستہ ہی چنا جائیگا، جو بھی چنا گیا ہم مکمل سپورٹ کریں گے ریاست کو بھی اداروں کو بھی جہاں ضرورت ہوگی بوسٹ بھی کریں گے حکومت، افواج اور تحریکِ آزادی کشمیر کے جوانان کو، یہ بات ذہن میں رہے کہ ہم (عوام) تیسرا ستون ہیں ریاست کا اور اس حساس صورتحال میں کسی بھی قسم کی غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا ہمیں۔

ماسٹر محمد فہیم امتیاز
ماسٹر محمد فہیم امتیاز
پورا نام ماسٹر محمد فہیم امتیاز،،ماسٹر مارشل آرٹ کے جنون کا دیا ہوا ہے۔معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ،سائبر ٹرینر،بلاگر اور ایک سائبر ٹیم سی ڈی سی کے کمانڈر ہیں،مطالعہ کا شوق بچپن سے،پرو اسلام،پرو پاکستان ہیں،مکالمہ سمیت بہت سی ویب سائٹس اور بلاگز کے مستقل لکھاری ہیں،اسلام و پاکستان کے لیے مسلسل علمی و قلمی اور ہر ممکن حد تک عملی جدوجہد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *