نہ عبرت ہے نہ ذوق۔۔۔۔حسن کرتار

ناچیز شاید اب آہستہ آہستہ کون و مکاں سے بیگانہ ہوتا جا رہا ہے۔کل سمجھتا رہا کہ آج ہفتہ ہے اور عید پرسوں ہے۔ رات گئے دوست سے ملنے اور انار کی وائن وصول کرنے گیا تو پتہ چلا کہ نہیں آج اتوار ہے اور عید کل ہے ۔ اور اب عید ہے انار کی وائن ہے۔ مگر ناچیز ہے کہ وائن پینے کی بجائے چاۓ پہ چاۓ پی رہا ہے۔۔۔ اکثر کئی  کئی  پہر پھول پودے تکتا رہتا ہے اور ایک نظم تک نہیں لکھتا۔ پہلے چاۓ کے ساتھ ایک سگریٹ پیتا تھا اب دو تین پی جاتا ہے۔۔۔ پہلے آدھے گھنٹے میں اخبار پڑھتا تھا اب پانچ سے آٹھ منٹ میں جہاں بھر کی خبریں چاٹ لیتا ہے۔ اسے اب معلوم ہے کہ وہ جرمن دانا درست کہتا تھا کہ صحافی کتوں کی طرح ہوتے ہیں ذرا سی کوئی  چیز ہلے تو بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ ا س لئے اب وہ اخبار میں صرف تصاویر پہ کچھ غور کرتا ہے۔۔۔ سوشل میڈیا بک بک سے دل کب کا اُکتا گیا ہے مگر استعمال کرنے سے پھر بھی باز نہیں آتا کہ خود کو تنگ کرنے کیلئے کچھ تو چاہیے ۔۔۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار حسینائیں مراسم بڑھانے یا دماغ چاٹنے کی خواہش مند ہیں مگر ناچیز کو سمجھ نہیں آتی کہ پانچ دس منٹ کی ہو ہا کیلئے لوگ کیسے شادی اور محبت جیسے لمبے لمبے سطحی افسانے گھڑ لیتے ہیں اس لئے نہ کسی کو ہاں کرتا ہے نہ ناں۔۔۔

روحانیت ناچیز کو اتنی ہی زہر لگتی ہے جتنی مادہ پرستی کہ دونوں محض سر درد اور عارضی بہلاوے ہیں۔۔۔
پہلے جب کوئی معلوم یا نامعلوم خوف تنگ کرتا تو ناچیز بچپن میں رٹی خدائی آیات کی بڑ بڑ سے دماغ بہلا لیا کرتا تھا اب اسے یہ بھی سب بچپنا لگتا ہے۔۔۔
نہ اسے محفل میں مزہ آتا ہے نہ تنہائی  میں مگر وہ واقف ہے تنہائی بہرحال بہتر محفل ہے۔۔۔ کم ازکم انسان صرف اپنی بدبو سے ہی تنگ ہوتا ہے۔۔۔
پہلے اس کا خیال تھا انسان شاید واقعی کسی خدا کی ایجاد ہے اب اسے لگتا ہے سب خدا انسان کی ایجاد ہیں۔۔۔ ورنہ زندگی اتنی بے رنگ، عارضی، بکواس اور بدبو دار کیوں ہوتی جو کوئی خدا ہوتا؟۔۔۔

ناچیز یہ بھی سوچتا ہے کہ کیا ہوا گر کوئی خدا نہیں خدا سے یا خدا سے بھی بہتر انسان تو ہیں۔۔۔ اور زمین صرف دوزخ نہیں کچھ کچھ جنت سی بھی تو ہے۔۔۔ ہوسکتا ہے اس کی آج کی بے زاری محض عارضی ہو کل شاید کچھ بہتر یا مزے دار ہو۔۔۔ مگر پھر خیال آتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مزے دار کیا ہوسکتا ہے۔۔۔ کیا یہ سب مزے دار پہلے بھی ہزار بار وقوع پذیر ہو نہیں چکا۔۔۔ پھر ہوا تو کیا ہو جائے گا۔۔۔

گہری مایوسی ناچیز کے دل کو سیاہ کر دیتی ہے۔ اس کا دل کرتا ہے گھر سے باہر نکلے اور جتنے جانور باقی رہ گئے ہیں بلکہ ان کے مالکوں کو بھی دانتوں سے چبا چبا کر زندہ مار ڈالے اور پھر کسی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے زور زور سے چلاۓ۔۔۔

“خوش ہو جاؤ اے بنی نوع انسان خدا نے تم سب کی قربانی قبول فرمائی ۔ مگر اگلی دفعہ کچھ نیا کرنا کہ تمہارے خدا تمہاری قربانیوں کا گند صاف کرتے کرتے تھک چکے ہیں اور ہاں کم از کم ناچیز کو عید مبارک کے پیغام مت بھیجا کرو کہ اسے خوب معلوم ہے کہ یہ عید شید بھی تم انسانوں کی طرح اک بدبو دار فراڈ ہے۔”

ناچیز یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ دماغ پہ ہلکی ہلکی دستک ہوئی ، آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو گارڈ  لفافے  میں گوشت لئے کھڑا کہہ رہا تھا “سر ناراض نہ ہوں تو یہ میرا گوشت فریزر میں رکھ دیں گے۔ عید مبارک”۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *