کراچی رو رہا ہے۔۔۔ ہما

عجب غضب ہوا کہ قدرتی موسم میں قدرتی بارش میں کوئی آسمانی بجلی نہیں گری لیکن زمینی بجلی نے گر کر اس شہر کے قیمتی چراغ گل کرکے اس شہر کو رلادیا۔۔

کراچی رو رہا ہے،کراچی بہت رورہا ہے ۔۔۔۔۔۔
کراچی میرا ہے، کراچی میرا ہے، کراچی میرا ہے،

یہ شہر اس قدر خوش قسمت ہے کہ ہر کوئی اس شہر کو اپنا بنانا چاہتا ہے۔
تمام پاکستان کی حکمرانی ایک طرف اور کراچی پر حکمرانی کا خواب ایک طرف،
کتنے مذموم عزائم کے ساتھ اس شہر کی آبادی کو بڑھایا گیا۔ اس شہر میں مقامی لوگوں کو اقلیت میں بدلنے کیلئے کس قدر کوششیں کی گئیں۔
ایوب خان نے کتنے ہی غیر مقامی  لوگوں کو یہاں بسایا۔
مقامی لوگوں کے مینڈیٹ کو کچلنے کے لیے کس قدر قومی وسائل کو بے دریغ خرچ کیا گیا؟؟
حقیقی قیادت کو جعلی قیادت میں بدلنے کیلئے کتنے ضمیر خریدے گئے؟؟؟

کراچی رو رہا ہے؟؟
یہی کراچی 2005 میں بھی تھا، قدرتی آفات اس ملک پر آئیں۔ اس شہر پر آئیں، لیکن کراچی نے ہار نہیں مانی تھی۔
وہ ہر ایک سے بڑھ کر اپنے شہر کے لیے  اپنے ملک کے لیے کررہا تھا۔
کراچی کی بارشیں زحمت نہ تھیں، برس گئیں تو ان کا منتظم اس شہر کے اس سربراہ کی نگرانی میں موجود تھا جسے خاموش کردیا گیا۔ جسے لاتعلق کردیا گیا اس شہر سے ،اس شہر کے معاملات سے۔ چھینا جھپٹی، لوٹ مار، اختیارات کا رونا، یہ تیری حدود یہ میری حدود،
یہ تیرا کچرا، یہ میرا کچرا، یہ تیرا کام وہ میرا کام

کیوں میرے شہر کے حسن کو اپنی حوس اور لالچ کی بھینٹ چڑھادیا؟
کیوں اس شہر کے سرپرست سے بولنے کا حق چھین لیا؟
جو اس شہر کے بچے بچے کو اس شہر کی گلیاں صاف رکھنے کی تاکید کرتا تھا
جو اس شہر کے ایم پی اے، ایم این اے تک سے جھاڑو لگواکر گندا کچرا تک اٹھوادیتا تھا
جس نے مٹی کے انسان کو مٹی جیسا عجز دیا
جس نے کچرے سے ہیرے چن کر اس ملک کے ایوانوں میں بھیجے،
یہ شہر رو رہا ہے
اس کا وارث چپ کردیا گیا ہے اور نام نہاد وارث ایکدوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے پانی میں پڑی لاشوں پر چپ سادھے ہوئے ہیں
کون ہے جو ان بچوں ان جوانوں جو کتنے ہی خاندانوں کی آس تھے امید تھے زندگی تھے، روشنی تھے انہیں بجھانے کی ذمہ داری قبول کرے
ان ہنستے مسکراتے چہروں کے لاشہ بن جانے پر بین کرے، ماتم کرے اور شرم سے ڈوب نہ مرے تو کم از کم اپنی وزارت ہی چھوڑ دے
کوئی نہیں، کوئی بھی نہیں
کیونکہ
بس وزارت میری بحال رہے، یہ جان تو آنی جانی ہے
کل عید ہے،
عید قرباں پر اللہ حکمرانوں کی طرف سے دی گئی اس شہر کی قربانی کو قبول فرمائے ،کیونکہ اپنے قرباں ہونے پر کراچی رو رہا ہے،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *