نصف صدی کا قصہ۔۔۔محمد عمران ملک

نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔۔۔۔
بات تو صدیوں کی تھی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر طائف سے تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تو کسے معلوم تھا جو قوم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مار رہی ہے، اس کا ایک سپوت چند سالوں بعد محمد بن قاسم کی شکل میں نہ صرف فاتح سندھ بنے گا بلکہ برصغیر میں اسلام کی آمد کے لیے اختر صبح ثابت ہو گا، سفر طائف کے دوران اگر وہ بستی پہاڑوں کے درمیان پیس دی جاتی تو شاید محمد بن قاسم وہاں سے نہ نکلتا، لیکن میر عرب کو معلوم تھا ٹھنڈی ہواہندوستان سے آتی ہے تو اس ہندوستان میں پیغام عرب سے جائے گا، عجیب اتفاق ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محنت سے شروع ہونے والے سفر کو آگے لے کر بھی محمد بن قاسم نکلا اور اس کو پایہ تکمیل تک محمد علی جناح نے پہنچایا کیا یہ محض اتفاق تھا، ہرگز نہیں یہ اتفاق نہیں تھا، دنیا کے نقشے پر ایک نظریاتی ملک نے ابھرنا تھا تو اس کے لیے محمد ین کی قیادت ہی ضروری تھی۔

پھر ماہ ر مضان کی مقدس رات کو اس کا قیام مُہر ثبت کر رہا تھا کہ یہ پاکستان صرف اور صرف کلمہ طیبہ کے نام پر وجود میں آیا ہے، یہاں کسی اور کا نظام چل ہی نہیں سکتا اس لیے قائد اعظم نے جب نعرہ لگایا تو پورے برصغیر کے مسلمان ایک قوم بن کر محمد علی جناح کے ساتھ کھڑے تھے، لوگ کٹتے تھے ، شہید ہوتے تھے، زخمی ہوتے تھے ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں مارے جاتے تھے، عزتیں لٹتیں تھیں جواب میں ایک ہی آواز آتی تھی کہ
ماں کے سر پاوَں جوتیوں کی قسم
دست ہمشیر کی چوڑیوں کی قسم
اس وطن کے لیے
چاند تاروں کو اس انجمن کے لیے
مصدقاً
فرض تھا
مصدقاً
فرض تھا
یہ پاکستان امانت ہے ان ہی کٹنے والے لوگوں کی، ان ہی شہدا کی، ان ہی ماوَں بہنوں کی، ان نوجوانوں کی جو مستقبل کا نقشہ لیے میدان میں کود جاتے تھے، مہاجرین کہ جنہوں نے گھر بار چھوڑا، وہ جو کٹتے تھے تو اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے تھے، کتنی ہی مائیں تھیں جو اولاد کو اپنے سامنے شہید ہوتا دیکھتی تھیں لیکن لب پر یہی ہوتا تھا کہ اللہ کے لیے ایسے ہزاروں بیٹے قربان ۔۔۔اتنی بڑی قربانی کیا کسی نظریے کے بغیر دی جاسکتی تھی؟ ہرگز نہیں ، وہاں کسی نے بات نہیں کی کہ چونکہ قائد اعظم اچھی شخصیت کے  مالک ہیں لہذا قائد اعظم کا ساتھ دینا چاہیے، قائد اعظم آکسفورڈ سے پڑھے ہیں بڑی خوبصورت انگلش بولتے ہیں اس لیے قائد اعظم کا ساتھ دینا چاہیے، نہیں۔۔۔۔۔ایک نعرہ  فقط ایک نعرہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ۔ اس لیے لوگ شہید ہو رہے تھے گھر چھوڑ رہے تھے۔
کیا مناظر تھے جب بوڑھا باپ بیٹے کے کندھے پر سوار ہو کر آتا تھا اور بیٹے سے پوچھتا تھا کہ پاکستان کتنی دور ہے، بیٹا کہتا تھا بس ابا جان چند قدم ہی تو رہ گئے ہیں، اس کے بعد وہ بوڑھا پاکستان کی دہلیز پر قدرم رکھتے ہی سجدہ ریز ہوتا تھا وہ اپنے خوابوں کی بستی میں پہنچ چکا تھا وہ اس مقدس جگہ پہنچا تھا جس کا خواب وہ کب سے دیکھ رہا تھا، یہاں پہنچ کر وہ سجدے میں ہی جان اللہ کے سپرد کر دیتا تھا، یہ نئےنئے بننے والے پاکستان کے مناظر تھے، پھر موَرخ بتاتا ہے کہ ہم نے ایسے مناظر بھی دیکھے جب مسلمان بچوں کے لٹکتے جسموں کو رسی میں پرو دیا گیا تھا، اور ان جسموں سے جیے ہندوستان کا نعرہ لکھا تھا۔ یہ سب کسی فلم کا سین نہیں تھا نہ ہی کو ئی ڈرامہ تھا یہ تو پاکستان کے لیے شہید ہونے والے بچوں کی کہانیاں تھیں۔ موَرخ تو یہ بھی بتاتا ہے کہ جب سکھوں نے ایک قافلے پر حملہ کیا تو قافلے کے لوگ کماد میں چھپ گئے ان میں چھ سال کا وہ بچہ بھی تھا جو حبس کی وجہ سے چلا رہا تھا تصور کیجیے اگست کی گرمی اور پھر حبس  کا موسم اور پھر کماد کی فصل، جس کو اس گرمی میں حشرات الارض بھی چھوڑ کر باہر نکل آتے ہیں، اس بچے کی چیخیں بلند ہوئیں تو قافلے والوں نے ماں کو ڈانٹا کہ بچے کو چپ کرواوَ کہ سکھ بچے کی آواز سن کر ہمیں ڈھونڈ لیں گے، بے سب ماں نے بچے کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، جب سکھ بلوائی وہاں سے گزر گئے تو بچہ شہید ہو چکا تھا۔ یہ ہے وہ پاکستان جس میں آج ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں۔ گائے ذبح کرنے پر ہمیں کوئی درخت سے باندھ کر قتل نہیں کرتا، ہماری مسجدیں نہیں جلائی جاتیں، ہماری ماوَں بہنوں کی عزتیں محفوظ ہیں، یہ ان ہی قربانیوں کے نتیجے میں ہمیں ملا ۔ ان قربانیوں کے بعد پاک سر زمین شاد باد کی آواز بلند ہوا کرتی تھی، کشور حسین شاد باد کے نعرے لگتے تھے۔
لیکن کیا ہم نے ان قربانیوں کا صلہ دیا، ہم نے بانی پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کیا، قائد اعظم کی جیب کے کھوٹے سِکوں نے اس پاکستان کو پہلے دن اپنے شکنجے میں لے لیا۔ پھر وہی حفیظ جالندھری جو اس پاکستان کے لیے پاک سر زمین کے ترانے لکھتا تھا یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ
یہاں شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں
جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں آنند رہیں
شاہیں کو آزدی ہے آزادی سے پرواز کرے
ننھی منی چڑِیوں پر جب چاہے مشق ناز کرے
سانپوں کو آزدی ہے ہر بستے گھر میں بسنے کی
ان کے سر میں زہر بھی ہے اور عادت بھی ہے ڈسنے کی
پانی میں آزادی ہے گھڑیالوں اور نہنگوں کو
جیسے چاہیں پالیں پوسیں اپنی تند امنگوں کو
انساں نے بھی شوخی سیکھی وحشت کے ان رنگوں سے
انساں بھی کچھ شیر ہیں باقی بھیڑوں کی آبادی ہے
بھیڑیں سب پابند ہیں لیکن شیروں کو آزدی ہے
شیر کے آگے بھیڑیں کیا اک من بھاتا کھاجا ہیں
باقی ساری دنیا پرجا شیر اکیلا راجہ ہے
بھیڑیں لا تعداد ہیں لیکن سب کو جان کے لائے ہیں
ان کو یہ تعلیم ملی ہے بھیڑئیے طاقت والے ہیں
ماس بھی کھائیں کھال بھی نوچیں ہر دم لاگو جانوں کے
بھیڑیں کاٹیں دور غلامی بل پر گلہ بانوں کے
بھیڑیوں سے گویا قائم امن ہے اس آبادی کا
بھیڑیں جب تک شیر نہ بن لیں نام نہ لیں آزادی کا
جب تک ایسے جانوروں کا ڈر اس دنیا پر غالب ہے
پہلے مجھ سے بات کرے جو آزادی کا طالب ہے

یہ پاکستان جو شہدا کی امانت تھا، محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاکستان محمد بن قاسم کا پاکستان، محمد علی جناح کا پاکستان محمد اقبال کا پاکستان۔۔۔۔۔۔لیکن ہم نے اس امانت کو شائد امانت سمجھا ، ہم نے قربانیوں کو بھلا دیا ، ہم نے آدھا ملک گنوا دیا ، ہم امانت کی حفاظت نہ کر سکے، ہم وہ بد قسمت قوم ہیں جس نے دس لاکھ شہدا اور ایک کروڑ مہاجرین کا جواب روز قیامت دینا ہے، لیکن افسوس اس بات پر کہ آج ستر سال بعد بھی سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی، مل کر رہتے ، کاش مل کر رہنے والے بھارت کا مکروہ چہرہ دیکھ لیتے، گجرات کے منظر دیکھ لیتے ، تو اندازہ ہوتا پاکستان بناے کی ضرورت کیا تھی
ایسے میں کیا مایوسی ہمارا مقدر ہے، نہیں مایوس تو وہ ہو جس کا خدا نہ ہو، مایوس تو وہ ہو جو سمجھے کہ پاکستان ایک معجزہ نہیں تھا، یقینی طور پر پاکستان ایک معجزہ بھی ہے ، پاکستان اللہ کی نعمت بھی ہے، پاکستان تا قیامت رہنے والی مملکت بھی ہے،حقیقت میں تو پاکستان مٹانے والے مٹ گئے پاکستان آج بھِ موجود ہے، کیا ہوا کہ حالات اچھے نہیں کیا ہوا کہ اس پاکستان پر غیر سنجیدہ لوگ مسلط ہیں وہ صبح کسی دن تو آئے گی جس کا انتظار ہے، وہ فصل گل کبھی تو کھلے گی۔۔۔۔
بس ہمیں اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہے۔ اس پاکستان کی کشتی ہمارے ذمے ہے ملاح بھی ہم ہیں، اگر ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی تو ضرور ہمارے پاس شہدا کے سوالوں کا جواب ہو گا، اور پاکستان بھی اپنی منزل کو پہنچے گا
وقت کا لمحہ لمحہ صدا دے رہا ہے
اٹھو جلد خوابوں کی دنیا سے نکلو
تم آتش فشاں ہو تو لاوا بکھیرو
وگرنہ سنو
گر یوں ہی سوتے رہے
برف گرتی رہی
اک دن دیکھنا تم بھی جم جاوَ گے
تم بھی جم جاوَ گے

پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک وزیٹنگ فیکلٹی ممبر پنجاب یونیورسٹی لاہور فیکلٹی ممبر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی لاہور پی ایچ ڈی اسکالر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *