مسئلہ عمران خان۔۔۔رمشاتبسم

ایک عرصے سے پاکستان میں ایک آواز بلند ہو رہی ہے “ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان” اور جتنے یو۔ٹرن عمران خان نے لے لئے اسکے بعد لفظ “ڈٹ” اب خود کھڑا ہوتے ہوئے بھی لڑکھڑاتا ہے۔عمران خان کا یہ ڈٹ کر کھڑا ہونا کبھی بھی ملک و قوم کے مفاد میں نہ تھا ,نہ ہے اور نہ کبھی ہوگا۔کیونکہ جہاں ہم ایک لیڈر سے امید کرتے ہیں کہ سب سے پہلے عوام اور عوام کے مسائل اہم ہونگے وہاں ہی عمران خان کے لئے صرف اس کی ذات اور انا اہم ہے۔اسی انا کو ٹھیس جج بحالی کی تحریک میں لگی جب نواز شریف سڑک پر آئے اور آصف علی  زرداری کو جج بحال کرنے پڑے۔اس وقت عمران خان گجرانوالہ میں پاور شو کرنے کو بیتاب تھا۔جو ہر صورت کسی نہ کسی طرح عوام کو اداروں سے لڑوا کر ایک فسادی جلسہ کرنا چاہتا تھا۔نواز شریف نے جج بحالی کا اعلان ہوتے ہی ریلی ختم کر دی۔کیونکہ کوئی بھی حقیقی سیاست دان عوام اور ریاست میں لڑائی یا فساد کروانا مناسب نہیں سمجھتا۔مگر عمران خان ہر صورت اس ریلی کو ایک پاور شو میں تبدیل کرنا چاہتا تھا۔لہذا نواز شریف کا واپس جانا عمران خان کو کسی صورت پسند نہیں آیا ۔ پھر اپنی اسی انا کی تسکین کی خاطر یہ کپتان 126دن ڈی۔چوک میں دھرنا دے کر بیٹھ گیا۔اس دھرنے کا مقصد عوام کی فلاح وبہود نہیں صرف چار حلقے تھے جن کو 35 پنکچر کا نام دے کر عوام کو بھڑکایا گیا۔اور خدا کی قدرت کے وہ چار حلقے آج کئی بار الیکشن کے بعد بھی عمران خان کے ہاتھ نہیں آئے۔کپتان نے ڈی۔چوک پر دھرنا دیا، پی۔ٹی وی پر حملہ کیا اور ریاست پر حملہ کرتے ہوئے لوگوں کو پارلیمنٹ کا گھیراؤ اور توڑ پھوڑ پر اکساتے ہوئے آگے بڑھنے اور جو راستے میں آئے اس کو مارنے کا حکم جاری کر دیا۔ان کو روکنے کے لئے جب آنسو گیس اور واٹر کا استعمال کیا گیا تو عمران خان اپنی ٹیم سمیت کنٹینر میں چھپ کر ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔اور لوگ آنسو گیس کا مقابلہ کرتے گئے لیڈر جان بچا کر چھپ گیا۔نواز شریف حکومت اور مشترکہ پارلیمنٹ کا موقف یہی تھا کسی قسم کا ظلم عوام پر نہیں کیا جائے گا۔لہذا بلوائیوں کی توڑ پھوڑ اور پارلیمنٹ پر حملے کی کوشش کے باوجود اسلحے کا استعمال نہیں کیا گیا، صرف مبشر لقمان اور اے۔آر۔وائے پر کوئی تین سو لوگ خیالی مر گئے تھے لہذا ملک دشمن حرکات میں میڈیا بھی کافی حد تک شامل رہا۔ پھر ہر چینل پر پچیس منٹ ٹی۔وی اینکرز نے جب بہت زیادہ جوش دلایا تو عمران خان کنٹینر پر ماسک پہن کر پانچ منٹ جلوہ گر ہوئے۔اسی طرح سے پی۔ٹی آئی کے عارف علوی موجودہ صدر صاحب اسلام آباد میں ڈٹ کر کھڑے رہے اور ارد گرد آگ لگواتے رہے۔محترم وزیرخارجہ پی ٹی۔آئی کے یوتھ ونگ کے دھرنے پر موجود تھے جب پولیس وہ جگہ خالی کروانے گئی تو لوگوں نے پولیس پر حملہ کیا نتیجتاً پولیس نے جوابی کارروائی کی، شاہ محمود قریشی ہاتھ باندھ کر ڈٹ کر کھڑے رہے اور ان کے لوگ ڈنڈے کھاتے رہے۔۔چائنہ کا صدر پاکستان دورہ کرنے آ رہا تھا جب کنٹیر پر ڈٹ کر کھڑے ہو کر عمران خان نے وہ دورہ ملتوی کروایا لہذا چائنہ کا دورہ بھارت کے ساتھ کامیاب رہا اور وہاں انویسٹمنٹ کے بھاری معاہدے طے پا گئے۔کپتان اس وقت بھی ڈٹ کر کھڑا رہا جب پاکستان میں ریٹائرڈ آرمی چیف راحیل شریف اور نواز شریف کی کوششوں سے دہشت گردی ختم ہوئی اور کرکٹ کی بحالی شروع ہوئی۔ڈٹ کر عمران خان نے کرکٹ کی بحالی کے خلاف مداخلت کی اور بیرون ملک کے کھلاڑیوں کو پھٹیچر اور ریلو کٹے کہا۔حتی کہ میچ کا فائنل دیکھنے کی نجم سیٹھی کی آفر بھی اپنے غرور میں ٹھکرا دی۔

کپتان ڈٹ کر کہتا رہا ہنڈی سے پیسے بھیجو۔بنک کے ذریعے پیسے نہ بھیجو۔اور نہ ٹیکس جمع کرواؤ نہ بل ادا کرو۔
عمران خان ہمیشہ ملک میں قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔امیر غریب کے لئے ایک قانون کی بات کرتے ہیں۔نواز شریف کے پانامہ کے معاملے میں عمران خان صبح سویرے سپریم کورٹ پہنچے اندر داخلے کے لئے گارڈ نے اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے سب سے شناختی کارڈ مانگا اور عمران خان نے گارڈ کو تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا “تمہیں معلوم نہیں کہ میں کون ہوں”۔
عمران کی حکومت آتے ہی انڈیا نے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی جو ہماری بہادر فوج نے ناکام بنا دی۔مگر عمران خان ڈٹ کر کھڑے ہونے کی بجائے بیرون ملک دورے کر کے پیسہ اکٹھا کرنے میں مصروف تھے۔ مگر پاک فوج نے پورے ملک کو بہتر طریقے سے سنبھالا جیسے ہمیشہ سے وہ سنبھالتی آئی ہے اور سنبھال رہی ہے۔مگر وذیراعظم ڈٹ کر کھڑے ہونے کی بجائے ہواس باختہ نظر آئے۔ آسیہ کی رہائی کا معاملہ آیا تو تحریک لبیک سڑکوں پر آگئی ۔ایک طرف عوام کا ایک گروہ دھرنا دے کر بیٹھ گیا دوسری طرف عمران خان نے پی۔ٹی۔وی پر ڈٹ کر ایک خطاب کیا اور بیرون ملک روانہ ہو گئے۔مولانا سمیع الحق کی شہادت نے یہ دھرنا ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا باقی کا کام ہمیشہ کی طرح ہمارے محافظوں نے سنبھال لیا اور عوام کو ایک خانہ جنگی سے بچا لیا۔

عمران خان اپنے حالیہ امریکہ دورے کے دوران کیپیٹل ون میں صرف ڈٹ کر یہ بتاتے رہے کہ پاکستان کا مسئلہ ایک عدد جیل میں لگا ہوا اے۔سی ہے جو ملک میں ان سے چھپا لیا گیا۔باہر جاتے انہیں خبر ہوئی اور انہوں نے بغیر ڈرے ڈٹ کر اعلان کیا کہ وہ اس اے۔سی کو ہٹا کر عوام کو اتنا فائدہ پہنچائیں  گے جتنا انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کی گائے, بھینسیں اور کباڑہ گاڑیاں بیچ کر پہنچایا تھا۔
ٹرمپ سے ملاقات میں عمران خان کی طرف سے نہ کشمیر پر بات ہوئی نہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر۔یہ دونوں معاملات زبردستی عمران کے منہ میں ڈالے گئے۔لہذا اس دورے  میں عمران خان کو جانے انجانے میں کشمیر کی مزید بربادی اور ظلم تحفے میں دے دیئے گئے۔اور عمران خان اس تحفے کو لے کر وطن واپس آئے اور پھولوں سے استقبال ہونے پر ڈٹ کر کھڑے رہ کر خود کو فاتح قرار دیتے رہے۔

نریندر مودی پر ایک اچانک دباؤں مسلط ہو گیا جس سے جان بچانے کو اس نے کشمیر کی حیثیت پر حملہ کیا اور اپنے طور کامیاب رہا۔یہاں پاکستان میں سوشل میڈیا پر عوام نے ایک طوفان برپا کردیا۔مگر حکومت کی طرف سے کئی  گھنٹے مسلسل خاموشی رہی۔پارلیمنٹ پر اس مسئلے پر اجلاس طلب کیا گیا۔ عمران خان اتنے اہم اجلاس میں پانچ گھنٹے تاخیر سے پہنچے۔عمران خان کو سپیکر کی جانب سے سپیچ کا کہا گیا تو حکومتی بنچوں نے بھرپور ڈIسک بجا کر عمران خان کو ویلکم کیا اور یہ بھول گئے کہ وہ کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے کھیلی جانے والی ہولی پر بات کرنے جمع ہیں۔یہ اجلاس معصوم کشمیری عوام کے بہائے جانے والے خون کی مذمت اور پاکستان کی حکمت عملی پر بات کرنے کو تھا۔عمران خان نے اپنے ویلکم میں بجنے والے ڈیسک پر ڈٹ کر کھڑے ہو کر سینہ تان کر ویلکم وصول کیا پھر تقریر شروع کی۔اسی دوران آصف علی زرداری ,شہباز شریف ,بلاول آتے گئے جن کی آمد پر انکے لوگوں نے ڈیسک بجائے تو عمران خان ڈٹ کر کھڑے نہ ہو سکے اور سیخ پا ہو کر بیٹھ گئے۔پھر وہی  ہسٹری کی گردان کرتے رہے۔جس میں نہ کوئی حکمت عملی اور نہ پاکستان کا موقف بیان کیا۔ شہباز شریف کی تقریر کے دوران ایک عجیب طرح کا رویہ دیکھنے کو ملا۔

عمران خان محلے کی دو عورتوں کی لڑائی کی طرح ہاتھ اٹھا اٹھا کر طعنے دیتے رہے۔اور ایک لفظ سننا اور برداشت کرنا گوارا نہ کیا۔عمران خان کے طعنے طنز اور غرور عیاں تھا۔یہی عمران خان ماضی میں حکومتی جماعتوں کو ہر بات برداشت کرنے کا کہتے تھے۔اور خود شہباز  شریف کی چند باتوں پر عمران خان کی انا کو ٹھیس پہنچی اور انکا ڈٹ کر کھڑا ہونا ایک دم ختم ہو گیا اور وہ پارلیمنٹ کا اجلاس چھوڑ کر فرار ہو گئے۔جو کہ انتہائی غیر مناسب حرکت تھی۔

ماضی میں عمران خان جب بلوائیوں کو لے کر پارلیمنٹ پر لعنت ڈالتے ہوئے حملہ آور ہونے کے منصوبے بنا رہے تھے۔اس وقت تمام اپوزیشن اور حکومت کا موقف ایک تھا کہ اس طرح سے استعفی لینا غیر جمہوری ہے اور یہ رسم آئندہ کسی حکومت کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ان دنوں پیپلز پارٹی کی طرف سے نواز شریف اور انکی جماعت کو کڑی تنقید کا بھی سامنا تھا۔جس کو نوازشریف اور انکی جماعت نے سنا اور برداشت کیا مقصد صرف جمہوریت کی حفاظت تھی۔

اور موجوہ وزیراعظم ایک اتنے اہم مسئلے پر پارلیمینٹ میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر اشاروں سے طعنے دے رہے تھے اور پوچھ رہے تھے کیا کروں حملہ کر دو ں۔۔
عمران خان کے لئے نہ تو عوام اور ان کے مسائل کی اہمیت ہے نہ کشمیر کا مسئلہ اہم ہے۔صرف کچھ اہم ہے تو وہ اپنی ذات اور انا کی تسکین ۔جو کبھی چار حلقوں پر اسلام آباد بند کرکے ان کو ملتی ہے کبھی دوسری جماعتوں کے لیڈران کو قید کروا کے ۔لہذا مسئلہ عوام اور مسئلہ کشمیر سے زیادہ عمران خان صرف مسئلہ عمران پر ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *