کشمیر پر عوام کو ماموں نہ بنائیں۔۔۔اےوسیم خٹک

کشمیرکامسئلہ بظاہرآسان نظرآنےوالا لیکن انتہائی پیچیدہ مسئلہ  ہے۔پوری دنیا اسےپاکستان اورانڈیاکامسئلہ سمجھتی ہے مگریہ ان دو ممالک کا  نہیں، ایک عالمی مسئلہ ہے چین ،روس ،اسرائیل اورامریکہ سب اس بین الاقوامی مسئلے میں،اس کھیل میں ایک دوسرےکےپسِ پردہ دوست ہیں ۔بظاہردشمن کا کرداراداکرتےہیں مگر ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں جن کی نظریں دنیاکےوسائل پر لگی ہوئی ہیں ۔اس خطےپرسب سےزیادہ نظریں امریکہ کی لگی ہوئی ہیں اورامریکہ کی یہ دلی خواہش ہے کہ وہ افغانستان سے نکل کر کہیں اوراپنامسکن بنائےجہاں سےاُسے فائدہ بھی ہواور کوئی نقصان بھی نہ اُٹھاناپڑے اور کشمیر ہی وہ واحد علاقہ ہے جہاں سےوہ پورے وسطی ایشیاکو کنٹرول کرسکتاہےاورکوئی مزاحمت بھی نہیں ہوسکتی، لداخ یا گلگت ایساعلاقہ ہے جہاں وہ انڈیا پاکستان افغانستان کے علاوہ چین پر براہِ راست نظر رکھ سکتا ہے اور اپنا اثرورسوخ بحال رکھتے ہوئے علاقے کے قدرتی وسائل پر بھی قابض ہو سکتا ہے اور تینوں ملکوں کی افرادی قوت اور فوج کو بھی اپنے عزائم کے لیے استعمال کرسکتاہے۔

انڈیا ایک کنزیومرمارکیٹ رکھتاہےاسی طرح چین بھی آبادی کےلحاظ سے بڑاملک ہے جہاں تجارت بہترین ہوسکتی ہے ۔یہاں سے ایران کوبھی آنکھیں دکھائی جاسکتی ہیں ۔دوسری جانب سی پیک سے 56 ممالک کوفائدہ ہے صرف چین یا پاکستان نہیں بلکہ امریکہ بھی مستفید ہوگااوریہ جان کر آپ سب کوحیرت ہوگی کہ سی پیک یواین ڈی پی کا حصہ ہے اورسب جانتےہیں یواین ڈی پی کس کے زیرِ اثرہے۔جس طرح سعودی ملینیم گول یعنی وژن 2030 ہے، اسی  طرح سی پیک کے پیچھے بھی سب عالمی قوتیں ہیں ۔

کشمیر پراب تک پاکستانی ریاست کا یہی موقف رہا ہے کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب تک اقوام متحدہ سمیت ہر بین الاقوامی فورم استعمال کرتا رہا ہے اور ہمیں بحیثیت قوم ستر سالوں میں یہ ہی نہیں پتہ چل سکا کہ جو سامراج یہ مسئلہ چھوڑ کر گیا تھا وہ کیوں کر حل چاہے گا اور چاہے گا بھی تو اپنے من پسند فارمولے کے تحت۔ چنانچہ آج وہی ہوا۔ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ پہلے مو دی سر کار کو لیکر آئی پھر اپنے دئیے گئے فارمولے اسرائیلی ماڈل کے تحت پاکستانی حکومت اور سکیورٹی اداروں کو چند دن پہلے امریکہ بلا کر اعتماد میں لیا اور فارمولے کی بریفنگ دی گئی،کیونکہ ٹرمپ کے پاس فارمولے کا ریموٹ ہے اسے پتہ تھا چند دن کے بعد واردات کروانی ہے مودی کے ذریعے، تو پیشگی ثالثی کی پیشکش بھی کر دی اور ہماری عملی صورتحال یہ ہے کہ ہم حسب عادت خوش فہمی میں مبتلا اور بغلیں بجاتے ہو ۓ امریکہ کی دی ہوئی افغانستان والی اسائنمنٹ کو عملی جامہ پہنا نے کی حکمت عملی میں مصروف کر دیئے گئے اور انڈیا بہادر سامراج کے دیے ہوئے نئے فارمولے پر کام دکھا گیا۔اور ایک ہم اور ہماری عوام ان اداروں سے امیدیں لگاتے ہیں جو برطانوی اور امریکی سامراج کے کٹھ پتلی ہیں جن کو سامراج ماموں بنا کر استعمال کرتا ہے اور وہ ادارے اور ان کے تھنک ٹینک ہم جیسے سادہ لوح لوگوں کو ماموں بناتے ہیں، کم از کم اب ہی ہمیں پاکستان کا اپنی جہادی تنظیموں پر پابندیاں لگانے کی منطق سمجھ لینی چاہیے یہ بھی اسی سامراجی فارمولے کا حصہ تھیں۔یاد رکھیں یہ ادارے.،یہ اسلحہ، نیو کلیئر وار ہیڈ، ٹیکنالوجی اور دفاعی اتحاد ملکوں کی سلامتی اور استحکام کے لئے ہوتے ہیں اور اگر ان کو استعمال ہی نہیں کرنا تو پھر بہتر ہے میوزیم میں رکھ دیں۔ ایک تو یہ عوام کی خون پسینے کی کمائی سے بھاری بجٹ سے تیار کیے جاتے ہیں وہ بھی صرف دفاعی نمائشوں کی زینت کے لیے.۔ کبھی کسی قوم نے ملک ڈائیلاگ سے نہیں حاصل کیے۔اگر انڈیا جارحیت کے لیے اقدامات اٹھا سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں، اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سارے میزائل و ٹیکنالوجی اور دفاعی اتحاد اس مقصد کے لیے تشکیل نہیں دیئے گئے جو عوام اور اقوام کے مفادات اور جذبات کا تحفظ کرتے ہو ں وہ تو سامراجی طاقتوں کے فارمولے کے خلاف اگر کوئی مزاحمت ہو تو اسکو زائل کرنے کے لیے بناۓ جاتے ہیں۔ جسکی عملی مثال دہشت گردی کے نام پر پاکستان کی پراکسی وار ہے جس کے ذریعے سے اقوام متحدہ کے ملینیم گولز کے تحت ڈیزائن کیا گیا چائنہ پاکستان اکنامک راہداری منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچنے والا ہے تاکہ عوام کو ماموں بھی بناتے رہیں اور نیو ورلڈ آرڈر کو عملی طور پر نافذالعمل بھی کر تے رہیں گے۔

اور اب کشمیرکاممکنہ حل پاکستان کےلئے خطرناک ہے کیونکہ 72 سالوں کی تگ ودو ضائع ہورہی ہے ۔اور جتناخرچہ کشمیرپر ہواہے یعنی افواج پرجوبجٹ استعمال ہواہے وہ اسی کشمیرکے ذریعے ہی تو ہواہے ملک ایٹمی قوت بناہے توبھی کشمیرکی وجہ سےہے۔کشمیر نہ ہوتاتوملک ایٹمی قوت نہ ہوتا۔پاکستان کی جنگیں نہ ہوتیں اور ہم سے بنگلہ دیش جدانہ ہوتا۔کارگل کی لڑائی نہ ہوتی، سب سے بڑھ کرضیاءالحق کی شہادت نہ ہوتی اور سب سیاست دانوں کی سیاست نہ ہوتی کیونکہ سب کا محور یہی کشمیررہاہے ۔اب اس کےممکنہ حل کے توبہت راستے ہیں مگرجوآسان حل ہے اورپاکستان اس سےسفارتی طورپرکامیابی حاصل کرسکتا ہےوہ فوری طورپر صدارتی آرڈیننس کی مددہے، جس سےآزاد کشمیر کواور گلگت کواپنے دوصوبےقراردیناہےاورموجودہ لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد مانناہے وقتی طورپراس سے بہترین کوئی آپشن نہیں ہے۔اب تک وزیراعظم صدر اور کورکمانڈر کی میٹنگ ہوچکی ہوگی مگر ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف اس موقع پرساس بہو کی روایتی جنگ چھوڑکر میڈیا کےساتھ ملکریہ سازش ناکام بنادیں ورنہ بہت دیرہوجائےگی کیونکہ اب بھی کچھ نہیں بگڑاہے۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *