خود ترسی کے نشے سے چھٹکارا پائیں ۔  /میاں جمشید

جب ہمارے اردگرد سب کچھ ہماری توقعات کے برعکس ہورہا ہو تو منفی سوچوں کا پیدا ہوجانا بھی کوئی انہونی بات نہیں۔ ایسی ذہنی کیفیت ہر کسی کو ہی درپیش آتی ہے۔ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ کوئی فرد کتنی جلدی اس منفی کیفیت سے باہر آتا ہے۔ اپنی ذہنی حالت پر جلدی قابو پالینا ہی مضبوط شخصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ قابو کیسے پایا جائے تو پھر اس بات کو سمجھیے کہ اگر آپ اپنی سوچوں کا فوکس مستقل طور پر منفی باتوں، کاموں، رویوں یا نتائج پر رکھیں گے تو مزید منفی سوچیں ہی پیدا ہوں گی۔ تب ایک سے بڑھ کر ایک منفی خیال ذہن میں ابھرے گا، جو ایک زنجیر کی طرح آپ کو جکڑتا جائے گا۔ جس سے آزاد ہونا وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ مشکل ہوتا جاتا ہے۔

اس لئے کسی ایک غلط رویے یا نتیجے کے باعث خود سے ہی پہلے سوچتے رہنا، اپنے آپ ہی نتیجہ اخذ کرتے جانا کہ اب فلاں ہوگا، اب اس وجہ سے فلاں کام بھی الٹا ہوگا وغیرہ، ہمیں اس کیفیت میں لے جاتا ہے، جس میں ہم ہمت چھوڑ کر خود پر ترس کھانا شروع ہوجاتے کہ کاش میں مضبوط ہوتا، میں فلاں جیسا ہوتا، میرے پاس فلاں ہوتا تو یہ سب نہ ہوتا۔ میں تو ہوں ہی ایسا، فلاں بھی میرے بارے یہی رائے رکھتا، میری تو قسمت ہی خراب ہے وغیرہ۔ مطلب کہ پھر ایسی سوچوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ بندہ پہلے خود کو دوسرے سے کمتر صرف محسوس کرتا ہے پھر آہستہ آہستہ واقعی میں ایسا مان لیتا ہے، اور یہیں سے شخصیت کی بربادی کا آغاز ہو تا ہے۔

ہمیں علم ہونا چاہیے کہ ہمارے مسلسل رونے دھونے سے اور چہرے پر پریشانی سجائے پھرنے سے کسی دوسرے کو فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ لوگ تو الٹا اکتا جاتے ہیں، ایسے لوگوں سے کہ کیا ہے یار وہ بندہ تو ہمیشہ ہی منہ لٹکائے نظر آتا ہے۔ جب دیکھو مظلومیت کی تصویر بنا پھرتا ہے وغیرہ۔ اب یقین کریں کہ دوسروں کے ہمارے بارے میں ایسے خیالات پیدا ہوجانا لمحہ فکریہ ہے۔ کیا ہماری کوئی عزت نہیں؟ کیا چھ فٹ کے صحت مند انسان کو یہ سب باتیں سننا زیب دیتا ہے؟ کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی؟

اگر سب علم میں ہے، سب محسوس ہوتا ہے تو پھر کیوں اپنے آپ پر ترس کھا رہے ہو؟ کس بات کے ہونے کا انتظار ہے؟ اور کتنی بے قدری سہنی ہے؟ اور کتنا خود کو دوسروں کی نظروں میں گرانا ہے؟

زندگی میں مشکلات کا سامنا کس فرد کو نہیں ہے؟ ہر شخص اپنی اپنی مصیبتوں کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہے۔ مگر ہمیں لگتا ہے باقی سب خوش اور ایک ہم ہی زندگی کے برے حالات کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ہم چونکہ ظاہری حالت و کیفیت پر ہی نظر رکھتے ہیں، تبھی ہم ٹھیک سے اندازہ نہیں لگا پاتے۔ ورنہ کسی کے پاس بیٹھ کر، دوستانہ انداز میں حال چال پوچھ  لیں تو ہر شخص ہی اپنی پریشانیوں کی پٹاری کھول کر سامنے رکھ دے گا۔ کیا امیر، کیا غریب، ہر کسی کے نصیب میں ہی پریشانیوں اور ناکامیوں کا آنا جانا لگا ہوا ہے۔

تو اس لیے صاحبو! اگر ہم اپنے مشکل حالات سے جلد باہر آنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں زبردست طریقے سے دفاع کرنا آنا چاہیے، ٹھیک ایک گول کیپر کی طرح، جو بال لے کر آگے بڑھنے والے کو دیکھ کر بھرپور جوش میں آجاتا ہے۔ پوری توجہ اور توانائی سے اس کو ہر طرف سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی جان لڑا دیتا ہے گول روکنے کےلیے۔ یہ نہیں کہ پہلے سے ہی یہ سوچ کر اپنے مقام سے ہٹ جائے کہ آنے والا تو زبردست کھلاڑی ہے، یہ تو گول کرکے ہی رہے گا، تو کیا ضرورت چوکنا ہونے کی۔ بس آرام سے کھڑے رہو۔ تو صاحب ایسا نہیں چلے گا۔

خود پر ترس کھانے والوں کو یہ دنیا جیتنے کا موقع نہیں دیتی۔ اس لیے ہمیں اپنے آپ پر ترس کھانا چھوڑنا ہوگا۔ نئی ہمت جگانی ہوگی، مثبت سوچوں سے دوستی کرنی ہوگی، تبھی کچھ پانے کا، کر دکھانے کا حوصلہ عطا ہوگا۔

پھر کیا ہوگا؟ پھر سب سیٹ ہوجائے گا، میں پھر سے بھرپور کوشش کروں گا، جیسی سوچیں اپنا کر اور سب سے پہلے اپنے آپ کو اہمیت و عزت دے کر ہی ہم خودترسی کے نشے سے جلد چھٹکارا پاسکتے ہیں۔

میاں جمشید
میاں جمشید
لکھاری ، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے سکھانے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ اسی لئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ کردار سازی ، ذہنی اصلاح اور مثبت طرز زندگی کے موضوعات پر حوصلہ افزاء و رہنمائی سے بھرپور مضامین لکھتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *