• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • شام امن سے جنگ تک/حلب کے کھنڈرات میں پھول اُگانے والا ابوال ورد۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط18

شام امن سے جنگ تک/حلب کے کھنڈرات میں پھول اُگانے والا ابوال ورد۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط18

ڈاکٹر ہدا کی جانب سے ملنے والی اُس ای میل کو میں نے دنوں بعد کھولا ہے۔دراصل میں ان دنوں دہراکشٹ کاٹتی ہوں۔ بلادالشام پر اپنے سفرنامے کو لکھنے کے تخلیقی لمحوں میں شام کے گلی کوچوں میں پھرتی ہوں۔اس کے دکھ اور عذابوں کے بوجھ وہاں سے آنے والے پیغامات سے اٹھاتی ہوں۔پھر اپنے ملک پر نگا ہ ڈالتی ہوں۔

خود ہم بھی تو اِسی منجدھار میں پھنسے ہوئے ہیں۔سر پر تنا آسمان ہر نئے دن نئے رنگ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ کیسے کیسے رنگ دکھاتاہے۔دھرتی کتنی بے وفا ہے؟اتنا خون پیتی ہے۔اتنے لعل و گہر نگلتی ہے۔مگر نہ اس کی پیاس بجھتی ہے اور نہ اس کا پیٹ بھرتا ہے۔

ابھی کل رات ڈاکٹر ہدا کی میل ملی ہے۔پڑھتی ہوں۔۔پڑھتی چلی جاتی ہوں۔آنکھیں گیلی ہیں، لکھتی ہیں۔
”پروردگار تیری کائنات میں کیسے کیسے لوگ ہیں؟کہیں اگر ظالم،زندگی ختم کرنے والے،اس کا حُسن گہنانے والے ہیں تو وہیں زندگی کا حُسن بڑھانے اور اسے بچانے والے بھی ہیں۔“

یہ کیسی دکھ بھری بات ہے کہ میں جو تمہیں گزشتہ بہت سارے مہینوں سے کتنے ہی المناک اور دکھ بھرے واقعات جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کے حامل میرے اِس شہر حلب کے قلب و جگر سے پھوٹ رہے ہیں سنا سنا کر تمہاری محبت کا پتہ پانی کر رہی ہوں۔ خود تو روتی ہوں مگر تمہیں بھی رُلا رہی ہوں۔
مگر دیکھو آج میں اِن سب تاریک پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ایک ایسا رُخ بھی دکھانے لگی ہوں جو بہت ہی اُمید افزا ء ہے۔ یہ اُمید کی وہ کرنیں ہیں جو گھُپ اندھیروں میں کہیں کہیں چمک کر حوصلہ بڑھاتی ہیں۔ جو انسانیت کے زندہ ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ جو کہتی ہیں کہ جب تک کرہ ارض پر ایسے لوگ موجود ہیں اُس وقت تک مایوس ہونے کی ضرور ت نہیں۔ یہ نئی نسل کے وہ نوجوان ہیں جو شب وروز اپنے ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ وہ کہیں ٹینٹ، کہیں تباہ شدہ عمارتوں، کہیں درختوں کے نیچے، کہیں کھُلے میدانوں میں تنبو قناتوں میں اسکولوں میں بچوں کو پڑھاتے اور کہیں انہیں قطرے پلاتے کہیں ان میں زندگی کا حوصلہ اور جینے کی اُمنگ پیدا کرتے ہیں۔

ابو الوارد

حلب کا وہ ابوال ورد(پھولوں کا باپ)بھی ایسا ہی کردار ہے۔مشرقی حلب کے عین مرکزی حصّے میں جو تہذیبوں کا مرکز ہے۔جہاں سڑکیں ایک دوسرے کوکاٹتی ہیں جہاں چورا ہے ہیں، وہیں گزشتہ پانچ سالوں سے وہ بشار حکومت کے خلاف کھڑا ہے۔
کلسٹر اور بیرل بموں کی آگ اور خون،موت اور تباہی کے ریگستان پر زندگی کی، روشنی کی،آس امید کی بھینی بھینی خوشبوئیں دیتے پھولوں کے نخلستان کی آبیاری میں مصروف ہے۔اگربشار حکومت اپنی کرسی،اپنا اقتدار بچانے کے لئے شہر کی خوبصورت عمارتوں کو کھنڈر بنانے، سکولوں میں شام کا مستقبل ختم کرنے،اسپتالوں میں بیماروں کو قبریں دینے اور بستے رستے شہر کو اپنے مہلک سازوسامان کے ساتھ تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے تو وہیں ایک عام سا معمولی آدمی بھی اپنے اِن چھوٹے چھوٹے معمولی سازوسامان سے مقابلہ کرنے پر کمربستہ ہے۔
اس کا کہنا ہے میری یہ کچی پکی دیواروں میں گھری، مٹی کی سوندھی خوشبو میں بسی پھولوں اور پودوں سے سجی جگہ بلین ڈالروں سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔
اس کا تیرہ سالہ بیٹاابراہیم اس کے ساتھ ہے۔وہ پھول اُگاتا ہے،سبزیاں، سلاد کے پتے، زیتونNuts پیدا کرتا ہے۔ پھر انہیں بہت معمولی قیمت پر اُن لوگوں کو فراہم کرتا ہے جو گھروں میں محصور ہیں۔ جن کے مرد باہر چلے گئے ہیں یا مارے گئے ہیں۔
پانی کی کمی ہے۔خوراک کی کمی ہے،بمباری کا لامتناہی سلسلہ ہے۔ایسے میں اس کا وجود ایک معجزہ لگتا ہے۔روشنی کی ایک کرن دِکھتا ہے۔زندگی کے حسن کا ایک ستارہ محسوس ہوتا ہے۔
وہ حیران ہوتا ہے۔آخر انسان اتنا وحشی کیوں ہوجاتا ہے؟اپنے اقتدار کے لئے اتنی دیوانگی۔وہ بشار کے خلاف ہے۔وہ انقلاب چاہتا ہے۔ایسا انقلاب جہاں عام آدمی اپنے بل بوتے پر اوپر جاسکے۔وہ بمباری کے دوران پناہ لیتا ہے۔ختم ہونے پر نکلتا ہے اور کہتا ہے ہم جو آمریت کے خلاف کھڑے ہیں ہمیں یہ آوازیں بیہتوون کی موسیقی لگتی ہیں۔ہم اپنے آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ دنیا خاص لوگوں کے لئے نہیں عام لوگوں کے لئے بنی ہے۔اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اِسے دوبارہ بنانا ہے خواہ یہ کتنی ہی تباہ کیوں نہ ہوجائے۔شعروں سے،پھولوں سے،موسیقی سے،محبت سے اوریقین سے۔

جنگ شروع ہوئی تھی تب ابراھیم آٹھ سال کا تھا۔سکول جاتا تھا۔سکول کھنڈر بننے لگے تو وہ باپ کے ساتھ پھول اگانے لگ گیا۔دونوں باپ بیٹا گلاب کے سُرخ پھولوں کے ساتھ چوک میں کھڑے ہوتے تو پانچ لاکھ آبادی والا شہر جہاں اب صرف ڈھائی لاکھ لوگ رہ گئے تھے جو گاڑیوں،موٹر سائیکلوں،پیدل چلتے ہوئے اِن خوشنما پھولوں کو دیکھ کر جیسے جی اٹھتے انہیں محسوس ہوتا کہ زندگی ابھی باقی ہے اوراُس کا حُسن بھی باقی ہے۔ اُس کی مسحور کن خوشبو زندگی کی پیامبرہے۔
پر سلمیٰ میں کیا بتاؤں۔کیا لکھوں کہ وہ جو سارے شہر میں امیدیں بانٹتا پھرتاتھا۔ وہ جو حلب کی امید تھا۔بیرل بم نے اُسے شکار کرلیا۔اس کے باغ کے قریب پھٹا اور وہ ختم ہوگیا۔ معصوم سے ابراھیم نے میرے گلے لگ کر اتنے آنسو بہائے کہ میرے پاس تسلی بھرے لفظوں کا کال پڑ گیا۔ میں تو اُس عظیم انسان کے لئے کھل کر پُرسہ بھی نہ دے سکی۔ اس کی ہنستی مسکراتی تصویر میرے دل میں آویزاں ہے۔ مجھے حوصلہ دیتی ہے۔
اُن سب شامی عورتوں کی طرح جو ابو ال ورد کی طرح استقامت سے کھڑی ہیں۔ اب یہ بھی کیسا ستم ہے کہ ہم دو دھاری تلوار پر چل رہی ہیں۔ ایک بشار حکومت کی دھمکیاں دوسرےISIS کی جانب سے اڑا دینے والے پیغامات۔

آغاز میں تو بمباری کی صورت پھر کچھ بہتر تھی کہ بشار کی فورسز کے پائلٹ موسم کے ابر آلوداور خراب ہونے کی صورت میں بمباری نہ کر سکتے تھے۔ ہم خوش ہوتے اور دعائیں مانگتے۔ پروردگار دھواں دھار قسم کی بارش ہوتی رہے۔ لیکن یہ جب سے روسی طیاروں نے دوستی کا حق ادا کرنا شروع کیا ہے۔ اُن کے کہنہ مشق پائلٹوں کے لئے ایسی سب چیزوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اب کیا کہوں؟ ہمہ وقت آسمان سے موت اترتی رہتی ہے۔
ہم بشار حکومت کے بہت خلا ف ہیں۔ اس نے انسانیت کو جیسے تباہ کیا ہے اس کی مثال مشکل ہے۔ اب مرد ہی نہیں عورتیں بھی سربکف ہیں۔ دو دشمنوں کے خلاف بشار اور ISIS کے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *