زندگی ایک دائرہ ہے۔۔۔۔اجمل صدیقی

زندگی ایک دائرہ ہے
دائرے کی ابتدا ہو تی ہے
نہ دائرے کی انتہا ہوتی ہے۔۔
نہیں
دائرے کی جو ابتدا ہوتی وہی دائرے کی انتہا ہوتی ہے۔

زندگی ایک لائن ہے
اس کی ابتدا ہوتی ہے
اس کی انتہا ہوتی ہے۔
لیکن
یہ حیوان تو ہر صدی بعد اپنی تاریخ دہراتا ہے ۔۔

اپنی جنس کو کھاجاتا ہے۔
روم کا نیرو
مقدونیہ کا سکندر
امریکہ کا بش
ایک تہذیب اٹھاتا ہے اک مٹاتا ہے۔
سکندر ہر صدی کے آخر پر آتا ہے۔

نہیں،نہیں
یہ فریب ہے
جو چلا گیا کبھی نہیں آتا ہے ۔۔
زندگی اک بار ملتی ہے۔
چمن میں کلی اک بار کھلتی ہے
اک دریا میں کون دو دفعہ نہاتا ہے؟
مزدور تو ہر روز ٹو کری اٹھاتا ہے

زندگی ایک curve ہے۔
زندگی ایک چکردار زینہ ہے
یہ خود کو دہراتے دہراتے آگے بڑھتی ہے
آگے بڑھتے بڑھتے خود کو دہراتی ہے۔
یہ ساز زندگی ہے
یہ راز زندگی ہے۔
جبلت خود کو دہراتی ہے
محبت آگے بڑھتی جاتی ہے
زندگی نہ لائن ہے، زندگی نہ دائرہ ہے
یہ نقطہ ہے
زندگی نطفہ ہے
یہ سب نقشے بناتی ہے
یہ سب رشتے بناتی ہے
یہ سب زاویے بناتی ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *